• Mon, 12 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

وندے ماترم کا مسئلہ عقلی بنیادوں پر حل کیا جاسکتا ہے

Updated: December 12, 2025, 4:18 PM IST | Mudassir Ahmad Qasmi | Mumbai

اسلام نے احترامِ مذاہب کے اس تصور کو نہایت واضح، منصفانہ اور اصولی انداز میں بیان کیا ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اور اے ایمان والو، تم ان معبودوں کو برا نہ کہو جنہیں یہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں۔‘‘ یہ حکم اس وجہ سے ہے تاکہ باہمی احترام باقی رہے اور دلوں میں دشمنی پیدا نہ ہو۔

Picture: INN
تصویر:آئی این این
اس دنیا میں کوئی شخص کسی خاص مذہب کا پیروکار ہوتا ہے اور کوئی خود کو کسی بھی مذہبی نظام سے وابستہ نہیں سمجھتا۔ اس اختلاف کے باوجود ایک بنیادی قدر سب کو ایک رشتۂ انسانیت میں جوڑتی ہے اور وہ ہے احترامِ مذاہب۔ اس لئے کسی کے مذہبی رجحان، اس کی عبادات، اس کے عقائد اور اس کے روحانی راستے کا  احترام کرنا اور اس میں مخل نہ ہونا انسان کے اپنے شعور اور ظرف کی وسعت اور داخلی پختگی کی دلیل ہے۔
مزید یہ کہ جب انسان وسیع تناظر میں مشترکہ معاشرے کودیکھتا ہے تو وہ یہ حقیقت پاتا ہے کہ ہر مذہب اپنے ماننے والوں کے لئے خیر، امن اور اخلاق کا سرچشمہ ہوتا ہے۔ اسی طرح، جو لوگ کسی مذہب سے وابستہ نہیں ہوتے وہ بھی انسانی وقار، آزادیٔ فکر اور باہمی احترام کو بنیادی اقدار مانتے ہیں۔ چنانچہ ایک باشعور انسان، چاہے مذہب کا پیروکار ہو یا نہ ہو، یہ سمجھتا ہے کہ مذاہب کی توہین کرنا دراصل انسانی شرافت اور فہم ِ مشترک کی نفی ہے۔ اس لحاظ سے تمام مذاہب کی قدر و عزت کرنا محض سماجی ضرورت نہیں بلکہ عقل اور منطق دونوں کا تقاضا ہے اور اعلیٰ انسانی تہذیب کا روشن ترین عنوان بھی۔
اس تمہید کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ جب ایک باشعور انسان دوسرے مذاہب کا احترام کرتا ہے تو وہ ان مذاہب کے عقائد، نظریات یا عبادات کو بھی لازماً درست مانتا ہے یا ان کی پیروی اختیار کرتا ہے۔ احترام کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ انسان اختلاف کے باوجود دوسرے کے حقِ عقیدہ اور حقِ فکر کو تسلیم کرے، نہ کہ اس کے نظریات کو اپنا سمجھ کر قبول کرے۔ اس طرح ایک مسلمان، ہندو، سکھ،عیسائی یا لا مذہب شخص اپنے اپنے نظریاتی نظام پر قائم رہتے ہوئے بھی دوسروں کے راستے کو عزت دے سکتا ہے۔ اس طرح کا احترام فکری ہم آہنگی نہیں بلکہ اخلاقی وسعت اور تہذیبی شائستگی کی علامت ہوتی ہے۔ یہی وہ بالغانہ رویہ ہے جس سے معاشرے میں امن، برداشت اور باہمی احترام کی بنیاد مستحکم ہوتی ہے۔
اسلام نے احترامِ مذاہب کے اس تصور کو نہایت واضح، منصفانہ اور اصولی انداز میں بیان کیا ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اور اے ایمان والو، تم ان معبودوں کو برا نہ کہو جنہیں یہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں۔‘‘ (الانعام:۱۰۸) یہ حکم اس وجہ سے ہے تاکہ باہمی احترام باقی رہے اور دلوں میں دشمنی پیدا نہ ہو۔ اسی طرح قرآن کا یہ اصولی اعلان کہ: ’’تمہارے لئے تمہارا دین اور میرے لئے میرا دین‘‘ (الکافرون:۶) اس بات کا مظہر ہے کہ اسلام اختلافِ عقیدہ کے باوجود دوسروں کے مذہبی اختیار کو تسلیم کرتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت بھی اسی اخلاقی تعلیم کی روشن مثال ہے؛ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں مختلف مذاہب کے لوگوں کے ساتھ عدل، خیرخواہی اور احترام کا معاملہ کیا اور یہاں تک فرمایا کہ:’’جس نے کسی غیر مسلم (ذمی) کو تکلیف دی اس نے مجھے تکلیف دی۔‘‘ (نسائی) ان نصوص سے صاف ظاہر ہے کہ اسلام نے احترامِ مذاہب کو نہ صرف اخلاقی ذمہ داری قرار دیا ہے بلکہ اسے سماجی امن اور انسانی شرافت کی بنیادی شرط بھی بتایا ہے۔
اس تناظر میں ہندوستان میں ’’وندے ماترم‘‘ پڑھنے کے مسئلے کو سمجھنا بہت آسان ہے۔ یہ نظم اپنے ادبی اور تاریخی پس منظر کے باوجود ایک واضح مذہبی پہلو بھی رکھتی ہے، کیونکہ اس میں وطن کو دیوی کے مرتبے تک بلند کر کے اس کے سامنے جھکنے اور عقیدت کا اظہار کرنے کا تصور موجود ہے۔ جن مذاہب میں ایسے عقائد پہلے سے موجود ہیں، ان کے ماننے والوں کے لئے اس نظم کو پڑھنا کوئی تضاد پیدا نہیں کرتا، کیونکہ یہ ان کے مذہبی نظریے کا حصہ ہے لیکن مسلمان، جو صرف ایک خدا کو معبود مانتے ہیں اور عبادت، سجدہ اور تعظیم ِ  الوہیت کو صرف اللہ کے لئے خاص رکھتے ہیں، وہ اس نظم کو مذہبی بنیادوں پر نہیں پڑھ سکتے۔ اس سے نہ ملک سے محبت میں کمی آتی ہے اور نہ قومی وفاداری پر کوئی اثر پڑتا ہے، بلکہ یہ صرف اس بات کا اظہار ہے کہ ہر قوم اپنی مذہبی حدود کے اندر رہتے ہوئے ہی کسی چیز کی عقیدت اور عبادت کا تعین کرتی ہے۔ یہی اصولی اور عقلی بنیاد ہے جس سے یہ معاملہ آسانی سے سمجھ میں آجاتا ہے۔
اس مسئلے کو ایک اور مثال سے بہت آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے کہ اگر کسی مسلمان کو وندے ماترم پڑھنے پر مجبور کیا جائے تو یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کسی غیر مسلم پر کلمہ پڑھنے کیلئے جبر کیا جائے۔ دونوں صورتوں میں ایک شخص کو اس کے عقیدے کے خلاف کوئی ایسا عمل کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے جو اس کے مذہبی اصولوں سے ٹکراتا ہے۔ اسلام اس طرح کی زبردستی کو ہرگز جائز نہیں سمجھتا، بلکہ قرآن مجید نے صاف طور پر یہ اصول بیان کیا ہے کہ دین کے معاملے میں کوئی زور زبردستی نہیں ہے۔
چونکہ ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے، اس لئے دستورِ ہند کی رو سے ریاست کسی بھی مخصوص مذہب کے عقیدے یا مذہبی علامت کو تمام شہریوں پر مسلط نہیں کر سکتی۔ آئین میں دی گئی مذہبی آزادی کا بنیادی اصول یہ ہے کہ ہر شخص کو اپنے مذہب پر چلنے، اس کے خلاف کسی عمل سے بچنے، اور اپنے عقیدے کے مطابق زندگی گزارنے کا پورا حق حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دستورِ ہند کے سیکولر ڈھانچے میں کسی ایسی چیز کو لازمی قرار دینا جو کسی خاص مذہب کے عقیدے سے جڑی ہو، اصولی طور پر درست نہیں سمجھا جاتا۔ اس تصور کا تقاضا یہ ہے کہ ریاست تمام مذاہب کے ماننے والوں کو برابر تحفظ فراہم کرے اور کسی کو بھی ایسی عبادت، نعرہ یا عقیدت کے اظہار پر مجبور نہ کرے جو اس کے مذہبی اصولوں سے متصادم ہو۔ یہی دستوری اور اخلاقی اساس اس پورے معاملے کو واضح اور منصفانہ انداز میں سمجھا  دیتی ہے۔
اس پس منظر میں جو افراد مسلمانوں کو وندے ماترم پڑھنے پر مجبور کرنے کی بات کرتے ہیں، وہ نہ صرف اخلاقی طور پر غلط رویہ اختیار کرتے ہیں بلکہ دستوری اعتبار سے بھی غلطی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ لہٰذا اس نظم کو زبردستی پڑھوانے کی کوشش کرنا دراصل سیکولر بھارت کے آئینی ڈھانچے کے خلاف اقدام ہےاور اصولی و قانونی طور پر ایسا رویہ قابلِ گرفت اور دستوری دائرے میں جرم کے مترادف ہے۔اسی لئے مسلمانوں کو چاہئے کہ اس مسئلے کو عقلی، دستوری اور اخلاقی بنیادوں پر برادرانِ وطن کو سمجھائیں۔ جب گفتگو دلیل، شائستگی اور احترام کے ساتھ کی جائے گی تو دلوں میں نرمی پیدا ہوگی اور غلط فہمیاں ازخود دور ہو تی جائینگی۔ اس طرز عمل سے یہ امید کی جا سکتی ہے کہ ملک کا ایک بڑا انصاف پسند طبقہ مسلمانوں کے مؤقف کو سمجھے گا اور ان کی حمایت میں آواز بھی اُٹھائے گا۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق باہمی احترام اور دلیل پر مبنی مکالمہ نہ صرف مذہبی ہم آہنگی کو مضبوط کرے گا بلکہ ہندوستان کو حقیقی معنوں میں ترقی، اتحاد اور امن کی راہ پر بھی آگے بڑھائے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK