کیا پھر کسی کو پھر کسی کا امتحان مقصود ہے

Updated: August 01, 2020, 9:07 AM IST | Umme Musfirah Mubasshir Khot | Mumbai

ذبح کرتے وقت ابراہیم علیہ السلام کے قلب سلیم میں تنکے جتنا بھی خیال نہیں آیا کہ جگر کے ٹکرے سے دوبارہ ملاقات ہونی ہے۔ ان کے یقین کامل ، عمل پیہم پر خدائی بھی فدا ہوئی اسماعیل علیہ السلام زندہ تو رہے، نبی بھی بنے۔ ابراہیم علیہ السلام ایک بیٹے کے والد تھے، دو کی خوشخبری ملی اور ابو الانبیاء بھی بنے۔

For Representation Purpose Only. Photo INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

بروز پیر صبح ۱۱؍ بجے ہماری بیٹی کھیلتے کھیلتے اچانک بے ہوش ہو گئی۔ جب میں نےاس کے چہرے پہ پانی ڈالا تو اس کے منہ سے خون نکلا۔ میں اسے اس کے دادی جان کےسپرد کرکے ضروری چیزیں لانے سیڑھیوں سے کمرے میں گئی ۔ موبائل، بیگ اور دوائیاں نظر نہیں آ رہے تھے۔ مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا ۔مامتا اس کی طرف بلا رہی تھی اور عقل کمرے میں کھینچ لائی تھی۔کشمکش کی دھند میں سب کچھ چھپ چکا تھا۔ بےلوث محبت اس کی طرف لے گئی۔ میری ہنستی کھیلتی بیٹیا رانی زندگی سے مجھے ذرا دورلگی۔ شفقت سے سرشار دل بجھنے لگا۔ ذہن نے پھر سعی کیلئے اکسایا۔ امید کی طاقت نے نہ جانے کتنے چکر اوپر نیچے کروائے۔ اسے اسپتال ایمرجنسی کیلئے لے جایا گیا۔اسے رخصت کرتے ہوئے آنکھوں سے آنسوؤں کی قطار جھانکی کہ یہ دائمی جدائی تو نہیں ۔ دل خوب دھڑکا، میں خوب کانپی۔
 ان ساری سنسنیوں میں مجھے بارہا ابراہیم علیہ السلام کی یاد آئی۔ ضمیر سوال اٹھا تا رہا کہ ابراہیم علیہ السلام سے کس طرح بن پڑا ہوگا؟ اتنے برسوں کے انتظار کے بعد دعاؤں اور امیدوں کے بعد فرزند نصیب ہوا تھا۔ انہوں نے صرف اور صرف دین کی خاطر ہی اپنی نسل تو چاہی تھی اور اللہ کا حکم بھی ان کی اسی قیمتی امل کے معاملے میں ہی تھا۔ انہوں نے اللہ کی بارگاہ میں سوال تک نہ اٹھایا۔’’یا اللہ میں نے تو اسے اقامت دین کیلئے مانگا تھا۔میری محبت تو اس سے تیرے ہی لئے تھی، پھر میں اسے کیسے قربان کروں ؟‘‘ اور سچ بھی یہی ہے۔ ابراہیم علیہ السلام کے پاس کوئی محلات اور علاقوں کی جاگیریں نہ تھیں کہ وہ فکر کرتے تھے کہ میرے بعد جائیداد کا وارث کون ہوگا۔ انبیاء کی اصل میراث تو آسمانی علم ہے۔ بس اسی کی وراثت کا خواب لئے اسماعیل علیہ السلام کی محبت پروان چڑھ رہی تھی۔
 پہلے پہل تو اسماعیل علیہ السلام اور ہاجرہ علیہ السلام کو صحرا میں تنہا چھوڑ آئے۔ مدتوں بعد ملے اور جب بچہ دوڑ بھاگ کی عمر کو پہنچ گیا اور جب والد کی آنکھیں امید سے چمک رہی تھی، تب خداوند کریم آزما نا چاہتا ہے ۔ کیا اس وقت پدرانہ شفقت ذرا بھی نا کانپی ہوگی جب انہوں نے اپنے لخت جگر کو زمین پر لٹایا ہوگا؟ کیا اس وقت ایک بوڑھے باپ کے جذبات نہ گھبرائے ہوں گے جب انہوں نے چھری چلا ئی ہوگی؟ یہ کس طرح کے عشق حقیقی کی معراج تھی کہ انھوں نے اپنے عمل میں رکاوٹ سے بچنے کیلئے آنکھوں پر پٹی باندھ لی! یہ کس طرح کے ایمان کی حلاوت تھی کہ بندہ دنیا وما فیہا سے بے نیاز ہے۔
  ہزاروں بار قصہ ابراہیم علیہ السلام زیر نظر رہا، زیر اذن، زیر لب رہا اور زیر قلم رہا مگر جب جگر کے ٹکڑے کو نازک حالت میں دیکھا..... تو زبان پکار اٹھی:سلاما علی ابراہیم! سلاما علی ابراہیم! ہم تو ان کے پیراہن کے نشان کے پیچھے نماز پرھنے والوں میں شمار ہوتے ہیں ،ہمارا کہاں ایسا امتحان اور کہاں ایسا ایمان ؟ہاں لیکن قرآن کہتا ہے’ اولاد فتنہ ہےآزمائش ہے‘ اور جب ہم روزانہ سورہ فاتحہ میں دعا کرتے ہیں کہ’اللہ ہمیں ان لوگوں کے راستے پر چلا جن پر تو نے انعام نازل کیا ‘۔ قرآن بالخصوص ابراہیم علیہ السلام کی زندگی کو اسوہ کے طورپہ پیش کرتا ہے۔
 اب مجھے بھی اسپتال لے جایا جا رہا تھا ۔ راستے میں ضمیر ان کی سیرت سے سبق دے رہا تھا ۔ پوچھتا تھا کہ زندگی اور موت کس کے ہاتھ میں ہے؟ جواب رہا اللہ کے ۔ کہنے لگا کہ اس سے اچھی امید رکھنا۔ ذبح کرتے وقت ابراہیم علیہ السلام کے قلب سلیم میں تنکے کی جتنا بھی خیال نہیں آیا کہ جگر کے ٹکرے سے دوبارہ ملاقات ہونی ہے۔ ان کے یقین کامل، عمل پیہم پر خدائی بھی فدا ہوئی اسماعیل علیہ السلام زندہ تو رہے، نبی بھی بنے۔ ابراہیم علیہ السلام ایک بیٹے کے والد تھے، دو کی خوشخبری ملی اور ابو الانبیاء بھی بنے۔ آزمائش میں کامیابی اسلئے ملی کہ وہ اس کے مقصد کو پا گئے۔ ساری محبتوں اور جذبات کو پیچھے چھوڑ کر خالص حنیفائی اختیار کی ۔ وہ قلب منیب ہی تھا جو زندگی بھر اللہ کی طرف رجوع ہوتا رہا اور رب العزت کی ذات کو وہ مقام دیا کہ دنیا کی عزیز ترین شئے بھی اس اعلیٰ پائے کی محبت و اطاعت میں درمیان میں نہ آسکی۔ خلیل اللہ کا اعزاز بھلا یوں ہی کیوں ملتا؟ ضمیر نے سرگوشی کی اللہ کی رضا میں ہی بھلائی ہے۔ بے قرار دل کو قرار آیا۔ان سب میں کب اس کی آنکھوں سے میری آنکھیں ٹکرائیں ، پتا بھی نہیں چلا۔ وہ خاموش سی نگاہیں اس کی مماکی تلاش میں تھیں اور یہ اشکبار نگاہیں مطمئن و شکرگزار ۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK