جمعیۃ العلماء ہند نے اپیل کی ہے کہ گائے کو قومی جانور قرار دے دیا جائے۔ کیا حکومت اس اپیل پر کان دھرے گی؟ کیا اسے تسلیم کرے گی؟اسے تو کنفیوژن کی کیفیت زیادہ راس آتی ہے؟
ہندوستانی مسلمانوں کی ممتاز شخصیات نے وزیراعظم سے گزارش کی ہے کہ گائے کو قومی جانور قرار دے کر اس کے ذبیحہ کو پورے ملک میں ممنوع کیا جائے۔ علماء کی سب سے بڑی تنظیم جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ اگر ایسا کیا گیا تو اس پیش رفت پر مسلمانوں کو اعتراض نہیں ہوگا کیونکہ اس سے ہجومی تشدد کے واقعات پر روک لگے گی۔ مولانا مدنی کے بقول چونکہ ملک کی اکثریت گائے کو مقدس مانتی ہے اور ’’ماں ‘‘ کا درجہ دیتی ہے اس لئے حکومت کے سامنے کوئی سیاسی مجبوری بھی نہیں ہے کہ وہ ایسا کرنے میں پس و پیش کی راہ اختیار کرے۔ سابق نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری نے بھی اس مطالبے کی حمایت کی۔
بیف رکھنے کو جرم قرار دینے کا قانون سب سے پہلے ۲۰۱۵ء میں مہاراشٹر میں منظور کیا گیا تھا۔ اس کے بعد ہریانہ نے بھی اسی نوع کا قانون بنایا۔ اس کے بعد سے ان پریشان کن واقعات کا سلسلہ شروع ہوا جنہیں ہم ’’بیف لنچنگ‘‘ یعنی بیف کے نام پر کسی کو گھیر کر اور پیٹ پیٹ کر مار دینا کہتے ہیں ۔ جو لوگ گائے کے ذبیحہ کو ملک بھر میں ممنوع قرار دینے کے حامی ہیں ان کا کہنا ہے کہ یہ آئینی تقاضا ہے۔ اگر ایسا ہے تو اس پر اب تک عمل کیوں نہیں ہوا؟ آئیے اسی سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی جائے:
آئین کا آرٹیکل ۴۸؍ ڈائریکٹیو پرنسپل ہے یعنی یہ رہنما خطوط پر مشتمل ہے، قانون نہیں ہے۔اس میں درج ہے: ’’یہ حکومت کی ذمہ داری ہونی چاہئے کہ وہ زراعت اور مویشی پالن کو جدید نیز سائنسی انداز میں آگے بڑھائے بالخصوص اس بات کی کوشش کرے کہ مویشیوں کی افزائش نسل ہو اور ان کا ذبیجہ نہ ہو۔‘‘
یہاں کچھ ایسی بات ہے جو خلاف ِ معمول ہے۔ ذبیجہ کو روکنے کیلئے کوئی مذہبی دلیل نہیں دی گئی ہےبلکہ معاشی اور سائنسی استدلال ہے۔ جو لوگ پابندی لگانے کا مطالبہ کرتے آئے ہیں وہ مذہبی بنیاد پر جذباتی باتیں کرتے ہیں حالانکہ وہ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ جو اقلیتیں پابندی کو پسند نہیں کرتیں اُن پر زبردستی پابندی نافذ کرنا اُن کا مقصد نہیں ہے۔ آپ کو جان کر حیرت نہیں ہونی چاہئے کہ دو اراکین، جو دونوں کانگریسی تھے، گائے کے ذبیحہ پر پابندی کے اس حد تک حامی تھے کہ اسے گائے کا بنیادی حق قرار دلوانا چاہتے تھے۔ ان کے نام ہیں سیٹھ گووند داس اور پنڈت ٹھاکر داس بھارگو۔ قانون ساز کمیٹی کے دیگر اراکین کا مطالبہ تھا کہ ذبیجہ پر پابندی کو گائے تک محدود نہ کیا جائے بلکہ بیلوں اور بھینسوں پر بھی نافذ کیا جائے۔لیکن ان کی نہیں سنی گئی کیونکہ آئین ساز چاہتے تھے کہ آئین سیکولر رہے اس لئے انہوں نے غیر مذہبی استدلال کی راہ اپنائی۔
گائے کا تحفظ اس لئے ضروری سمجھا گیا کہ اس کا دودھ بچوں کی صحت اور نشوونما کیلئے ضروری ہے۔ ذبیجہ کو اس لئے غلط مانا گیا کہ پابندی کے حامیو ں کی نظر میں کوئی مویشی غیر پیداواری نہیں ہوتا نیز گائے اور بیل ’’چلتا پھرتا کھاد کا کارخانہ‘‘ ہوتے ہیں ۔ حصول آزادی سے صرف ایک ہفتہ پہلے (۷؍ اگست ۱۹۴۷ء کو) ڈاکٹر راجندر پرساد نے، جو آزاد ہندوستان کے اولین صدر جمہوریہ ہوئے، پنڈت نہرو کو خط لکھا جس میں اُنہوں نے کہا: ’’کل کی میٹنگ کیلئے دو نکات ایسے تھے جن پر مَیں روشنی ڈالنا چاہتا تھا۔ مَیں نے دورانِ میٹنگ اُس احتجاج کا حوالہ دیا تھا جو گائے کا ذبیحہ روکنے کیلئے جاری ہے لیکن چونکہ ہر کوئی جلدی میں تھا اس لئے اس موضوع پر زیادہ گفتگو نہیں ہوسکی۔ مجھے کئی جگہوں سے ایسے پوسٹ کارڈ، ٹیلی گرام اور لفافے موصول ہوئے ہیں جن میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ گائے کے ذبیجہ پر قانون بنا کر پابندی لگائی جائے۔ پابندی کے حق میں ہندوؤں کی رائے نئی نہیں ہے اور اس کی جڑیں گہری ہیں ۔ اس رائے کو ایسے وقت میں بہ اصرار پیش کیا جارہا ہے جب اس کا نظرانداز کیا جانا اگر ناممکن نہیں تو کافی مشکل ضرور ہے۔ لیکن، میرا خیال ہے کہ اس موضوع پر غوروخوض ضروری ہے اور ہم جو بھی فیصلہ کریں وہ غوروخوض کے بعد ہی ہو۔‘‘ قانون ساز اسمبلی میں مسلمانوں نے ہندوؤں سے گزارش کی کہ وہ پابندی کے فیصلے کو حتمی شکل دینا چاہتے ہیں تو ضرور دیں مگر اپنے مذہبی دلائل کو دوٹوک انداز میں واضح کریں تاکہ کوئی ابہام یا ڈھکا چھپا انداز باقی نہ رہے۔ یوپی کے رکن ظہیر الحسن لاری نے کہا تھا کہ ’’اگر ایوان اس رائے سے اتفاق کرتا ہے کہ گائے کے ذبیحہ پر پابندی لگنی چاہئے تو اس کیلئے بہت واضح، دوٹوک اور غیر مبہم الفاظ کا استعمال کیا جانا چاہئے۔‘‘
ظہیر الحسن نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ اس کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتے کہ ہندو برادران وطن گائے کے تحفظ پر اصرار کررہے ہیں مگر اس کیلئے جو معاشی دلیل پیش کررہے ہیں وہ کمزور ہے کیونکہ جدید اور سائنسی ترقیات کا تقاضا ہے کہ زراعت میں مشینوں کا استعمال ہو، جس طرح اب تک ہوتا آیا ہے ضروری نہیں کہ وہ آئندہ بھی جاری رہے۔ مگر اُن کی نہیں سنی گئی اور ترمیم کو منظور کرلیا گیا۔
اس کے بعد سے اب تک کے حالات ہر خاص و عام کی نگاہ میں ہیں (مگر) مولانا مدنی نے مسئلہ کا ایک اور رخ بیان کیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ’’یونیفارم سول کوڈ کے حق میں کہا جاتا ہے کہ جب ملک ایک ہے تو قانون کو بھی ایک ہونا چاہئے تاہم جانوروں کے ذبیحہ سے متعلق قانون تمام ریاستوں میں یکساں طور پر نافذ نہیں ہے۔ ایک اور مسلم دانشور رشید قدوائی نے لکھا کہ ’’علماء کے مطالبے کو خود سپردگی نہ سمجھا جائے بلکہ ایک چیلنج کے طور پر قبول کیا جائے۔ علماء کے مطالبہ کا معنی یہ ہے کہ حکومت پس و پیش نہ کرے اور اس موضوع پر پائے جانے والے کنفیوژن کا فائدہ نہ اُٹھائے۔ چیلنج یہ بھی ہے کہ حکومت اس معاملے کو طرز حکمرانی کا حصہ تسلیم کرے اور غیر منصفانہ پولرائزیشن کیلئے استعمال نہ کرے۔‘‘
ہمیں بھی حکومت سے پوچھنا چاہئے کہ ہندوستان سیکولرازم پر قائم ہے یا مذہب پر۔ وزیر اعظم کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ ’’گلابی انقلاب‘‘ کی باتیں کیا کرتے تھے۔ اُنہیں چاہئے کہ موضوع پر وضاحت کے ساتھ اظہار خیال کریں نیز ایمانداری پر مبنی قانون سازی کریں ۔ اس سے ہجومی تشدد فی الفور روک نہیں لگے گی مگر وہ منافقت ضرور ختم ہوگی جو برسوں سے جاری ہے۔