Inquilab Logo Happiest Places to Work

برداشت اور تحمل کے نقوشِ نبویؐسے اپنے قول و فعل کو سنوارئیے!

Updated: March 13, 2026, 3:24 PM IST | Dr. Anwar Naeem Nomani | Mumbai

نرم مزاجی اور نرم خوئی اللہ اور اس کے رسولؐ کو پسند ہے۔سیرت طیبہ کا مطالعہ کریں تو رسولؐ اللہ کے خلق ِ حلم کے ایسے مظاہر ہمارے سامنے آتے ہیں کہ جس کے نقوش کی تلاش میں انسانیت آج بھی عازمِ سفر ہے۔

The example of the Prophet (PBUH) teaches us patience and tolerance. When visiting the Holy Shrine of the Prophet (PBUH), be sure to make a commitment to incorporate this lesson into your practical life. Photo: INN
اسوۂ نبویؐ سے ہمیں تحمل اور برداشت کا درس ملتا ہے، روضۂ نبویؐ پر حاضری کے وقت اس درس کو عملی زندگی میں شامل کرنے کا عہد ضرور کیجئے۔ تصویر: آئی این این

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’(سائل سے) نرمی کے ساتھ گفتگو کرنا اور درگزر کرنا اس صدقہ سے کہیں بہتر ہے جس کے بعد (اس کی) دل آزاری ہو، اور اﷲ بے نیاز بڑا حلم والا ہے۔‘‘ (البقرہ:۲۶۳)

انسان کی زندگی میں اس کی حقیقی پہچان اس کا قول اور فعل ہے۔ اگر انسان کی کل زندگی کا جائزہ لیا جائے تو اس کی ساری حیات سمٹ کر دو چیزوں تک محدود اور مقید ہوجاتی ہے: قول اور فعل۔ قرآن مجید ان دونوں چیزوں کو سنوارنے اور ان کو اعلیٰ و افضل بنانے کے لئے بار بار ترغیبات دیتا ہے کہ ہر انسان اپنے قول کو قولِ احسن کیسے بنائے اور اپنے فعل کو فعل ِ احسن کیسے کرے؟

قول کا تعلق زبان سے ہے اور فعل کا ناطہ سارے اعضاءِ جسد سے ہے۔ قول جب نرمی سے معمور اور درگزر سے بھرپور ہوجائے تو وہ قولِ حلیم بن جاتا ہے اور فعل جب نیکی سے مزین ہوجائے اور صالحیت سے آراستہ ہوجائے تو فعل ِ صالح بن کر انسان کی سرافرازی کا سبب یعنی فوزِ دنیوی اور نجاتِ اخروی کا باعث بن جاتا ہے۔

حِلم کا مفہوم: حلم اور رِفق دونوں قول کی صفات ہیں۔ حلم درگزر کرنے، معاف کرنے، نظر انداز کرنے اور بخش دینے کو کہتے ہیں۔ خُلقِ حِلم سے مراد وہ انسانی خُلق ہے جس میں کسی کی کوتاہی و غفلت پر اس سے درگزر کیا جائے اور کسی بدعملی اور سستی پر اس سے صرفِ نظر کیا جائے۔

یہ بھی پڑھئے: ایک رات، ہزار مہینوں کے برابر ہو سکتی ہے اور غفلت منزل کو صدیوں دور کر سکتی ہے

باری تعالیٰ نے اپنی ذات کو اپنے بندے کے سامنے اپنی شانِ حلم کے ساتھ متعارف کرایا ہے۔ جب باری تعالیٰ خود کو ’’حلیم‘‘ کہتا ہے اور بندہ  بھی اپنے رب کو شانِ حلم کے ساتھ دیکھتا ہے تو اس کا معنی یہ ہے کہ وہ رب جو اپنے بندوں کے گناہوں پر گرفت کرنے کے بجائے درگزر کرے، ان کی خطائوں سے صرفِ نظر کرے، غفلتوں کو معاف کردے تو بندوں کو بھی چاہئے کہ وہ آپس کے تعلقات میں اللہ تعالیٰ کی اُسی صفت کی روشنی سے اپنی سیرت و کردار کو منور کریں۔

رِفق کا مفہوم: رِفق کا معنی نرمی اختیار کرنا اور دوسرے پر رحم و مہربانی کرنا ہے۔ رِفق میں دوسرے کو نفع پہنچانے کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے۔ جب بندہ دوسروں کی مدد کرے، دوسروں کا سہارا بنے، دوسروں کے لئے دوستانہ اور محبانہ سلوک کو فروغ دے، دوسروں کو اپنا ساتھی بنائے اور دوسروں کے لئے نفع رسانی کا باعث ہو تو ایسے خُلق کو خُلقِ رِفق کہتے ہیں۔مذکورہ آیت کریمہ میں اللہ رب العزت اپنی شانِ حلم کو بیان کررہا ہے۔ وہ اپنے بندوں کو قولِ معروف اور قولِ غفران کو اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے۔ جب انسان کا قول، قولِ معروف، قول لین، قول غفران، قول معانی اور قول درگزر میں ڈھل جائے  تب جاکر انسان بھی خُلقِ حِلم اور خُلقِ رِفق کا حامل ٹھہرتا ہے۔ اللہ رب العزت اپنے بندوں میں قولِ معروف سے جنم لینے والے ’’حلم‘‘ کو دیکھنا چاہتا ہے اور قولِ مغفرۃ سے ظاہر ہونے والی رِفق کا اظہار دیکھنا چاہتا ہے۔ جب بندہ ان خدائی صفات سے خود کو مزین کرلیتا ہے تو وہ عبدِ صالح اور عبد ِ کامل بن جاتا ہے اور یوں اپنے خُلق میں حلیم اور رفیق ٹھہرتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: شب ِ قدر: صرف دُعا کی قبولیت ہی کی رات نہیں بلکہ تمام انسانیت کیلئے شب ِنجات ہے

رسولؐ اللہ کا خُلقِ رِفق و حلم

باری تعالیٰ نے رسولؐ اللہ  کے خُلقِ حِلم اور خُلقِ رِفق کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

’’(اے حبیب ِ والا صفات!) پس اللہ کی کیسی رحمت ہے کہ آپ ان کے لئے نرم طبع ہیں اور اگر آپ تندخُو (اور) سخت دل ہوتے تو لوگ آپ کے گرد سے چھٹ کر بھاگ جاتے، سو آپ ان سے درگزر فرمایا کریں اور ان کے لئے بخشش مانگا کریں۔‘‘(آل عمران:۱۵۹)

اس آیتِ کریمہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلق ِ رِفق اور خلقِ حلم کو واضح کیا ہے۔ خُلقِ رِفق کو باری تعالیٰ نے ’’لنت لہم‘‘ کے کلمات کے ساتھ بیان کیا ہے کہ آپ ؐ  لوگوں کے لئے نرم دل واقع ہوئے ہیں، آپؐ لوگوں پر مہربانی اور کرم نوازی کرنے والے ہیں،  آپؐ دوسرے لوگوں سے محبت و نرمی اور شفقت و  مہربانی سے معمور اور مملو سلوک کرنے والے ہیں۔  اسی خُلقِ رِفق کی بنا پر آپ ؐدوسرے لوگوں کی بات کو نہ صرف سنتے ہیں بلکہ ان کے مسائل کے حل میں ان کی مدد و  نصرت کرتے ہیں اور ہر ممکن دوسرے لوگوں کو نفع پہنچاتے رہتے ہیں۔یہ نرمی اور نفع رسانی کا عمل ہی آپ ؐکے خُلق کو خُلقِ رِفق بنائے ہوئے ہے۔

خُلقِ رِفق اور خُلقِ حِلم کا اثر دوسروں کو اپنے قریب کرنا اور غیروں کو اپنا بنانا ہے۔ اس لئے ہم دیکھتے ہیں کہ اگر اللہ کے رسولؐ کی بارگاہ میں کوئی بداخلاق آتا، کوئی تہذیب و تمدن سے عاری اور شائستگی و سنجیدگی سے محروم آتا، کوئی جہالت کا پروردہ اعرابی اور بدو بھی آجاتا تو آپ ؐ  کا حلم اس کی بداخلاقی، بدتمیزی، بدتہذیبی اور بدشائستگی پر غلبہ پالیتا اور  ناقابل برداشت اور غیر متحمل طرز عمل بھی آپ ؐ کے تحمل اور آپ ؐ کے حِلم کی قوت کے نیچے دب جاتا اور اپنا زور گنوا بیٹھتا۔ 

یہ بھی پڑھئے: رمضان ڈائری (۲۰): بڑا قبرستان شہرِ خموشاں نہیں جہانِ روحانی کی طرح آباد لگتا ہے

اعلیٰ اخلاق آپ ؐکی پہچان تھے

آپ ؐ اپنے اعلیٰ خُلق ’’حلم‘‘ کی بنا پر دوسروں کو بڑی آسانی سے معاف فرمادیتے اور ان سے درگزر کرتے جبکہ یہ عمل عام انسانوں کے لئے کرنا بڑا مشکل ہوتا ہے۔ یہ اخلاق کریمانہ آپؐ کی طبیعت کی لازمی پہچان اور آپؐ کی شخصیت کی شناخت تھے۔ اسی لئے قرآن نے کہا کہ اگر آپؐ تندخو، سخت دل ہوتے تو دل کی سختی آپ ؐکے اردگرد جھرمٹ نہ ہونے دیتی اور نہ ہی آپ ؐکی قربت کی خواہش پیدا ہونے دیتی۔ اس لئے ہم نے آپؐ  کو حلم والا بنایا ہے۔ آپؐ  اپنی شان حلم کے ذریعے نہ صرف خود بھی معاف کریں بلکہ اللہ سے بھی ان کی معافی چاہیں ۔

باری تعالیٰ نے رسولؐ اللہ کے خُلقِ رِفق اور خُلقِ حِلم کو واضح کرتے ہوئے سورۃ الفرقان میں ارشاد فرمایا:  ’’اور (خدائے) رحمان کے (مقبول) بندے وہ ہیں جو زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں اور جب ان سے جاہل (اکھڑ) لوگ (ناپسندیدہ) بات کرتے ہیں تو وہ سلام کہتے (ہوئے الگ ہو جاتے) ہیں۔‘‘( سورہ الفرقان:۶۳)

خُلقِ حلم اختیار کرنے سے انسان کی شخصیت میں بردباری کا وصف آتا ہے۔ اس کی قوت برداشت میں اضافہ ہوتا ہے، وہ دوسروں کی ناروا باتوں کو صبر کے ساتھ سن لیتا ہے اور اپنے جذبہ ٔ غیظ و غضب کو بھڑکنے نہیں دیتا۔ اسی طرح جب دوسروں کے ناموزوں اور تہذیب سے خالی اور عاری اقوال و اعمال بھی بوجھ بنتے ہیں تو وہ ان سارے بوجھوں کو قوتِ تحمل کے ساتھ برداشت کرلیتا ہے۔ اس حسین خلقِ حلم کی وجہ سے ان کی شخصیت وقار و تمکنت اور رفعت و عظمت سے سرفراز ہوجاتی ہے۔

خُلقِ حلم کا کمال

سیرت طیبہ کا مطالعہ کریں تو اللہ کے رسولؐ کے خلق ِ حلم کے ایسے مظاہر ہمارے سامنے آتے ہیں کہ جس کے نقوش کی تلاش میں انسانیت آج بھی عازمِ سفر ہے۔ خلق حلم اس وقت اپنے کمال کو پہنچتا ہے جب اس کا عملی اظہار اس شخص کے ساتھ کیا جائے جو آپ کی جان کا دشمن ہو، عداوت جس کا مقصودِ حیات ہو اور جہالت جس کی علامت ہو۔ ام المومنین حضرت  عائشہ صدیقہ ؓروایت کرتی ہیں: ’’یہودیوں کی ایک جماعت رسولؐ اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہوئی تو انہوں نے کہا: ’’السام علیکم‘‘ (تمہیں موت آئے)۔ حضرت عائشہ ؓفرماتی ہیں کہ میں ان کی گفتگو کا مفہوم سمجھ گئی اور میں نے ان کا جواب دیا: تمہیں موت آئے اور تم پر لعنت ہو۔ اس پر آپؐ نے فرمایا: اے عائشہ ؓ! جانے دو، اللہ تعالیٰ تمام معاملات میں نرمی کو پسند کرتا ہے۔ میں عرض گزار ہوئی: یارسولؐ اللہ! شاید آپ ؐ نے سنا نہیں جو انہوں نے کہا؟  آپؐ  نے فرمایا: میں نے ان کی بات انہیں پر لوٹا دی اور میری ان کے بدلے میں دعا قبول کی گئی اور ان کی میرے بارے میں قبول نہیں کی گئی۔‘‘ (صحیح بخاری،  باب الرفق )

یہ بھی پڑھئے: قدرتی نشانیاں، فرشتوں کی اقسام، ابراہیمؑ کی دُعا، اسماعیلؑ کی قربانی کا ذکر سنئے

اس حدیث مبارکہ میں اللہ کے رسولؐ کا خلق ِ حلم اور خُلقِ رِفق دیکھئے۔ دشمن آپؐ کو بد دعا دے رہا ہے، ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ  غصے میں آجاتی ہیں اور اسی کے کلمات دہرا دیتی ہیں اور ایک کلمے کا اضافہ کردیتی ہیں کہ علیکم السام واللعنۃ (موت تم پر آئے اور اللہ کی لعنت ہو تم پر) جواب میں ایک کلمہ اللعنۃ کے اضافے کی وجہ سے اللہ کے رسولؐ نے ام المومنین حضرت عائشہ ؓسے فرمایا کہ اس سے صرف نظر کرو اور نرمی اور خوش گفتاری کو اختیار کرو، اس لئے کہ اللہ کی سنت اور طریق یہ ہے کہ اللہ ہر معاملے میں نرمی کو پسند کرتا ہے۔

خلاصۂ کلام: تعلیم اور علم کا مقصد ایک انسان کو معاشرے کا بہترین انسان بنانا ہے۔ علم روشنی کا نام ہے اور عمل اس روشنی کو اپنانے کا نام ہے۔ انسان کی رفعت اور عظمت اعلیٰ اخلاق کے ذریعے قائم ہوتی ہے۔ اپنے خلق و عادت میں نرم خو رہنا، نرمی اختیار کرنا، دوسروں کے ساتھ مہربانی کا رویہ اپنانا، اپنے سلوکِ حیات کو نرم برتائو کے ذریعے حسنِ سلوک میں بدل دینا خُلقِ رِفق کو اپنے وجود میں بسانا ہے۔ ہم سے یہی عمل مطلوب ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK