سماج میں بہت سے لوگ معاشی حیثیت سے پچھڑے ہوئے ہیں۔ کچھ لوگوں کو سماج میں ذات برادری کے نام پر نیچ اور حقیر سمجھتا جاتا ہے (اسلام کی نظر میں ایسا سمجھنا گناہ ہے)۔
EPAPER
Updated: April 17, 2026, 5:38 PM IST | Maulana Sirajuddin Nadvi | Mumbai
سماج میں بہت سے لوگ معاشی حیثیت سے پچھڑے ہوئے ہیں۔ کچھ لوگوں کو سماج میں ذات برادری کے نام پر نیچ اور حقیر سمجھتا جاتا ہے (اسلام کی نظر میں ایسا سمجھنا گناہ ہے)۔
سماج میں بہت سے لوگ معاشی حیثیت سے پچھڑے ہوئے ہیں۔ کچھ لوگوں کو سماج میں ذات برادری کے نام پر نیچ اور حقیر سمجھتا جاتا ہے (اسلام کی نظر میں ایسا سمجھنا گناہ ہے)۔ کچھ لوگ سماج میں باعزت ہوتے ہیں مگر اندرون خانہ ٹوٹے ہوئے اور ضرورت مند ہوتے ہیں۔ وہ خود داری کی بنا پر اپنی ضرورتیں بھی لوگوں کے سامنے نہیں رکھ پاتے۔ بعض افراد اتنے لاچاراوربے بس ہوتے ہیں کہ وہ دوسروں کے سامنے اپنی ضرورت رکھنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ سماج کے یہ تمام ضرورت مند اور لاچار و مجبور ہماری توجہ اور ہمدردی کے مستحق ہیں۔ قرآن پاک نے ایسے ضرورت مندوں کا ہمارے مال میں حق بتایا ہے: ”ان(مسلمانوں) کے مالوں میں حق ہے مانگنے والے اور محروم کا۔“ (الذاریات:۱۹)
یہ بھی پڑھئے: اصلاحِ معاشرہ کے لئے سوشل میڈیا کا استعمال کیجئے
یہاں مانگنے والے سے پیشہ ور بھکاری مراد نہیں ہیں بلکہ وہ لوگ مراد ہیں جو اپنی حقیقی ضرورت آپ کے سامنے رکھتے ہیں اور بحالتِ مجبوری زبان کھولتے ہیں۔ ایسے جولوگ آپ کے سامنے اپنی ضرورت رکھیں اور آپ محسوس کریں کہ وہ واقعی ضرورت مند ہیں تو ان کی مدد کیجئے یا کسی دوسرے سے امدادکرائیے اوراگر کچھ بھی نہ کرسکتے ہوں تو نہایت پیار ومحبت سے معذرت کرلیجئے اور کوئی اچھی بات کہہ کر اجر وثواب حاصل کیجئے۔کوئی بھی شخص اگر آپ کے سامنے دست سوال دراز کرے تو اس کو حقارت سے نہ دیکھئے اور نہ ہی اسے برا بھلا کہئے اور نہ ڈانٹ ڈپٹ کیجئے۔ قرآن نے ہمیں حکم دیاہے:
”ضرورتمند جب اپنی ضرورت کے بارے میں سوال کرے تو اسے جھڑکو مت۔“ (الضحیٰ :۱۰)
شریف آدمی نہایت مجبوری میں اپنی ضرورت کا اظہار دوسروں کے سامنے کرتا ہے۔ یاد رکھئے کہ آج اگر کوئی ضرورت مند اور لاچار ہے تو کل وہ خوشحال بن سکتا ہے اور جو آج خوشحال ہے وہ کل مفلس و گدا ہو سکتا ہے اسلئے ہمیشہ خدا سے ڈرتے رہئے۔ ضرورتمندوں اور مصیبت زدہ افراد کے دکھ درد میں ان کے کام آتے رہئے۔ اللہ کی نظر میں مجبور و بے کس اور مصیبت زدہ مسکین کی بڑی وقعت ہے۔ ان کی مدد کرکے اپنے خدا کی خوشنودی اور رحم وکرم کا مستحق بنئے۔
یہ بھی پڑھئے: کلام ِ محبت، نگاہِ محبت اورلمس ِ محبت
حضرت اسامہ بن زیدؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں جنت کے دروازے پر کھڑا ہوا، تو دیکھا کہ داخل ہونے والے عموماً مساکین ہیں۔(مسلم)
کسی پریشان حال، مجبور اور ضرورت مند کی مدد کرنے کو اللہ نے اپنی مدد کرنے کے برابرقرار دیا ہے۔ ارشاد ربانی ہے:”اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری مدد کرے گا۔“(سورہ محمد:۷۷)
جو شخص غریبوں،پسماندہ لوگوں اور ضرورتمندوں کے کام آتا ہے اللہ تعالیٰ ان کے کام آتا ہے۔ ان کے بگڑے ہوئے کام بناتا ہے۔ ان کی پریشانیاں دور کرتا ہے۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: ”جو شخص اپنے بھائی کی حاجت پوری کرتا رہتا ہے، اللہ اس کی حاجت پوری کرتا رہتاہے اور جو کوئی مسلمان کی مصیبت کو دور کرے گا تو اللہ تعالیٰ قیامت کی مصبیتوں میں سے کسی مصیبت کو اس سے دور کرے گا۔“(بخاری ومسلم)