بچوں کو سیرتِ نبویؐ سے روشناس کرکے ان میں قائدانہ صلاحیت پیدا کریں

Updated: October 23, 2020, 9:50 AM IST | Mudassir Ahmed Qasmi

کسی بھی سماج یا معاشرے کی کامیابی میں قائد کا اہم رول ہوتا ہے، اسی وجہ سے کسی معاشرے کی زندگی کے معیار سے اس کے قائد کی صلاحیتوں کا بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے۔ یہیں سے یہ نقطہ بھی سامنے آتا ہے کہ قائد معاشرے کا ہی ایک فرد ہ ہوتا ہے لیکن وہ اپنی امتیازی خوبیوں کی بنیادپر دوسروں سے فائق ہوجا تا ہے

Madina Sharif - Pic : youtube
مدینہ شریف ۔ تصویر : یوٹیوب

کسی بھی سماج یا معاشرے کی کامیابی میں قائد کا اہم رول ہوتا ہے، اسی وجہ سے کسی معاشرے کی زندگی کے معیار سے اس کے قائد کی صلاحیتوں کا بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے۔ یہیں سے یہ نقطہ بھی سامنے آتا ہے کہ قائد معاشرے کا ہی ایک فرد ہ ہوتا ہے لیکن وہ اپنی امتیازی خوبیوں کی بنیادپر دوسروں سے فائق ہوجا تا ہے۔ جب ہم قائد کا لفظ بولتے ہیں تو اکثر ہمارے ذہنوں کی رسائی ایک مشہور معنی تک ہی ہوتی ہے اور وہ معنی ہے سیاسی رہنما؛ حالانکہ قائد ایک جامع لفظ ہے جس کا تعلق مختلف شعبوں سے ہے، مثال کے طور پر کوئی دین کا ماہر دینی قیادت کر رہا ہے تو وہ دینی قائد ہے، کوئی ملت کا ہمدرد ملت کی رہنمائی کر رہا ہے تو وہ ملی قائد ہے، کو ئی تعلیم کا ماہر علمی میدان میں قیادت کر رہا ہے تو وہ تعلیمی قائد ہے، کوئی روحانی شخصیت روحانیت کے باب میں مشعل روشن کر رہی ہے تو وہ روحانی قائد ہے اور کوئی کسی خاص تحریک کا روحِ رواں ہے تو وہ اس تحریک کا قائد ہے۔کسی بھی میدان میں قیادت کی اہمیت کے پیشِ نظر ایک بیدار سماج کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے حال اور مستقبل کو تابناک بنانے کے لئے اپنے درمیان سے قیادت کیلئے قیمتی جوہر کو پہچان کر اُن کو اس طرح کا ماحول دیں کہ اُن کی خوب سے خوب تر تربیت ہو، تاکہ آنے والے وقت میں وہ کامیاب قیادت کا فریضہ انجام دے سکیں۔
 اسلامی نقطہ نظر سے بھی قیادت کی اہمیت مسلم ہے؛ اللہ تبارک و تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کو اس دنیا کے لئے ایک عظیم قائد بنا کر بھیجا اور آپ ﷺ نے جس خوش اسلوبی سے قیادت کا فریضہ انجام دیا وہ رہتی دنیا تک کے لئے مینارہ نورہے۔ اسلامی تاریخ کے مطالعے سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے صرف قیادت کا فریضہ ہی انجام نہیں دیا بلکہ لاکھوں کی تعداد میں قائد بھی تیار کئے۔ چنانچہ صحابہ کرام ؓنے قیادت کے باب میں نہ صرف یہ کہ جزیرۃ العرب کو منور کیا بلکہ عرب سے باہر بھی دنیا کے ہر خطے کو روشن کیا؛ چاہے وہ افریقہ ہو یا چین و ہندوستان کی سرزمین یا دیگر علاقہ جات۔
جب ہم قائد سازی کی بات کرتے ہیں تو اس کی سب سے پہلے ذمہ داری والدین پر عائد ہوتی ہے؛ کیونکہ انسان کے سیکھنے کی ابتدا ء گھر سے ہی ہوتی ہے۔ اسی لئے والدین اپنے بچوں کی تربیت کی ابتدا ء دنیا میں زندگی جینے کے طریقے سکھا کر کریں؛ انہیں حالات سے نبر د آزما ہونا سکھائیں؛ احسن طریقے سے ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کی تعلیم دیں؛آدابِ تکلم سے روشناس کرائیں؛ مثبت سوچ کا حامل بنائیں؛ امدادِباہمی کے فوائد بتلائیں اور انہیں وقت کی قدر اور پابندی کی تاکید کریں۔ یاد رکھیں ہمارے اِن خطوط پر چل کر ہی قائدین تیار ہونگے اور اِس نہج پرتربیت کے باب میںہماری کوتاہی سے قیادت کے فقدان کا ہمیں یقینی سامنا ہوگا۔
اسلامی تعلیمات کے آئینے میں بچوں کے اندر قائدانہ صلاحیت بیدار کرنے کے لئے مندرجہ ذیل خطوط پر ہمیں محنت کرنی چاہئے: (۱)سب سے پہلے ہمیں اپنے بچوں کے لئے خود رول ماڈل بننا چاہئے؛ کیونکہ بچے ہمیں دیکھ کر بہت کچھ سیکھتے ہیں۔ حضورﷺ نے اسی بنیاد پر قیادت سازی کا عظیم کارنامہ انجام دیا تھا۔ آپ ؐ نے اپنے گفتار و کردار سے صحابہ کرام ؓ کو آداب جہاں گیری سکھلائے اور قیادت کے رمز سے آشنا کرایا۔ 
(۲) ہمیں اپنے کاموں کی مکمل ذمہ داری لینی چاہئے تاکہ بچے ہمیں دیکھ کرکسی بھی کام کو ذمہ داری سے کرنا سیکھیں۔اپنے کام کے حوالے سے جب ہم کوئی مقصد متعین کر لیں تو اس کے حصول کے لئے سخت محنت کریں تا آنکہ وہ چیز ہمیں حاصل ہوجائے، ہمارے عمل کو دیکھ کر بچے اپنے طے شدہ مقاصد کے حصول کے لئے سنجیدہ وجائیں گے۔کسی کام کے تئیں ذمہ داری اور مقصد کے حصول کے لئے لگن کی تعلیم بھی ہمیں نبی اکرم ﷺ کی حیات مبارکہ سے واضح طریقے پر ملتی ہے۔ اس کی روشن مثال حجۃ الوداع کے موقع سے آپ ﷺ کا وہ تاریخی جملہ ہے جب آپ نے صحابہ ؓ سے دریافت فرمایا تھا کہ:`کیا میں نے اللہ کا پیغام تم تک پہنچا دیا ،`جس کے جواب میں صحابہ ؓ کرام نے بیک زبان کہاتھا:`ہاں کما حقہ پہنچا دیا`۔
(۳) اپنے بچوں کو اچھا قائد بنانے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ ہم ان کے اچھے کام اور محنت پر اُن کی حوصلہ افزائی کرتے رہیںاور انہیں بتائیں کہ آپ اُن کی لگن سے خوش ہیں۔نبی اکرم ﷺ کی زندگی میںبھی صحابہ کرامؓ کی حوصلہ افزائی کا پہلو بہت نمایاں ہے۔ ایک مرتبہ آپ ﷺ صحابہ کرامؓ کے تعلیم کے حلقے میں بیٹھ گئے اور اُن کی حوصلہ افزائی کے لئے فرمایا:`میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ تعلیم کے باب میں قیادت کی اس سے بہتر اور کیا مثال ہوسکتی ہے۔
 (۴)بچوں کو صاحب رائے بنانے کے لئے وقتا فوقتا اُن سے مشورے لیں ؛کیونکہ کسی بھی معاملے میں اور بطورِ خاص قیادت کے باب میں مشورے کی بہت اہمیت ہے۔کبھی کبھار بچوں کو جن باتوں کی سوجھ بوجھ ہو، ان میں از خود انہیں فیصلہ بھی کرنے دیں۔ جیسا کہ صحابہ ؓ کی تعلیم کے لئے نبی اکرم ﷺ اُن سے بہت سارے معاملوں میں مشورہ لیا کرتے تھے اور بعض دفعہ انہیں فیصلہ کرنے کا اختیار بھی دیتے تھے۔
 خلاصہ یہ ہے کہ بچوں کو قائد بنانے کے لئے کسی پروفیشنل کورس کرانے سے پہلے اور کامیاب قیادت سکھانے والی کتابوں کے مطالعے سے پہلے، ہم خودنبی اکرم ﷺ کی زندگی سے روشنی حاصل کر کے اپنے بچوں کی دنیا کے قائد بن جائیں، ان شاء اللہ، اس طریقے پر ہم اُ نہیں قائد بننے کا ایک بہترین موقع فراہم کریں گے

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK