رمضان میں لکھنؤ کی گلیاں صرف عبادت کی خوشبو سے ہی نہیں بلکہ محبت، مہمان نوازی اور لذیذ کھانوں کی مہک سے بھی مہکتی رہتی ہیں۔
EPAPER
Updated: March 13, 2026, 4:09 PM IST | Ahsanul Haque | Mumbai
رمضان میں لکھنؤ کی گلیاں صرف عبادت کی خوشبو سے ہی نہیں بلکہ محبت، مہمان نوازی اور لذیذ کھانوں کی مہک سے بھی مہکتی رہتی ہیں۔
رمضان کا آخری عشرہ شروع ہو گیا ہے ۔ پہلا اور دوسرا عشرہ کب ختم ہوا پتہ ہی نہیں چلا۔ زندگی کی اس بھاگ دوڑ میں جیسے وقت میں برکت ہی ختم ہو گئی ہو۔ تمام تر آسانیاں اور سہولتیں ہونے کے باوجود اگر آج کسی کے پاس کوئی چیز نہیں ہے تو وہ ہے وقت۔ اسی بھاگ دوڑ میں ایک دن زندگی ختم ہو جائے گی لیکن وقت کا دریا خاموشی سے بہتا رہے گا۔ تیزی سے وقت گزرنے کی بات پر عثمان بھائی کہنے لگے ...اس بار بیس رمضان اتنی تیزی سے گزر گیا کہ پتہ ہی نہیںچلا۔ لیکن گلی محلے کے بزرگ اور نوجوان رمضان کی بابرکت ساعتوں میں زیادہ سے زیادہ وقت عبادت میں گزار رہے ہیں۔ افطار سے قبل گلیوںمیں اِدھر اُدھر گھومنے والے نوجوانوں کے ہاتھوں میں تسبیح ہے اور زبان پر ذکر خدا ہے۔ اِس وقت طلبہ کے امتحان چل رہے ہیں اور کچھ کے مکمل ہوچکے ہیں۔ جو طلبہ امتحان کے بوجھ سے فارغ ہو گئے ہیں وہ اب یکسوئی سے عبادت میں مصروف ہیں اور جن کا امتحان چل رہا ہے وہ بھی پڑھائی کے مصروف ترین اوقات میں سے عبادت کیلئے وقت نکال ہی لے رہے ہیں، یہ بہت اچھا رجحان ہے۔
یہ بھی پڑھئے: رمضان ڈائری (۲۱): ہوٹلوں میں ہجوم دیکھ کر لگا کہ لوگ گھریلو کھانوں سے اکتا گئے
یہ تو ہوئی گلی محلوں کی بات، بازاروں اور ہوٹلوں کا معاملہ مختلف ہے۔ ماہ مبارک میں ہر سال ایسا ہی ہوتا ہے۔ شہر کی فضا یکسر تبدیل ہوجاتی ہے۔ بازار اور گلیاں خوشبوئوں اور ذائقوں سے مہکنے لگتی ہیں۔ فجر کے بعد شہر کی فضا پر ایک پرسکون خاموشی رہتی ہے مگر شام ڈھلنے کے ساتھ اور افطارکا وقت قریب آتے ہی شہر کی رونق قابل دید ہوتی ہے۔ شہر کےپرانےعلاقوں کے ساتھ ہی نئے علاقے بھی رمضانی قبا اوڑھ لیتے ہیں۔ یہاں کھلنے والے نئے ہوٹلوں سے اُٹھنے والی کھانوں کی خوشبو ہر آنے جانے والے کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ چوک اور امین آباد کی گلیوں کی طرح خرم نگر کا علاقہ بھی کم دلکش نظر نہیں ہے جہاں دہلی کے کئی مشہور ہوٹل کھل گئے ہیں۔ نوجوانوں کی بڑی تعداد اب چوک اور نخاس کے ہوٹلوں کا رُخ نہ کرکے قریبی علاقوں میں لذت کام و دہن سے لطف اندوز ہو رہی ہے۔ بڑے ہوٹلوں کے ساتھ یہاں کھجوریں ، فروٹ چاٹ ، دہی بڑے ، سموسے اور حلیم کے چھوٹے چھوٹے اسٹال سجے ہیں۔
گزشتہ چند برسوں میں پرانے لکھنؤ کے علاوہ مضافات میں بھی کھانے پینے کا اچھا انتظام ہوا ہے۔ ویسے شہر کے مسلم محلوں میں ہوٹل کے کاروبار میں بڑی ترقی ہوئی ہے۔ رمضان میں کئی عارضی ہوٹل بھی کھل جاتے ہیں۔ نئے ہوٹلوں میں روایتی لکھنوی پکوانوں کے ساتھ دہلی کا ذائقہ بھی پیش کیا جارہا ہے۔بلی ّ ماران کی نہاری اور زعفران کا سیخ کباب خاصا مقبول ہے۔ ان ہوٹلوں کا ذائقہ ایک طرف لیکن رحیم و مبین کی نہاری، ٹنڈےکے کباب اور ادریس کی بریانی کی مانگ میں کوئی کمی نہیں ہے۔ پرانے شہر کے راجہ بازار میں اچھے بھائی کی نہاری کا ذائقہ سب سے مختلف ہے۔ یہاں کلچے کی جگہ نہاری کے ساتھ ’گِردا‘ دیا جاتا ہے۔ (گِردا کلچے کی طرح کی ہی ایک خاص قسم کی روٹی ہے، بار ہ بنکی میں اسے مٹی کے تندور میں تیار کیا جاتا ہے)۔ اُس روز وہاں کاکوری سے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اچھے بھائی کا ہوٹل تلاش کرتی ہوئی پہنچی تھی۔ پرانے لکھنؤ میں دور دراز سے شاپنگ کرنے والوں کیلئے دکانوں اور ہوٹلوں پر بھی افطاری کا انتظام کیا جاتا ہے۔ کچھ لوگ مسجدوں کا بھی رُخ کرتے ہیں۔ ڈالی باغ کی مسجد میں رمضان کے پورے ماہ اجتماعی افطا ر کا اہتمام رہتا ہے بالخصوص لکھنؤ میں رہ کر تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کیلئے ۔
یہ بھی پڑھئے: رمضان ڈائری (۲۰): بڑا قبرستان شہرِ خموشاں نہیں جہانِ روحانی کی طرح آباد لگتا ہے
بڑے امام باڑے سے چھوٹے امام باڑے تک تقریباً آدھا کلو میٹر کے دائرے میں کھانے پینے کے خاص انتظامات ہیں۔ یہاں تراویح کے بعد ایرانی دَم ٹی اور کشمیری چائے کی خوشبو دور تک پھیل جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس رمضان میں شہر کے مختلف علاقوں میں گُڑ کی چائے بھی مقبول ہو رہی ہے۔ جی ہاں... ’شیونیری چہا‘ یہ مہاراشٹر کا برانڈ ہے ۔ اس وقت لکھنؤ کے لال باغ، منشی پُلیا، علی گنج اور خرم نگر کے علاوہ کئی مقامات پر اس کے ٹی اسٹال ہیں ۔ سوندھی خوشبو کے ساتھ یہ چائے نوجوان پسند کررہے ہیں۔
سچ پوچھئے تو ماہ مبارک میں شہر نگاراں کہلانے والا لکھنؤ ایک ایسی تصویر پیش کرتا ہے جس میں روحانیت بھی ہے، ثقافت بھی ہے اور ذائقوں کی بہار بھی۔ پرانے بازاروں کی روایت، مساجد کی رونق اور نئے ہوٹلوں کے دلکش ذائقے مل کر اس شہر کو ایک منفرد رنگ عطا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رمضان میں لکھنؤ کی گلیاں صرف عبادت کی خوشبو سے ہی نہیں بلکہ محبت، مہمان نوازی اور لذیذ کھانوں کی مہک سے بھی مہکتی رہتی ہیں، مسکرائیے کہ آپ لکھنؤ میں ہیں!