اکثر دیکھا گیا ہے کہ عدالتوں سے بَری ہونے کے بعد بھی ہمارا سماج اُن افراد کو پہلے کی طرح قبول نہیں کرتا، حالانکہ ناکردہ گناہوں کی سزا بھگتنے کی وجہ سے وہ پہلے سے کہیں زیادہ عزت کا حقدار ہوتا ہے، اس پرغور کرنے کی ضر ورت ہے
EPAPER
Updated: March 14, 2021, 7:55 PM IST
|
Sunday Desk
اکثر دیکھا گیا ہے کہ عدالتوں سے بَری ہونے کے بعد بھی ہمارا سماج اُن افراد کو پہلے کی طرح قبول نہیں کرتا، حالانکہ ناکردہ گناہوں کی سزا بھگتنے کی وجہ سے وہ پہلے سے کہیں زیادہ عزت کا حقدار ہوتا ہے، اس پرغور کرنے کی ضر ورت ہے
ابھی گزشتہ دنوں ایک معاملے میں ماخوذ کئے گئے ۱۲۷؍ افراد ۲۰؍ سال کی طویل عدالتی سماعت کے بعد باعزت بری کئے گئے۔ ۲؍ عشرے تک چلنے والی مسلسل سماعتوں کے بعد عدالت نے پایا کہ ان کے خلاف عائد تمام الزامات بے بنیاد ہیں۔ ان ۱۲۷؍ میں سے بیشتر اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں، جن میں سے بعض پروفیسر، ڈاکٹر، انجینئر، مصنف اور صحافی ہیں۔ ۶؍ مارچ ۲۰۲۱ء کو سورت کےچیف جوڈیشیل مجسٹریٹ اے این دوے کی عدالت نے مقدمے کو انجام تک پہنچاتے ہوئے جب یہ کہا کہ ’’ سورت پولیس اور استغاثہ نے ان افراد کے خلاف سنگین ترین دفعات عائد کی تھیں لیکن وہ اتنے طویل عرصے میں ایک بھی ایسا ثبوت نہیں پیش کرسکے کہ جسے قابل اعتباراور اطمینان بخش قرار دیا جا سکے‘‘ تو اس فیصلے کو سننے اور اپنے دامن پر لگے داغ کو مٹتا ہوا دیکھنے کیلئے ۵؍افراد اِس دنیا میں نہیں رہ گئے تھے۔ فیصلہ صادر کرتے وقت عدالت نے پولیس کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے مزید کہا کہ ’’ ان تمام پر جس طرح سے یو اے پی اے کا اطلاق کیا گیا ہے، وہ تو اور بھی ناقابل قبول ہے کیوں کہ ان میں سے کوئی بھی منظم مجرمانہ سرگرمیوں میں شامل نہیں رہا ہے اور نہ ا ن کا کوئی ریکارڈ موجود ہے۔ پھر پولیس نے کیوں کر اتنی سخت دفعات ان پر عائد کردیں؟‘‘ عدالتوں پر بڑھتا بوجھ
ان ۲۰؍ برسوں میں، جس میں ایک نسل جوان ہوجاتی ہے، ان تمام پر کیا گزری ہوگی؟ ہم آپ ٹھیک سے اندازہ بھی نہیں کرسکتے۔اس دوران انہیں شدید ذہنی اذیت سے دوچار ہونا پڑا ہوگا، ان میں سے کئی کا روزگار چھن گیا ہوگا، کئی ایسے بھی ہوںگے جن پر الزام لگنے کے بعد ان کے اپنوں اور بیگانوں نے منہ موڑ لیا ہوگا اور ان کے گھر والوں کو سماجی بائیکاٹ جیسی صورتحال کا سامنا بھی کرنا پڑا ہوگا۔
وطن عزیز کا یہ کوئی پہلا اور انوکھا واقعہ نہیں ہے۔۶؍ دسمبر ۱۹۹۲ء کے بعد ملک میں اس طرح کے بہت سارے واقعات رونما ہوئے، جن میں مسلم نوجوانوں کوسنگین الزامات کے تحت ماخوذ کیاگیا،انہیں جیل میں ڈالا گیا، ان کیلئے ضمانت کی راہیں مسدود کی گئیں، ان کے اہل خانہ کو سماجی بائیکاٹ اور معاشی پریشانیوں کا شکار ہونا پڑا، ان کا ساتھ دینے والوں کو معتوب ٹھہرایا گیااور اس بہانے پوری کمیونٹی کو احساس جرم میں مبتلا کرنے کی کوشش کی گئی اور یہ تک کہاگیا کہ سارے مسلم دہشت گرد نہیں لیکن سارے دہشت گردمسلمان ہی ہیں۔ ان تمام ناپاک کوششوں کے باوجود ہوا یہ کہ۱۰؍ سال، ۱۵؍ سال اور ۲۰؍ سال بعد ہی سہی سنگین معاملات میں ماخوذ مسلم نوجوانوں کی اکثریت بے داغ اور بے قصور قرار پائی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟مقدمات کے فیصل ہونے میں اتنی تاخیر کیوں ہوتی ہے؟ ناکردہ گناہوں کی سزا کاٹتے وقت اُن پر اور ان کے اہل خانہ پر جو گزرتی ہے کیا سماج انہیں محسوس کرتا ہے؟ اور پھر جب یہ باعزت بری ہوکر واپس آتے ہیں تو سماج کیا انہیں قبول کرتا ہے؟ یہ چند ایسے سوالات ہیں جن پر ہم سب کو غور کرنا ہوگا کیونکہ یہ پہلے سے زیادہ عزت کے حقدار ہوتے ہیں۔
برطانوی سیاست داں اور دانشور ’ولیم ایورٹ گلیڈ اسٹون‘ کے حوالے سے ایک بہت مشہور قول دہرایا جاتا ہےکہ ’’جسٹس ڈیلیڈ از جسٹس ڈینائیڈ‘‘ یعنی ’’انصاف میں تاخیر دراصل انصاف سے انکار ہے۔‘‘ افسوس کی بات ہے کہ ہمارے یہاں انصاف میں تاخیرایک معمول بن کر رہ گیا ہے۔اس کی بڑی وجہ عدالتوں پر بہت زیادہ بوجھ کا ہونا ہے۔ ’بلومبرگ کوئنٹ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق وطن عزیز میں ڈسٹرکٹ اور مجسٹریٹ کورٹ سے لے کر سپریم کورٹ تک کم و بیش ۴؍ کروڑ مقدمات زیر سماعت ہیں ۔ ان میں سے کئی معاملات ا یسے ہیں جو کئی دہائی پرانے ہیں۔ ’منسٹری آف لا اینڈ جسٹس‘ نے یکم فروری ۲۰۲۰ء کو اپنے ایک تحریری جواب سے پارلیمنٹ کو مطلع کیا تھا کہ اس وقت ملک بھر میں ۳؍ کروڑ ۶۵؍ لاکھ معاملات زیر التوا ہیں۔ عدالتوں پر یہ بوجھ کس تیزی کے ساتھ بڑھتا جارہا ہے،اس کا اندازہ اس اعداد وشمار سے لگایا جاسکتا ہے جو وزیرقانون روی شنکر پرساد نے دسمبر ۲۰۱۹ء میں پارلیمنٹ میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں دیا تھا۔ انہوں نے بتایا تھا کہ ’’اس وقت ملک کی مختلف عدالتوں میں ۳؍کروڑ ۱۴؍ لاکھ معاملات زیرا لتوا ہیں۔‘‘ مطلب یہ کہ دوماہ میں زیر التوا مقدمات کی تعداد میں کم و بیش ۵۰؍ لاکھ سےزائد کا اضافہ ہوا۔
مقدمات کی تعداد میں اضافے کا سبب
عدالتوں میںزیر سماعت مقدمات کی تعداد میں اضافے کی ایک بڑی وجہ عدالتوں اور ججوں کی قلت ہے۔’دی وائر ڈاٹ ان‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق ۲۰۱۳ء کے بعد سے عدالتی اسٹاف میں بہت معمولی اضافہ ہوا ہے جبکہ اس دوران ’آر ٹی آئی اور آر ٹی ای‘ کے آجانے سے مقدمات کی تعداد میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ۲۰۱۳ء میں عدالتی اسٹاف کی تعداد ۱۵؍ہزار ۱۱۵؍ تھی جبکہ ۲۰۱۹ء میں یہ تعداد بڑھ کر ۱۷؍ ہزار ۳۴۲؍ ہوگئی تھی ، حالانکہ منظور شدہ اسٹاف کی تعداد ۲۳؍ ہزار ۵۶۶؍ ہے۔اسی طرح ستمبر ۲۰۱۹ء تک بچوں اور خواتین سے متعلق معاملات کی سماعت کیلئے فاسٹ ٹریک کورٹس کی تعداد صرف ۷۰۴؍تھی حالانکہ منظور شدہ کورٹس کی تعداد ۱۰۲۳؍ ہے۔ ایسے میں انصاف کی سبیل نکلے بھی تو کیسے نکلے؟
’کلیئر آئی اے ایس ڈاٹ کام‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق ججوں کی ناکافی تعداد کی وجہ سے عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ بڑھتا جارہا ہے۔ اس وقت سپریم کورٹ سے لے کر مجسٹریٹ کورٹس تک ججوں کی مجموعی تعداد ۲۱؍ ہزار ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک میں موجودہ ججوں کی تعداد ہر ایک لاکھ کی آبادی پر صرف ایک جج ہے جبکہ ۱۹۸۷ء میں لا کمیشن کی سفارشات کے مطابق یہ تعداد کم از کم ۵؍ ہونی چاہئے۔ ججوں کی تعداد میں قلت کی ایک وجہ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے درمیان عدم اتفاق ہے۔ رپورٹ کے مطابق مرکزی حکومت چاہتی ہے کہ ججوں کی تعداد میں اضافے کی پہل ریاستی حکومتیں کریں جبکہ ریاستی حکومتیں اس کیلئے مرکزی حکومت کی جانب دیکھ رہی ہیں۔
انصاف میں تاخیر کے نتائج
اس وقت ملک میں اگر ایک عام آدمی کو کہیں سے انصاف کی کوئی امید ہے تو وہ عدالت ہی ہے۔ ایسے میں اگرعدالت میں تاریخ پر تاریخ کا دور چلتا رہا تو عام آدمی کو یہاں سے بھی مایوسی ہوسکتی ہے۔
انصاف میں تاخیر سے جہاں ایک جانب عرضی گزار پر مالی بوجھ بڑھتا جاتا ہے، وہیں اگر کوئی قیدی ’معصوم‘ ہے جیسا کہ اکثر معاملات میں دیکھنے میںآتا ہے تو اس طرح اُس کی زندگی کے قیمتی سال برباد ہوجاتے ہیں جو کہ اس کے باہر رہنے کی صورت میں نہ صرف اس کے بلکہ ملک کیلئے بھی سود مند ثابت ہوتے۔
انصاف میں تاخیر کی وجہ سے عالمی سطح پر ملک کی شبیہ خراب ہوتی ہے اور بین الاقوامی کمپنیاں ملک میں سرمایہ کاری کرنے سے ہچکچاتی ہیں کیونکہ انہیں ایسا لگتا ہے کہ اگر کوئی معاملہ عدالت میں گیا تو ان کے برسوں ضائع ہوجائیںگے۔
رہائی کے بعد بھی مشکلات کا سامنا
ہمارے یہاں جب کسی فرد کو کسی الزام میں ماخوذ کیا جاتا ہے تو اسے ایک مجرم کی طرح پیش کردیا جاتا ہے، جس کا خمیازہ اسے زندگی بھربھگتنا پڑتا ہے۔ اگر وہ معاملہ جلدفیصل ہوگیا تو غنیمت ہے، بصورت دیگر اس کے خاندان کا سماجی رُتبہ ملیا میٹ ہوجاتا ہے۔ ہمارے یہاں ایسی کئی مثالیں ہیں جو یہ ثابت کرتی ہیں کہ رہائی کے بعد بھی انہیں سماج میں وہ مقام نہیں مل پاتا، جس کے وہ حقدا ر ہوتے ہیں۔