لا ک ڈاؤن سے باہر نکلنا سرکار کی ترجیح ہے یا انتخابی سیاست ؟

Updated: June 14, 2020, 11:12 AM IST | Arqam Noorulhasan

کیا یہ سمجھ لیاجائے کہ بہار اسمبلی انتخابات کیلئے جو اکتوبرمیں ہونے والے ہیں، ورچوئل ریلی سے خطاب کرکے وزیر داخلہ نے یہ ثابت کیا ہےکہ اب لاک ڈاؤن مسئلہ نہیں رہا اور اس حکومت کو انتخابات کے آگے کوئی بھی مسئلہ نظر نہیںآتا ، حالانکہ لاک ڈاؤن اب بھی جاری ہے ، خوف اب بھی برقرار ہے لیکن حکومت دوسرے رخ پر چل پڑی ہے

Amit Shah - Pic : PTI
امیت شاہ ۔ تصویر : پی ٹی آئی

ابھی لاک ڈاؤن جاری ہے۔لاک ڈاؤن -۵؍ کواَن لاک وَن کا نام بھی دیاجارہا ہے۔یعنی لاک ڈاؤن کے اس پانچویں مرحلے سے  ملک کو لاک ڈاؤن  سے  بتدریج نکالنے کے پہلے مرحلے کا آغا ز کردیاگیا  ہے۔ ممکن ہے تین سے  چار مہینو ں میں ملک کو لاک ڈاؤن سے باہرنکالنےکا یہ عمل تکمیل کو پہنچےگا۔ اس سے قبل لاک ڈاؤن کے نفاذاور اب اَن لاک وَن کیلئےکوئی خاص منصوبہ بندی نظر نہیں آئی ۔مکمل لاک ڈاؤن کا نفاذ ان کچھ مہینوں کے درمیان کم وبیش ۲۵؍ دن بھی نہیں رہا ۔اس دورا ن محدود اوقات کیلئے مارکیٹ کھلے رہے،بازاروں میں لوگوں کی آمدورفت رہی۔ضروری اشیاءکی فراہمی اوران کی خریدوفروخت کیلئے کاروباریو ں اور صارفین کا ملنا جلنا جاری رہا ۔ان سب سے بڑھ کر  ملک بھر میں یہاں وہاں پھنسے ہوئے مزدور اپنے وطن واپس جانے کیلئےسڑکوں پر اترے ، احتجاج کیا ۔ سڑکوں پر پولیس موجود رہی۔مزدوروں کیلئےخصوصی ٹرینوں کا نظم کیاگیا ۔مزدوروں کی بڑی تعداد قومی شاہراہوں پر پیدل چلتی ہوئی نظر آئی ۔ اس لئے پہلے تو سوال  یہ کیا جانا چاہئے کہ لاک ڈاؤن کی تعریف کن الفا ظ میں کی جائے ؟لاک ڈاؤن تھاتوکتنا تھا یا ہے تو کتنا ہے ،اس کے اثرات کیا ہوئے ، اس کے نتائج کیا برآمد ہوئے   اور اس کے ذریعےجو سب سے بڑا مقصد تھا یعنی وائرس کے پھیلاؤ کو روکنا ،وہ کس حد تک پورا ہوا؟
 ظاہر ہے، ان سوالوں کا اطمینان بخش جواب حکومت کے پاس نہیں ہے۔حکومت نے نہ تولاک ڈاؤن نافذ کرنے سے قبل کوئی جامع منصوبہ پیش کیا اورنہ ہی اسے کھولنے کیلئے اس کےپاس کوئی واضح حکمت عملی ہے۔ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جس طرح بتدریج لاک ڈاؤن کھولا جا رہا ہے، اسی طرح درجہ بہ درجہ اسے نافذ بھی کیاجاتا۔ اگریہ طریقہ اختیار کیاجاتا تو مختلف ریاستوں میں پھنسے ہوئے شہریوں اور مزدوروں کو  اپنے آبائی وطن جانے کا موقع مل جاتا ۔ وہ بغیر کسی پریشانی کے اپنے گھروں کو چل پڑتےاور اطمینان سے پہنچ بھی جاتے۔لیکن، حکومت نے جس طریقے سے لاک  ڈاؤن نافذ کیا  وہ کورونا  بحران پر دوسرا بحران ثابت ہوا اوراسی بحران نے مہاجر مزدوروںکے تیسرے بحران کو جنم دیا ۔یہ تیسرا بحران اپنے آپ میںاتنا درد ناک تھا کہ اس سے پوری دنیا میںحکومت ہند کی رُسوائی ہوئی  ہے۔عالمی میڈیا میں شاہراہوں میں پیدل چلتے ہوئے مزدوروں کی تصویریں شائع ہوئی  ہیں۔ ان کی حالت زار  اور اس پر حکومت کی غیر سنجیدگی کو بیان کیاگیا  ہے۔ لاک ڈاؤن کے اثرات اور نتائج ابھی نہ ختم ہوئے ہیں، نہ کم  ۔ ہاںیہ مشاہدہ میں ضرور آرہا ہےکہ اس پر سے غالباً مرکزی حکومت کی توجہ قدرے کم ہوگئی ہے۔وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کو صرف کورونا وائرس  اوراس پر قابو پانے کیلئے اٹھائے گئے اقدامات میں تعاون کرنے والوں سےمتعلق بیان دینے میں دلچسپی ہے۔ مزدوروں کی حالت پر حکومت کا رویہ بس اس حد تک ہےکہ وزیر اعظم نے اس پر قدرے تاخیر سے تاسف کا اظہار کردیااور انہیں ہونے والی پریشانیوں اور مشکلات کا اعتراف کیا ۔ اب تو جیسے جیسے لاک ڈاؤ   ن یا اَن لاک وَن پر کارروائی بڑھتی جارہی ہے ویسے ویسے یہ دیکھنے میں آرہا ہےکہ حکومت کو  ان تمام کارروائیوں سے کوئی واسطہ نہیں رہ گیا ہے۔وزیر اعظم کے پاس بس کہنے کیلئے کچھ حوصلہ افزا باتیںرہ گئی ہیں۔مثال کے طورپرکورونا کے خلاف جیتنے کا عزم ،کورونا کے خلاف جنگ میں پیش پیش رہنے والے طبی عملے اوردیگرضروری خدمات سے وابستہ اہلکاروں کی ہمت افزائی جیسی باتیں۔ادھر وزیر داخلہ امیت شاہ بہار اسمبلی انتخابات کی تیاریوں میں مصروف ہوچکے ہیں۔ گزشتہ دنوں نے انہوں نے  ڈیجیٹل (ورچوئل ) ریلی سے خطاب کرتے ہوئے اپنے کچھ روایتی انتخابی وعدےکئے۔ وہی ۷۰؍ سال کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان۷؍ دہایئوں میں جن مسائل کی طرف دیکھا تک نہیں گیا ، وہ سارے مسائل مودی حکومت کی دوسری میعاد کے پہلے سال میں حل کئے جا چکے ہیں۔ 
 یہ دعویٰ کرنے والے وہی امیت شاہ ہیں جنہوں نے ۲۰۱۴ء کے عام انتخابات  سے قبل شہریوں کے اکاؤنٹ میں ۱۵؍ لاکھ روپے جمع کئے جانے  کے وعدے کو نتائج کے بعد ایک انتخابی جملہ قرار دیا تھا۔  اب جنہیں امیت شاہ کی یہ بات یاد ہوگی اورضروریاد ہوگی، ہر ایک کو یاد ہوگی ،تووہ بہار اسمبلی انتخابات سے قبل کئے جانے والے مذکورہ دعوےکو کتنی اہمیت دے گا اوراس پر کتنی توجہ دے گا؟ پھر زمینی حقائق بھی دیکھے جائیں گے۔ کیا اب مرکزی حکومت کی ترجیحات میں لاک  ڈاؤن نہیں رہا ۔ اب بہار اسمبلی انتخابات کیلئے انتخابی مہم کووہ لاک ڈاؤن کھولنے پر مقد م رکھنا چاہتی ہے؟  اگر یہ تسلیم بھی کرلیں کہ مودی حکومت کی دوسری میعاد کے پہلے سال میں وہ سارے مسائل حل کرلئے گئے جنہیں گزشتہ  ۷۰؍ برسوں میں نظر انداز کیا گیا تھا ، توکیا لاک ڈاؤن  کے نتیجے میں پیدا ہونے والے نئے مسائل  اتنے سنگین نہیں ہیںکہ پہلے ان پر بات کی جاتی؟حکومت کی توجہ لاک ڈاؤن سے کیوں ہٹ گئی ؟سیکڑوں مزدور لاک ڈاؤن کے درمیان شرامک اسپیشل  ٹرینوں کے ذریعے بہار پہنچے ہیں۔وزیر داخلہ نے ان مزدوروں کے بارے میں کچھ کیوں نہیں کہا ؟ ایک ریاست کے انتخابات کیا قریب آگئے ، مزدوروں کا بحران تک مرکزی وزیر داخلہ کی نظر  میں اہمیت کا حامل نہیں رہا!حالانکہ اس ریاست اور مزدوروں کا بہت گہرا تعلق ہے۔ ایک ریاست کے انتخابات کیا قریب آگئے ، لاک ڈاؤن  اور اس  کے اثرات ونتائج پس پشت چلےگئے!ابھی لاک ڈاؤن ختم نہیں ہوا ہے، ابھی کورونا وائرس ختم نہیں ہو ا ہے ، اس سے متاثرہونے والوں کی تعداد روز بروز بڑھتی جارہی ہے،ان حالات میں بہار اسمبلی انتخابات کیلئے ڈیجیٹل مہم پر ساری توجہ  اور اس کی تیاریوں سے حکومت اسکے  علاوہ   اورکچھ ثابت نہیں کرسکتی کہ وہ خود تو لاک ڈاؤن سے اُکتا گئی ہے لیکن عوام کی  اکتاہٹ اور مسائل کا اسے احساس نہیں ہے۔صرف حوصلہ افزا باتوں اور دعوؤں سےکچھ ہوتا تووزیر اعظم کی گزشتہ دو ’ من کی بات ‘سے حالات بدل چکے ہوتے ۔ عوام میںاتنا حوصلہ بھر جاتا کہ وہ آئندہ ۶؍ ماہ تک یا جب تک کوروناوائرس پھیل رہا ہے تب تک  لاک  ڈا ؤن میں جینے کیلئے تیار ہوجاتے لیکن  ایسا نہیں ہے۔ زمینی حقائق بہت مختلف ہیں۔ ایک طرف کورونا کا خوف ہے اور دوسری طرف لاک ڈاؤن کے مسائل لیکن حکومت  ان باتوں سے اب لا تعلق ہوتی جارہی ہے۔اسے بس کورونا پر فتح پانے  کے دعوؤں سے لینا دینا ہےاور اب تو لگتا ہےکہ بہار اسمبلی انتخابات  ان سارے مسائل پر بازی لے جائیں گے اورحکومت کو تب تک  ان انتخابات کے علاو ہ اور کچھ نہیں سوجھے گا جب تک انتخابات ہو نہیں جاتے ۔ حالانکہ فی الحال حالات یہ تقاضا کررہے ہیںکہ سوائے کورونا او رلاک ڈاؤن کے اور کسی مسئلے کو ترجیح نہ دی جائے۔ بہار اسمبلی انتخابات بھی اکتوبر میں ہونے ہیں۔ پتہ نہیں حکومت لاک ڈاؤن سے نکلنے اور ملک کو نکالنے کی اپنی ترجیح کو کیسے پیچھےچھوڑسکتی ہے؟جبکہ ابھی خطرات برقرار ہیں۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق کورونا ہندوستان میں ابھی انسانوں سے انسانوں میں منتقل ہونے کے مرحلے میں نہیں پہنچا ہےلیکن بڑھتےہوئے معاملات کو دیکھتے ہوئے اس خطرے کو خارج نہیں کیاجاسکتا ۔
 ایسے وقت میں جبکہ کورونا وائرس کے تعلق سے طرح طرح کے اندیشوں کا اظہار کیاجارہا ہے،حکومت کو ہنگامی سطح  پر اس کا نوٹس لینا ہوگاا ور عملی اقدامات کرنے ہو ںگے۔ ٹیسٹنگ میں مزید اضافہ انتہائی ضروری  ہے۔پول ٹیسٹنگ (ایک ساتھ کئی نمونوں کی جانچ) کی تعداد بڑھانی ہوگی ۔ کورونا کے علاوہ دیگر مریضوں کے علاج کیلئے پرائیویٹ  اسپتالوں اور ڈاکٹروںکو ترغیب دینی  ہوگی۔ اگر ہندوستان میں اب تک’ کمیونٹی  ٹرانسمیشن‘ نہیں ہوا ہے توکیا سبب ہےکہ  روز انہ کی بنیاد پر معاملے بڑھے ہیںاور ہندوستان کورونا سے شدید متاثر ممالک کی فہرست میں سر فہرست پانچ ممالک میں شامل ہوچکا ہے۔لاک ڈاؤن ہٹانا مناسب ہے یا نا مناسب   ، ان سب سوالوں کا جواب کیا حکومت کے پاس ہے؟اگر ہے توجواب دینے کیلئے کیا وہ کسی ہدایت کی منتظر  ہے؟  یہ وقت ڈیجیٹل  یا ورچوئل ریلی کا نہیں ہے بلکہ لاک ڈاؤن سے باہر آنے کی منصوبہ بندی کرنے کا  ہے۔عوام  اس  وقت کسی ڈیجیٹل ریلی کی طرف متوجہ نہیں ہوں گے، ان کے سامنے مسئلہ صرف لاک ڈاؤن ہے اورکورونا کے حوالے سے پھیلایاجانے والا خوف ۔ اب حکومت کو فیصلہ کرنا ہےکہ وہ  خوفزدہ عوام کو راحت دلانے کوترجیح دیتی ہے یا انتخابی  سیاست میں الجھنے کو؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK