Inquilab Logo Happiest Places to Work

فتاوے: قران، تمتع اور افراد: حج کی تین اقسام ہیں

Updated: April 17, 2026, 5:52 PM IST | Mufti Azizurrehman Fatehpuri | Mumbai

شریعت کی روشنی میں اپنے سوالوں کے جواب پایئے۔ آج پڑھئے: (۱)حج کی اقسام۔ (۲)ہیوی ڈپازٹ کی رقم کا مسئلہ۔

There are different types of Hajj depending on the state of Ihram. Photo: INN
احرام کے اعتبار سے حج کی اقسام ہیں۔ تصویر: آئی این این

 حج کی کتنی قسمیں اور کون سا حج کرنا افضل ہے ؟رسولؐ اللہ نے کون سا حج کیا تھا ؟
عبد الرحیم ، مہاراشٹر
 باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق:  احرام کے اعتبار سے حج کی تین قسمیں ہیں (۱) حج قِران۔ آفاقی جو میقات سے باہر کا رہنے والاہے وہ میقات سے ایک ساتھ حج و عمرہ کی نیت سے احرام باندھے۔ یہ حج قران ہے۔ حج قران کرنے والا عمرہ کے بعد حج تک  اپنا احرام باقی رکھے گا پھر  اسی احرام کے ساتھ حج کرےگا اور حج کے بعد حلق یا قصر کرکے احرام سے باہر آئیگا۔ حج تمتع، آفاقی میقات سے عمرہ کا احرام باندھ کر عمرہ کے بعد حلق یا قصر کے ساتھ احرام کھول دےگا ،پھر اسی سال ایام حج میں حرم ہی سے حج کا احرام باندھ کر حج کرےگا، یہ تمتع کہلاتا ہے۔ حج قران اور تمتع میں حاجی پر ایک دم (یعنی قربانی ) واجب ہوتا ہے مگر یہ بطور شکرانہ ہوتا ہے کہ اللہ کی توفیق سے ایک ہی سفر میں حج و عمرہ کی سعادت حاصل ہوئی ۔ اس قربانی کو حدود حرم ہی میں ذبح کیا جائےگا ۔حاجی اگر مالدار ہو اور شرعاً مسافر نہ ہو تو اس پر عید الاضحی کی قربانی بھی واجب ہوگی جسے چاہے تو حرم ہی میں ذبح کرے چاہے تو  وطن میں کسی اور مقام پر۔ حج افراد، تیسری قسم یہ ہے کہ حاجی صرف حج کا احرام باندھے اور اسی احرام سے حج ادا کرے۔ افراد میں عمرہ نہیں اور اس حاجی پر دم شکر یعنی حج کی قربانی بھی واجب نہیں ہوتی۔ حضورؐ  نے حج قران کیا تھا نیز اس میں مشقت بھی زیادہ ہے اس لئے  احناف کا عمومی فتویٰ یہی ہے کہ قران افضل ہے لیکن بعض روایات کے مطابق حضورؐ  نے فرمایا تھا کہ اگر میں قربانی کا جانور نہ لاتا تو تمتع کرتا ، پھر جو اصحاب جانور نہیں لائے  تھے ان کو آپؐ نے فرمایا تھا کہ عمرہ کے بعد احرام کھول دیں، بعد میں حج کے لئے  الگ احرام باندھ کر حج کریں ۔ اس میں لوگوں کو مشقت سے بچانے کے علاوہ جنایات احرام کا امکان بھی کم رہتاہے اس لئے  جہاں بعض دوسرے ائمہ نے تمتع کو افضل کہا ہے وہیں متاخرین احناف میں بھی بعض نے اس کو اختیار کیا (کما صرح بہ الشامی)۔  واضح رہے کہ حدود حرم اور حل (میقات اور حرم کے بیچ رہنے والوں  کے لئے افراد افضل ہے۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم

یہ بھی پڑھئے: فتاوے: حجر اسود کا بوسہ، دونوں طرف سے نفع، قرض کے بدلے نفع، شراب نوش دکاندار

  میرے دو گھر ہیں، دو بیٹے ساتھ ہیں، تیسرا بیٹا کرایہ سے رہتا ہے۔ میرے پڑوس میں ایک گھر پچیس لاکھ  ہیوی ڈپازٹ میں مل رہا  ہے، میں نے اس کا بیعانہ دے دیا ہے تو کم از کم مجھے کتنا کرایہ رکھنا چاہئے جس سے ہیوی ڈپازٹ کا مسئلہ شرعاً درست ہوجائے؟ شرعی رہنمائی مطلوب ہے۔ عبدالقادر ،ممبئی 
باسمہ تعالیٰ ۔ ھوالموفق: ہیوی ڈپازٹ جس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ پیشگی زیادہ رقم دے کر کوئی  جگہ (مکان دکان وغیرہ) اس شرط پر حاصل کی جائے کہ جب تک رقم واپس نہ ہوجائے  اس وقت تک رقم دینے والا بغیر کسی عوض کے اسے استعمال کرتا رہے۔ یہ صورت رہن کی ہے جس میں رقم دینے والے کو شرعاً  بغیر کسی عوض کے نفع حاصل کرنا سود کے زمرے میں شامل ہے۔ ظاہر ہے جب انتفاع سود میں شامل ہو تو شرعاً اس کی اجازت نہیں ہوسکتی لیکن موجودہ حالات میں یہ بڑے شہروں میں  ایک عام وباء کی صورت اختیار کرچکا ہے۔ عام رواج کے علاوہ بعض مرتبہ یہ ایک انسانی ضرورت بھی نظر آتا ہے۔ اس صورت حال میں کئی حضرات نے یہ کوشش کی ہےکہ اس کا حل اس طرح نکالا جائے کہ سودی انتفاع بھی نہ رہے اور جو واقعی ضرورتمند ہیں ان کی ضرورت بھی پوری ہوجائے۔ ایک صورت تو یہ تھی کہ ماہانہ یا سالانہ کرایہ طے کرکے پیشگی رقم سے وہ کرایہ وضع کیا جاتا رہے پھر جگہ والا اپنی جگہ واپس لینا چاہے تو اب تک کا کرایہ وضع کرنے کے بعد  باقی رقم  دے کر  اپنی جگہ واپس لے لے۔ کچھ حضرات نے یہ تجویز کیا کہ عام کرایے سے کم مناسب حد تک کرایہ طے کرکے ہر ماہ دیتا رہے لیکن کرایہ برائے  نام نہ ہو کم از کم  نصف یا اس سے کچھ کم زیادہ ہو ۔اس سوال پر  یاد آیا کہ بعض افراد ایسے بھی ہوسکتے ہیں جنہیں بال بچوں کو ساتھ رکھنا بھی ضروری ہو مگر آمدنی اتنی نہ ہو کہ کرایہ دے کر گھریلو اخراجات پورے کرسکیں۔ ایسے ہی ایک سائل کو جواب دیتے ہوئے  میں نے یہ لکھا تھا کہ جو لوگ کرایہ دینے کی استطاعت رکھتے ہیں ان کے لئے تو کسی صورت میں بھی پگڑی دے کر بغیر کسی عوض کے نفع حاصل کرنا درست نہیں ہو سکتا اسلئے یہ نفع بہر حال سود ہے البتہ وہ کم استطاعت والے لوگ جو اپنی آمدنی سے کرایہ دینے کے بعد گھریلو اخراجات کا تحمل نہیں کر سکتے اصولاً ایسا انتفاع ان کے لئے بھی سود اور سودکے حکم میں ہونے کی وجہ سے ممنوع ہے لیکن ضرورت شرعی اور سخت مجبوری کی حالت میں ایک دوسرے اصول کی بنا پر ان کے لئے  وقتی طور سے کچھ گنجائش ممکن ہوسکتی ہے۔ میری اس تحریر سے بعض احباب کو یہ غلط فہمی ہوگئی  جس کا انہوں نے اظہار بھی کیا کہ میں ہیوی ڈپازٹ کا معاملہ جائز سمجھتا ہوں حالانکہ میرے نزدیک سود اور سودی معاملہ بہرصورت  سود اور ناجائز ہے۔ جو لوگ متمول ہوں یا کاروباری ذہنیت کے ساتھ ہیوی ڈپازٹ دے کر بغیر معاوضہ کے نفع حاصل کرنا چاہیں ان کے لئے جواز کی کوئی  صورت نہیں، ہاں جو مجبور محض ہیں ان کے لئے کچھ گنجائش ممکن ہوسکتی ہے۔ جن علماء نے کچھ کرائے  میں کمی کی صورت کو کافی سمجھا ہے جو واقعی مجبور ہیں وہ اس سے فائدہ حاصل کرلیں تو گنجائش ہوسکتی ہے۔ اس سلسلے میں میرا نظریہ یہ ہے کہ ہیوی ڈپازٹ کی جو رقم دی جائے کچھ کرایہ طے کرکے اس رقم کو پیشگی کرایہ کے طور پر متعین کیا جائے، پھر جب رقم اور جگہ کی واپسی کا موقع آئے تو اب تک کا کرایہ وضع کرکے باقی رقم واپس کردی جائے  یا ہر ماہ کرایہ دیتے رہیں اور جب معاملہ ختم ہو تب پوری رقم واپس ہوجائے۔ آپ کی کیا مجبوری یہ تو آپ ہی کو علم ہوگا تاہم اگر صاحب استطاعت ہیں تو ہرگز یہ معاملہ نہ کریں، مجبوری ہے تو اس کی کیا تفصیل ہے مقامی طور سے کسی مستند عالم سے مل کر صورت حال بتانے کے بعد حکم معلوم کریں ۔واللہ اعلم وعلمہ اتم

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK