• Sun, 18 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’ایرانی بڑی جانباز اورغیور قوم ہےوہ کسی اور کا تسلط برداشت نہیں کرسکتی‘‘

Updated: January 18, 2026, 12:20 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

ایران میں جاری ہنگامہ آرائیوں کے حوالے سے ’انقلاب‘ کی چند ایسی شخصیات سے گفتگو جو ایران جاتے رہتے ہیں اورجن کی وہاں کے سیاسی، سماجی اورزمینی حالات پر نظر ہے۔

Maulana Sibt-e-Hassan Rizvi Mashhadi, Sheikh Shahid Pradhan and Feroz Methi Borwala. Photo: INN
بائیں سے: مولانا سبطِ حسن رضوی مشہدی، شیخ شاہد پردھان اورفیروز میٹھی بور والا۔ تصویر: آئی این این

’’ایرانی بڑی جاں باز اورغیور قوم ہےوہ کسی اور کا تسلط برداشت نہیں کرتی۔ ‘‘ زیارت، تعلیم یا تجارت وغیرہ کی غرض سے ایران جانے اور وہاں کےحالات پرنگاہ رکھنے والوں نےزمینی حقائق بتائے۔ ان کا کہنا تھا کہ بے تحاشہ مہنگائی اور دیگر مشکلات سے ایرانی پریشان ہیں اور وہ حکومت کے خلاف سڑکوں پر بھی اُترے مگر جب انہیں یہ احساس ہوا کہ اسرائیل اورامریکہ نے موساد کے ایجنٹوں کااستعمال کرتے ہوئے تختہ پلٹنا چاہا تو ان کا رخ یکسر بدل گیا۔ ایران کے حالات سے واقفیت رکھنے والوں نے نمائندۂ انقلاب سے بات چیت کرتے ہوئے مزید کیا کچھ کہا، اسے ذیل میں درج کیا جارہا ہے۔ 
’’میں بذات خود ایران کی ایک ریلی میں شریک رہا ‘‘
مولانا سبطِ حسن رضوی مشہدی، جو المجتبیٰ ٹور (ڈونگری) کے ذریعے اکثر وبیشتر زیارت کی غرض سے قافلے لے جاتے ہیں اورایران کے مشہور شہر مشہد میں بھی قیام کرتے ہیں، کا کہنا تھا کہ ’’یہ اتفاق ہے کہ میں اِس وقت قافلہ لے کرزیارت کی غرض سے آیا ہوں اورآپ سے بات چیت کرنے کے وقت میں عراق میں ہوں۔ ایران کی زمینی حقیقت فی الوقت یہ ہے کہ اسرائیل اورامریکہ نے موساد کے ذریعے تختہ پلٹنے کی کوشش کی مگرجب اس کا اندازہ ایرانیوں کوہوا تو ان کا رخ بدل گیا۔ ایرانی مہنگائی اور دیگر مسائل سے تنگ آکر اپنی حکومت کے خلاف ضرور سڑکوں پراُترے تھے مگر جب انہیں اندازہ ہوگیا کہ یہ دشمن کی چال ہے تو مظاہرین کا رویہ تبدیل ہوگیا۔ ‘‘
مولانا کے بقول’’ایرانیوں کو اس کا اندازہ اس طرح ہوا کہ وہ تو اُترے تھے مہنگائی کے خلاف مگر جب مساجد، اما م باڑوں اور دیگر مراکز کوتہس نہس کیا جانے لگا اورگھروں میں گھس کرآگ زنی اوربےحرمتی کی جانے لگی اورپولیس وفوج پرگولیاں چلائی جانے لگیں تو انہیں اندازہ ہوگیا کہ حکومت مخالف مظاہرین مساجد اورامام باڑوں کوکیوں نقصا ن پہنچائیں گے ؟یہی وجہ ہے ابھی چار دن قبل جب بہت بڑی ریلی نکالی گئی اورمیں خود موجود رہا تو ایرانیوں کا نعرہ تھا کہ ہم اپنے امام معظم خامنہ ای کے ساتھ آخری سانس اورخون کےآخری قطرے تک ہیں ‘ یہ بھی نعرہ لگایا گیا کہ ہم کوفی نہیں ہیں کہ مولاعلی کوتنہا چھوڑدیں۔ ‘‘
انہوں نے کہا کہ’’ یہی وجہ ہے کہ فی الوقت ایرانیوں کا بڑا طبقہ حکومت کے ساتھ ہے اوروہ امام معظم خامنہ ای پرمکمل اعتماد کررہا ہے اوروہ یہ بھی سمجھ رہا ہے کہ ایران میں جو حالات اور عوام کےمسائل ہیں، اس میں معاشی پابندی کا بڑا دخل ہے ا وریہ سب کچھ امریکہ کا ہی کیا دھرا ہے۔ ‘‘ 
’’حکومت مخالف لہر ابھی پوری طرح سے ختم نہیں ہوئی‘‘ 
شیخ شاہد پردھان (کرلا)، انہوں نےخود ایران سے تعلیم حاصل کی اور ان کےبچے وہاں زیر تعلیم ہیں، اس حوالے سےوہ ایران کاسفر کرتے رہتے ہیں۔ ان کے مطابق ’’ہم نے جو کچھ دیکھا اورمحسوس کیا وہ یہ کہ کتنی ہی مشکلات ہوں، ایرانی ایسی غیور اور جاں بازقوم ہے کہ وہ سب کچھ برداشت کرلے گی مگر یہ گوارا نہیں کرےگی کہ کسی بیرونی طاقت کا اس پرتسلط ہو یا وہ کسی کے دستِ نگر بنیں۔ یہی وجہ ہے کہ برسہا برس سے معاشی پابندیوں کے باوجود وہ ڈٹے ہوئے ہیں۔ ‘‘ انہوں نےیہ بھی بتایاکہ ’’معاشی بدحالی کےسبب عوام کی مشکلات میں زبردست اضافہ ہوا ہے اورحکومت کے خلاف اپنا پُرامن احتجاج درج کرانے کیلئے وہ سڑکوں پر اترے تھے مگر جب بیرونی طاقتوں نے اسے کچھ اوررخ دے کرحکومت کواقتدار سےبے دخل کرنے کا پلان بنایا تو ایرانیوں نےاسے ناکام بنادیا۔ لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ حکومت مخالف لہرپوری طرح سے ختم ہوگئی ہے، ہاں ! یہ ضرورہے کہ اس وقت خامنہ ای کی قیادت پراعتماد کرنے والے زیادہ اور مخالفین کم ہیں ۔ اس کے علاوہ ایرانیوں کے پیش نظرلبنان اورشام کے حالات بھی ہیں کہ وہاں تختہ پلٹ کے باوجود کیا حالات ہیں، کسی سے مخفی نہیں۔ اسلئے ایرانی سب کچھ اچھی طرح سمجھتے ہیں ۔ اس بناء پر جو حالات ہیں، اس میں یہ کہاجاسکتا ہے کہ بیرونی مداخلت کاروں اورایرانیوں کے مفاد کی آڑ میں اپنے تسلط کے ذریعے ذاتی مفادات کی تکمیل کرنے والوں کی دال نہیں گلے گی۔ ‘‘ 
’’ایرانیوں کا بڑا طبقہ خامنہ ای کے ساتھ ہے‘‘
سماجی خدمت گار اورایران جانے کےعلاوہ وہاں کے ذمہ داران سے رابطہ رکھنے والے فیروز میٹھی بور والانے بتایا کہ’’ اس وقت جوکچھ بھی ایران کے حالات ہیں، زبردست معاشی بحران ہے، اس کا ذمہ دار امریکہ ہے کیونکہ تقریباً ۴۷؍برس سےایرانی معاشی پابندی سے بے حال ہیں۔ اسی بدحالی کےسبب ان کا غصہ پھوٹا تھا لیکن جیسے ہی موساد کےایجنٹو ں میں ایرانیوں کےاحتجاج میں آگ میں گھی ڈالنے کا کا م کیا، ایرانیوں نے محسوس کرلیا۔ ‘‘ 
بقول فیروز میٹھی بور والا’’جون ۲۰۲۵ء میں اسرائیل پر زبردست ایرانی حملوں کے بعد ہی سے اسرائیل موقع کی تلاش میں ہے مگر تنہا حملہ کرنا یا کسی اورطریقے سے ایران کی گھیرا بندی اسرائیل کے لئے ممکن نہیں ہے، اسی لئے وہ امریکہ کی پشت پر سوار ہوکر حملہ کرنا چاہتا ہے اوراس کیلئے موساد کے ایجنٹوں کو بڑے پیمانےبھیجا گیا۔ رضاشاہ پہلوی کےبیٹے کوامریکہ نے آلۂ کار بنایا اور انہوں نےخود بھی ایران کی کمان سنبھالنےکےلئے ٹرمپ سے مداخلت کرنے کیلئے کہا، لیکن پانسہ اس وقت پلٹ گیا جب اس کا ایرانیوں کو اچھی طرح اندازہ ہوگیا۔ لبنان اورشام وغیرہ میں خانہ جنگی کے حالات ان کی نگاہوں کے سامنےتھے، چنانچہ امریکہ اوراسرائیل کو مجبوراً اپنا منصوبہ ترک کرنا پڑا۔ اس وقت ایران کے حالات یہ ہیں کہ ایرانیوں کا بڑا طبقہ خامنہ ای کے ساتھ ہے اور جیسا کہ ہر ملک میں ہوتا ہے، ایک یا کچھ طبقےحکومت کی پالیسی کے مخالف ہوتے ہیں، مخالفین بھی ہیں مگران کی تعداد خامنہ ای اوران کی قیادت پراعتماد کرنے والوں کے مقابلے تھوڑی ہے۔ اس کے علاوہ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ ایرانیوں کی زندگی بدتر کرنے اور ان کومشکلات سے دوچار کرنے کا سب سے بڑا مجرم امریکہ ہے، اگر ۴۷؍برس سے معاشی پابندیاں نہ ہوتیں تو ایرانیوں کا معیار زندگی کہیں بلند ہوتا اوروہ ہرگز مشکلات سے دوچار نہ ہوتے۔ ان مشکل حالات کے باوجود ایرانی حکومت نے جدید ٹیکنالوجی، اسلحہ سازی اور میزائل سازی میں جس شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور تمام مشکلات، دھمکیوں اورپابندیوں کے باوجود اس شعبے میں اپنے پروگراموں کومسلسل آگے بڑھایا ہے، اس نے امریکہ اوراسرائیل کی نیند حرام کردی ہے۔ امریکہ اوراسرائیل ایران میں تختہ پلٹ کے ذریعے کٹھ پتلی بٹھاکر پورے خطے میں اپنا تسلط چاہتے ہیں مگرایران کے لوگ اسے قبول کرنےکو تیار نہیں ہیں۔ ‘‘ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK