رمضان المبارک کا پورا مہینہ ہی رحمت، برکت اور سعادت کا مہینہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کے رسولﷺ اس کی آمدسے قبل ہی لوگوں کو اس کی اطلاع فرماتے اوریہ اطلاع محض اطلاع نہیں ہوتی تھی بلکہ اس کااصل مقصداس مہینہ کی قدردانی کیلئے لوگوں کی ترغیب ہوتی تھی۔ پھراس مہینہ کے آخری دس دنوں میں حضورؐ اکرم کی عبادت و ریاضت دوچند ہوجاتی تھی۔
وہ لوگ جو شب ِ قدر کی اہمیت جانتے ہیں، وہ طاق راتوں کو عبادت میں گزارنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تصویر: آئی این این
رمضان المبارک کا پورا مہینہ ہی رحمت، برکت اور سعادت کا مہینہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کے رسولﷺ اس کی آمدسے قبل ہی لوگوں کو اس کی اطلاع فرماتے اوریہ اطلاع محض اطلاع نہیں ہوتی تھی بلکہ اس کااصل مقصداس مہینہ کی قدردانی کیلئے لوگوں کی ترغیب ہوتی تھی۔ پھراس مہینہ کے آخری دس دنوں میں حضورؐ اکرم کی عبادت و ریاضت دوچند ہوجاتی تھی۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: ’’اللہ کے رسولؐ رمضان کے اخیر عشرہ میں جتنی مشقت اٹھاتے، اتنی مشقت دوسرے دنوں میں نہیں اٹھاتے تھے۔‘‘ (سنن الترمذی)۔ عبادت و ریاضت کی مشقت صرف خود ہی نہیں فرماتے بلکہ اپنے گھروالوں کو بھی اس پرآمادہ فرماتے تھے؛ چنانچہ حضرت عائشہؓ سے مروی ہے، وہ فرماتی ہیں: ’’جب اخیرعشرہ آتا تو آپؐ شب بیداری فرماتے، اپنے گھر والوں بیدار کرتے اور (عبادت کے لئے) پوری طرح تیار ہوجاتے تھے۔‘‘ (صحیح مسلم)
مذکورہ احادیث سے رمضان کے اخیرعشرہ کی خصوصی فضیلت معلوم ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ آپؐ بذات خود رمضان کے دوسرے دنوں کے مقابلہ میں اخیر کے دس دنوں میں زیادہ محنت و مشقت فرماتے تھے اوراپنے گھروالوں کوبھی اس کی ترغیب دیتے تھے۔ سوال یہ ہے کہ اخیر کے ان دس دنوں میں محنت ومشقت کرنے کیلئے ہمیں کون کون سے اعمال کرنے چاہئیں؟
یہ بھی پڑھئے: لیلۃ القدر انسانی شعور، خود احتسابی اور باطنی بیداری کا عظیم موقع ہے
اس سلسلہ میں احادیث سے ہمیں مندرجہ ذیل اعمال کاپتہ چلتاہے:
*شب بیداری: رمضان المبارک کے اخیر عشرہ کا ایک کام ’’شب بیداری‘‘ہے، یعنی راتوں کو جاگاجائے؛ لیکن یہ جاگنا صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے ہو، فضولیات کے لئے نہ ہو۔
*گھروالوں کوعبادت کے لئے بیدار کرنا: ہم میں سے ہرشخص کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے اہل و عیال کی تمام ضرورتوں کو اہتمام کے ساتھ پورا کرے، اس کے لئے وہ بھاگ دوڑ؛ بلکہ بیرونِ ملک تک کا سفرکرنے سے بھی نہیں ہچکچاتا، کیا ایسے شوہر پر یہ ذمہ داری عائد نہیں ہوتی کہ وہ اہل و عیال کو عبادت کیلئے بھی ترغیب دے؟
ظاہرہے کہ اس پر یہ ایک ذمہ داری ہے۔ اللہ کے رسولؐ رمضان المبارک کے اخیرعشرہ میں خصوصیت کے ساتھ اس کا اہتمام فرماتے اور اپنے گھر والوں کو بھی بیدار کرتے تھے، جیسا کہ حضرت عائشہؓ کی حدیث میں ہے کہ ’’اور گھر والوں کو بیدار فرماتے‘‘ لہٰذا ہمیں بھی چاہئے کہ عبادت کیلئے ذاتی طور پر تو شب بیداری کااہتمام کریں ہی، اپنے گھر والوں کو بھی بیدار کریں اور اس میں ثواب کی امید کو ملحوظ رکھا جائے۔
*اعتکاف: اخیر عشرہ کا ایک اہم کام ’’اعتکاف‘‘ ہے۔ یہ حکم کے اعتبار سے سنت علی الکفایہ ہے، یعنی محلہ کی پنج وقتہ نماز والی مسجد میں محلہ کے کسی فردنے بھی اعتکاف کرلیا توتمام محلہ والوں کے ذمہ سے ساقط ہوجائے گا۔ بہ صورت دیگر سارے محلہ والے گناہ گارہوں گے۔ رمضان المبارک کے اس اعتکاف کی مدت دس دن ہے، جس کی ابتداء بیس تاریخ کے سورج ڈوبنے کے بعدسے شرو ع ہوتی ہے اورشوال کاچاند نظرآنے تک اس کاوقت چلتارہتاہے۔ اس اعتکاف کے لئے روزہ رکھناشرط ہے۔ اگر غیرروزہ دار اعتکاف کرنا چاہے تویہ درست نہیں۔ رمضان المبارک کے اس دس دن کااعتکاف اللہ کے رسولؐ خود بھی بھی فرمایا کرتے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: رمضان ڈائری (۲۱): ہوٹلوں میں ہجوم دیکھ کر لگا کہ لوگ گھریلو کھانوں سے اکتا گئے
*لیلۃ القدرکی تلاش: رمضان کے اخیرعشرہ کا ایک اہم کام ’’شب قدر‘‘ کی تلاش ہے، یہ عدد کے اعتبارسے ہے تو ایک رات ہے؛ لیکن قدر و قیمت کے اعتبارسے ہزار مہینوں سے افضل ہے، قرآن مجید میں ہے:’’لیلۃ القدرہزارمہینوں سے بہترہے۔‘‘ (القدر:۲) اس ایک رات میں اگرکوئی عبادت کرلیتاہے تواسے ہزار مہینوں کی عبادت کا ثواب ملتاہے، یہ تو’’کم خرچ بالانشین‘‘والا معاملہ ہوا۔ عبادت صرف ایک رات کرنی ہے اور ثواب تراسی سال کاحاصل کرناہے؛ اس لئے اس سے ضرورفائدہ اٹھانے کی کوشش کرنی چاہئے۔
یہ کون سی رات ہے؟ یقینی طورپراس کی تعیین نہیں کی گئی ہے، یہی وجہ ہے کہ اس کی تعیین کے سلسلہ میں علماء کے تقریباً ۴۸؍ اقوال ملتے ہیں۔ (فتح الباری: ۴ /۳۰۹-۳۱۳)۔ تاہم زیادہ تر اہل علم کا خیال ہے کہ اسے رمضان کے اخیرعشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کیا جائے، اللہ کے رسولؐ نے اس کاحکم بھی فرمایاہے؛ چنانچہ ارشاد ہے: ’’اس رات کورمضان المبارک کے اخیرعشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔‘‘(الجمع بین الصحیحین)
*دعا کا خصوصی اہتمام: اخیرعشرہ میں چوں کہ لیلۃ القدر بھی آتی ہے، اس لئے خصوصیت کے ساتھ دعا کرنی چاہئے۔ یوں تو اس رات ہرطرح کی جائز دعائیں کرنے کی گنجائش ہے؛ لیکن اللہ کے رسولؐ نے ایک مختصراورجامع دعا بھی بتائی ہے، وہ دعا یہ ہے: ’’اے اللہ ! بے شک تو معاف کرنے والاہے اور معاف کرنے کو پسند کرتا ہے، مجھے معاف کردے۔‘‘(سنن الترمذی)، لہٰذا ہمیں بھی دعاؤں کا اورخصوصیت کے ساتھ اس دعاء کااہتمام کرناچاہئے جو نہایت جامع دُعا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: حضرت علیؓ کا یومِ شہادت (۲۱؍ رمضان المبارک)
*بسترسے دوررہنا: بلاشبہ رات کواللہ تعالیٰ نے آرام کیلئے بنایاہے؛ لیکن ماہِ رمضان اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ آدمی اپنے آرام کوتج دے اور پوری رات عبادت میں گزارے، بالخصوص اخیر عشرہ میں۔ اللہ کے رسولؐ بھی دوسرے دنوں کے مقابلہ میں اخیرعشرہ میں نہ صرف یہ کہ زیادہ عبادت کرتے تھے؛ بلکہ بسترہی لپیٹ کررکھ دیتے تھے، جیساکہ اس سے قبل کی حدیث میں ذکرہے: ’’جب رمضان کااخیرعشرہ آتاتورسول اللہ ﷺ اپنا بسترلپیٹ لیتے‘‘۔ اس لئے ہمیں بھی چاہئے کہ نبیؐ کریم کے اس معمول کو اختیار کرتے ہوئے اخیر عشرہ کی راحت و آرام کو تج دیں اور زیادہ سے زیادہ عبادت میں مشغول رہیں۔
یہ ہیں وہ چند اعمال، جن کااہتمام اللہ کے رسولؐ رمضان کے اخیرعشرہ میں فرمایا کرتے تھے، لہٰذا آپؐ کا امتی ہونے کے ناتے ہم بھی ان اعمال کاخصوصیت کے ساتھ اہتمام کریں، اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق عطافرمائے، آمین!