انسان کی زندگی صرف مادی ضروریات کا مجموعہ نہیں، بلکہ احساسات، تعلقات اور باہمی اعتماد کا ایک حسین امتزاج بھی ہے۔ انسان جتنا روٹی، کپڑے اور مکان کا محتاج ہے، اتنا ہی محبت، توجہ اور خلوص کا بھی محتاج ہے۔
EPAPER
Updated: July 10, 2026, 1:18 PM IST | Muhammad Tauqeer Rahmani | Mumbai
انسان کی زندگی صرف مادی ضروریات کا مجموعہ نہیں، بلکہ احساسات، تعلقات اور باہمی اعتماد کا ایک حسین امتزاج بھی ہے۔ انسان جتنا روٹی، کپڑے اور مکان کا محتاج ہے، اتنا ہی محبت، توجہ اور خلوص کا بھی محتاج ہے۔
انسان کی زندگی صرف مادی ضروریات کا مجموعہ نہیں، بلکہ احساسات، تعلقات اور باہمی اعتماد کا ایک حسین امتزاج بھی ہے۔ انسان جتنا روٹی، کپڑے اور مکان کا محتاج ہے، اتنا ہی محبت، توجہ اور خلوص کا بھی محتاج ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی بے شمار آسائشیں بھی اس شخص کو حقیقی سکون نہیں دے سکتیں جس کے دل میں اپنائیت کا احساس ختم ہو چکا ہو۔ دوسری طرف، ایک معمولی سا اظہارِ محبت بھی ایسے دل کو زندگی کی نئی حرارت بخش دیتا ہے جو بے توجہی کا شکار ہو۔ تحفہ اسی اظہارِ محبت کا ایک خاموش مگر نہایت مؤثر ذریعہ ہے، جو بغیر کسی شور کے دلوں میں جگہ بنا لیتا ہے۔ تحفہ بظاہر ایک چیز کا لین دین ہے، لیکن حقیقت میں یہ احساسات کا تبادلہ ہے۔ اس کی اصل قدر اس کی قیمت میں نہیں بلکہ اس خلوص میں پوشیدہ ہوتی ہے جس کے ساتھ اسے پیش کیا جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص کسی عزیز کو ایک معمولی سی چیز بھی محبت سے پیش کرے تو وہ برسوں تک یاد رہتی ہے، جبکہ بعض اوقات قیمتی تحائف بھی دل پر کوئی نقش نہیں چھوڑتے جس کی وجہ سوائے اس کے اور کچھ نہیں ہوسکتی کہ ان کے پیچھے اخلاص کے بجائے رسم، مصلحت یا دکھاوا کارفرما ہوتا ہے۔ انسان کی فطرت چیزوں سے زیادہ جذبات کو محفوظ رکھتی ہے، اسی لئے تحفہ دل تک پہنچنے والی وہ زبان ہے جسے ہر انسان بلا ترجمان سمجھ لیتا ہے۔
زندگی میں بہت سے تعلقات کسی بڑے اختلاف سے نہیں بلکہ چھوٹی چھوٹی غلط فہمیوں، بے توجہیوں اور انا کی ٹکر سے کمزور ہو جاتے ہیں۔ ابتداء میں جو بات معمولی محسوس ہوتی ہے، وہ اگر وقت پر ختم نہ کی جائے تو دل میں گرہ بن جاتی ہے، پھر یہی گرہ شکوے میں، شکوہ ناراضی میں اور ناراضی نفرت میں بدل جاتی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جن تعلقات کو برسوں کی رفاقت قائم کرتی ہے، وہ کبھی کبھی چند لمحوں کی غلط فہمی سے بکھر جاتے ہیں۔ ایسے مواقع پر تحفہ صرف ایک چیز نہیں رہتا بلکہ وہ صلح کی خاموش دعوت بن جاتا ہے۔ وہ زبان سے معذرت نہیں کرتا، مگر اپنے عمل سے دل کے دروازے پر دستک دیتا ہے۔ جب دل نرم ہو جائے تو وہ فاصلے بھی سمٹنے لگتے ہیں جنہیں الفاظ کم نہیں کر پاتے۔ اس حقیقت کو روزمرہ زندگی میں بارہا دیکھا جا سکتا ہے۔ اگر دو بھائی کسی معمولی بات پر ناراض ہو جائیں اور ان میں سے ایک عید یا کسی خوشی کے موقع پر دوسرے کے لئے ایک معمولی سا تحفہ لے جائے تو اکثر وہ تحفہ ایسی گفتگو کا آغاز بن جاتا ہے جس سے برسوں کی دوری چند لمحوں میں ختم ہو جاتی ہے۔ اسی طرح ایک شاگرد اگر برسوں بعد اپنے استاد کے پاس صرف ایک کتاب یا قلم بطورِ تحفہ لے کر جائے تو استاد اس چیز سے زیادہ اس جذبے کی قدر کرتا ہے جس نے شاگرد کو اس کے دروازے تک پہنچایا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان چیزوں سے زیادہ اخلاص کا محتاج ہے۔
اسلام نے اسی انسانی نفسیات کو سامنے رکھتے ہوئے تحائف کے تبادلے کی ترغیب دی ہے، کیونکہ یہ عمل محبت کو بڑھاتا اور دلوں کو قریب کرتا ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں لوگ ایک دوسرے کو صرف ضرورت کے وقت یاد کریں، وہاں تعلقات آہستہ آہستہ مفاد کا روپ اختیار کر لیتے ہیں۔ لیکن جہاں لوگ کسی غرض کے بغیر ایک دوسرے کو خوش کرنے کی کوشش کریں، وہاں اعتماد پیدا ہوتا ہے، بھائی چارہ مضبوط ہوتا ہے اور انسانیت کو فروغ ملتا ہے۔
البتہ تحفہ دینے سے زیادہ اہم تحفہ قبول کرنے کا اخلاق ہے۔ ہر شخص یکساں حیثیت نہیں رکھتا۔ کسی کے پاس قیمتی تحفہ دینے کی استطاعت ہوتی ہے اور کوئی معمولی چیز بھی بڑی مشکل سے خرید پاتا ہے۔ اگر ہم تحفے کی قیمت کو دیکھ کر دینے والے کی محبت کا اندازہ لگائیں گے تو دراصل ہم اس کے خلوص کی توہین کرینگے۔ اس لئے اگر کوئی تحفہ ہماری پسند کے مطابق نہ بھی ہو تو اپنی ناگواری ظاہر کرنے کے بجائے اسے خوش دلی سے قبول کرنا چاہئے۔
اسلامی تعلیمات یہ بھی سکھاتی ہیں کہ اگر استطاعت ہو تو تحفے کا جواب تحفے سے دیا جائے۔ اس کا مقصد کسی احسان کا بدلہ چکانا نہیں بلکہ محبت کے اس خوبصورت سلسلے کو جاری رکھنا ہے۔ جب دینے اور لینے کا یہ عمل اخلاص کے ساتھ جاری رہتا ہے تو تعلقات میں برابری، اعتماد اور باہمی احترام پیدا ہوتا ہے۔ اگر معاشرے میں تحفے کی اس حقیقی روح کو زندہ کر دیا گیا تو بہت سے اختلافات، حسد، بدگمانی اور رنجش خود بخود کم ہونے لگے گی۔ ہر بیماری دوا سے ختم نہیں ہوتی، بعض زخم محبت سے بھی بھر جاتے ہیں، اور ہر بند دروازہ طاقت سے نہیں کھلتا، کچھ دروازے خلوص کی ایک دستک بھی کھول دیتی ہے۔ تحفہ ایسی ہی ایک مخلصانہ دستک ہے جس کو رواج دینا چاہئے۔