Inquilab Logo Happiest Places to Work

اصلاحِ معاشرہ کے لئے سوشل میڈیا کا استعمال کیجئے

Updated: April 17, 2026, 5:34 PM IST | Mudassir Ahmad Qasmi | Mumbai

آج کا المیہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا کا استعمال بڑی حد تک برائیوں کے فروغ کے لئے کیا جا رہا ہے۔ فحاشی، جھوٹ، بہتان اور بے راہ روی کو عام کیا جا رہا ہے، جس سے معاشرہ اخلاقی زوال کا شکار ہو رہا ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

ہر زمانے میں اللہ رب العزت نے اپنے بندوں کی رہنمائی کے لئے خاص انتظام فرمایا ہے۔ ابتدائی ادوار میں انبیائے کرام علیہم السلام کو مبعوث فرمایا گیا اور انہیں ایسے معجزات عطا کئے گئے جو اس زمانے میں رائج فن سے مماثلت رکھتے تھے، تاکہ لوگ ان کی صداقت کو پہچان کر راہِ راست اختیار کریں۔ جب نبوت کا سلسلہ ختم ہوگیا تو یہ ذمہ داری علماء و مصلحین امت کے سپرد ہوئی۔ اس اعتبار سےآج کے دور میں جبکہ سوشل میڈیا نے پوری دنیا کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے، اہلِ حق کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس جدید ذریعۂ ابلاغ میں مہارت حاصل کریں اور اسے حق و صداقت کی اشاعت کا مؤثر وسیلہ بنائیں۔

یہ بھی پڑھئے: کلام ِ محبت، نگاہِ محبت اورلمس ِ محبت

قرآن و حدیث میں اس بات کی واضح رہنمائی ملتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو قوم کے مزاج اور زمانے کے تقاضوں کے مطابق معجزات عطا فرمائے۔ مثلاً حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جادو کے غلبے کے دور میں عصا کا معجزہ دیا گیا، جس نے جادوگروں کو لاجواب کردیا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو طب کے عروج کے زمانے میں مردوں کو زندہ کرنے اور بیماروں کو شفا دینے کی قدرت عطا ہوئی۔ اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فصاحت و بلاغت کے زمانے میں قرآن جیسا بے مثال معجزہ عطا ہوا، جس نے اہلِ عرب کو مسحور کردیا اور  ہدایت کی راہ دکھائی۔ ان مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ دعوتِ دین کے لئے زمانے کے ذرائع کو اختیار کرنا سنت ِ الٰہی کے عین مطابق ہے۔

آج کا المیہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا کا استعمال بڑی حد تک برائیوں کے فروغ کے لئے کیا جا رہا ہے۔ فحاشی، جھوٹ، بہتان اور بے راہ روی کو عام کیا جا رہا ہے، جس سے معاشرہ اخلاقی زوال کا شکار ہو رہا ہے۔ ایسے حالات میں اہلِ ایمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسی پلیٹ فارم کو نیکی، خیر اور بھلائی کے فروغ کے لئے استعمال کریں۔ جب برائی پھیلانے والے اس قدر سرگرم ہیں تو بھلائی کے داعی اس میدان میں پیچھے کیوں رہیں؟ مزید برآں، سوشل میڈیا کے ذریعے صحیح اور مستند دینی معلومات کا پھیلانا اس لئے بھی ضروری ہے کہ آج دین کے نام پر غلط، من گھڑت اور گمراہ کن باتیں تیزی سے پھیلائی جا رہی ہیں۔ بہت سے لوگ بغیر تحقیق کے ایسی معلومات کو آگے بڑھا دیتے ہیں جس سے عوام میں غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں۔ دورِ جدید ٹیکنالوجی کا دور ہے اور لوگوں کو اس کے استعمال سے مکمل طور پر روکنا نہ تو ممکن ہے اور نہ ہی عملی۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ سوشل میڈیا پر ایسا مستند ، مثبت اور اصلاحی مواد فراہم کیا جائے جو لوگوں کے اعمال و اخلاق کو بہتر بنائے۔ اس طرح ہم نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے کے مددگار بن سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔ (سورۃ المائدہ: ۲)۔  چونکہ اسلام ایک آفاقی اور ہمہ گیر دین ہے جو ہر زمانے کیلئے قابلِ عمل ہے، اس لئے ضروری ہے کہ ہم جدید ٹیکنالوجی کو مثبت انداز میں استعمال کریں اور اسلامی تعلیمات کو نئے ذرائع کے ساتھ ہم آہنگ کریں۔ اگر ہم اس میدان میں پیچھے رہ گئے تو ہم اپنی ذمہ داری سے غافل قرار پائیں گے۔ 

یہ بھی پڑھئے: اصلاحِ معاشرہ کیلئے دینی تعلیمات پر عمل ضروری

خلاصہ یہ ہے کہ موجودہ  وقت میں سوشل میڈیا ایک طاقتور ذریعہ ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر اسے صحیح طریقے سے استعمال کیا گیا تو یہ دینی و اخلاقی تعلیمات کے فروغ کا ایک بہترین وسیلہ بن سکتا ہے جس سے عوام کی باخبری بڑھے گی اور درست راہ پر چلنے کی ترغیب ملے گی۔ لہٰذا ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اس میدان میں آگے بڑھیں، اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں اور اس جدید نعمت کو دین کی خدمت کے لئے استعمال کریں، تاکہ ہم دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی حاصل کر سکیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK