• Sun, 27 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اداروں کے نقصان کی تلافی آسان نہیں ہوگی!

Updated: September 27, 2026, 3:56 PM IST | Aakar Patel | Mumbai

کسی چیزکو بنانے میں کافی وقت لگتا ہے مگر اُسے بگاڑنا ہو تو چند لمحوں میں بھی بگاڑا جاسکتا ہے۔ یہ بات اداروں پر بھی صادق آتی ہے۔ ان کی تعمیر مشکل کام ہے مگر تخریب مشکل نہیں ہوتی۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

بدعنوانی اور رشوت ستانی تقریباً ہم معنی الفاظ سمجھے جاتے ہیں مگر دونوں میں کافی فرق ہے۔ رشوت ستانی ۱۶؍ ویں صدی سے مستعار ہے جس کا معنی ہے: ’’ بدعنوانی پر مبنی خدمات کیلئے مجسٹریٹوں کا پیسے لینے کا عمل‘‘۔ وقت کے ساتھ پیسوں کے لین دین کا معاملہ مجسٹریٹوں تک محدود نہیں رہا بلکہ ہر سرکاری کارکن تک دراز ہوگیا کہ جو بھی اپنی خدمات کے عوض رقم وصول کریگا رشوت ستانی کا ملزم قرار پائے گا۔ اس کے برخلاف بدعنوانی وسیع المعنی لفظ ہے جس کیلئے استعمال کیا جانے والا انگریزی لفظ ’’کرپشن‘‘ لاطینی زبان کا بہت پرانا لفظ ہے۔ اس کا معنی کسی خدمت یا تعاون کے عوض صرف رقم لینا نہیں بلکہ اس کے علاوہ بھی ہے لہٰذا اس میں ’’گل سڑ جانے، فاسد اور مضر ہوجانے، تحلیل ہونے یا زوال پزیر ہونے‘‘ کا مفہوم بھی شامل ہے۔ رشوت ایک انفرادی فعل ہے۔ بدعنوانی محض انفرادی نہیں، اس سے اداروں کی ساکھ اور مستقبل وابستہ ہوتا ہے۔ 
اکنومسٹ انٹیلی جنس یونٹ جو اکنومسٹ میگزین کا حصہ ہے، ہر چند سال بعد ایک جدول (انڈیکس) جاری کرتا ہے جس میں اقتدار اور سرمایہ دار طبقہ یا مخصوص کاروباری لوگوں کے گٹھ جوڑ (کرونی کیپٹالیزم) کو اُجاگر کیا جاتا ہے۔ ۲۰۱۶ء میں، ہماری مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کا ۳؍ فیصد حصہ کرونی کیپیٹالیزم پر مشتمل تھا۔ ۲۰۲۳ء میں یہ شرح دگنا ہو چکی تھی۔ یہ عمل رشوت خوری کے زمرے میں آئے یا نہ آئے، لیکن یہ یقیناً بدعنوانی ہے، کیونکہ اس کے ذریعہ ملک کا اختیار اور قانونی حیثیت کمزور کی جا رہی ہے اور مخصوص افراد کو مالا مال کرنے کیلئے ریاستی طاقت کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔ 
اقتدار اور بڑے تجارتی افراد کا گٹھ جوڑ معیشت کو بھی نقصان پہنچاتا ہے اور جمہوریت کو بھی۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کسی چیز کے بوسیدہ یا زوال پزیر ہونے کیلئے، پہلے اس کا مکمل طور پر وجود میں ہونا لازمی ہے۔ جمہوریت آسمان سے نہیں اُترتی۔ خود ہماری جمہوریت کی تعمیر میں طویل عرصہ لگا۔ اس موضوع پر کتابیں لکھی گئی ہیں کہ بالغ رائے دہی کا عمل کس قدر عظیم الشان تھا اور ووٹرز کی ابتدائی فہرستیں کس طرح تیار کی گئی تھیں اور اُن افراد کو اس عمل میں شامل کرنے کیلئے کتنی کوششیں کی گئیں جو صرف رات کے وقت فٹ پاتھ پر ہی پائے جاتے تھے۔ ناخواندہ افراد کی شرکت بڑھانے کیلئے انتخابی نشان جیسا جدید طریقہ جاری کیا گیا۔ اس طرح انتخابی عمل پراعتبار رفتہ رفتہ قائم ہوا۔ پارلیمنٹ نے منتخب اراکین کی جانب سے پارٹی چھوڑنے (انحراف) کے عمل کو روکنے کی کوشش کی۔ ۱۹۹۴ء میں مرکزی حکومت سے ریاستی حکومتیں برطرف کرنے کا اختیار واپس لیا گیا۔ اسی دوران، ہم نے بالآخر ملک میں انتخابی جمہوریت کے پرانے مسائل میں سے ایک یعنی بوتھ کیپچرنگ (پولنگ اسٹیشن پر قبضہ) اور بیلٹ اسٹفنگ (جعلی ووٹ ڈالنے) سے نجات پائی جو الیکٹرانک ووٹنگ مشین سے ممکن ہوئی۔ 
اس سے کچھ عرصہ قبل الیکشن کمیشن پہلی بار ایک ایسے ادارہ کے طور پر ابھرا جس نے حکومت کے سامنے اپنی خودمختاری کا لوہا منوایا۔ یہ پیش رفت سب سے پہلے ٹی این سیشن جیسی جرٔتمند اور بے باک شخصیت کے دور میں ہوئی، لیکن یہ سلسلہ اس وقت بھی جاری رہا جب حکومت نے کمیشن کو تین رکنی پینل میں بدل کر مزید دو کمشنروں کی تقرری کو راہ دی۔ اس طرح جمہوریت کے بحیثیت ادارہ زیادہ موثر اور معتبر بننے کے عمل میں پیش رفت ہوئی۔ تاہم، ذاتی مفادات کی خاطر بدعنوانی اس ادارے کو کھوکھلا اور تباہ کر رہی ہے۔ 
پارٹی چھوڑنے (انحراف) اور حکومتوں کی برطرفی کے اُمور میں ہونے والی پیش رفت اب الٹ گئی ہے۔ آج ہندوستان کے مغربی حصے سے لے کر مشرقی حصے تک پوری کی پوری سیاسی جماعتیں خرید لی جاتی ہیں۔ آپ ووٹ بھلے ہی تبدیلی کیلئے دیں، فرق نہیں پڑے گا اور کچھ تبدیل نہیں ہوگا۔ الیکشن کمیشن کو پہنچنے والا نقصان غالباً مستقل نوعیت کا ہے، بالکل اسی طرح جیسےانتخابی فہرستوں کو ایس آئی آر سے نقصان پہنچا ہے۔ مستقبل کی کسی بھی حکومت کے پاس خواہ اس کی نیت کتنی ہی نیک ہو، اس صورتحال کو پلٹنے کا کوئی راستہ نہیں ہوگا جو اس وقت ہمارے سامنے رونما ہو رہی ہے۔ 
یا تو پورے ایس آئی آر ہی کو کالعدم قرار دیا جائے (جس کی صورت میں وہ انتخابات بھی مشکوک یا کالعدم ہو جائینگے جوانتخابی فہرستوں میں غیر معمولی تبدیلی کے بعد منعقد ہوئے یا پھر ان کروڑوں افراد کو لسٹ میں دوبارہ شامل کیا جائے جن کے ناموں کو خارج کر دیا گیا، بشرطیکہ اُن کی شناخت اور اہلیت کسی بھی شبہ سے بالاتر ہو۔ یہ سب کن اصولوں کے تحت ممکن ہوگا؟ کیا ان نئے اصولوں کا مطلب یہ ہوگا کہ ہمارے ہاں ووٹرز کے دو درجے بن جائینگے؟ ایک وہ جنہوں نے ایس آئی آر کا مرحلہ کامیابی سے طے کیا اور دوسرا وہ جو کسی اور راستے سے شامل ہوئے؟ یہ مسئلہ آسانی سے حل نہیں ہوگا۔ 
یاد رہے کہ اس افراتفری کا آغاز کسی فوری یا ٹھوس وجہ کے بغیر ہوا تھا۔ کسی نے یہ ثابت نہیں کیا تھا اور نہ ہی ایسا کوئی دعویٰ کیا تھاکہ ملک کی انتخابی فہرستیں ناقابلِ اصلاح حد تک خراب ہو چکی ہیں اور ان کی درستی کیلئے ایس آئی آر جیسا ظالمانہ طریقہ نافذ کیا جائے جس میں ووٹرز کو اپنی اصلیت اور شناخت ثابت کرنے کیلئے اپنے آبائی پس منظر کا حوالہ دینا ہوگا۔ یہ ایک غیر ضروری اور بلاوجہ کی مشق ہے جس میں ہماری ووٹر لسٹوں کے ساتھ وہی سلوک کیا گیا ہے جو ایک دہائی قبل ہماری کرنسی کے ساتھ کیا گیا تھا۔ 
امریکہ میں ایک کہاوت ہے کہ ’’اگر کوئی چیز ٹوٹی ہوئی نہیں ہے تو اسے ٹھیک کرنے کی کوشش نہ کرو‘‘۔ اس سے یہ سیکھا جاسکتا ہے کہ اگر کوئی نظام یا چیز درست کام کر رہی ہو تو اس میں بلاوجہ ردوبدل یا چھیڑ چھاڑ نہیں کرنی چاہئے لیکن یہ کہاوت بدنیتی کے تصور کا احاطہ نہیں کرتی۔ آج ہم جس دور میں ہیں، اس کا اصول ہے کہ ’’اگر کوئی چیز ٹوٹی ہوئی نہیں ہے تو اسے توڑ دو‘‘۔ 
ہماری جمہوریت میں خامیاں تھیں مگر جب ہم دنیا کے سامنے جاتے تھے تو یہی ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ (تاج کا ہیرا) ہوا کرتی تھی۔ نظام میں اصلاح کی گنجائشیں تھیں مگر یہ حقیقی اور ایماندارانہ تھا۔ ہم بصد اعتماد کہہ سکتے تھے کہ ہم ایک جمہوری ملک ہیں۔ ۲۰۱۴ء میں بی جے پی کی فتح سے قبل جو دہائیاں اداروں کی تعمیر میں گزریں، وہ ایک مضبوط حفاظتی حصار کا کام دے رہی تھیں۔ اداروں مثلاً عدالتوں، یونیورسٹیوں، انتخابی نظام، تکثیری معاشرت، سیاسی کلچر اور میڈیا کے زوال میں ایک دہائی لگ گئی، کیونکہ یہ ادارے جن میں سے کچھ کمزور تھے اور کچھ میں خامیاں تھیں بہرحال موجود تھے اور اپنا کام کر رہے تھے۔ انہیں محض اس لئے تباہ کیا گیا کیونکہ مقصد ہی تباہ کرنا تھا۔ درحقیقت، یہی بدعنوانی (کرپشن) کا اصل جوہر ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK