جمعرات کو چونکہ چھٹی تھی اس لئے افطاری خرید کرلانے کی ذمہ داری میری تھی۔ میں نے ’کیرالا مسجد روڈ‘ سے وسط بازار میں پہنچنے کافیصلہ کیا تاکہ بھیڑ کا سامنا کم کرنا پڑے اور سیدھا اشوک جویلرس کے قریب پہنچ جاؤں جسے بڑی حدتک وسط بازار کی حیثیت حاصل ہے۔
EPAPER
Updated: March 02, 2026, 1:10 PM IST | Asim Jalal | Mumbai
جمعرات کو چونکہ چھٹی تھی اس لئے افطاری خرید کرلانے کی ذمہ داری میری تھی۔ میں نے ’کیرالا مسجد روڈ‘ سے وسط بازار میں پہنچنے کافیصلہ کیا تاکہ بھیڑ کا سامنا کم کرنا پڑے اور سیدھا اشوک جویلرس کے قریب پہنچ جاؤں جسے بڑی حدتک وسط بازار کی حیثیت حاصل ہے۔
ماہ ِرمضان کے آتے ہی مسلم بستیاں ایک خاص روحانی، ثقافتی اور کاروباری منظر پیش کرتی ہیں۔ پنج وقتہ نمازوں میں مصلّیوں کی تعداد میں اضافہ اور نماز کے بعد کے اوقات میں بھی تلاوت و ذکرواذکارمیں مشغول رہنے والےافراد سے جہاں مسجدیں آباد ہوجاتی ہیں وہیں گلیوں میں چراغاں اُس عمومی خوشی کااظہا ر کر رہا ہوتا ہے جو ماہ رمضان کی آمد کے ساتھ ہی ہر مسلمان کے دل میں ہوتی ہے۔ محلے مہینے بھر کیلئے بالکل اسی طرح روشن ہو جاتے ہیں جس طرح ہمارے دلوں میں مذہبی جذبہ اور عبادت گزاری کا شوق روشن ہوتا ہے۔ رمضان کی یہ رونقیں مسجد وں میں چہل پہل اور محلوں میں چراغاں تک ہی محدود نہیں رہتیں بلکہ بازاروں میں بطور خاص نظر آتی ہیں ۔
چیتاکیمپ جو شمال مشرقی ممبئی کا مسلم اکثریتی علاقہ ہے، ممبئی کے دیگر مسلم محلوں سے مختلف نہیں۔ یہاں بھی سڑکیں جتنا آمدورفت کیلئے استعمال ہوتی ہیں، ا س سے زیادہ بازار کا رول ادا کرتی ہیں۔ بطور بازار ان پر بوجھ ماہ رمضان میں کچھ اس قدر بڑھ جاتاہے کہ اکثر عصر سے مغرب کے درمیان وہ اپنی بنیادی ذمہ داری یعنی گاڑیوں کی آمدورفت کو نبھانے کے قابل بھی نہیں رہ جاتیں۔ دوپہر سے ہی افطار کا بازار سجنا شروع ہوجاتا ہے اور عصر تک اپنے شباب پر پہنچ جاتاہے۔ عصر بعد اگر کوئی بھولا بسرا غلطی سے گاڑی لے کر بازار روڈ پر پہنچ جائے تو لوگوں کی اس قدر ڈانٹ کھاتا ہے کہ جیسے کسی جرم عظیم کا ارتکاب کر بیٹھا ہو۔
جمعرات کو چونکہ چھٹی تھی اس لئے افطاری خرید کرلانے کی ذمہ داری میری تھی۔ میں نے ’کیرالا مسجد روڈ‘ سے وسط بازار میں پہنچنے کافیصلہ کیا تاکہ بھیڑ کا سامنا کم کرنا پڑے اور سیدھا اشوک جویلرس کے قریب پہنچ جاؤں جسے بڑی حدتک وسط بازار کی حیثیت حاصل ہے۔ اعجاز الدین میاں جن کی کپڑے کی دکان ہے، نے دکان کے باہر باکڑے پر کیلے سجا رکھے تھے، تاکہ رمضان میں اپنی روزی میں اضافہ کا ذریعہ پیدا کرسکیں۔ آگے پہنچا تو ’’لال ہے، لال ہے‘‘ کی آواز گونجی، تربوز بیچنے والا اپنی طرف متوجہ کررہاتھا۔ مہنگائی کے اس دور میں پورا پھل خریدنا لوگوں کیلئے مشکل ہوگیا ہے اسلئے اس نے تربوز کی قاشیں بنارکھی تھیں اور ۲۰۔ ۲۰؍ روپے میں بیچ رہا تھا۔ کھانے پینے کی ایسی کون سی نعمت تھی جو یہاں دستیاب نہ تھی۔ کم عمر لڑکے بھی جو ابھی اسکول میں زیر تعلیم ہیں، تھال لئے بیٹھے تھے۔ ایک شرمیلی سی بچی بھی نظر آئی جو اسکارف پہنے انناس کی قاشیں بیچ رہی تھی۔ بس قیمت بتاتی اور آپ جتنا کہیں گے اتنا باندھ کر دیدیتی۔ یقیناً گھر کی ضرورت نے اسے پھل فروخت کرنے پر مجبور کیا ہوگا۔ دائیں جانب سینی میں ایک صاحب ’’کھٹے آلو ‘‘ بیچ رہے تھے تواُن کے بغل میں دہی بڑے اور کباب کی تھال سجی ہوئی تھی۔ قریب ہی رگڑا اور مسالے دار چنا خریداروں کو اپنی طرف راغب کر رہا تھا۔ چکن سے بنی انواع و اقسام کی چیزیں جابجا دستیاب تھیں۔ اچانک یاد آیا کہ گھر سے ’’نان چاپ‘‘ کا حکم ہوا ہے سو پہلے راحت ہوٹل کا رخ کیا اور پھر وہاں سے خریداری کرتے ہوئے نیچے اترا۔ راحت ہوٹل چیتاکیمپ کے مین روڈ پر واقع ہے، رمضان بازار یہیں سے شروع ہو جاتا ہے اور نیچے مدرسہ معراج العلوم تک تو پہنچتا ہی ہے مگر اصل بازار ملیکا جویلر سے دائیں جانب مڑنے پر شروع ہوتا ہے۔ یہ راستہ آگے بڑھ کر بائیں جانب سبزی منڈی کی طرف مڑ جاتا ہے۔ سبزی مارکیٹ میں عصر تا مغرب سبزیاں نہیں پھل اور افطار کی اشیاء فروخت ہوتی ہیں۔ یہ بازارنیچے اترتے ہوئے علاقے کی معروف شخصیت احمد علی خان کے دولت کدہ تک پہنچتا ہے اور افطار بعد عید کا بازار بن جاتا ہے۔
ملیکا جویلرس کے سامنے حنیف کے کھچڑے کا ٹھیلہ اور بغل میں راجو بھائی کی ہریس کی گاڑی یوں تو سال بھر رہتی ہےمگر رمضان میں ان پر بھیڑ بڑھ جاتی ہے۔ مغرب کی اذان ہوتے ہی، بازار اپنا چولہ بدل لیتا ہے اور پھر یہاں رات جاگنے لگتی ہے۔ پان والے بنگالی چاچا مرحوم کے بیٹوں نے اس بستی میں مالپوہ کی پہلی دکان کھولی تھی جو برسوں یہاں رمضان کی پہچان بنی رہی مگر جوں جوں بازار وسیع ہوتا گیا، دکانیں بھی بڑھتی گئیں۔ اب جنتا ہوٹل کے سامنے، جوپیٹر اسپتال کے سامنے اور کئی دیگر مقامات پر رات بھر پایہ، دال گوشت اور نہ جانے کیا کیا فروخت ہوتا ہے۔ چونکہ علاقہ میں جنوبی ہند سے تعلق رکھنےوالوں کی آبادی خاصی ہے اس لئے اڈلی ڈوسا کے خوانچے جابجا نظر آتے ہیں۔
انہی دکانوں کے درمیان لکی ڈیری کے باہر ایف سیکٹر مسجد کیلئے چندہ کا اسٹال گزشتہ چند برسوں سے پابندی سے لگ رہاہے جو زیر تعمیر ہے۔ یوں لوگوں کو چلتے چلتے کچھ ذخیرۂ آخرت کرنے کا موقع بھی مل جاتا ہے!