Inquilab Logo Happiest Places to Work

اعتکاف شخصیت کو نکھارنے، سنوارنے اور اس کے ارتقا کا بہترین ذریعہ

Updated: March 10, 2026, 3:50 PM IST | Mohibullah Qasmi | Mumbai

اللہ کے نیک بندے اس سے اپنی عبودیت کے رشتے کو مضبوط کرنے اوراپنا تعلق گہرا بنانے کیلئے اس کے گھر سے چمٹ جاتے ہیں اور اس میں ڈیرہ ڈال دیتے ہیں تاکہ وہ دنیا کی چمک دمک، لہو و لعب اور اس کے مکرو فریب سے آزاد ہوکراس کی رضاکیلئے شب قدر کے فضائل و برکات کو حاصل کرسکیں۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

اللہ کے نیک بندے اس سے اپنی عبودیت کے رشتے کو مضبوط کرنے اوراپنا تعلق گہرا بنانے کیلئے اس کے گھر سے چمٹ جاتے ہیں اور اس میں ڈیرہ ڈال دیتے ہیں تاکہ وہ دنیا کی چمک دمک، لہو و لعب اور اس کے مکرو فریب سے آزاد ہوکراس کی رضاکیلئے شب قدر کے فضائل و برکات کو حاصل کرسکیں۔ اس مقصد سے مسجد میں ٹھہرنا اعتکاف ہے جس کا بہترین وقت رمضان کا آخری عشرہ ہے۔ اصطلاحِ شرع میں اعتکاف کہتے ہیں،اللہ تعالی کا تقرب حاصل کرنے کیلئے روزہ کے ساتھ مسجد میں ٹھہرنااس طور پر کہ اس میں غیر ضروری گفتگو سے اجتناب اور بلاوجہ مسجد سے باہر نکلنے سے بچا چائے۔ اعتکاف قرآن، حدیث اور اجماع امت سے ثابت ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے: ’’اور ہم نے ابراہیمؑ اور اسماعیلؑ کو تاکید فرمائی کہ میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کیلئے پاک رکھو۔‘‘  (البقرہ: ۱۲۵)

یہ بھی پڑھئے: اعتکاف

 

اعتکاف اور معمولاتِ نبویؐ

رسول اللہ ﷺ کے معمولات ِ رمضان کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہےکہ آپ ؐ نے پابندی کے ساتھ رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف کیا ہے اور یہ اعتکاف آپؐ کا محبوب مشغلہ رہاہے۔خاص طور سے شب قدر کی تلاش و جستجو کے پیش نظر، جسے قرآن نے ہزار مہینوں سے افضل قرار دیا ہے۔ چنانچہ ایک حدیث میں حضرت ابوسعید خدری ؓ کا بیان ہے :
’’ ایک مرتبہ اللہ کے رسولؐ نے رمضان کے پہلے عشرے میں اعتکاف کیا۔ آپؐ نے ایک ترکی طرز کے خیمے کے اندررمضان کے دس دن گزارے۔ اعتکاف ختم ہونے پرآپؐ نے اپنا سر مبارک خیمے سے باہر نکالا اور فرمایا: میں نے اس رات کی تلاش میںپہلے دس دن کا اعتکاف کیا، پھرمیں نے درمیان کے دس دن کا اعتکاف کیا۔ تب میرے پاس آنے والا آیا  اورا س نے مجھ سے کہا: لیلۃ القدررمضان کی آخری دس راتوںمیں ہے۔پس جولوگ میرے ساتھ اعتکاف میں بیٹھے تھے،  انہیں چاہئے کہ وہ اب آخری دس دن بھی اعتکاف کریں۔ مجھے یہ رات (لیلۃ القدر) دکھائی گئی تھی، مگرپھربھلادی گئی اورمیں نے دیکھا کہ میں اس رات کی صبح کوپانی اورمٹی میں (برسات کی وجہ سے)  نماز پڑھ رہا ہوں۔پس تم لوگ اسے آخری دس دنوںکی طاق تاریخوںمیں تلاش کرو۔‘‘  ( بخاری)

 حضرت عائشہؓ نے فرمایا کہ اللہ کے رسولؐ نے اپنی وفات تک رمضان کے آخری عشرہ کا اعتکاف کیا اور آپؐ کے بعد ازواج مطہرات نے اعتکاف کیا۔ حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسولؐ  ہر رمضان کے آخری عشرہ کا اعتکاف فرماتے تھے، البتہ جس سال آپؐ نے دنیا سے پردہ فرمایا  اس سال آپؐ نے بیس دن کا اعتکاف کیا۔ (بخاری)۔  امام زہری ؒ نے فرمایا :’’ اللہ کے رسولؐ جب سے مدینہ منورہ تشریف لائے آپؐ نے اعتکاف کبھی نہیں چھوڑا حتیٰ کہ اپنی عمر عزیز کے آخری سال آپؐ نے رمضان المبارک کے دو عشروں کا اعتکاف کیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: کائنات میں نزولِ قرآن سے زیادہ عظیم کوئی واقعہ نہیں

اعتکاف اور تزکیہ ٔنفس

شخصیت کو نکھارنے، سنوارنے، اس کے ارتقا اور تزکیۂ نفس کیلئے اعتکاف سے بہتر ماحول کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ جب انسان ہر وقت خود کو بارگاہ الٰہی میں محسوس کرتا ہے تو وہ ان تمام چیزوں سے دوری اختیار کرنے لگتا ہے جو نفس کو پراگندہ کرتی ہیں۔ گویا ’ترک مالا یعنیہ‘(غیر ضروری چیزوںکا چھوڑدینا) کی مکمل مشق ہوتی ہے۔ جب انسان اس پر کاربند ہوگا تو لازما شخصیت میں نکھار آئے گا۔ وہ جھوٹ، بغض وحسد، کینہ کپٹ، چوری ،چغلی، غیبت وبدکاری جیسی اخلاقی برائیوں سے بچ کر رضائے الٰہی کے حصول کے ساتھ بامقصد زندگی گزاریگا۔ اللہ پر مکمل یقین اور اس سے دعا کرکے اپنے کو کبھی اکیلا نہیں سمجھے گا۔ اعتکاف کی وجہ سےاللہ کے ساتھ مضبوط ہونے والے رشتہ کی وجہ سےبندہ اللہ کی نافرمانی سے بچے گا۔ اس طرح انسان کی شخصیت کا غیر معمولی ارتقا ہوگا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK