• Thu, 22 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

کیا مذہب کے نام پر ووٹ مانگنے کی اجازت مل گئی ہے؟

Updated: May 22, 2023, 6:08 PM IST | Pankaj Shrivastava | Mumbai

کرناٹک میں انتخابی مہم کے دوران وزیراعظم کھلے عام ’بجرنگ بلی‘ کے نام پر ووٹ دینے کی اپیل کرتے رہے، انہوں نے یہی پیغام دیا کہ انہیں نہ تو آئین کی کوئی پروا ہے، نہ ہی قانون کی جو مذہب کی بنیاد پر ووٹ مانگنے کی ممانعت کرتا ہے اور یہ سوچنا بھی مضحکہ خیز ہے کہ انہیں الیکشن کمیشن سے کسی قسم کی پریشانی کا سامنا ہوگا

photo;INN
تصویر :آئی این این

آپ اپنے ایجنڈے میں آئین پر نظرثانی کی بات کرتے ہیں، کیا آپ نے اس موضوع پرقانونی ماہرین سے گفت و شنید کی ہے؟ کیا آپ نے دوسری جماعتوں کی رضامندی لی ہے؟ کیا اس پر کوئی بحث ہوئی ہے؟ آپ آئین پر نظرثانی کی بات تو کررہے ہیں لیکن اسے کس سمت میں لے جانا چاہتے ہیں؟یاد رہے کہ جب بھی پارلیمانی جمہوریت ٹوٹی ہے، وہاں کے لیڈروں نےیہی کہا ہے کہ آئین کمزور ہے،اسلئے اسے بدلنے کی ضرورت ہے۔ آپ نے جو ایجنڈہ بنایا ہے،  وہ ایک خوفناک سمت میں اشارہ کرتا ہے گرودیو۔ آپ راستے سے بھٹک رہے ہیں، آپ کا یہ انحراف ملک کیلئے کافی نقصاندہ ثابت ہوسکتا ہے۔میں آپ کو اس سلسلے میں خبردار کرنے کیلئے یہاں کھڑا ہوں، یہ ایجنڈا صرف غداری کی ایک اور دستاویز ہے جو ملک کو تباہ کر دے گا۔ اسلئے  میں اس تحریک اعتماد کی مخالفت کرتا ہوں۔‘‘
 یہ سابق وزیر اعظم چندر شیکھر کی تقریر کا ایک چھوٹا سا اقتباس ہے۔ انہوں نے یہ تقریر۱۹۹۹ء میں لوک سبھا میں اٹل بہاری واجپائی حکومت کی طرف سے پیش کی گئی تحریک اعتماد کی مخالفت میں دی تھی۔ انہوں نے تقریر کا ایک بڑا حصہ اپنے سامنے بیٹھے وزیر اعظم واجپائی کو مخاطب کرتے ہوئے کیا تھا جنہیں  وہ۱۹۶۷ء سے’گرو دیو‘ کہہ رہے تھے۔چندر شیکھر کا واضح خیال تھا کہ اگر ہندوستان سیکولر جمہوریہ کے تصور سے ہٹ گیا تو وہ بکھر جائے گا۔ وہ  ملک کی آزادی اور اس کی تعمیر کیلئے ہونے والی جدوجہد کے صرف گواہ نہیں تھے بلکہ اس کے حصہ دار بھی تھے اور ملک کیلئے آر ایس ایس کے حوالے سے لاحق خطرات کو بخوبی سمجھتے تھے۔
 بہرحال اعتماد کی تحریک میں شکست کے بعد ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں بی جے پی دوبارہ اقتدار پر قابض ہونے میں کامیاب ہوگئی۔ اس کے بعد’گرودیو‘ نے چندر شیکھر کے انتباہ کو نظر انداز کرتے ہوئے فروری ۲۰۰۰ء میں سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس ایم این وینکٹ چلیا کی قیادت میں آئین کا جائزہ کیلئے ایک کمیشن تشکیل دے دیا ۔ یہ اور بات ہے کہ اس وقت کے سیاسی حالات کے پیش نظر واجپئی حکومت، کمیشن کی ۲۴۹؍ سفارشات پر عمل کرنے کی ہمت نہیں پیدا کر سکی، لیکن ۲۲؍ سال بعد ہندوستان کے وزیر اعظم کے عہدے پر براجمان نریندر مودی کیلئے ایسی ہمت کرنا بچوں کا کھیل ہے۔ وہ کرناٹک اسمبلی انتخابات کے دوران انتخابی مہم  میں کھلے عام ’بجرنگ بلی‘ کے نام پر ووٹ دینے کی اپیل کر رہے ہیں۔ انہیں نہ تو آئین کی کوئی پروا ہے، نہ ہی اس قانون کی جو مذہب کی بنیاد پر ووٹ مانگنے کی ممانعت کرتا ہے۔ یہ سوچنا بھی مضحکہ خیز ہے کہ وزیراعظم کو الیکشن کمیشن کی طرف سے کسی قسم کی پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا۔اب یقین کرنا مشکل ہے کہ اس ملک میں ٹی این سیشن جیسا ایک الیکشن کمشنر بھی تھا جس کے خوف نے تجربہ کار لیڈروں کو بھی قانون کے دائرے میں رہ کر الیکشن لڑنے پر مجبور کر دیا تھا۔
 ایک زمانے میں الیکشن کمیشن نے شیوسینا کے بانی بالا صاحب ٹھاکرے کو صرف مذہب کی بنیاد پر ووٹ مانگنے کے الزام میں ۶؍ سال تک ووٹ دینے کے حق سے محروم کردیا تھا۔ یہ ایک طرح سے کسی کی شہریت چھین لینے کے مترادف تھا،لیکن اب کمیشن خاموش ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بال ٹھاکرے کے صاحبزادے اور شیوسینا کے موجودہ سربراہ ادھو ٹھاکرے پوچھ رہے ہیں کہ کیا قوانین بدل گئے ہیں؟ دوسری طرف ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی اس معاملے پر میڈیا کی خاموشی پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر وہ’ اللہ  اکبر‘ کہہ کر ووٹ دینے کی اپیل کرتے تو کیا  میڈیا کا یہی رویہ رہتا؟ادھو ٹھاکرے اور اویسی کے ذریعہ اٹھائے گئے سوالات اسی خطرناک اشارے کی یاد دلا رہے ہیں جس کے خلاف سابق وزیر اعظم چندر شیکھر نے۱۹۹۹ء کے اعتماد کے ووٹ کی تقریر میں خبردار کیا تھا۔ ان کا اشارہ واضح تھا کہ بی جے پی کی سیاست ہندوستان کے موجودہ سیکولر اور آئینی ڈھانچے کو تباہ کرنے کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اس وقت واجپائی ہچکچاہٹ میں نظر آئے تھے لیکن مودی جی میں ایسی کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہے۔
 لوگوں کو’ `ہم‘ یا’ان‘میں تقسیم کرنا شاید سب سے قدیم رجحان ہے۔ انسانوں اور جنگلی جانوروں کے درمیان لاکھوں برسوں سے’ہم‘ اور ’وہ‘ کی شکل میں جدوجہد جاری رہی۔ پھر زراعت اور تہذیب کی ترقی کے ساتھ جدوجہد کی شکلیں بدل گئیں۔ قبیلے، مذہب، ریاست، نسل، علاقہ، زبان اور رنگ کی بنیاد پر’دوسرے‘ کی نشاندہی کی جاتی رہی، جن سے ہمیشہ محتاط رہنا اور موقع پاتے ہی اسے ختم کرنا ایک عام سی بات ہوگئی تھی۔ تہذیب کے معنی ہیں بقائے باہمی، یہ چیز انسان کے پاس بہت دیر سے آئی اور آتے آتے آئی۔
 ہندوستان کو ایسے عظیم انسانوں کی قیادت میں آزادی نصیب ہوئی جنہوں نے پرامن بقائے باہمی کو تہذیب کا محور تسلیم کیا تھا۔ اسے یہ طاقت کسی غیر ملکی خیال سے نہیںبلکہ اُن منتروں سے ملی ہے جو پوری زمین کو ایک خاندان سمجھنے اور انسانوں کے درمیان تفریق کوغلط قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے اس نعرے کو کبھی قبول نہیں کیا کہ’’پاکستان مسلمانوں کا ہے اور ہندوستان ہندوؤں کا ہے۔‘‘ ان کا نظریہ اس وقت بالکل درست ثابت ہوا جب ۱۹۷۱ء میں پاکستان دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ مذہب کو فرد کا نجی معاملہ سمجھتے ہوئے انہوں نے فیصلہ کیا کہ ریاست سیکولر مسائل کے حل کیلئے سیکولر طریقے تلاش کرے گی اور یہ بوجھ مافوق الفطرت طاقتوں پر نہیں ڈالے گی۔ یہ ہندوستان کی دور اندیشی کا کمال تھا کہ اس نے تیزی سے چھلانگ لگا کر دنیا کے منتخب ممالک میں اپنی جگہ بنائی جبکہ پاکستان کو ایک’ناکام ریاست‘ کے طور پر تسلیم کیا گیا۔ اکثریت کے مذہبی جذبات کو بھڑکانے کی سیاست اس کی ناکامی کی بڑی وجہ بنی۔اسلئے جب وزیر اعظم مودی انتخابی جلسوں میں بجرنگ بلی کے نام پر ووٹ دینے کی اپیل کرتے ہیں یا شمشان گھاٹ اور قبرستان کی زبان میں لوگوں سے خطاب کرتے ہیں تو وہ کوئی نئی بات نہیں کر رہے۔ وہ اسی راستے پر چلنے کی کوشش کر رہے ہیں جس پر چل کر پاکستان برباد ہوا ہے۔ جن کو پاکستان کے ساتھ موازنہ پسند نہیں وہ ہٹلر کے جرمنی کی تاریخ بھی پلٹ سکتے ہیں جس نے اس عظیم ملک کو تباہ کیا تھا۔
 یہ دیکھ کر واقعی دکھ ہوتا ہے کہ ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘ کا نعرہ دینے والے وزیر اعظم مذہبی نعروں کی بنیاد پر ووٹ مانگ رہے ہیں یا بجرنگ بلی کا موازنہ بجرنگ دل سے کر رہے ہیں، جس کی  ہنگامہ آرائیوں پر اڈوانی جیسے اُنہی کی پارٹی کے سینئر لیڈر ماضی میں کئی بار تنقیدی تبصرہ کرچکے ہیں۔ یہ کرناٹک میں ان کی ڈبل انجن حکومت کی مکمل ناکامی کی علامت بھی ہے۔ لوگ متحد ہوکر مہنگائی، بے روزگاری اور بدعنوانی جیسے مسائل پر کرناٹک کی بی جے پی حکومت کو سزا  نہ دیں، اسلئے وزیر اعظم بجرنگ بلی کے نام پرہندوتوا وادی خیالات رکھنے والوں کومتحد کرنا چاہتے ہیں۔ یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ ’کشمیر فائلز‘ کے بعد انہوں نے’کیرالا اسٹوری‘ جیسی فلم کی انتخابی پلیٹ فارم سے تعریف کی ہے، جو صرف دو برادریوں کے درمیان نفرت پھیلانے کے مقصد سے بنائی گئی ہیں۔
 وزیراعظم کسی پارٹی کے لیڈر نہیں ہوتے بلکہ وہ پورے ملک کے لیڈر ہوتے ہیں۔ دنیا ان کی آواز میں ملک کی خواہش اور عزائم کو تلاش کرتی ہے لیکن مودی جی جس راستے پر چل رہے ہیں،اسے دیکھتے ہوئے ایک فلمی نغمہ یاد آتا ہے ’’منجھدار میں نیّا ڈولے تو مانجھی پار لگائے: مانجھی جو ناؤ  ڈبوئے ، اسے کون بچائے

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK