Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایئر انڈیا کے حالات بہتر ہونگے بھی یا نہیں؟

Updated: April 16, 2026, 11:45 AM IST | Anjuli Bhargava | Mumbai

ایئرانڈیا کےلئے سب سے زیادہ پریشان کن سوال یہ نہیں ہے کہ جس تبدیلی کا وعدہ کیاگیا یا جس کی امید دلائی گئی ، وہ تبدیلی کب آئے گی بلکہ یہ ہےکہ تبدیلی آئے گی بھی یا نہیں؟

Air India Plane.Photo:INN
ایئر انڈیا کا طیارہ۔ تصویر:آئی این این
 ایئر انڈیا کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر (سی ای او) کےعہدے سےکیمبل ولسن کے حالیہ استعفیٰ کو ایئر لائن کے حالات بہتر بنانےمیں ناکامی کے ان کے اعتراف کے طورپر دیکھا جارہا ہے۔ ۲۰۲۲ء میں حکومت سے ایئر لائن خریدنے کے بعد، ٹاٹا نے ولسن کی صلاحیتوں پر بھروسہ کرتے ہوئے انہیں ایئر انڈیا میں اصلاحات کی ذمہ داری سونپی تھی لیکن فی الحال ایئرانڈیا بھاری خسارے میں ہے اوریہ بھی یاد رہےکہ گزشتہ سال احمدآبا دمیںہوئے طیارہ حادثے سے بھی یہ کمپنی ابھرنے کی کوشش کررہی ہے۔ایئر لائن کے سابق چیئرمین منیجنگ ڈائریکٹرز (سی ایم ڈی) سمیت سول ایوی ایشن کے کئی سابق افسران اور ماہرین اب پوچھ رہے ہیں کہ کیمپبل کو اور پہلے کیوں نہیں ہٹایاگیا؟واضح رہےکہ ان کی تقرری جولائی ۲۰۲۲ء میں کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ ان کے عہدہ سنبھالنے کے چند مہینوں بعد ہی یہ بھی کہا جانے لگا تھاکہ وہ اس کام کیلئےموزو ں نہیں ہیں۔ 
ایئر انڈیا میںابھی نئے سیفٹی چیف کا خیرمقدم کیاجانا ہے۔کمپنی نے ابھی نئے مشیر کی تقرری کی ہےجو حکام کے ساتھ رابطے میں ہے۔ ایسی چیز جو ایئر لائن کے لئے واضح طور پر بھری ہوئی ہے۔ انجینئرنگ کے حوالے سےبھی کمپنی پر دباؤ ہے کیونکہ ایئر انڈیا کے کچھ طیاروں میں حال ہی میں تکنیکی خرابیوں کے معاملات بھی سامنے آئے ہیں۔ ٹاٹا گروپ اور ایئر لائن کے بورڈ کو اب اس بات کا خود جائزہ لینا چاہئے کہ کیا غلط ہوا اور اسےکس طرح درست کیا جائے۔ بہت سے روٹس پرایئر لائن کی بہتر سروس کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں ۔ ان میں ملکی اور بین الاقوامی دونوں روٹس شامل ہیں۔ (سروس کے بہتر ہونے کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہےکہ نئے طیاروں کی خدمات بھی حاصل کی گئی ہیں )۔ اس دوران ایئر لائن کے عملے نےکچھ ا یسے اشارے بھی دئیےجن سے محسوس ہوتا ہےکہ ملک کی قومی ایئر لائن کمپنی کےساتھ اپنے تعلق کوہر قیمت پر بہتربنانا اور بہتر رکھنا چاہتی ہے ۔ اس کی مثال اس وقت سامنے آئی تھی جب ایک طیارے کے عملے نےایک مسافرکی سالگرہ منائی تھی ۔
ان حالا ت میں لوگوں کو امید ہےکہ ایئرلائن کے حالات نہ صرف بہتر ہوں گے بلکہ اس کی ماضی کی شان بھی لوٹ آئے گی۔بہر حال ا یسے سوالات اٹھائے جارہے ہیںکہ ایئر انڈیا کو عالمی معیار کی کمپنی کے طور پر نئی شکل دینے کے ٹاٹا کے منصوبے میں کیا غلط ہوا؟ یہ بھی کہ کیا ۲۰۲۲ء کے ٹیک اووَر میں ایسے امکانات تھے جن سے کامیابی کی امیدنظر آتی ہو ؟در حقیقت ایئرلائن کے کچھ اندرونی ذرائع اورکچھ بیرونی ذرائع بھی یہ بتاتے ہیںکہ ایئر لائن کو (ٹاٹا کے ذریعے) خریدے جانے کا فیصلہ پہلے ہوچکا تھا جسے بدلانہیںجاسکتا تھا ۔یہی اندرونی وبیرونی ذرائع کہتے ہیںکہ ٹاٹا والے ایئرانڈیا کونہ توخریدنے کیلئے تیار تھے نہ ہی پُر جوش۔وہ نہیں چاہتے تھےکہ پہلے سے جو بحران زدہ ایئرلائن کمپنیاں ان کے پاس ہیں ، ان میںایک اور کا اضافہ ہو۔
اس طرح کے دعوؤں میں سچائی معلوم ہوتی ہےمگر ان سے قطع نظر جو بات ناقابل تردید ہےکہ وہ یہ ہے کہ ٹاٹا والوں کو جلد ہی یہ احساس ہو گیا کہ ان میںایئر انڈیا میں اصلاحات لانے کی مہارت نہیں ہے۔ اس نے یہ قدم صرف اپنے شراکت داروں یعنی وستارا ونچراور سنگا پور انٹر نیشنل ایئرلائنس(ایس آئی اے) کے مشورے پر اٹھایا اورواضح رہےکہ وستارا ونچر بعد میںخود ایئرانڈیا میں ضم ہوگیا ۔ اس انڈسٹری پر نظر رکھنے والے ماہرین کا خیال ہےکہ سنگا پور انٹرنیشنل ایئرلائن ایئر انڈیا میں اس لئے دلچسپی لے رہاتھا کہ اسے اپنے ٹریفک کی فکر تھی ۔ایئر انڈیا میں سرمایہ کاری کے پس پشت اس کی خواہش یہ تھی کہ اس کا ٹریفک جس کا زیادہ ترانحصار ہندوستانی مسافروںپر ہے،وہ کہیں سے متاثر نہ ہو۔
 
 
 
ایسے ہی دعوے وستارا کے تعلق سے بھی کئے گئے۔ انڈسٹری پر نظر رکھنے والے بہت سے مبصرین ایسا کہہ رہے تھے کہ وستارا میں پروازوںکےآپریشن کو اس طرح مرتب کیاگیا ہے کہ اس کا سنگا پور انٹرنیشنل ا یئرلائن استدلال کیا کہ وستارا کے آپریشنز کو اس لیے ڈیزائن کیا گیا تھا کہ اسے ایس آئی اےکےآپریشنوں کا ہی ایک حصہ بنایا جا سکے ۔بہت سے لوگ یہ دلیل بھی دیتے رہے کہ ایئر لائن(وستارا) ایوی ایشن انڈسٹری میں ایک بڑے مقابلے کیلئے تیار نہیںتھی۔یہی وجہ ہےکہ وہ ایس آئی اےاور ٹاٹا کے اشتراک کے باوجود خسارے میں رہی۔ایئر انڈیا میں ملازمت کے طریقوں کے بارے میں ہمیشہ سوالات ہوتے رہے ہیں ۔ ایئر انڈیا اور اے آئی ایکس دونوں میں بہت سے کلیدی عہدوں کو یا تو پُر کر دیا گیا ہے یا توقع ہے کہ ایس آئی اے کے اہلکاروں میںسے کچھ کی یہاں تقرری کی جائے گی ۔ایئر انڈیا میں فی الحال انجینئرنگ کی صلاحیتوں اور مہارت کی کمی ایک اہم کمزوری بنی ہوئی ہے۔تاخیر سے سہی، اہم، سوالات اب پوچھے جا رہے ہیں کہ ٹاٹا نے حکومت سے ایئرانڈیا کی انجینئر نگ اور ایم آر او ونگ( اے آئی ای ایس ایل) کو اسے سونپنے کیلئے کیوں نہیںکہا ، اس وقت جبکہ ایئر لائن فروخت کی جا رہی تھی۔ بتا دیں کہ اے آئی ای ایس ایل اب بھی حکومت کی ملکیت میں ہے۔
اگر ٹاٹاکے پاس جوصرف چند سال پہلے تجارتی پروازکے شعبے میں از سر نو داخل ہوا تھا ، ضروری دور اندیشی کا فقدان تھا، تو کیا اس کے پارٹنرایس آئی ا ےکو جسے کئی دہائیوں کا تجربہ ہے، بہتر معلومات نہیںتھی اور وہ اپنے تجربہ کے مطابق مشورہ نہیںدے سکتے تھے؟
 
 
ایئرانڈیا کیلئے سب سے زیادہ پریشان کن سوال یہ نہیں ہے کہ جس تبدیلی کا وعدہ کیاگیا یا جس کی امید دلائی گئی ، وہ تبدیلی کب آئے گی بلکہ یہ ہےکہ تبدیلی آئے گی بھی یا نہیں؟ ایک نئے سی ای او، ہیڈ آف سیفٹی اور کچھ دیگر اعلیٰ سطح پر تقرریوں سے نئی قیادت سامنے آسکتی ہے ، ایک لحاظ سے، اب سب کچھ نقطہ آغاز کی طرح ہوگیا ہے لیکن پچھلے ۴؍ سال سے ناقص کارکردگی کے جو نتائج سامنے آئے ہیں،انہیںدور کرنے اور ان پر قابو پانے کیلئے وقت تو لگے گا۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK