یہ بات محض جذباتی اپیل نہیں، زندگی کے اس اٹل اصول کی طرف اشارہ ہے کہ جو ہاتھ دوسروں کیلئے کھلتے ہیں، ان کیلئے آسمان کے دروازے بھی کھلتے ہیں۔
EPAPER
Updated: May 22, 2026, 4:25 PM IST | Mohammed Tauqeer Rahmani | Mumbai
یہ بات محض جذباتی اپیل نہیں، زندگی کے اس اٹل اصول کی طرف اشارہ ہے کہ جو ہاتھ دوسروں کیلئے کھلتے ہیں، ان کیلئے آسمان کے دروازے بھی کھلتے ہیں۔
ذی الحجہ کے ابتدائی دن ربانی عنایت کا مظہر ہیں۔ یہ وہ گھڑیاں ہیں جن میں وقت کی رفتار عام دنوں جیسی دکھائی دیتی ہے، مگر ان کے اندر ثواب کی وسعت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے زمین ایک ہی ہو، بیج بھی وہی ہو، مگر موسم بدلتے ہی اسی زمین کی پیداوار کئی گنا بڑھ جائے۔ جو کسان موسم کی قدر پہچان لیتا ہے، وہ معمولی محنت سے غیر معمولی فصل پا لیتا ہے۔ یہی معاملہ ان مبارک دنوں کا ہے۔ نماز وہی ہے، روزہ وہی ہے، صدقہ وہی ہے، مگر ان ایام میں ان کی تاثیر بڑھ جاتی ہے۔ گویا بندے کو یہ موقع دیا جاتا ہے کہ اگر وہ بڑے قافلے تک نہ پہنچ سکا تو کم از کم اس قافلے کی روحانی برکات سے اپنا دامن بھر لے۔
انہی اعمال میں ایک عمل ایسا ہے جو محض ایک عبادت نہیں بلکہ ایک پورا شعور ہے؛ ایک ایسا عمل جس میں ظاہری صورت سے کہیں زیادہ باطنی حقیقت پوشیدہ ہے۔ یہ قربانی ہے۔ بظاہر یہ ایک جانور ذبح کرنے کا عمل ہے، مگر حقیقت میں یہ انسان کے باطن میں چھپی ہوئی خود غرضی، حرص اور دنیا کی بے جا وابستگی پر چھری چلانے کی مشق ہے۔ یہ اس اعلان کا نام ہے کہ بندہ اپنے رب کے حکم کے سامنے اپنی پسند، اپنی خواہش اور اپنے مال کی محبت سب کچھ قربان کرنے کے لئے تیار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے محض ایک رسم کے طور پر ادا کرنا اس کی روح کو کھو دینا ہے۔
ہمارے معاشرے میں ایک غلط فہمی خاموشی سے جڑ پکڑ چکی ہے۔ بہت سے گھروں میں یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ اگر خاندان کے کسی ایک فرد نے قربانی کردی تو گویا سب کی طرف سے یہ ذمہ داری ادا ہوگئی۔ حالانکہ ذمہ داری کی بنیاد نسبت یا رفاقت پر نہیں، استطاعت پر ہے۔ جیسے ایک ہی گھر میں رہنے والے سب افراد کا کھانا ایک شخص کے کھانے سے پورا نہیں ہوتا، اسی طرح عبادت کی وہ ذمہ داری جو ہر صاحبِ استطاعت پر الگ عائد ہو، وہ ایک فرد کے ادا کر دینے سے دوسروں سے ساقط نہیں ہوتی۔ عبادت میں شرکت کا تعلق دل کی نسبت سے ہوسکتا ہے، مگر وجوب کا تعلق فرد کی اپنی حیثیت سے ہوتا ہے۔
یہ غلطی بظاہر معمولی محسوس ہوتی ہے، مگر اس کے اثرات بہت دور تک جاتے ہیں۔ جب ایک فریضہ سہولت کی تاویلوں میں دبنے لگے تو آہستہ آہستہ عبادت کی اصل روح کمزور پڑنے لگتی ہے۔ انسان اپنے آپ کو مطمئن کر لیتا ہے کہ چونکہ گھر میں قربانی ہوگئی، اس لیے میری ذمہ داری بھی پوری ہوگئی، حالانکہ اطمینان ہمیشہ حقیقت کی دلیل نہیں ہوتا۔ بعض اوقات انسان اپنے ضمیر کو خاموش کرنے کے لیے ایسے جواز تراش لیتا ہے جو وقتی سکون تو دیتے ہیں، مگر حقیقت کے ترازو میں ان کا کوئی وزن نہیں ہوتا۔ اور یہی وہ نکتہ ہے جہاں ایک چھوٹی سی غفلت انسان کے بڑے ارادوں میں دراڑ ڈالنا شروع کردیتی ہے۔
قربانی کی ظاہری ادائیگی کے بعد ایک اور مرحلہ آتا ہے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں اکثر اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔ جانور ذبح ہوجاتا ہے، تکبیر کی صدائیں خاموش ہوجاتی ہیں، سنت کی ظاہری صورت پوری ہوجاتی ہے، مگر پھر وہ لمحہ آتا ہے جب یہ طے ہونا ہوتا ہے کہ اس عبادت کی روح ہمارے گھروں سے باہر نکل کر ضرورت مندوں تک پہنچتی ہے یا نہیں۔ افسوس یہ ہے کہ بہت سے گھروں میں قربانی کے حصے تقسیم ہونے سے پہلے ہی گویا ایک خاموش غصب کا شکار ہوجاتے ہیں۔ وہ گوشت جو محتاج کے دروازے تک پہنچ کر اس کے چہرے پر مسکراہٹ بننا تھا، اکثر فریزر کی ٹھنڈی تہوں میں دفن ہو جاتا ہے۔ بظاہر یہ ایک معمولی سی کوتاہی معلوم ہوتی ہے، مگر اگر ذرا گہرائی سے دیکھا جائے تو یہ محض گوشت روک لینا نہیں بلکہ اس پیغام کو روک لینا ہے جو اس عبادت کے ذریعے معاشرے میں گردش کرنا چاہئے تھا۔
سوچئے، اگر ایک درخت اپنی شاخوں پر پھل تو پیدا کرے مگر انہیں زمین تک گرنے نہ دے، تو اس کی شادابی صرف اس کے اپنے وجود تک محدود ہو جائے گی۔ نہ کسی بھوکے کی بھوک مٹے گی، نہ کسی مسافر کو سایہ ملے گا، نہ اس کی زرخیزی کا فیض پھیلے گا۔ اسی طرح مال بھی اگر صرف اپنے گرد دیواریں کھڑی کرلے تو وہ برکت نہیں رہتا، بوجھ بن جاتا ہے۔ قربانی کے گوشت کی تقسیم دراصل اس دیوار کو توڑنے کا عمل ہے۔ یہ انسان کو سکھاتی ہے کہ رزق کی اصل خوبصورتی اس کے جمع کر لینے میں نہیں ہے بلکہ اس کے بہنے میں ہے، اس کی تقسیم میں ہے۔
کبھی کبھی انسان بڑی عبادتوں کی خواہش رکھتا ہے، اس کے دل میں حج کی تڑپ ہوتی ہے، ارادہ بھی پختہ ہوتا ہے، وسائل بھی میسر آجاتے ہیں، راستے بھی کھلتے دکھائی دیتے ہیں، مگر عین وقت پر کوئی نہ کوئی رکاوٹ حائل ہوجاتی ہے۔ بظاہر یہ محض حالات کا اتفاق محسوس ہوتا ہے، لیکن زندگی کی باطنی حقیقتیں ہمیشہ ظاہری اسباب کے پردے میں چھپی ہوتی ہیں۔ ممکن ہے کہ ہمارے اعمال میں کہیں کوئی ایسی لغزش ہو جس نے ہماری راہوں میں غیر محسوس رکاوٹ کھڑی کردی ہو۔ اور ان لغزشوں میں ایک یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ہم نے قربانی کے ان حصوں میں وہ امانت داری نہ برتی ہو جو مطلوب تھی؛ ہم نے مستحق کے حق کو اپنی سہولت کے نام پر روک لیا ہو، اور یوں ایک چھوٹا سا حق دبا کر ایک بڑی سعادت کے دروازے پر خود ہی دستک کمزور کردی ہو۔
یہ بات محض جذباتی اپیل نہیں، زندگی کے اس اٹل اصول کی طرف اشارہ ہے کہ جو ہاتھ دوسروں کے لئے کھلتے ہیں، ان کے لئے آسمان کے دروازے بھی کھلتے ہیں۔ جو دل کسی بے سہارا کی دُعا سمیٹ لیتا ہے، اس کی راہوں میں نامعلوم آسانیاں پیدا ہونے لگتی ہیں۔ ایک بھوکے کے لبوں سے نکلی ہوئی بے ساختہ دعا بسا اوقات ان منصوبوں کو حقیقت بنا دیتی ہے جن کیلئے برسوں کی تدبیر بھی ناکافی رہتی ہے۔ اگر قربانی کے تمام حصے دیانت کے ساتھ ان لوگوں تک پہنچیں جنہیں واقعی ان کی ضرورت ہے، اگر اس تقسیم میں محض رسم نہیں بلکہ دردِ دل شامل ہو، اگر کسی مستحق کے گھر اس دن خوشی کی وہ روشنی پہنچے جو ہمارے گھر پہلے ہی میسر ہے، تو بعید نہیں کہ یہی دعائیں اگلے برس کسی ناممکن دکھائی دینے والے ارادے کو ممکن بنا دیں۔
قربانی کا اصل سوال یہ ہے کہ ہم نے اپنے اندر کیا بدلا۔ اگر جانور ذبح ہوا مگر حرص زندہ رہی، اگر گوشت تقسیم ہوا مگر دل میں وسعت پیدا نہ ہوئی، تو عبادت کی صورت باقی رہی مگر اس کی تاثیر ماند پڑ گئی۔ اور اگر ایک ایک حصہ دیانت، احساس اور اخلاص کے ساتھ وہاں پہنچا جہاں اس کا حق تھا، تو یہی تقسیم محض گوشت کی تقسیم نہیں رہتی، بلکہ وہ انسان کے مقدر میں ایسی برکتوں کا بیج بو دیتی ہے جن کی فصل کبھی حج کی صورت میں، کبھی قبولیت کی صورت میں، اور کبھی دل کے اس سکون کی صورت میں سامنے آتی ہے جس کے آگے دنیا کی ہر نعمت چھوٹی محسوس ہوتی ہے۔