• Sat, 24 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

قاری نامہ: مسلم حکمرانوں سے متعلق نفرت انگیزی کے اسباق کے کیا نتائج نکلیں گے؟

Updated: July 30, 2025, 1:01 PM IST | Inquilab Desk | Mumbai

’قاری نامہ‘ کے تحت انقلاب کو بہت ساری رائے موصول ہوئیں۔ ان میں سے وقت پر پہنچنے والی منتخب آرا کو شامل اشاعت کیا جارہا ہے۔

These efforts of NCERT will sow seeds of hatred in innocent minds which may prove destructive for the integrity of the country in the future. Photo: INN.
این سی ای آرٹی کی ان کوششوں سے معصوم ذہنوں میں نفرت کی بیج پیدا ہوگی جو آگے چل کر ملک کی سالمیت کیلئے تباہ کن بھی ثابت ہوسکتی ہے ۔ تصویر: آئی این این۔

سیکولر شہریوں کے دل میں نفرت کے جذبات پیدا ہوں گے


 اسکول میں طلبہ کوتاریخ ایک مضمون پڑھایا جاتا ہے۔تاریخ پڑھانے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ طلبہ کو ملکی سطح اور بین الاقوامی سطح کے حالات سے آگاہ کیا جائے ۔اور اُنہیں تاریخ سے آگاہ کیا جائے۔ بروز جمعرات مورخہ ۱۷؍ جولائی ۲۰۲۵ء کوروزنامہ اِنقلاب کے صفحہ اول  پر شائع ہونے والی  خبر کے مطابق  بابر کو بے رحم فاتح،اکبر کو سفاک  اور اورنگ زیب کو مندر شکن لقب سے نوازا گیا ہے۔ نئےتاریخ کے نصاب میں مذکورہ بالا مغل بادشاہوں کو ان القاب سے یاد کروایا جائے گا۔دراصل تاریخ پڑھانے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ بچوں میں قومی یکجہتی ، بھائی چارگی،محبت اور اخوت کے جذبات پیدا کئے جائیں تاکہ وہ برادرانِ وطن کے ساتھ محبت اور بھائی چارگی کے ساتھ رہیںاور اپنے ملک کی امن و سلامتی اور حفاظت کے لئے ہمیشہ اپنی جانیں قربان کر نے کے لئے تیار رہیںلیکن اگر تاریخ میں مسلم حکمرانوں سے متعلق نفرت انگیزی کے اسباق شامل کئے جائیں گے تو طلبہ میں محبت ،اخوت اور بھائی چارگی کے جذبات ختم ہو کر نفرت اور بے جا انتقام لینے کے جذبات پیدا ہوں گےتو تاریخ پڑھانے کے بنیادی مقاصدفوت ہوجائے گا۔عام باشعور سیکولر شہری کے دل میں نفرت کے جذبات پیدا ہوں گےاور بہت ہی گھناؤنا ماحول پیدا ہو جائے گا۔جو ملک کی ہم جہت ترقی کے لئے رکاوٹ کا باعث بنے گا ۔پھر اُن حالات پر کنٹرول مشکل ہو جائے گا۔ملک کی آزادی سے لیکر اب تک ایک اچھے اور خوشگوار ماحول میں ہم زندگی بسر کر رہے ہیں۔اُس میں نفرت کا ماحول پیدا کر نا کوئی دانشمندی نہیں ہے۔ہر با شعور شہری کو چاہئے کہ وہ کسی بھی مذہب،ذات یا برادری سے تعلق رکھتا ہے،اِس کی سخت مذمت کر نی چاہئےاور اُسی میں ہر شہری کے لئے بھلائی ،بہترئی اور عافیت ہے۔
 پرنسپل(ڈاکٹر)محمد سہیل لو کھنڈوالا(سابق ایم ایل اے)
 ’’اس قسم کی تاریخ نویسی قومی یکجہتی کیلئے بے حد خطرناک ہے‘‘


 ہماری حکومت مسلم حکمرانوں سے متعلق نفرت انگیز کتابیں پڑھا کربچوں کے ذہن کو مسموم کرنیکی عظیم غلطی کر رہی ہے۔ اگر ہندو بچے یہ پڑھ کر جوان ہوں گے کہ ایک ہزار برس تک مسلمانوں کی حکومت ظلم سے بھری رہی تو ان  میں انتقام لینے کا جذبہ پیدا ہو گا۔ ڈاکٹر با با صاحب امبیڈ کر تاریخ کی درسی کتابوں میں پائے جانے والے  قومی یکجہتی مخالف مواد کی طرف اشارہ کیا تھا۔ ایک کتاب میں عنوان تھا:مسلمانوں کے حملے۔ اس پر انہوں نے کہا  تھا: اسے تاریخ نہیں کہا جا سکتا، اس قسم کی تاریخ نویسی قومی یکجہتی کے لئے بے حد خطرناک ہے۔ اس سے ہندو طلبہ کے دلوں میں نفرت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں اور وہ اپنے ہم جماعت مسلم طلبہ کے بارے میں سوچنے لگتے ہیں کہ ارے یہ تو حملہ آوروں کی اولاد ہیں جنہوںنے عورتوں کی عزتیں لوٹیں اور طرح طرح کے ظلم کئے اور جب کہیں فرقہ وارانہ فساد پھوٹ پڑتا ہے اور مسلمان مارے جاتے ہیں تو آپ جانتے ہیںکہ اس قسم کی تاریخ پڑھنے والے ہندو ایسے واقعات کے بارے میں یہی سوچتے ہیںکہ اچھا ہوا جوکچھ انہوں نے (ہندوؤں کے ساتھ) کیا تھا اس کا کچھ بدلہ تو ملا۔ افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ پنڈت جواہر لال نہرو جیسے روادار اور سیکولر انسان نے بھی اورنگ زیب کے بارے میں یک طرفہ بیانیے ہی کو  ترجیح دی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:’’اس کے بعد آخری عظیم مغل اورنگ زیب آیا۔ وہ بڑی سادگی سے رہنے والا عابد تھا اور کٹر مذہبی تھا۔ وہ اپنے مذہب کے سوا کسی دوسرے مذہب کو برداشت نہیں کرتا تھا۔ اپنی ذاتی زندگی میں اورنگ زیب سادہ مزاج اور سنیاسی جیسا تھا۔ اس نے ارادہ کر کے ہندوؤں کو ستانے کی پالیسی چلائی۔اس نے ہندوؤں پر جزیہ ٹیکس پھر لگا دیا۔ جہاں تک ہو سکا ہندوؤں سے سب عہدے چھین لئے۔ اس نے ہزاروں ہندو مندروں کو توڑ ڈالا اور اس طرح بہت سی پرانی حسین عمارتوں کو دھول میں ملا دیا۔‘‘ یہاں وہ مسئلہ کھل کر نمایاں ہو جاتا ہے جب ایک کا ہیرو دوسرے کا ولن قرار پائے ،وہاں حقیقی یکجہتی کا حصول اگر ناممکن نہیں تو بہت مشکل ضرور ہو جاتا ہے۔
 ش،شکیل( اورنگ آباد)

ایک دوسرےسےدوری اورنفرت پیدا ہوگی


 مسلم حکمرانوں سے متعلق جونفرت انگیز اسباق پیش کئےگئےہیں،اس سےیہ ضرور کہا جا سکتاہےکہ اس کے نتائج مذہبی دوریاں،آپسی محبتوں کاخاتمہ اورایک دوسرےکےدلوں میں نفرت  ہوں گے،کیونکہ چند سالوں سے جومناظر سامنے آرہےہیں وہ اسی کاایک ادنیٰ حصہ ہے۔پہلےتقاریر،احتجاجی وسیاسی پروگرام میں ان کےخلاف نفرت انگیز بیان دئیےجاتےتھے،اب اس کوباضابطہ اسکول کے نصاب میں شامل کیا گیا ہے اورپوری حقیقی تاریخ کومسخ کرکےمتضاداورنفرت انگیزطورپردرس وتدریس کےذریعہ پھیلایا جا رہاہے ۔اس طریقے سے مسلمانوں کےخلاف نفرت کا ماحول پیداہوگا۔ملک کی سالمیت داغدارہوگی اورجوکچھ تھوڑا بہت امن وسکون باقی ہےوہ بھی ختم ہوجائےگا۔اس سلسلےمیں تاریخ داں،دانشوران کوصلاح ومشورہ کرناچاہئے،تاکہ ہمارایہ عظیم ملک ہندوستان بدامنی،بدتہذیبی،بداخلاقی   اورنفرت انگیزی سےپاک ہواورہم ایک دوسرے کیساتھ الفت ومحبت سےرہیں۔
محمدطفیل ندوی(جنرل سیکریٹری!امام الہندفاؤنڈیشن ممبئی)
 عصری اسلوب میں مستند تاریخ  سوشل میڈیا پر پیش کی جائے 
  ہندوستان میں مسلم حکمرانوں کا دور حکومت تاریخ کا زریں عہد تھا جس نے وطن عزیز میں مختلف شعبوں کو ہمہ جہت ترقی سے نوازا تھا۔ یہ دور حکومت مذہبی رواداری و ہم آہنگی، امن و آشتی،  ترقی و انصاف،  عمارت سازی، مختلف علوم اور فنون لطیفہ کے فروغ، سیکولرزم، اپنے مذہب پر عمل آوری کی مکمل آزادی کے لئے پورے تاریخی حقائق اور ٹھوس ثبوتوں کے ساتھ جانا جاتا ہے۔ خصوصا ’ورن ویووستھا‘ کے شکار پسماندہ طبقات اس آزادی کی نعمت سے خوب بہرہ مند ہوئے لیکن کیا کیا جائے متعصب اور فرقہ پرست عناصر کی تفریق پر مبنی سیاست کا کہ جس کی بھینٹ تاریخ بھی چڑھ چکی ہے۔ آزادی سے قبل ہی فرقہ پرستوں کے ذریعہ مسلم دور حکومت پر مبنی بگڑی تاریخ  (distorted history) ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال ہوتی آئی ہے۔ مسلم حکمرانوں سے متعلق نفرت انگیزی کے اسباق سے ملک کے سماجی و سیاسی حالات پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے، خصوصاً سماج میں بڑھتی ہوئی  خلیج، پولارائزیشن کے ذریعہ اقتدار کا حصول، فاشزم، نفرت، فرقہ پرستی، تعصب اور اسلاموفوبیا کو مزید تقویت ملنے کا اندیشہ ہے اور آرایس ایس کے ایجنڈے میں نصاب کی تبدیلی کے پیچھے اصل منشا بھی یہی ہے۔ اس لئے وقت کا تقاضا ہےکہ ہمارے دانشور، ماہرین تعلیم، مورخین، علمائے کرام اور اساتذہ فرقہ پرستوں کی ان مذموم کوششوں کا مقابلہ کریں  ۔   اپنے نوجوانوں اور نئی نسل کے لئے مسلم عہد حکمرانی کی صحیح اور مستند تاریخ از سر نو عصری اسلوب کے ساتھ سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز پر پیش کریں۔
محمد ندیم شاد(پاتور، ضلع اکولہ)
تاریخ بدلنے سے وقت نہیں بدلتا ہے
 ہندوستان کی تاریخ کے تینوں ادوار میں جو دلچسپ واقعات سے بھر پور ہے وہ مغلیہ سلطنت کی تاریخ ہے۔ این سی ای آر ٹی کے نصاب میں مغل بادشاہوں کو سفاک ، قاتل، ظالم  اور جابر بتایا گیا ہے۔ جس دی’ گریٹ اکبر‘ کو ہندو سماج سیکولرازم کا دیوتا سمجھتا تھا، اسے بھی  سفاک و قاتل، ہندو دھرم کا دشمن بتایا گیا ہے۔تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ چاہے وہ اکبر، بابر، اورنگ زیب، شیوا جی مہاراج، مہارانا پرتاپ ہوں سبھی نے شہروں کو تباہ کیا ہے، انسانی نسلوں کو نقصان پہنچایا ہےلیکن سوال یہ ہے کہ صرف مغل ہی نشانے پر کیوں ہیں؟ اس لئے کہ وہ مسلمان ہیں۔  ۱۵؍ سو قبل مسیح میں آریا بھی اس ملک میں لوٹ مار کے ارادے سے آئے تھے، مغلوں نے تو اس ملک میں بہترین آرکیٹکچر کی مثال پیش کی ہے جو آج بھی ہندوستان کی عظمت میں چار چاند لگا رہے ہیں۔
شگوفہ خان اعظمی( نصیر پور، بندول، اعظم گڑھ، یو پی)

 مسلمانوں کے خلاف نفرت کی باڑھ آجائے گی 


 ایک نیا فتنہ ’’نئے ہندوستان‘‘میں جنم لے رہا ہے کہ اسکولوں کے اسباق میںمغل  بادشاہوں کو ظالم ، جابر اور مندرشکن بتایاجارہا ہے۔ مغل بادشاہوں کی حقیقی تاریخ  تو مسخ کرتے ہوئے انہیں ہندو مخالف اور ہندو دشمن بتایاجارہا ہے۔ ان اسباق کا اثر یہ ہوگا کہ طلبہ(برادران وطن ) کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پیدا ہوگی  اور  آگے چل کر یہ خلیج مزید گہری ہوگی جس سے ہندوستانی گنگا جمنی تہذیب کا جنازہ نکل جائے گا۔ پورے ملک میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کی باڑھ آجائے گی اور قومی یکجہتی اور ہم آہنگی اس سیلاب میں بہہ جائے گی لیکن بی جے پی کے ووٹ بینک میں اضافہ ضرور ہوگا۔ سیکولر پارٹیاں کیا کررہی ہیں؟
 محمد یعقوب ایوبی ( موتی پورہ، مالیگاؤں)
 تعلیم کے ذریعہ نفرت کا پیغام


  این سی  ای آر ٹی کی جانب سے نصابی  کتابوںمیں جو  تبدیلیاں کی جارہی ہیں وہ دراصل تبدیلیاں نہیں ایک نفرت کا  پیغام ہے۔ ۲۰۱۴ء  کے بعد  ہندوستان میں زمینی سطح پر جوحالات پیدا کئے جارہے ہیں وہ اسی منصوبے کا حصہ ہے جس  کے تحت ملک کو ’ہندو راشٹر‘ بنانے کی تیاری زوروں پر ہے ۔ مہاراشٹر کے تعلیمی نصاب سے مغلوں کی تاریخ کو خارج کردیا گیا ہے  جو تصویر آر ایس ایس پیش کرنا چاہتا ہے اور چاہتا ہے کہ لوگ اسے مان لیں وہ دراصل ’ ہندوبھارت‘کی تصویر ہے۔ اس میں کوئی ایسی علامت جس سے مسلم ، عیسائی اورکوئی  تہذیبی علامت نظر آئے اسے قبول نہیں ہے۔ ان کا جو بھارت ہے وہ صرف ہندو علامتوں سے بناہوا ہے۔ اس لئے جب کوئی تصویر میں تاج محل آتا ہے تویہ کہتے ہیں کہ یہاں پہلے رام مندر تھا۔ اسی طرح قطب مینار، لال قلعہ اورجامع مسجد پر بھی ان کی اپنی توضیحات  ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ساری چیزیں ہندوؤں نے بنوائی ہیں، مسلمانوں نے  اس پر اپنا رنگ ڈال دیا ہےجس سے ہمارا ملک اور  ہماری آنے والی نسل کا مستقبل  اور ہماری معیشت خطرے میں ہے۔
مومن نائمہ عرفان ( اسلام پورہ، بھیونڈی) 
غلط بیانی کی سزا قوم کو صدیوں تک بھگتنی پڑسکتی ہے 


 پہلے تاریخ ماہرین اور تاریخ پر مکمل عبور رکھنے  والے مورخین لکھا کرتے تھے مگر اب موجودہ دور میں یہی فریضہ سرکار انجام دے رہی ہے ۔ مغلیہ خاندان کے بانی ظہیر الدین محمد بابر کی تزک بابری اور بابر نامہ سے بابر کی شجاعت اور اس کی مذہبی رواداری کا پتہ چلتا ہے ۔ جلال الدین محمد اکبر جسے اکبر اعظم کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے ، جسے گنگا جمنی تہذیب اور ہندو مسلم اتحاد کا علمبردار بھی کہا جاتا ہے ، ایک ایسا مثالی اور قابل تقلید حکمراں جس کے نورتن سے متاثر چھتر پتی شیواجی مہاراج نے اشٹ پردھان منڈل (۸؍وزیروں کی جماعت ) کو ایک نیا روپ دیا ۔ حالانکہ اکبر مغل خاندان کا ان پڑھ اور جاہل بادشاہ تھا مگر وہ تمام مذاہب کے ماننے والوں کا احترام اور ان کی عزت کرتا تھا ۔ دین الٰہی سے اس کا بخوبی اظہار ہوتا ہے ۔ نصابی کتب کے ماہرین اور مرتبین نے آئین اکبری اور اکبر نامہ سے غالباً استفادہ نہیں کیا ۔ اورنگ زیب جس نے تقریباً۲۰؍ برس دکن میں گزارا اور وہ شیواجی کے ساتھ برسر پیکار رہا ۔ کافی متقی اور پرہیزگار ، اور ایک بہترین مذہبی روادار حکمراں تھا مگر اسے بھی تعصب پسند ، تنگ نظر  اور مندر شکن قرار دیا گیا ۔ ہندوستان میں مسلمانوں کی حکومت اور ان کی حکمرانی کی ایک طویل اور لمبی تاریخ ہے جو کافی تفصیل طلب بھی ہے ۔  دراصل آر ایس ایس اور بی جے پی انگریزوں کی پالیسی ’ پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو‘ کی روایت پر کاربند ہیں ۔یاد رہے کہ غلط بیانی اور غلط تاریخ لکھنے کی سزا قوم کو صدیوں تک بھگتنی پڑ سکتی ہے۔ 
انصاری محمد صادق(حسنہ عبدالملک مدعو وومینس ڈگری کالج کلیان)

وقت ر ہتے ذی فہم اور ذی ہوش افراد ڈٹ کر مقابلہ کریں 


ہندوستان کا وہ سنہری دور جسے سونے کی چڑیا کہا جاتا تھا اور جس دور میں امن و امان کا بول بالا تھا کو آج کے متعصب اور ذہنی بیمار سیاست دانوں نے ہندو راشٹر کی راہ میں رکاوٹ سمجھ کر اور انہیں ہندو عوام کی نگاہوں میں ذلیل کر کے اپنی سیاسی دُکان چمکانے میں لگےہوئے ہیں ۔ اپنی ناکامی کو چھپانے کے لئے مسلم حکمرانوں کے بہترین دور کو نفرت انگیز ثابت کرکے نئی نسل میں مسلم دشمنی پیدا کی جارہی ہے۔ آجکل اس ملک کے عوام کے درمیان مذہبی منافرت کے ذریعے جو خلاء قائم کیا جارہا ہے، وہ یقیناً اس ملک کی اخوت و بھائی چارے کی فضا کو خراب کردے گا۔ اپنے صد سالہ جشن میں آرایس ایس کے عہدیدار ہندوستان کو ہندو راشٹر کے روپ میں دیکھنا چاہتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ آئے دن تعلیم کے نام پر اور مذہبی تہواروں کے نام پر مسلم تشخص پر حملہ اور ان کی دلآزاری کے مواقع پیدا کرکے حکومتی سطح پر ان کو دوسرے درجے کا شہری بنانے کی تیاری کی جارہی ہے۔ غربت اور تنگی کے باعث مسلمان طبقہ تعلیم سے دور ہونے کی وجہ سے اپنی تاریخ سے ناواقف ہوتا ہے جس کا فا ئدہ اٹھا کر منو وادی ذہنیت کے لوگوں نے تعلیمی میدان میں دخل اندازی کرکے این سی ای آرٹی کے ذریعے مسلم حکمرانوں کے دور کو نفرت انگیزی میں بدلنے کا کام شروع کر دیا ہے۔ آج کا بویا ہوا یہ نفرتی بیج کچھ برسوں میں تناور درخت ہوکر منو وادی ذہنیت کے لوگوں کو شدت پسندی کا سایہ فراہم کرے گا اور اس کے سا یہ میں بیٹھ کر وہ مسلمانوں پر جبر و استبداد کی داستانیں لکھیں گے اور ان کی آنے والی نسلوں کو مسلمانوں کے خلاف صف بستہ کرکے ہندو راشٹر کی سمت متعین کرنے کی کوشش کریں گے، اس لئے وقت ر ہتے ذی فہم اور ذی ہوش افراد ان کا ڈٹ کر مقابلہ کریں ، لوگوں تک مسلم حکمرانوں کے سنہری دور کی تاریخ کو زیادہ سے زیادہ پہنچائیں اور انسانیت کی بقا و سلامتی کے لئے کمربستہ ہو کر ملک و ملت کے سنہرے اساس کو بچانے کی فکر کریں ۔ 
محمد سلمان شیخ (تکیہ امانی شاہ، بھیونڈی )
ہماری ساکھ بطور جمہوری ملک متاثر ہو گی


ہندوستان ایک کثیر مذہبی، تہذیبی اور ثقافتی ملک ہے جہاں مختلف اقوام نے صدیوں سے مل جل کر زندگی گزاری ہے۔ اس ملک کی تاریخ صرف ایک فرقے یا طبقے کی نہیں بلکہ یہ ایک مشترکہ ورثہ ہے جسے سب نے سنوارا ہے۔ افسوس کہ حالیہ برسوں میں تعلیمی نظام کو ایک خاص نظریے کے تحت ڈھالنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس کا مقصد مسلم حکمرانوں کو ظالم، غاصب اور متعصب کے طور پر پیش کرنا ہے۔ این سی ای آر ٹی کی نئی نصابی کتابوں میں مسلم حکمرانوں کی یک طرفہ اور منفی تصویر پیش کی جا رہی ہے۔ ان میں سے اورنگ زیب، محمود غزنوی، علاؤالدین خلجی اور ٹیپو سلطان جیسے نامور حکمرانوں کے عدل، علم پروری، فنون لطیفہ سے محبت اور رعایا پروری جیسے اہم پہلوؤں کو یکسر نظر انداز کر کے صرف جنگوں اور شدت پسندی کو اُجاگر کیا گیا ہے۔ 
نفرت انگیز نصاب کے ممکنہ خطرناک نتائج
فرقہ وارانہ ہم آہنگی متاثر ہوگی: جب ایک پوری نسل کو مخصوص کمیونٹی کیخلاف نفرت بھرا مواد پڑھایا جائے گا تو معاشرتی تفرقہ اور عدم برداشت میں اضافہ ہوگا۔ 
تاریخی حقائق مسخ ہوں گے: تعلیم کا مقصد سچائی سکھانا ہے، نہ کہ جھوٹ کو فروغ دینا۔ جب تاریخ کو مسخ کر کے پیش کیا جائے گا تو علمی دیانت بھی متاثر ہوگی۔ 
اقلیتوں میں احساسِ محرومی بڑھے گا: اگر مسلمانوں کی عظیم خدمات کو مٹایا گیا تو ان میں احساسِ بیگانگی پیدا ہوگا، جو کسی بھی جمہوری معاشرے کے لئے خطرناک ہے۔ 
بین الاقوامی ساکھ متاثر ہوگی: جب دنیا دیکھے گی کہ ہندوستان میں تعصب پر مبنی تعلیم دی جا رہی ہے تو ہماری ساکھ بطور جمہوری ملک متاثر ہو گی۔ 
تعلیم کا معیار گر جائے گا: جب تحقیق اور تنقید کی جگہ تعصب آ جائےتو علم کا زوال یقینی ہے۔ 
نفرت پر مبنی تعلیم نہ صرف تاریخ کے ساتھ ناانصافی ہے بلکہ یہ ملک کے مستقبل کے لئے بھی خطرناک ہے۔ ہمیں چاہئے کہ ہم آنے والی نسلوں کو تاریخ کے دونوں رُخ دکھائیں ظلم و زیادتی بھی اور عدل و تعمیر بھی تاکہ وہ تنقیدی سوچ کے ساتھ خود فیصلہ کر سکیں۔ ملک کی ترقی تب ہی ممکن ہے جب ہم سچائی، رواداری اور دیانت داری کے اصولوں پر تعلیم کا نظام قائم کریں۔ 
مومن فیاض احمد غلام مصطفی (سپروائزر، صمدیہ ہائی اسکول و جونیئر کالج، بھیونڈی)
طلبہ کے ذہنوں میں نفرت کو جگہ ملے گی


این سی ای آر ٹی کی ۸؍ویں جماعت کی نئی کتاب میں مغل دور حکومت کے تعلق سے طلبہ کے نظریہ کو پوری طرح سے بدل دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ مذکورہ کتاب میں شہنشاہ اکبر کو ’سفاکیت‘ اور ’رواداری ‘ کا مرکب، بابر کو ’ بے رحم فاتح ‘ اور اورنگ زیب کو ’ فوجی حکمراں ‘ جس نے غیر مسلموں پر ’جزیہ ‘ٹیکس لگایا لکھا گیا ہے۔ اور نگ زیب کو مذکورہ درسی کتاب میں ’ مندروں کو توڑنے والا ‘ بنا کر پیش کیا گیا ہے۔ کتاب کے آغاز میں ’ تاریخ کے کچھ تاریک ادوار پر ایک نوٹ ‘ کے عنوان سے ایک باب ہے۔ اس باب میں حساس اور پُرتشدد واقعات خصوصاً جنگ اور خونریزی کا ذکر کیا گیا ہے اور یہ تاثر دیا گیا ہے کہ اس کا مقصد طلبہ کو یہ سمجھانا ہے کہ ظالمانہ، پرتشدد یا جابرانہ حکمرانی یا پھر اقتدار کے حصول کی غلط خواہشات کی تاریخی وجوہات کیا تھیں ؟قوی امکان ہے کہ اسکی وجہ سے طلبہ کے ذہنوں میں نفرت کو جگہ ملے گی۔ کتاب میں ان واقعات کو تاریخ کے ’ سیاہ دور ‘ کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ جس طرح سے مغل حکمرانوں کو پیش کیا گیا ہے وہ فرقہ وارانہ منافرت کو بڑھائے گی اور کم سن طلبہ کے ذہنوں کو آلودہ کرے گی۔ این سی ای آر ٹی کا دعویٰ ہے کہ یہ تاریخ ’متوازن اور شواہد پر مبنی ‘ ہے لیکن مورخین نے اسے چھوٹے بچوں کے ذہنوں کو آلودہ کرنے کی کوشش بتایا ہے۔ 
ایم پرویز عالم نورمحمد( رفیع گنج، بہار)
ہم سب مل کر اس ملک کوجنت بنائیں 


ماضی میں مسلم حکمرانوں نے اس ملک پر ۷؍ سو سال حکومت کی۔ ہاں وہ باہر سے آئے تھے لیکن وہ یہیں کے ہو کر رہ گئے۔ یہیں جئے اور یہیں مرے۔ آج بھی ان کی قبریں یہاں موجود ہیں وہ یہاں سے بھاگے نہیں اس ملک کو اپنا ملک سمجھا۔ اس ملک کا وہ بادشاہ جس کے سامنے بطور ناشتہ اس کے دو پوتوں کے سر کاٹ کر ایک خوان میں سجا کر پیش کئے گئے، اس کو بھی اس بات کا ملال تھا اسے ہندوستان میں دفن کے لئے دو گز زمین بھی نہیں ملی۔ اگر وہ اس ملک کو اپنا ملک نہ سمجھتا تو اس کو کیوں ملال ہوتا ؟ اس ملک کو مسلم حکمرانوں نے دیا بھی بہت کچھ ہے۔ مسلماں حکمرانوں کے آنے سے پہلے اس ملک کے اصل باشندوں کی خواتین کو اپنے جسم کے اوپری حصہ کو ڈھکنا، کپڑا پہننا ممنوع تھا۔ ان لوگوں کی بستیاں شہر سے باہر ہوا کرتی تھیں۔ سورج غروب ہونے سے پہلے انہیں شہر سے نکل جانا پڑتا تھا۔ ان کے گلوں میں مٹکا بندھا ہوتا تھا کہ وہ راستہ پر تھوک نہیں سکتی تھیں اور پشت پر جھاڑو بندھی ہوتی تھی کہ ان کے ناپاک قدموں کے نشان مٹتے چلے جائیں ۔ ایک طویل داستان ہے۔ یہ ان مسلم حکمرانوں کی دین ہے کہ انہیں برابری کا درجہ دیا۔ اپنے ساتھ بٹھایا کھلایا اور ان کے ساتھ جو نا انصافیاں اور ظلم و زیادتیاں ہو رہی تھیں، اس کو ایک بڑی حد تک ختم کیا۔ اس دور کی بلکہ آج بھی کچھ حد تک ان غرباء کے ساتھ جو کچھ ہوا اور ہو رہا ہے اس پر پردہ ڈالنے کے لئے مسلم حکمرانوں کو ظالم، سفاک اور مندر شکن کے طور پر نصابی کتابوں پیش کیا جا رہا ہے اور وہ یہ بھول رہے ہیں کہ آج مسلمانوں کے مدرسوں ، مساجد اور غریبوں کی بستیوں پر جو بلڈوزر چلائے جا رہے ہیں ۔ تاریخ کا قلم اس کو درج کرتا جارہا ہے۔ ہاں آج مسلمانوں کے خلاف ظلم و زیادتی، نا انصافی اور بیان بازی ایک چلتا ہوا سکہ ہے جس سے آپ ووٹ بٹور رہے ہیں لیکن یہ کھوٹا سکہ ہے، زیادہ عرصہ تک نہیں چلے گا۔ اس ملک کی دوسری بڑی اکثریت کو کنارے کر کے یہ ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ کبھی وکاس نہیں ہو سکتا۔ بس مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ ڈٹے رہیں ۔ ان سے جو کچھ ہو سکتا انفرادی طور اجتماعی طور پر اس ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا حصہ ڈالتے رہیں ۔ ملک سے وفادار ضرور رہیں لیکن وفاداری کا ثبوت پیش کرتے نہ پھریں ۔ ہمیں اور ملک دوست برادران وطن بھائیوں کو چاہئے کہ ہم سب مل کر اس ملک کوجنت بنائیں۔ 
ابو حنظلہ ( پونے)
مسلم حکمرانوں نے قومی یکجہتی کا ثبوت دیا 


اس ملک پر مسلم حکمرانوں نے تقر یباً۸؍سو سال حکومت کی۔ ان پر بھلے ہی مسلموں کی منہ بھرائی کے الزامات لگے ہوں لیکن انہوں نے اپنی حکومتوں کو مستحکم کرنے کیلئے عوام کی فلاح وبہبود کے انتظامات کئے۔ انہوں نے سبھی قوموں کو اپنی اپنی حکومتوں میں مواقع دیئے۔ مسلم حکمراں کے یہاں ہندو اور ہندو حکمراں کے یہاں مسلم بڑے بڑے عہدوں پرفائز رہے ہیں ۔ اس طرح ان مسلم حکمرانوں نے قومی یکجہتی کا ثبوت دیا۔ 
مرتضیٰ خان( نیا نگر، میرا روڈ، تھانہ)
تعلیمی پالیسی کی ناکامی یا فکری سازش؟


حالیہ تعلیمی نصاب میں مسلم حکمرانوں، خاص طور پر مغلوں کو ظالم، غاصب اور مندر شکن کے طور پر پیش کیا جانا محض ایک علمی غلطی نہیں بلکہ ایک منظم فکری مہم کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔ این سی ای آر ٹی جیسے اہم ادارے کی طرف سے اس قسم کی جانبدارانہ تاریخ نویسی نہ صرف تاریخی سچائی سے انکار ہے بلکہ تعلیمی پالیسی کی ساکھ پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کرتی ہے۔ تاریخ کو محض مذہبی عینک سے دیکھنا اور مخصوص گروہوں کو یکطرفہ طور پر منفی رنگ دینا ایک خطرناک رجحان ہے جو قوم کے ذہنوں میں نفرت کا بیج بو دیتا ہے۔ یہ طرزِ فکر بین المذاہب ہم آہنگی کو بھی شدید نقصان پہنچاتا ہے۔ ایک ایسا ملک جہاں مختلف مذاہب، ثقافتوں اور قومیتوں کا امتزاج ہے، وہاں تاریخ کی غلط تعبیر نسلوں کے درمیان فاصلے پیدا کرتی ہے۔ تعلیمی اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ متوازن، غیرجانبدار اور حقائق پر مبنی نصاب فراہم کریں تاکہ طالب علم تنقیدی، غیرمتعصب اور وسیع النظر ذہن کے ساتھ پروان چڑھ سکیں۔ اگر نئی نسل کو صرف نفرت، تعصب اور جھوٹی برتری سکھائی جائے گی تو آنے والے کل میں وہ ایک مضبوط قوم نہیں بلکہ تقسیم شدہ ہجوم بن کر رہ جائے گی۔ آج وقت کا تقاضا ہے کہ تاریخ کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کے بجائے اسے سچائی، مفاہمت اور فہم و فراست کی روشنی میں پیش کیا جائے۔ مغلوں اور دیگر مسلم حکمرانوں کے دور کو ان کی علمی، ثقافتی، تعمیراتی اور انتظامی خدمات کے تناظر میں پرکھا جائے، تاکہ طلبہ کو ایک جامع اور حقیقی تاریخ سیکھنے کو ملے نہ کہ ایسی تاریخ جو محض نفرت کا پرچار ہو۔ 
جوّاد عبدالرحیم قاضی (ساگویں، راجا پور، رتناگیری)
ملک کی ترقی میں رکاوٹ پید ا ہوگی


اس طرح کا نصاب تیار کرنے سے ملک ہی کا نقصان ہوگا۔ این سی ای آر ٹی کے نئے نصاب میں ملک کے مغل حکمرانوں کو ظالم، مندر شکن اورسفاک کے طور پر نصاب میں پیش کرنے سے مسلم حکمرانوں سےمتعلق نفرت انگیز باتیں طالب علم کے ذہن میں  بیٹھ جائیں گی۔ ہندوستان میں رہنے والا ہندو طالب علم اپنے ساتھی مسلم طلبہ اور مسلمانوں سے بھی نفرت کرنے لگے گا۔ ملک میں ہندو مسلم میں تناؤ اور بڑھے گا۔ اس سے ملک کی ترقی میں رکاوٹ پید ا ہوگی اورطلبہ کے ذہن میں مسلمانوں سے نفرت اور بڑھ جائے گی اور اس دوری کوختم کرنا مشکل ہو جائے گا۔ ملک میں فساد ہونے شروع ہوجائیں گے، اس لئے نصاب میں جو صحیح تاریخ ہو، اسے ہی پیش کیا جائےجس سے ملک میں امن وشانتی ہو گی۔ اس بات کا خیال رکھ کر این سی ای آر ٹی نصاب بنانا چاہئے، کیونکہ نصاب میں کمی بیشی سے طلبہ کا نقصان ہوگا۔ ا نہیں  حقائق کا علم نہیں  ہوسکے گا۔ 
شیخ عرفان صغیر احمد( ساگر سٹی اندھیری ویسٹ)
ہندوستان کی ترقی کے لئے سم قاتل ثابت ہوگا


ہندوستانی گنگا جمنا تہذیب کا گہوارہ ہے۔ یہاں پر عرصہ دراز سے ہندو اور مسلمانوں نے ایک دوسرے کے شانہ بشانہ رہ کراس ملک کی ترقی میں اہم کردارادا کیاہے۔ ایک طویل عرصے تک مسلم حکمرانوں نےملک پرحکومت کی ہےجس کے سبب یہاں پرکئی سماجی، ثقافتی، تعمیری اورمذہبی رواداری کے واقعات رونما ہوئے ہیں۔ بہت سارے مسلم حکمرانوں نے منادر کے لئے بڑی بڑی رقومات اورزمینں وقف کی ہیں۔ کئی مندر تعمیر کروائے ہیں ۔ اہم بات یہ ہےکہ کچھ مسلم حکمرانوں نے کمبھ میلے جیسے بڑے بڑے مذہبی میلوں کی شروعات کی تھی۔ مختلف قسم کی تاریخی عمارتیں بنوائیں جن میں لال قلعہ، تاج محل، قطب مینار اوربی بی کامقبرہ جیسی تاریخی عمارتیں شامل ہیں۔ 
اگر معصوم ذہنوں میں مسلم حکمرانوں سے متعلق نفرت انگیزمواد درسی کتب میں فراہم کیا گیا تو اس تاریخی اور ثقافتی ورثہ سے متعلق بچوں کے معصوم ذہنوں میں نفرت پیدا ہوگی اور وہ اس تاریخی ورثے پر فخر کرنے کے بجائے اسے غلامی کی علامت کے طور پردیکھیں گے۔ اسی کے ساتھ ساتھ اپنے آس پاس رہنے والے مسلمانوں سے بھی وہ نفرت کرنے لگیں گےجس کی وجہ سے سماج میں نفرت کو فروغ حاصل ہوگا اور یہ ہندوستان کی ترقی کے لئے سم قاتل ثابت ہوگا۔ 
اسماعیل سلیمان (کرہاڈخورد تحصیل پاچورہ، جلگاؤں )
سنہرے دور کو کبھی فراموش نہیں کیاجاسکتا


بی جے پی کی موجودہ حکومت نئی نسل میں ہندو قوم پرستی پیدا کرنا چاہتی ہےاورملک میں ہندوراشٹر قائم کرنا چاہتی ہے۔ نئی تاریخ لکھ کر۸؍ سوسالہ مسلم دور حکومت کو تعلیمی نصاب سے نکالا جارہاہے مگر یاد رہےکہ تاریخ کوبدلاجاسکتا ہے اور نہ ہی فراموش کیا جاسکتا ہے۔ مسلم دشمنی کے سبب این سی ای آرٹی کے ذریعے ترتیب دیئے گئے نصاب میں ملک کےمغل حکمرانوں کو، ظالم، لٹیرے، مندروں کو توڑ کر مسجدیں بنانے والے، طاقت کے زور پر اسلام پھیلانے والےظالم قرار دے کر اصل تاریخ کوبدلا جارہا ہے جسے ملک کے سیکولر مورخین کبھی برداشت نہیں کرسکتے جس سے ملک کی عوام میں اختلاف پیدا ہوگا اور خانہ جنگی شروع ہوگی۔ مسلم دشمنی کا مطلب یہ نہیں کہ مغلوں کی۸؍ سوسالہ تاریخ کو جھوٹا کہہ کر بدلا جاسکے۔ بی جے پی حکومت جھوٹی تاریخ نصاب میں لاکر ملک کے آئین کی خلاف ورزی ہی نہیں بلکہ ملک کا آئین بدلنا چاہتی ہے۔ نصاب میں مسلم حکمرانوں کوظالم قرار دےکرنئی نسل میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کا زہر بھرا جارہا ہے۔ جھوٹی تاریخ نصاب میں لاکرملک کی تاریخ مٹا ئی جارہی ہے اورمسلمانوں سے نفرت کا سبق پڑھا یاجا ر ہاہے۔ آج بی جے پی اپنے اقتدار کے زور پر ہندوراشٹر بنوانے کے لئے سب کچھ منوا رہی ہے اور سچ کو جھوٹ میں بدلنا چاہتی ہے مگر یاد رہےکہ طاقت کا توازن بدلتا رہتاہے، مغلوں کے سنہرے دور کی تاریخ کو ہندوستانی عوام نے پڑھا ہے۔ آٹھ سوسالہ دور حکومت میں ایک بھی ہندومسلم فساد ہوا اور نہ ہی زبان کا جھگڑا ہوا۔ اسوقت کی لڑائیاں مذہبی نہیں تھیں۔ صرف دو طاقتوں کاٹکراؤ ہوتاتھا۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہندو، مسلم ساتھ مل کرلڑتے تھے ایک بھی مذہب کے نام پر لڑائی نہیں ہوئی۔ اگر اصل تاریخ بدل کرمسلمانوں پرظلم ہوتا گیا اور اس کے خلاف آواز نہیں اٹھائی گئی تو ملک کے سیکولر آئین، جمہوریت اور امن کو خطرہ لاحق ہوگااور سنگین نتائج سامنےآئیں گے، اس لئے ضروری ہے کہ اصل تاریخ کو نہ بدلتے ہوئے ملک کی تہذیب، ایکتااورامن کو برقرار رکھا جائے، اسی میں ہماری اور ملک کی بھلائی ہے۔ 
اقبال احمد خان دیشمکھ (مہاڈ، رائےگڑھ)

ملک کے مستقبل کیلئے خطرہ


تعلیمی نصاب میں تبدیلی کے نام پر جس طرح مسلم حکمرانوں کو یکطرفہ طور پر ظالم اور جابر بنا کر پیش کیا جا رہا ہے، وہ صرف ایک مذہب یا قوم پر حملہ نہیں ہے بلکہ ملک کی گنگاجمنی تہذیب پر کاری ضرب ہے۔ مغل حکمرانوں اور مسلم بادشاہوں نےبرصغیر میں عدلیہ، تعمیرات، تعلیم، ادب، موسیقی اور فنون میں جو گراں قدر خدمات انجام دی ہیں، انہیں دانستہ نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ تاج محل، قطب مینار، جامع مسجد اردو زبان اور صوفی روایتیں مسلم حکمرانی کے وہ پہلو ہیں جو ہندوستانی تہذیب کا لازمی حصہ ہیں۔ یہ کیسا انصاف ہے کہ تاج محل کی شان تو دکھائی جائے لیکن اس کے بانی شاہجہاں کو سخت گیر حکمراں کے طور پر بیان کیا جائے؟ ایسی تعلیم کا براہ راست اثر نئی نسل کی سوچ پر پڑے گا جو ملک کے اتحاد و سالمیت کیلئے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ تعلیمی ادارے نفرت نہیں، علم پھیلانے کیلئے ہوتے ہیں۔ اگر نصاب کو ایک خاص ایجنڈے کے تحت زہر آلود کیا گیا تو اس کا انجام نفرت، تشدد اور سماجی تفریق کی شکل میں ظاہر ہوگا۔ جب کسی قوم یا مذہب کو مسلسل منفی انداز میں پیش کیا جائے تو اس کانتیجہ سماجی نفرت مذہبی تقسیم اور معاشرتی تصادم کی صورت میں نکلتا ہے۔ 
رضوان ہمنوا سر ( ہاشمیہ ہائی اسکول ممبئی )
یہ ایک منظم اور منصوبہ بندسازش ہے


تعلیمی نصاب کو ایک مخصوص رنگ میں رنگنے کی جو کوشش کی جا رہی ہے، وہ دراصل ملک کی گنگا جمنی تہذیب، سماجی ہم آہنگی، قومی یکجہتی، بھائی چار گی اور سماجی اقدار کو پامال کرنے کی منظم اور منصوبہ بندسازش ہے۔ اٹل بہاری کے دور میں مر لی منوہر جو شی وزیر تعلیم ہوا کرتے تھے۔ ان کی ایما پر تاریخ کے حقائق کو توڑمروڑ کر ایک نئی اور من گھڑت تاریخ لکھنے کیلئے آر ایس ایس نظریے کے حامل نام نہاد مؤرخین کی اک فوج تیار کی گئی۔ ان متعصب اور نام نہاد مورخین نے بابر، اکبر، اورنگ زیب اور دیگر مسلم بادشاہوں کو ظالم، جابر، قاتل اور سفاک بنا کر پیش کرنے کے ساتھ ہی انہیں پوری انسانی آبادی کا دشمن بھی ثابت کرنے کی کوشش کی۔ یہ نہ صرف تاریخ سے چشم پوشی ہے بلکہ معصوم بچوں کے ذہنوں کو پراگندہ کر نے کی مذموم کوشش بھی ہے۔ اب اسی ’تاریخ‘کو نصابی شکل دی جارہی ہے۔ اس میں مغل حکمرانوں کی اصل تصویر دکھانے کے بجائے آر ایس ایس نواز مورخین نے اپنی پسند کےمطابق منفی اندازمیں پیش کیا ہے تاکہ ملک کی دیگر اقوام مثلاً سکھوں، پارسیوں اور جینیوں کے ذہنوں میں یہ بات بٹھانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ مغل، ہندوؤں کے ساتھ ہی دیگر طبقوں کے بھی دشمن تھے۔ 
زبیر احمد بوٹکے ( نالا سوپارہ) 
یہ کوشش سماجی ہم آہنگی کو متاثر کر سکتی ہے


نیشنل کریکیولم فریم ورک(این سی ایف ۲۰۲۳) کے تحت ’این سی ای آر ٹی‘ نے جماعت ہشتم میں مغل حکمرانوں کو’جابر‘ اور ’مندر شکن‘ جیسا نام دے کر منفی زاویے سے پیش کیا ہے۔ اس قسم کے متعصبانہ اسباق نہ صرف علمی دیانت کے خلاف ہیں بلکہ سماجی سطح پر بھی سنگین نتائج کا باعث بن سکتے ہیں۔ جب تاریخ کو زہر آلود انداز میں پڑھایا جاتا ہے تو طلبہ کے ذہنوں میں تعصب، نفرت اور تقسیم کی فضا جنم لیتی ہے، جو سماجی ہم آہنگی کو متاثر کر سکتی ہے۔ مغلیہ دور کے فنون، ثقافت، نظم و نسق اور بین الثقافتی امتزاج جیسے مثبت پہلوؤں کو نظر انداز کرنا تاریخ کے توازن کو بگاڑتا ہے۔ یہ تبدیلیاں ایک خاص سیاسی ایجنڈے کی عکاسی کرتی ہیں، جہاں مسلم حکمرانوں کی خدمات کو دانستہ طور پر مسخ کر کے پیش کیا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں طلبہ ماضی کے حقیقی تناظر سے محروم ہو جائیں گے اور موجودہ معاشرتی مسائل کو صحیح سیاق و سباق میں سمجھنے سے قاصر رہیں گے۔ ایسی تعلیمی حکمت عملی فرقہ وارانہ خلیج کو مزید وسیع کریگی، جس سے قومی اتحاد، سماجی یگانگت اور جمہوری اقدار کو نقصان پہنچے گا۔ یہ روش نوجوان نسل کی تنقیدی سوچ، حقیقت پسندی اور فہم و فراست کو محدود کر دے گی۔ 
عبید انصاری ہدوی( غورى پاڑہ، بھیونڈی)
اس کا تصور ہی خوفناک ہے


تعلیمی نظام کے بھگوا کرن کا کام تیزی سے جاری ہے۔ اس مقصد کو عملی جامہ پہنانے کا پورا انتظام’این سی ای آر ٹی‘ نے کر رکھا ہے کہ کسی بھی طرح طلبہ کے ذہنوں میں فرقہ واریت کا زہر سرایت کر جائے۔ اسی کے تحت اب اسکولی نصاب میں تبدیلی کے بعد طلبہ کو یہ’سمجھایا‘ جائےگا کہ ’مغل دور‘ہندوستانی تاریخ کا سیاہ ترین باب تھا جس میں ہندوؤں پر بے پناہ ظلم ہوئے۔ دراصل فرقہ پرست تنظیمیں چاہتی ہیں کہ تعلیمی اداروں میں بھی فرقہ پرستی کا ماحول پیدا ہو اور وہاں بھی طلبہ کے گروپوں کے مابین امتیاز پر مبنی سلوک کرتے ہوئے انہیں ایک دوسرے سے دورکر دیا جائے لیکن مستقبل میں اس کے جو بھیانک اثرات مرتب ہوں گے وہ طویل مدتی طور پر قومی اتحاد کو نقصان پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔ مثلاً اس سے معاشرتی تقسیم، فرقہ وارانہ تشدد اور مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک بڑھےگا، اس کے ساتھ ہی اس کا گہرا اثر ہندوستانی فن، ثقافت پر بھی ہوگا جس سے پوری دنیا میں ہندوستان کی شبیہ مسخ ہوگی جو اپنی رنگا رنگ تہذیب کے حوالے سے ایک الگ شناخت رکھتا ہے۔ اگر خدا نخوستہ ایسا ہوتا ہے تو مستقبل میں ملک کی کیا تصویر ہوگی، اس کا تصور ہی خوفناک ہے۔ 
رضوان عبدالرازق قاضی ( کوسہ ممبرا)
مختلف مذاہب کے درمیان دشمنی میں اضافہ ہوگا


نفرت انگیز اسباق معاشرے میں مسلمانوں کے خلاف تعصب، نفرت اور دشمنی کو فروغ دیں گے، جس سے فرقہ واریت اور نسلی کشیدگی بھی بڑھ سکتی ہے۔ ایسے اسباق طلبہ کے ذہنوں کو پراگندہ اور تاریخی حقائق کو مسخ کریں گے۔ مسلم حکمرانوں کی فتوحات، عدل، علم دوستی اور ثقافتی خدمات کو نظر انداز کرکے صرف منفی پہلوؤں پر زور دینا دراصل طلبہ کو متعصب بنانا اور اُنھیں تاریخی حقائق سے محروم رکھنے کے مترادف ہے۔ ایسے اسباق مختلف مذاہب کے درمیان دشمنی کو بڑھاوا دیں گے، بالخصوص مسلمانوں کے اندر ایک خوف کا ماحول پیدا کریں گے۔ افسوس کی بات ہے محض سیاسی فائدے کیلئے طلبہ کی منفی انداز میں ذہن سازی کی کوشش کی جارہی ہے، جس سے ملک میں انارکی پھیلنے کا خدشہ ہے۔ 
اظہرالدین ظاہر (کاسودہ، جلگاؤں )
جھوٹ کو سندِ تعلیم کا درجہ دیا جا رہا ہے


این سی ای آر ٹی کے حالیہ فیصلے جن کے تحت اسکولی نصاب میں بنیادی تبدیلیاں کی گئی ہیں، صرف تعلیمی ترمیم نہیں بلکہ ایک منظم نظریاتی یلغار کا تسلسل ہیں۔ تاریخ کو اس طرح مسخ کیا جا رہا ہے کہ نئی نسل کے ذہنوں میں ایک متعصب خاکہ بیٹھ جائے۔ مسلم حکمراں اور مغلوں کا ذکر صرف تلوار، جزیہ، فتوحات اور سختی کے تناظر میں کیا گیا ہے اور ان کی گنگا جمنی تہذیب، عوامی فلاح اور صوفی روایت کو دانستہ نظرانداز کر دیا گیا ہے۔ شہروں کے ناموں کی تبدیلی بھی اسی سوچ کا تسلسل ہے جہاں شناخت کو مٹانا ہی نیا قومی بیانیہ بنتا جا رہا ہے۔ بطور معلم، جب میں نے ان نئے نصابی خاکے کا باریک بینی سے جائزہ لیا تو دل بےحد مغموم ہوا۔ طلبہ کے ہاتھوں میں سچ کے بجائے ایک گھڑا ہوا اور تعصب سے آلودہ بیانیہ تھما دیا گیا ہے۔ یہ محض نصابی ترمیم نہیں بلکہ ایک نسل کی فکری تربیت کو ایک خاص قالب میں ڈھالنے کی منظم سازش ہے۔ اگر کسی قوم کو اس کی تاریخ سے محروم کر دیا جائے، تو اس کے مستقبل کی بنیادیں کھوکھلی ہو جاتی ہیں۔ یہ تبدیلیاں صرف مغل حکمرانوں کے خلاف نہیں بلکہ برصغیر میں مسلم تشخص، تہذیب اور تاریخی وجود کو مٹانے کی کوشش ہیں۔ نصاب، جو کسی بھی قوم کی فکری بنیاد ہوتا ہے، اب سیاسی ایجنڈے کی نذر ہو رہا ہے۔ جن درسی کتابوں کو روشنی کا ذریعہ ہونا تھا وہ تعصب، نفرت اور تقسیم کا آلہ کار بنتی جا رہی ہیں۔ سچ حذف کیا جا رہا ہے اور جھوٹ کو سندِ تعلیم کا درجہ دیا جا رہا ہے۔ تعلیم جب جھوٹ پر قائم ہو، تو نئی نسل نہ صرف گمراہ ہوتی ہے بلکہ اصل تاریخ سے نابلد ہوکر فکری زوال کا شکار بھی ہو جاتی ہے۔ وقت آگیا ہے کہ ہم صرف تماشائی نہ بنے رہیں بلکہ اس تعصبات سے بھرے نصابی یلغار کے خلاف علمی اور جمہوری احتجاج کریں اور آواز بلند کریں۔ یہ خاموشی ہماری نسلوں کی فکری بربادی پر مہرِ تصدیق بن سکتی ہے۔ سچائی کا دفاع کرنا صرف تاریخ دانوں کی نہیں بلکہ ہر باشعور معلم، سرپرست والدین اور شہری کی ذمہ داری ہے۔ 
آصف جلیل احمد (چونابھٹّی، مالیگاؤں )
تاریخ، تاریخ ہے، جسےنہ جھٹلایا جا سکتا ہے، نہ مٹایا جا سکتا ہے


آر ایس ایس اور اس کی ذیلی تنظیموں کے ساتھ ہی بی جے پی کی حکومتوں کا رویہ مسلمانوں کے ساتھ معاندانہ اور ظالمانہ ہے۔ ملک کی مسلم اقلیت کو سیاسی، سماجی، ثقافتی اور معاشی سطح پر زک پہنچانے کیلئے سبقت لے جانے کی کوشش میں سب ایک دوسرے پر گرتے پڑ رہے ہیں اور اب انھوں نے معصوم ذہنوں کو مسموم کرنے کا منصوبہ بنالیا ہے کہ بچپن ہی سےمسلم حکمرانوں کے تعلق سے نفرت پر مبنی اسباق پڑھا دیئے جائیں تاکہ بڑے ہو کر وہ مسلم اقلیت کو دشمن سمجھنے لگیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ طلبہ کمرہ جماعت ہی سے مسلم طلبہ کے تفریق آمیز رویہ اختیار کرنے لگ جائیں۔ ایسے میں جب یہ بچے بڑے ہوں ہوگے تو سماج کیلئے مشکلات ہی پیدا کریں گے...لیکن جب کبھی وہ تاریخ کا مطالعہ یا سامنا کریں گے تو ان کی رسوائی بھی ہو گی کیونکہ تاریخ لکھی جا چکی ہے، جسےنہ جھٹلایا جا سکتا ہے، نہ مٹایا جا سکتا ہے۔ 
سعیدالرحمان محمد رفیق (گرین پارک روڈ، شیل تھانے)
تاریخ سے چھیڑ چھاڑ کرنے والوں کو ہزیمت اٹھانی پڑے گی


ملک میں مسلم مخالف ماحول اپنے عروج پر ہے۔ برسر اقتدار حکومت اکثریتی طبقے کو خوش کرنے کا کوئی ضائع نہیں کرنا چاہتی۔ نصابی کتابوں میں جس طرح مغل حکمرانوں کی ہرزہ سرائی کی کوشش کی گئی ہے، اس پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے تاریخ داں ڈاکٹر روچیکا شرما اور دیگر انصاف پسندوں نے سوشل میڈیا اور ٹی وی چینلوں پر حکومت کی منشاء کی پول کھول دی ہے۔ نصابی کتابوں میں غلط بیانی سے یہ نقصان ضرور ہوگا کہ ملک کی گنگا جمنی تہذیب متاثر ہوگی اور کم عمری ہی سے بچوں کے ذہنوں میں اپنے ہم وطنوں کی تئیں نفرت کے جذبات پیدا ہوں گے۔ اس کی مثالیں ہم نے ماضی قریب میں دیکھی بھی ہیں، لیکن حکومت کو یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ یہ دور سوشل میڈیا کا ہے اور جس طرح منفی پروپیگنڈا پھیلایا جاتا ہے اس کے کاؤنٹر ری ایکشن بھی سامنے آجاتے ہیں۔ یہ وقت کا اہم تقاضا ہے کہ اب تاریخ پر حملے کا اور مضبوطی کے ساتھ دفاع کیا جائے۔ اخبارات، رسالوں اور سوشل میڈیا کے ذریعے منفی پروپیگنڈوں کا حتی الامکان ازالہ کرنے کی کوشش کی جائے۔ اسکولوں میں اساتذہ کو ایک متوازی نصاب کےذریعے طلبہ میں بیداری اور آگہی پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ رات چاہے کتنی ہی تاریک کیوں نہ ہو صبح سورج طلاع ضرور ہوگا۔ 
مومن فہیم احمد عبدالباری (معلم، صمدیہ ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج، بھیونڈی)
تاریخ کو زہریلا بنانے والی سوچ 


تاریخ کو نفرت کے چشمے سے دیکھنا نہ صرف سچائی پر ظلم ہے بلکہ آنے والی نسلوں کیلئے خطرہ بھی ہے۔ تاریخ سے چھیڑ چھاڑ اور نفرت پر مبنی نصاب سماج کو بدامنی اور فسادات کی طرف لے جاتا ہے۔ ہندوستان جیسے کثیر المذاہب ملک میں ایسی سوچ فساد، جان و مال کے نقصان اور عوامی بے چینی کا سبب بن سکتی ہے۔ بدقسمتی سے کچھ سیاسی طاقتیں اس نفرت کو اپنے مفاد کیلئے استعمال کرتی ہیں کہ جس میں مسلم حکمرانوں کے خلاف تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جاتا ہے۔ اس سے مخصوص ووٹ بینک کو تو خوش کیا جا سکتا ہے مگر اس کا نقصان پورے ملک کو اٹھانا پڑتا ہے اور حقیقی مسائل جیسے تعلیم و ترقی مہنگائی، ٹیکس اورصحت وغیرہ پس منظر چلے جاتے ہیں۔ مسلم حکمرانوں کے خلاف پھیلائی گئی منفی تاریخ نے ہندو مسلم تعلقات کو بری طرح متاثر کیا ہے اور معاشرتی اتحاد کو کمزور کیا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تاریخی نصاب میں توازن قائم رہے۔ سچائی پر مبنی تعلیم دی جائے تاکہ ہماری نئی نسل کے نمائندے ایک پرامن اور متحدہ قوم بنانے میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔ مختصر یہ ہے کہ ہمیں ماضی سے نفرت نہیں بلکہ عبرت لینے کی اشد ضرورت ہے۔ 
شیخ نسرین عارف ( رابعہ گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج، بھیونڈی)
تاریخ کو مذہب کی عینک سے دیکھنا درست نہیں 


تعلیم کسی بھی معاشرے کا آئینہ ہوتی ہے جو نئی نسل کے ذہنوں کو شعور، تاریخ اور اقدار سے آشنا کرتی ہے۔ بدقسمتی سے، آج ملک میں کچھ مخصوص نظریات کے تحت تاریخ کو اپنے حساب سے لکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ این سی ای آر ٹی کے تازہ نصاب میں مغل حکمرانوں کو صرف ’ظالم، جابر، سفاک اورمندر شکن‘ کے طور پر پیش کرنا نہ صرف تاریخ کے ساتھ ناانصافی ہے بلکہ ایک مخصوص فرقے کے خلاف منظم نفرت کو فروغ دینے کی خطرناک کوشش بھی ہے۔ اگر نئی نسل کو اسی طرح صرف یک رُخی انداز سے تاریخ پڑھائی جائےگی، تو وہ نہ تو اپنے ماضی کو سمجھ پائیں گے اور نہ ہی ایک ہم آہنگ اور پرامن معاشرے کے قیام میں مثبت کردار ادا کر سکیں گے۔ نفرت انگیز تعلیم ذہنوں کو زنگ آلود کر دیتی ہے اور معاشرے کو بھی تقسیم کرتی ہے۔ لہٰذا، یہ ضروری ہے کہ تاریخ کو غیر جانبداری اور تحقیق کی روشنی میں پڑھایا جائے نہ کہ سیاسی مقاصد کے تحت۔ تاریخ کے صفحات کو مسخ کرنے سے وقتی فائدہ شاید حاصل ہو جائے مگر قوموں کے بکھرنے کا عمل بھی یہیں سے شروع ہوتا ہے۔ 
مومن ناظمہ محمد حسن (ستیش پردھان گیان سادھنا کالج، تھانے )
سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی مذموم کوشش ہے


’این سی ای آر ٹی‘کی ۸؍ ویں کی نئی کتاب میں مغلیہ سلطنت کے تعلق سے پورے دور کو منفی نظریہ سے پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ کتاب طلبہ کو دہلی سلطنت، مغلوں اور مراٹھوں کے ادوار سے متعارف کراتی ہے۔ پہلے ہی باب میں پُرتشدد واقعات خصوصاً جنگ اور خوں ریزی کا ذکر کیا گیا ہے، جس کیلئے ذمہ دار مسلم حکمرانوں کو ٹھہرایا گیا ہے۔ اس کا مقصد طلبہ کے ذہنوں میں نفرت کے بیج بونا ہے۔ یہ دراصل ہندو مسلم پولرائزیشن کی راہ ہموار کرکے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی مذموم کوشش ہے۔ مغلیہ سلطنت اور دہلی سلطنت کے معتبر حوالوں کیلئے ملک کے مایہ ناز مورخین ڈاکٹر تارا چند، جادوناتھ سرکار، پروفیسر عرفان حبیب اور پروفیسر ستیش چندرا کی مستند تحقیقی کتب سے رجوع کیا جاتا ہے۔ این سی ای آر ٹی کی جانب سے ایسی نفرت انگیز اور بے بنیاد تبدیلی سے سیاسی جماعتیں فائدہ تو اٹھا سکتی ہیں مگر یہ ملک کیلئے طویل مدتی خسارے کا باعث بن سکتا ہے۔ 
افتخار احمد اعظمی(سابق مدیر ضیاء، مسلم یونیورسٹی علیگڑھ)
اس سےہندو مسلم اتحاد مزید خراب ہو سکتا ہے


مغل حکمرانوں سےمتعلق نفرت کی جو آ گ بھڑکائی جا رہی ہے، اس کے برے نتائج نکل سکتے ہیں ۔ ان اسباق سے طلبہ کے اذہان کو فرقہ واریت کی جانب ڈھکیلا جا رہا ہے۔ انھیں ایک نیا رخ دے کر مشتعل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس سے اکثریتی برادری کےنسل نو کو مسلم حکمرانوں سے نفرت ہوگی۔ نفرت و تعصب کا یہ زہر جب اپنی انتہا کو پہنچے گا تو ملک کی سالمیت اور اتحاد کا نقصان ہو گا۔ مغلوں سے نفرت اور مراٹھوں کی شان میں قصیدہ خوانی سے ہندو مسلم اتحاد مزید خراب ہو سکتا ہے۔ اس سے نفرت اور تعصب کی آ گ بھڑک سکتی ہے جو ملک کے امن اور ترقی میں رکاوٹ بن سکتا ہے اور ہندو مسلم اتحاد کو انتشار میں تبدیل کر سکتا ہے۔ یہ دراصل آ نے والی نسلوں کو حقائق سے نا بلد کر کے فرقہ واریت کی آ گ پر سیاست کی روٹی سینکنے کا کام کیا جا رہا ہے۔ سیاسی فائدے کیلئے ملک کی تاریخ سے گھناؤنا کھیل کھیلا جا رہا ہے جس کا فیصلہ شکست و فتح پر نہیں ہوگا بلکہ وطن عزیز کی بربادی، ملکی انتشار، منافرت اور فرقہ وارانہ فسادات کی شکل میں ظاہر ہو سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف ہندو مسلم اتحاد کو ٹھیس پہنچے گا بلکہ ملک کی عالمی سطح پر رسوائی ہوگی اور ملک کی معیشت بھی بری طرح متاثر ہو گی۔ 
مقصود احمد انصاری (سابق معلم رئیس ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج، بھیونڈی)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK