اپنا جائزہ لیجئے! قرآن مجید کی تلاوت کو ہم نے نہ تو معمول بنایا ہے نہ ہی دورانِ تلاوت ہم پر ایسی کوئی کیفیت طاری ہوتی ہے، پھر سوچئے کہ اُس دن ہمارے پاس کیا جواب ہوگا جب سرکار دوعالم ﷺ ہمارے بارے میں رب العالمین کے حضور شکایت کریں گے؟
قرآن کا بنیادی مقصد ہی یہ ہے کہ ہم اس کو سمجھ کر پڑھیں اور اس پر عمل کریں اور اس کو دوسروں تک پہنچائیں۔ تصویر: آئی این این
اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید کو تمام انسانوں کی ہدایت کے لئے نازل فرمایا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن سیکھنے اور سکھانے والے کو بہترین انسان کہا۔ حضرت عثمانؓ بن عفان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ تم میں وہ شخص سب سے بہتر ہے جو قرآن کو سیکھے اور سکھائے (بخاری)۔ایک اور حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہلِ قرآن کو اہل اللہ کہا ہے۔ حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا: انسانوںمیں اللہ کے کچھ خاص لوگ ہیں، (صحابہ نے) پوچھا:یارسولؐ اللہ!وہ کون لوگ ہیں؟ فرمایا: قرآن والے (سیکھنے اور عمل کرنے والے)۔ وہی اہل اللہ ہیں اور وہی اس کے خواص ہیں(ابن ماجہ)۔ حضرت عائشہؓ رسولِؐ اقدس کا یہ ارشاد نقل کرتی ہیں کہ ہرچیز کے لئے کوئی شرافت اور افتخار ہوا کرتا ہے جس سے وہ تفاخر کیا کرتا ہے۔ میری اُمت کی رونق اور افتخار قرآن ہے۔( فی الحلیہ)
تلاوتِ قرآن پر رد عمل
قرآن پڑھ کر ایک مسلمان کا کیا ردِعمل ہونا چاہئے؟ قرآن اس کی تفصیل یوں بیان کرتا ہے:
’’سچے اہلِ ایمان تو وہ لوگ ہیں جن کے دل اللہ کا ذکر سُن کر لرز جاتے ہیں اور جب اللہ کی آیات ان کے سامنے پڑھی جاتی ہیں تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے اور وہ اپنے رب پر اعتماد رکھتے ہیں۔‘‘ (انفال:۲)
’’وہ لوگ جن کا حال یہ ہے کہ اللہ کا ذکر سنتے ہیں تو ان کے دل کانپ اٹھتے ہیں ، جو مصیبت بھی اُن پر آتی ہے اُس پر صبر کرتے ہیں ، نماز قائم کرتے ہیں ، اور جو کچھ رزق ہم نے اُن کو دیا ہے اُس میں سے خرچ کرتے ہیں ۔‘‘ (الحج:۳۵)
’’ اللہ نے بہترین کلام اُتارا ہے ، ایک ایسی کتاب جس کے تمام اجزا ہم رنگ ہیں اور جس میں بار بار مضامین دُہرائے گئے ہیں ۔ اُسے سُن کر اُن لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرنے والے ہیں اور پھر ان کے جسم اور ان کے دل نرم ہو کر اللہ کے ذِکر کی طرف راغب ہو جاتے ہیں ۔ یہ اللہ کی ہدایت ہے جس سے وہ راہِ راست پر لے آتا ہے جسے چاہتا ہے ۔ اور جسے اللہ ہی ہدایت نہ دے اس کے لئے پھر کوئی ہادی نہیں ہے۔‘‘
( الزمر:۲۳)
آئیے ہم اپنا جائزہ لیں کہ کیا قرآن کو سن یا پڑھ کر ہماری حالت ایسی ہوجاتی ہے؟ کیا ہمارے جسم لرز اٹھتے ہیں یا رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں؟ کیا ہماری آنکھوں سے آنسو جاری ہوتے ہیں؟ اکثر نہیں تو کیا کبھی کبھی ہی ایسا ہوتا ہے؟ اللہ تعالیٰ تو سورئہ حشر (آیت:۲۱)میں فرماتا ہے کہ : ’’اگر ہم نے یہ قرآن کسی پہاڑ پر بھی اُتار دیا ہوتا تو تم دیکھتے کہ وہ اللہ کے خوف سے دبا جارہا ہے اور پھٹا پڑتا ہے‘‘۔ مقامِ حسرت اور افسوس ہے کہ آدمی کے دل پر قرآن کا اثر نہ ہو۔ حالانکہ قرآن کی تاثیر اس قدر زبردست ہے کہ اگر وہ پہاڑ جیسی سخت چیز پر اتا را جاتا اور اس میں سمجھ کا مادہ موجود ہوتا تو وہ بھی متکلّم کی عظمت کے سامنے دب جاتا اور مارے خوف کے پارہ پارہ ہوجاتا۔ (تفسیر عثمانی)
تفسیر روح البیان میں ہے کہ اگر ان کے دل قرآن جیسی عظیم کتاب کو سن کر بھی پگھلتے نہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے دلوں میں اللہ نے ایسی قساوت (سختی) پیدا کر دی ہے جس پر کوئی بڑی سے بڑی حقیقت بھی اثرانداز نہیں ہوتی۔ اندیشہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی سنت کے مطابق ایسے دلوں پر مہر ثبت نہ کر دے جس طرح اس نے یہود کے دلوں پر کی ہے۔(جلد۱۱، ص ۵۶۶)
نعوذ باللہ ثمّ نعوذ باللہ کیا ہماری حالت یہ تو نہیں ہو گئی جیسا کہ سورۃ البقرہ کی آیت نمبر ۷۴؍ میں اللہ نے کہا ہے کہ:’’تمہارے دل سخت ہوگئے، پتھروں کی طرف سخت، بلکہ سختی میں کچھ ان سے بھی بڑھے ہوئے۔‘‘
قرآن فہمی کی ضرورت اور اہمیت
قرآن کے بارے میں اس امت سے پوچھا جائیگا:
’’(اے پیغمبرؐ) پس آپ اس (قرآن) کو مضبوطی سے تھامے رکھیئے جو آپ کی طرف وحی کیا گیا ہے، بیشک آپ سیدھی راہ پر (قائم) ہیں، اور یقیناً یہ (قرآن) آپ کے لئے اور آپ کی امت کے لئے عظیم شرف ہے، اور (لوگو!) عنقریب تم سے پوچھا جائے گا (کہ تم نے قرآن کے ساتھ کتنا تعلق استوار کیا)۔‘‘ (الزخرف:۴۳-۴۴)
پھر سورۂ ص ٓ میں یہ بھی بتا دیاکہ اس قرآن کے بارے میں ہماری ذمہ داری کیا ہے؟
’’یہ کتاب برکت والی ہے جسے ہم نے آپ کی طرف نازل فرمایا ہے تاکہ دانش مند لوگ اس کی آیتوں میں غور و فکر کریں اور نصیحت حاصل کریں۔‘‘ (صٓ: ۲۹)
ڈاکٹر اسرار احمد ؒنے اس آیت میں قرآن کو سمجھنے کے دو پہلو بیان کیے ہیں، یعنی تذکّر اور تدّبر اورپھر ان دونوں پہلوؤں کی تشریح کی ہے جس کا خلاصہ درجہ ذیل ہے:
تذکّر: قرآن کو اتنا سمجھنا کہ اس سے انسان نصیحت حاصل کر سکے ۔ یہ سب کیلئے ضروری ہے۔قرآن کا بنیادی مقصد ہی یہ ہے کہ ہم اس کو سمجھ کر پڑھیں اور اس پر عمل کریں اور اس کو دوسروں تک پہنچائیں۔ تذکرمیں قرآن پر غور و فکر تو شامل ہے مگر بہت گہرائی میں غوطہ زنی کی ضرورت نہیں ہوتی، بہت مشقّت و محنت مطلوب نہیں ہے۔ انسان کے اندر طلبِ حقیقت ہو اور قرآن سے براہِ راست رابطہ ہو جائے تو تذکر حاصل ہو جائے گا۔ قرآن مجید کو اس حد تک سمجھنے کے لئے بس اتنی عربی ضرور آتی ہو کہ عربی متن کو براہِ راست سمجھ سکیں۔ کم از کم اتنا تو ہو کہ جب قاری حضرات نماز یا تراویح میں قرآن پڑھیں تو سمجھ میں آئے۔ تھوڑی محنت سے یہ فائدہ قرآن سے ہر شخص حاصل کر سکتا ہے۔ سورئہ قمر میں اللہ ارشاد فرماتا ہے:
’’اوریقیناً ہم نے اس قرآن کو نصیحت کے لئے آسان ذریعہ بنا دیا ہے ، پھر کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا؟‘‘ (القمر:۱۷)اس آیت کو اس سورہ میں چار بار دہرایا گیا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
’’ اے نبیؐہم نے تم سے پہلے بھی جب کبھی رسول بھیجے ہیں ، آدمی ہی بھیجے ہیں جن کی طرف ہم اپنے پیغامات وحی کیا کرتے تھے۔ اہل ِ ذکر سے پوچھ لو اگر تم لوگ خود نہیں جانتے۔پچھلے رسولوں کو بھی ہم نے روشن نشانیاں اور کتابیں دے کر بھیجا تھا ، اور اب یہ ذکر( قرآن) تم پر نازل کیا ہے تاکہ تم لوگوں کے سامنے اُس تعلیم کی تشریح و توضیح کرو جو اُن کے لئے اُتاری گئی ہے ،اور تاکہ لوگ (خود بھی) غورو فکر کریں۔‘‘ (النحل: ۴۳۔۴۴)
تدبر:تذکّر کے برعکس قرآن پہ تدبر و تفکر کرکے اس کی گہرائی کو سمجھنے کے لئے نہ صرف عربی کے گہرے علم کی ضرورت ہے بلکہ دوسرے علوم سمجھنے کی بھی ضرورت ہے۔ تدبر کے لحاظ سے قرآن مشکل ترین کتاب ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کا منبع اور سرچشمہ وحی الٰہی ہے اور علم الٰہی لامتناہی ہے۔ اس کو کوئی شخص نہ عبور کر سکتا ہے نہ گہرائی میں اس کی تہہ تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ ناممکن ہے چاہے پوری زندگیاں کھپا لیں۔اس کا احاطہ کرنا کسی کے لئے ممکن نہیں۔ (بیان القرآن ، اول، ص۹۶-۹۷)قرآن میں ان لوگوں کو اُمّی (اَن پڑھ)کہا گیا ہے جو قرآن کا علم نہیں رکھتے، چاہے انہوں نے دنیاوی علوم میں پی ایچ ڈی ہی کیوں نہ کی ہو:
’’اِن میں ایک دوسرا گروہ اُمّیوں کا ہے ، جو کتاب کا تو علم رکھتے نہیں ، بس اپنی بے بنیاد امیدوں اور آرزوؤں کو لئے بیٹھے ہیں اور محض وہم و گمان پر چلے جارہے ہیں۔‘‘
(البقرہ:۷۸)
جن لوگوں نے قرآن کی آیات کو بھلا دیا انہیں آخرت میں اندھا اٹھایا جائے گا:
’’اور جس نے میرے ذکر (یعنی میری یاد اور نصیحت) سے روگردانی کی تو اس کے لئے دنیاوی معاش (بھی) تنگ کردیا جائے گا اور ہم اسے قیامت کے دن (بھی) اندھا اٹھائیں گے، وہ کہے گا: اے میرے رب! تو نے مجھے (آج) اندھا کیوں اٹھایا حالانکہ میں (دنیا میں) بینا تھا، ارشاد ہوگا: ایسا ہی (ہوا کہ دنیا میں) تیرے پاس ہماری نشانیاں آئیں پس تو نے انہیں بھلا دیا اور آج اسی طرح تو (بھی) بھلا دیا جائے گا۔‘‘ (طٰہٰ :۱۲۴؍ تا ۱۲۶)
قرآن کو پس پشت ڈالنے پر تنبیہ
قرآن مجید کو جن لوگوں نے پسِ پشت ڈال دیا ہو قیامت کے دن قرآن اُن کے گلے میں پڑا ہوگا اور اللہ کی بارگاہ میں شکایت کرے گا کہ اس بندے نے مجھے چھوڑ دیا تھا۔ اب آپ میرے اور اس کے درمیان فیصلہ فرمادیں:
’’ہائے افسوس! کاش میں نے فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا، بیشک اس نے میرے پاس نصیحت آجانے کے بعد مجھے اس سے بہکا دیا، اور شیطان انسان کو (مصیبت کے وقت) بے یار و مددگار چھوڑ دینے والا ہے، اور رسولؐ عرض کریں گے: اے رب! بیشک میری قوم نے اس قرآن کو بالکل ہی چھوڑ رکھا تھا۔‘‘ (الفرقان:۲۸؍ تا۳۰)
مولانا مفتی محمد شفیعؒ اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے معارف القرآن میں فرماتے ہیں: قرآن کو عملاً چھوڑ دینابھی گناہِ عظیم ہے۔ اس سے ظاہر یہ ہے کہ قرآن کو مہجور اور متروک کردینے سے مراد قرآن کا انکارہے جو کفار ہی کا کام ہے۔ مگر بعض روایات میں یہ بھی آیا ہے کہ جو مسلمان قرآن پر ایمان تو رکھتے ہیں مگر نہ اس کی تلاوت کی پابندی کرتے ہیں نہ اس پر عمل کرنے کی، وہ بھی اس حکم میں داخل ہیں ۔ حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا: جس شخص نے قرآن پڑھا مگر پھر اس کو بند کرکے گھر میں معلق کردیا، نہ اس کی تلاوت کی پابندی کی، نہ اس کے احکام میں غور کیا ۔ قیامت کے روز قرآن اس کے گلے میں پڑا ہوا آئے گا اور اللہ کی بارگاہ میں شکایت کرے گا کہ آپ کے اس بندے نے مجھے چھوڑ دیا تھا۔ اب آپ میرے اور اس کے معاملے کا فیصلہ فرمادیں۔ (معارف القرآن، جلد۶)
تفسیر احسن البیان میں اس آیت کی تشریح یوں کی گئی ہے: اس پر ایمان نہ لانا، اس پر عمل نہ کرنا، اس پر غوروفکر نہ کرنا، اور اس کے اوامر پر عمل اور اس کے نواہی سے اجتناب نہ کرنا بھی ہجران ہے اسی طرح اس کو چھوڑ کر کسی اور کتاب کو ترجیح دینا بھی ہجران ہے یعنی قرآن کا ترک اور اس کا چھوڑ دینا ہے جس کے خلاف قیامت کے دن اللہ کے رسولؐ ، اللہ کے دربار میں استغاثہ فرمائیں گے۔ (ص۸۲۴-۸۲۵) تصورکیجئے کہ کتنے بدنصیب ہوں گے وہ لوگ جن کے بارے میں رسولؐ اللہ یوں کہیں گے کہ: یہ ہیں میری قوم کے وہ لوگ جنھوں نے قرآن کو چھوڑ دیا تھا تو ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے قہر و غضب سے کون بچائے گا؟ (جاری)