کلامِ الٰہی کی دعوت کا مخاطب قلب ہے

Updated: February 14, 2020, 12:20 PM IST | Nighat Hussain

قرآن کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ قرآن میں انسانی دل کو جو اہمیت و مقام حاصل ہے وہ دماغ کو نہیں اور اگر ہم مغربی طرز فکر کا مطالعہ کریں تو وہ انسانی شخصیت کو صرف دماغ کی نظر سے تولتی ہے۔ نظریات کا یہ فرق جہاں سوچ و فکر کے زاویے تبدیل کرتا ہے وہیں اس کے اعمال و اخلاق میں بھی تبدیلی رونما کرتا ہے جس کا مظاہرہ پورا مغربی معاشرہ کررہا ہے۔

قران احکام الہیٰ ہیں۔تصویر: آئی این این
قران احکام الہیٰ ہیں۔تصویر: آئی این این

اللہ رب العزت کی نازل کردہ عظیم الشان کتاب اور اس کی دعوت و حکمت کا موضوع انسان ہے۔ دعوتِ دین کے لئے سرگرداں افراد کا محور و مرکز بھی انسانوں تک اس دعوت کو پہنچانا ہے۔ دعوتِ دین کے داعی کی حیثیت سے انسان کیا ہے؟ اور قرآن انسان کو کس حیثیت میں بیان کرتا ہے؟ یہ سمجھنا بہت ضروری ہے۔ انسانی شخصیت یوں تو بہت پیچیدہ ہے لیکن اس کے دو نمایاں پہلو انسان کی پوری ذات پر حکمرانی کرتے ہیں۔ انسان دراصل ذہن و قلب کا مجموعہ ہے اور ہمارے اعمال پر قلب و ذہن ہی کا اثر ہوتا ہے۔ انسان کے ذہن میں طرح طرح کے خیالات جنم لیتے ہیں اور مختلف جذبات دل میں طوفاں برپا کئے رکھتے ہیں۔ ہر خیال کسی نئے جذبے اور ہر جذبہ کسی نئے خیال میں تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ جذبوں اور خیالات کے اس حسین مجموعے کا نام انسان ہے۔ دیکھا جائے تو جذبات و خیالات کے اس امتزاج ہی نے دنیا میں بڑے بڑے انقلاب برپا کئے ہیں۔
 دل و دماغ کی یہ ہم آہنگی انسان کو ایک نئی قوت عطا کرتی ہے۔ قرآن کریم کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ قرآن میں انسانی دل کو جو اہمیت و مقام حاصل ہے وہ دماغ کو نہیں اور اگر ہم مغربی طرز فکر کا مطالعہ کریں تو وہ انسانی شخصیت کو صرف دماغ کی نظر سے تولتی ہے۔ نظریات کا یہ فرق جہاں سوچ اور فکر کے زاویے تبدیل کرتا ہے وہیں اس کے اعمال و اخلاق میں بھی تبدیلی رونما کرتا ہے جس کا مظاہرہ پورا مغربی معاشرہ کررہا ہے۔
 یہاں ہم ایک داعی کی حیثیت سے اس دل کو دیکھیں گے جس کو قرآن بارہا مختلف انداز میں مخاطب کرتا ہے اور انسانی شخصیت کا مرکز بھی قرار دیتا ہے۔ دل کیا ہے؟ قرآن کبھی اس دل کو فواد کے نام سے مخاطب کرتا ہے اور کہیں قلب کے نام سے۔ قرآن کے مطابق دل محض گوشت کے ایک لوتھڑے کا نام نہیں جس کا  کام جسم میں خو ن کی فراہمی ہے بلکہ قرآن دل کے لئے نہایت وسیع مفہوم رکھتا ہے :
 ’’وہ اللہ ہی تو ہے جس نے تمہیں سُننے اور دیکھنے کی قوتیں دیں اور سوچنے کو دل دیئے۔‘‘ (مومنون:۷۸) قرآن کی یہ آیت دل کو سوچنے والا  قرار دیتی ہے۔
 سورۂ سجدہ میں ہے کہ ’’اور تم کو کان دیئے، آنکھیں دیں اور دِل دیئے‘‘ (مومنون:۷۸)  یعنی سمع، بصر اور فواد۔ یہاں انسانی دل کو فواد کا نام دیا گیا ہے۔ گویا ایسا دل جو اصل میں دہن کا کام کرتا ہے، حواس کے ذریعے حاصل کردہ معلومات کو مرتب کرکے ان میں سے نتائج نکالتا ہے اور کوئی ایک راہ کا انتخاب کرکے اس پر چلنے کا فیصلہ کرتا ہے ۔ جبھی اقبال کہتے ہیں:
دلِ بینا بھی کر خدا سے طلب
  آنکھ کا نور، دل کا نور نہیں
 سائنس و ٹیکنالوجی کے اس تیزرفتار دور میں انسان کو جس مادیت کی قید میں جکڑ کر رکھ دیا ہے ،اس  میں انسان کے لئے دل محض خون فراہم کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہمیں انسان کم اور انسان نما مشینیں زیادہ نظر آتی ہیں۔ ایسی ہی مشینو ںکے لئے  اقبال نے کہا تھا؎
ہے دل کے لئےموت مشینوں کی حکومت
احساسِ مروت کو کچل دیتے ہیں آلات
 آج انسان اپنے احساسات و اخلاق کو پس پشت ڈال کر جس مادی ترقی کا دعویٰ کرتا ہےاس ترقی نے ایک نئی ذلت ا ور اخلاقی بربادی سے روشناس کرا کر ہر اس احساس کو کچل دیا ہے جو انسانیت کی پہچان ہے۔ قرآن جگہ جگہ انسان کے دل کو مخاطب کرکے اس احساس کو بیدار کرتا ہے۔ خود قرآن کے لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:  ’’لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آ گئی ہے یہ وہ چیز ہے جو دلوں کے امراض کی شفا ہے۔‘‘ (یونس:۵۷) حدیث نبویؐ کے مطابق ابتداء میں گناہ سے دل پر ایک سیاہ دھبہ لگتا ہے  اور مسلسل گناہوں سے بڑھتے بڑھتے پورا دل سیاہ ہوجاتا ہے۔ دلو ںکا زنگ  اگر اُتر سکتا ہے یا اُترتا بھی ہے تو صرف قرآن سے ۔ انقلاب بھی دراصل دلوں کو تبدیل کرنے ہی کا نام ہے۔ حضور اکرمؐ  کا بے مثال انقلاب  انسانی دلو ںکی تبدیلی سے شروع ہوا تھا جس نے سوچ کے زاویے تبدیل کردیئے اور نفع و نقصان سے لے کر کامیابی و ناکامی کے معیار تک کو نئے معنوں سے روشناس کردیا۔ وہ دل جو کفر کی وجہ سے سخت اور بنجر تھے، ایمان کے بیج کی حرارت سے نرم و گداز ہوگئے۔ دعوت و عزیمت کی راہوں میں عقل سے کام لینے والے کامیاب نہیں ہوتے بلکہ اس راہ پر دل کی حکومت ہے۔ عقل کے تقاضے تو کچھ اور ہیں۔ اس کے ترازو میں تو اللہ کا کلمہ بلند کرنے والے ازل سے بے وقوف  ثابت ہوئے ہیں۔ یہ تو عشق کی منزلیں ہیں جو ابراہیم ؑ کو آتش ِ نمرود میں کودجانے کا مشورہ دیتی ہیں۔ آج امت مسلمہ کے ان خوابیدہ دلوں کی بیداری جس نے پوری امت کو ذلت و پستی میں گرا دیا ہے، ہر اس داعی کی ذمہ داری ہے جس نے اپنے آپ کو اس کٹھن راہ کے لئے پیش کردیا ہے:
محکوم کا دل مردہ و افسردہ و نومید
آزاد کا دل زندہ و پرسوز و طرب ناک
 دلوں کی ان بدلتی کیفیات کو سمجھنا اور حکمت کے ساتھ دعوت کا سلیقہ دراصل نبی کریمؐ کی سنت ہے کیونکہ دل میں پیدا ہونے والے جذبات ہی دراصل ہمارے ہر عمل کا محرک ہیں۔ امید، خوف، غم اور خوشی جیسے جذبات دل ہی میں ابھرتے ہیں۔ اسی لئے قرآن کہیں خوف دلا کر اور کہیں  امید دلا کر اپنی دعوت پہنچاتا  ہے۔ یہی خوف تقویٰ کے حصول کا ذریعہ بھی بنتا ہے اور کہیں ابلیس کے ہاتھوں انسان کو مایوسی میں بھی پہنچا دیتا ہے۔ اسی طرح امید شکرگزاری کی کیفیت بھی پیدا کرتی ہے اور حد سے بڑھ جائے تو غفلت بھی۔
 ہم دعوت (دین) کے کام کے اتنے عادی ہوچکے ہیں کہ اکثر اوقات یہ کام بھی ایک مشینی انداز میں ڈیوٹی کی طرح کرتے ہیں۔ لوگوں کی مطلوبہ تعداد ، رپورٹ فارم، اجتماعات، ملاقاتیں سب کچھ ہورہا ہوتا ہے لیکن ہمارے قلوب میں تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔ ہمارے مخاطب ہمارے الفاظ سن کر دماغ میں تو محفوظ کر لیتے ہیں لیکن پیغام دلوں میں جذب نہیں ہوتا۔ سننے والوں کی جانب سے قابل ترین مدرسین و مقررین کی فرمائش تو پوری ہورہی ہوتی ہے لیکن دلوں کی دنیا ویسی ہی غیرآباد اور ویران رہ جاتی ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ کہیں دعوت دین کا کام کرنے والے بھی مردہ دل تو نہیں ہوگئے ہیں؟ کیونکہ زندہ دلی کا تقاضا تو کچھ اور ہے:
زندہ دل سے نہیں پوشیدہ ضمیرِ تقدیر
خواب میں دیکھتا ہے عالمِ نو کی تصویر
اور جب بانگِ اذاں کرتی ہے بیدار اسے
کرتا ہے خواب میں دیکھی ہوئی دنیا تعمیر
بدن اس تازہ جہاں کا ہے اسی کی کفِ خاک
روح اس تازہ جہاں کی ہے اسی کی تکبیر
 دل کی اس قوت کا اندازہ اسی وقت ہوسکتا ہے جب انسان کو قرآن کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے ، قرآن ہی سے رہنمائی لی جائے اور لوگوں کے جذبات و احساسات کو اللہ کے سپرد کرنے کی ترغیب دی جائے۔ قرآن انسانی قلب کو اپنے پیغام کا مرکز اس لئے قرار دیتا ہے کہ یہ کلام اللہ تعالیٰ نے قلب پر نازل کیا، دماغ پر نہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
 ’’اسے روح الامین (جبریل علیہ السلام) لے کر اترے ہیں، آپ کے قلب (انور) پر ۔‘‘  
(الشعراء:۱۹۴۔۱۹۳)
 دعوت ِ دین دراصل دلوں میں ایمان کا بیج بونے کی کوشش ہے جس کے لئے خاص دل درکار ہے۔ حق کے پیغام کو قلب پر چھا جانے کی قلبی کیفیات کو چار مرحلوں میں بیان کیا جاسکتا ہے ۔ ان میں ایک کیفیت حق کو جذب کرنے کی ہے ، یعنی حق قلب میں ایسا رچ بس جائے کہ وہ قول و عمل کی دنیا میں نظر آئے (قرآن کا راستہ: خرم مراد)۔ کلام اللہ کو پڑھنے کا تقاضا بھی یہی ہے کہ قلب کو حمد، شکر، حیرت، رعب، محبت، اعتماد، صبر، امید و خوف، رنج و حسرت، تدبر و یاددہانی، اطاعت و تسلیم و رضا کی تمام کیفیات سے گزرنے دیا جائے۔
  جب تک یہ نہ ہوگا، تلاوت صرف ہونٹوں کی حرکت اور دعوت  ایک معمول تک محدود رہے گی۔n

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK