سُوتی کپاس اور پالیسٹر کے دھاگوں سے کپڑے بننے والے اپنی مشینیں روک کر رب العالمین کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوتے ہیں۔
EPAPER
Updated: March 11, 2026, 2:36 PM IST | Mkhtar Adeel | Mumbai
سُوتی کپاس اور پالیسٹر کے دھاگوں سے کپڑے بننے والے اپنی مشینیں روک کر رب العالمین کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوتے ہیں۔
شہر مالیگاؤں کی سعید اِلٰہیہ مسجد میں تراویح کی نماز ادا کی جارہی ہے۔بندگانِ خدا صف باندھے کھڑے ہیں۔مسجد کے دروازے سے باہر تک چپّل جوتے بکھرے ہوئے ہیں۔ انہیں دیکھ کر لگتا ہے جیسے ہمارا معاشرہ بکھرا ہوا ہو ۔ مسجد کے اندر صحن سے منبر سے قریب تک نمازیوں کی باترتیب صفیں دیکھ کر لگ رہا ہے کہ یہی پیغامِ اسلام ہے۔رات ساڑھے نو بجے تراویح مکمل ہوتی ہے۔ اس کے بعد جب نمازی اپنے گھروں کو جانے کیلئے نکلتے ہیں توخدا معلوم یہ سوال کسی کے ذہن میں آتا بھی ہے یا نہیں کہ راستے اپنی کشادگی کہاں کھو بیٹھے؟ یہ سوال اس لئے اہم ہے اور اس صورتحال کے خلاف عوامی تشویش ضروری ہے کہ راستوں پر دکانداروں، عارضی دکانداروں اور جزوقتی دکان داروں نے مکمل قبضہ کر رکھا ہے۔ اس طرح راہ گیروں کا حق سلب ہورہا ہے مگر کسی کو اس کی فکر نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھئے: قدرتی نشانیاں، فرشتوں کی اقسام، ابراہیمؑ کی دُعا، اسماعیلؑ کی قربانی کا ذکر سنئے
یہ شہر محنت کش نُوربافوں سے آباد ہوا ہے۔ یہاں کی مسجدوں میں ریاضت و عبادت کے جابجا نقوش چلتے پھرتے نظر آتے ہیں۔سُوتی کپاس اور پالیسٹر کے دھاگوں سے کپڑے بننے والے اپنی مشینیں روک کر رب العالمین کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ہاتھ پھیلا کر رزق کی فراخی اور اپنی مناجات کی قبولیت کے ساتھ صغائر و کبائر (گناہوں) کی معافی کیلئے چہرے کو آنسوؤں سے تَر کرتے ہیں۔ بڑی بازار میں جامع مسجد کے بلند مینار، نیاپورہ میں نورانی مسجد کی نورانیت، خوش آمد پورہ میں خانقاہ اشرفیہ مسجد کے گنبد سے پھوٹتی سبز کرنیں اور موتی پورہ اہلحدیث مسجد کے درودیوار عامۃ المسلمین کی دینداری، انسانیت نوازی، ملّی اُخوت اور قومی اتحاد کا پیغام عام کرتے ہیں۔
رات کا تیسرا پہر جاری ہے۔سحر کا وقت ہو چکا ہے۔ مولانا آزادؔ روڈ پر گہماگہمی بڑھ گئی ہے۔ یہی راستہ آگے گاندھی مارکیٹ تک جاتا ہے۔ جامعۃ الصالحات کی عمارت بھی اِدھر ہی واقع ہے۔ آصف علی ماسٹر سے ملاقات ہوئی، کہنے لگے: میاں پترکار! دس سال پہلے کے اس روڈ اور آج کے روڈ میں کتنا فرق آگیا ہے۔ سیمنٹ سے لے کر لسّی تک اور اسٹیشنری سے لے کر گارمینٹس تک سب کچھ یہاں ملنے لگا ہے۔ مالپوہ، عربی ٹوسٹ، حلوہ پراٹھا، کھچڑا، کباب اور نہ جانے کیا کیا۔ آصف علی ماسٹر نے بین السطور کیا کہا یہ سمجھنا مشکل نہیں مگر جیسا کہ اوپر کہا گیا، سڑک کے ساتھ ہمارا غیر منصفانہ سلوک ہے کہ اکثر ہر طرف بازار ہوتا ہے سڑک کہیں نہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اعتکاف شخصیت کو نکھارنے، سنوارنے اور اس کے ارتقا کا بہترین ذریعہ
اُن کو سلام کرکے آگے بڑھا اور امن چوک پہنچ گیا۔ پکوانوں کی دکانوں کے چولہوں سے اُٹھتے دھویں کے خوشبودار مرغولے آپ کے قدم نہ روک لیں تو کہئے۔ امن چوک کے پڑوس میں اشرفیہ چوک ہے۔ یہاں پر امین سردار کی نشست گاہ پر گیانی دھیانی حضرات جمع ہوتے ہیں۔ اُن کی گفتگو کا ماحصل یہ ہے کہ اس شہر کی خاص بات یہ بھی ہے کہ ماہِ صیام میں یہاں کی سیاسی سرگرمیاں بھی مذہبی دائرے میں آجاتی ہیں۔ شہری انتظامیہ اور اربابِ سیاست کو مسلمانوں کی فکر ستانے لگتی ہیں۔ ساری فکر میڈیائی بیانات میں ہوتی ہے۔ حقیقت میں اس کا کوئی وجود نہیں۔ گلیوں اور محلوں کے نکڑوں پرمشرق وسطیٰ کی جنگ زیر گفتگو ہے جس میں جنگی حالات پر طوطا مینا اُڑ رہے ہیں۔ تربوز کھانے کے بعد پھینکی گئی قاشوں کا ڈھیر، کیلے کے چھلکے اور کچرے کے انبار سے جھانکتی بچی کچھی خوردنی اشیاء پر کسی توجہ نہیں ہے جبکہ شہر کی حالت مالیگاؤں کی مسلم قیادت اور مسلمان کہی جانیوالی سیاست کو دعوتِ عمل دیتی رہتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مَردوں اور خواتین کیلئے احکام، سلیمانؑ کا انتقال اور قومِ سبا کا حال سنئے
سحر کا وقت ہوچکا ہے۔ دَف کی تھاپ پر اسلامی نغمات گانے والوں کی ٹولیاں اب تک نظر نہیں آئیں۔ آخری عشرہ آج سے شروع ہوگا، شاید اس عشرہ میں آئیں۔ مساجد کے لاؤڈ اسپیکر سے سحر کا وقت ختم ہونے میں دس اور پانچ منٹ باقی ہیں کا اعلان ہوتا ہے۔ اذان کے ساتھ ایک مرتبہ پھر نمازی مساجد کی طرف نکل پڑتے ہیں۔ عشاء کے مقابلے میں فجر میں ان کی تعداد کم ہے۔ حمیدیہ مسجد (بڑا قبرستان) میں فجر کی با جماعت ادائیگی کے بعد بیشتر نمازی مسجد سے نکل کر قبرستان میں اپنے مرحومین کی قبروں پر فاتحہ وزیارت کیلئے جاتے ہیں۔مالیگاؤں کا بڑا قبرستان شہرِ خموشاں نہیں جہانِ رُوحانی ہے۔ حضرت مولانا شاہ محمد اسحاق نقش بندیؒ کے مزار پر زائرین کا تانتا بندھا رہتا ہے۔