• Sat, 10 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

آپؐ کے بچپن ہی سے عرب کے قیافہ شناسوں کو یقین تھا کہ یہ کوئی غیر معمولی ہستی ہے

Updated: January 09, 2026, 5:36 PM IST | Syed Abul Ala Maududi | Mumbai

اس مضمون کا موضوع سیرتِ طیبہ کا مکی ّدَور ہے جس میں اس حقیقت پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ نبوت ملنے سے قبل بھی یہ عالم تھا کہ آپؐ اپنے اخلاق و کردار سے ایسا ماحول تیار کرچکے تھے جس میں ہر شخص آپ کو امین اور امانتدار کہتا اور مانتا تھا۔

Millions of devotees from all corners of the world attend the court of the Holy Prophet (PBUH), and this process continues throughout the year. Picture: INN
سرکار مدنی صلی اللہ علیہ و سلم کے دربار میں دُنیا کے گوشے گوشے سے لاکھوں اُمتی حاضر ہوتے ہیں اور یہ سلسلہ سال بھر جاری رہتا ہے۔ تصویر: آئی این این

مکی ّ دور کے آغاز سے ہجرت تک کی تاریخ پر ایک مجموعی نظر ڈال کر [دیکھیں تو اس قافلۂ حق] کاابتدائی، یا صحیح تر الفاظ میں بنیادی، سرمایہ صرف سرکار مدینہ محمدالرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات، آپؐ کی شخصیت اور آپؐ کی نبوت سے پہلے کی چہل سالہ زندگی تھی۔
حضورؐ کی عالی نسبی
ذاتی حیثیت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرب کے ایک شریف ترین خاندان سے تعلق رکھتے تھے، جس کے حسب و نسب کو تمام اہلِ عرب جانتے تھے۔ عرب کے بہ کثرت قبائل، جن کو اپنے نسب پر فخر تھا، اس بات سے واقف تھے کہ پدری اور مادری سلسلوں میں کہیں نہ کہیں جاکر اُن کا نسب آپؐ کے نسب سے مل جاتا ہے۔ اس لیے آپؐ کی حیثیت یہ نہ تھی کہ کوئی مجہول النسب، غیرمعروف، گمنام، یا کم اصل آدمی یکایک لوگوں کے سامنے ایک بہت بڑے دعوے کے ساتھ آکھڑا ہوا ہو، جسے دیکھتے ہی کہنے والے کہہ دیں کہ اس حیثیت کے آدمی پر تو یہ دعویٰ کسی طرح نہیں سجتا۔
پورے عرب میں کوئی شخص آپؐ کی شرافت ِنسبی پر شمّہ برابر بھی حرف گیری نہ کرسکتا تھا۔ خود شہر مکہ میں جتنے خانوادے اپنی عزت کے غرور میں ناک پر مکھی نہیں بیٹھنے دیتے تھے، ان سب سے آپؐ کی اور آپؐ کے خاندان کی رشتہ داریاں تھیں۔ اُن میں سے بھی کوئی یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ آپؐ اپنے حسب و نسب اور معاشرتی مرتبے میں اُس سے کسی درجہ کم تر ہیں۔ قریش جس کے ایک فرد آپؐ تھے، عرب میں سرداری کا مقام رکھتا تھا، اس کا اولادِ اسماعیلؑ سے ہونا ہر شک و شبہ سے بالاتر تھا۔ اندرون و بیرونِ ملک  دور دور تک اس کے تجارتی روابط دراز تھے۔ خانہ کعبہ کی تولیت اور حج کی کشش کے باعث عرب کے دور دراز گوشوں تک کے لوگوں کو بہر حال اُس سے سابقہ پیش آتا تھا۔
اِن وجوہ سے اِس قبیلے کو عرب میں وہ بلند مرتبہ حاصل تھا جو کسی دوسرے قبیلے کو حاصل نہ تھا۔ پس مکہ جیسے مرکزی مقام پر، قریش جیسے ایک قبیلے میں پید اہونا، عرب کے ماحول میں اس تحریک کے رہنما کیلئے مثالی موقع و محل تھا۔
آپؐ کا بنی اسماعیلؑ میں سے ہونا
اسماعیلی خاندان کی بزرگی و شرافت اور عزت و منزلت کے ساتھ یہ بات بھی خاص اہمیت رکھتی تھی کہ ڈھائی ہزار سال کی پوری تاریخ میں حضرت اسماعیلؑ کے بعد اس خاندان کے کسی فرد نے کبھی نبوت کا دعویٰ نہیں کیا تھا۔ اِسی بات کی نشان دہی بنی عامر بن صعصعہ کے ایک جہاں دیدہ شیخ نے اُس وقت کی تھی، جب اس کے قبیلے کے لوگوں نے حج سے واپس آکر آپؐ  سے اپنی ملاقات اور گفتگو کا ذکر اُس سے کیا تھا۔ انہوں نے جب اُس کو بتایا کہ قریش کے ایک صاحب ہمیں ملے تھے، جنہوں نے نبی کی حیثیت سے اپنا تعارف کرایا اور ہم سے یہ چاہا کہ ہم انہیں اپنے ساتھ اپنے علاقے میں لے چلیں اور اللہ کا پیغام پہنچانے میں ان کی مدد کریں، مگر ہم نے ان کی بات قبول نہ کی، تو اُس مردِ کہن سال نے اپنا سر پیٹ لیا اور کہا ’’اُس وقت تمہاری عقل کہاں چرنے چلی گئی تھی؟ خدا کی قسم! آج تک کسی اسماعیلی نے ایسی بات، جھوٹ گھڑ کر کبھی نہیں کہی ہے‘‘۔ یہ آں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے اولادِ اسماعیلؑ میں سے ہونے کا ایک اور فائدہ تھا۔ تاریخ یہ شہادت دے رہی تھی کہ آپؐ کا دعوائے نبوت برحق ہے، کیوں کہ اس خاندان کا کوئی شخص کبھی نبوت کا جھوٹا دعویٰ لے کر نہیں اٹھا تھا۔
آپؐ کا سراپا، آپؐ کی شخصیت
جہاں تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کا تعلق تھا، آپؐ کی شکل و صورت اور وضع و ہیئت اور نشست و برخاست اور رفتار و گفتار اور شائستہ اطوار کو دیکھ کر بچپن ہی سے عرب کے قیافہ شناس یہ کہہ رہے تھے کہ یہ کوئی غیر معمولی ہستی ہے، جو عبد المطلب کے خاندان میں پیدا ہوئی ہے۔ آپؐ کی والدۂ ماجدہ، آپؐ کے جدامجد، آپؐ کے چچا، آپؐ کی رضاعی والدہ، سب کے تاثرات تاریخ میں محفوظ ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ کم سنی ہی میں جو لوگ آپؐ کو قریب سے دیکھ رہے تھے، وہ آپؐ کے اندر ایک نمایاں عظمت محسوس کر رہے تھے۔ ایسی مثالیں بھی موجود ہیں کہ ایک بالکل اجنبی آدمی بیک نظر آپؐ کو دیکھ کر پکار اٹھتا کہ ’خدا کی قسم! یہ کسی جھوٹے انسان کا چہرہ نہیں ہے‘۔
مرعوب کن شخصیت
جب آپؐ جوانی کی عمر کوپہنچے تو آپؐ کی شان ہی کچھ ایسی تھی کہ آپؐ کے اہلِ وطن اور اہلِ قبیلہ آپؐ کی شخصیت سے مرعوب ہوتے چلے گئے۔ لوگ خود بہ خود آپؐ کا احترام کرتے تھے، کیوں کہ وہ اپنے معاشرے کی عام سطح سے آپؐ کو بہت بلند پاتے تھے۔ آپؐ کی وجاہت، آپؐ کا وقار، آپؐ کی سنجیدگی، آپؐ کی نفاست و پاکیزگی، آپؐ کی عالی ظرفی، آپؐ کی کریم النفسی اور آپؐ کی بے داغ سیرت ایسی نمایاں تھی کہ جن لوگوں کو بھی آپؐ سے سابقہ پیش آیا تھا،وہ آپؐ کی تکریم و عزت کیے بغیر نہ رہ سکتے تھے۔ یہ رُعب اُس وقت بھی کار فرما رہا جب اسلام کی دعوت پیش کرنے کی وجہ سے قریش کے لوگ آپؐ کی جان کے دشمن ہوگئے تھے۔ دشمنی کے جوش میں پاگل ہوکر وہ بسا اوقات آپؐ کے ساتھ بڑی بڑی بے ہودگیاں کر بیٹھتے تھے۔ لیکن جس درجے کی دشمنی اُن کے سینوں میں آگ کی طرح بھڑک رہی تھی، اور جس دشمنی کی بنا پر وہ اپنے بیٹوں اور بھائیوں اور قریب ترین رشتہ داروں تک کو اذیت ناک مظالم سے معاف نہیں کر رہے تھے، اس کو نگاہ میں رکھ کر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ کوئی خاص رُعب تھا ،جو آپؐ کے مقابلے میں آکر انہیں بے بس کر دیتا تھا۔
علانیہ دعوت کا دَور
 آپؐ نے دعوتِ عام شروع کرنے کے بعد سخت سے سخت حالات میں بھی کھلم کھلا اپنی تبلیغ جاری رکھی۔ شعبِ ابی طالب میں محصور ہوجانے کے باوجود آپؐ برابر اس حصار سے نکل کر دعوت کا کام انجام دیتے رہے۔ مکہ کے آخری تین سال، جو انتہائی سخت تھے، ان میں بھی آپؐ صرف مکے آنے والوں ہی سے نہیں، عُکاظ، اور مَجنَّہ اور ذی المجاز، اور منیٰ کے اجتماعات میں قبائل اور ان کے سرداروں سے بھی علانیہ ملاقاتیں کرکے اسلام کی دعوت پیش کرتے رہے۔ لامحالہ یہ ماننا پڑے گا کہ آپؐ کی شخصیت میں کوئی ایسی زبردست طاقت تھی، جس کی وجہ سے کوئی آپؐ کو فرائضِ رسالت انجام دینے سے باز نہ رکھ سکی۔
نبوت سے پہلے کی زندگی
اب دیکھئے کہ نبوت سے پہلے چالیس سال تک آپؐ کی جو زندگی مکے میں گزری تھی، اُس کے اثرات کیا تھے؟
یہ زندگی صرف بے داغ ہی نہ تھی بلند ترین سیرت و کردار کا ایک نمونہ تھی۔ جس معاشرہ میں آپؐ بچپن سے ادھیڑ عمر تک رہے، جس کے لوگوں کو ہر پہلو سے آپؐ کے ساتھ رشتہ داری، ہمسائیگی، میل جول، دوستی، لین دین، غرض طرح طرح کے معاملات میں شب و روز سابقہ پیش آتا رہا تھا، ان میں سے کوئی ایسا نہ تھا جو آپؐ کی سچائی، آپؐ کی دیانت، آپؐ کی شرافت، آپؐ کی اخلاقی پاکیزگی، آپؐ کے حسن سلوک، آپؐ کی رحم دلی اور آپؐ کی ہمدردی و فیاضی کا معترف نہ ہو۔ آپؐ مجسم خیر تھے، کسی کو آپؐ سے شرکا تجربہ تو درکنار، اُس کا اندیشہ تک کبھی نہ ہوا تھا۔
کامل و اکمل امین 
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر لوگوں کو اتنا اعتماد تھا کہ وہ آپؐ کو ’’امین‘‘ کہتے تھے، اور یہ اعتماد اُس وقت بھی قائم رہا جب اسلام کی دعوت پیش کرنے کی وجہ سے لوگ آپؐ کے دشمن ہوگئے تھے۔ اِس حالت میں بھی دوست دشمن، سب اپنی امانتیں آپؐ کے پاس رکھواتے رہے۔ کسی کو آپؐ سے خیانت کا خطرہ نہ تھا، اور آپؐ نے قتل گاہ سے نکلتے وقت بھی ان کی رکھوائی ہوئی امانتیں واپس کرنے کا اہتمام فرما کر اپنا کامل و اکمل امین ہونا قطعی طور پر ثابت کردیا۔
بے داغ کردار
آپؐ کی صداقت اُس معاشرہ میں اِس درجہ مسلّم تھی کہ جب آپؐ نے اسلام کی دعوت شروع کی اور قریش کے لوگوں نے اُس کو پورے زور شور کے ساتھ جھٹلایا، اُس وقت بھی مخالفین آپؐ کو جھوٹا کہنے کی ہمت نہ کرسکے، بلکہ اُس دعوت ہی کو جھوٹ کہتے رہے جو آپؐ نے پیش فرمائی تھی۔ بدترین عداوت کے دور میں بھی کوئی آپؐ کی سیرت و کردار پر کسی ادنیٰ درجے میں بھی حرف زنی نہ کرسکا۔ آپؐ سے قریب ترین تعلق جن لوگوں کا تھا، جن سے کوئی عیب نہ چھپ سکتا تھا اگر معاذ اللہ آپ کی ذات گرامی اور شخصیت میں کوئی عیب ہوتا تو کیا وہ لوگ سب سے بڑھ کر آپؐ کے گرویدہ اور آپؐ کے فضائلِ اخلاق سے متاثرہوتے؟
آپؐ کی اخلاقی خوبیوں پر فدا
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے شادی کے لیے قریش کے بڑے بڑے سرداروں کی درخواستیں رَدّکردیں، اور خود خواہش کرکے آپؐ سے اِسی بنا پر شادی کی کہ وہ آپؐ کی اخلاقی خوبیوں پر فدا ہوگئی تھیں۔ پندرہ برس کی ازدواجی زندگی اس بات کیلئے بالکل کافی ہوتی ہے کہ بیوی اپنے شوہر کے عیب و صواب سے خوب واقف ہوجائے، خصوصاً جب کہ وہ شوہر سے عمر میں بڑی بھی ہو، عاقل و فرزانہ بھی ہو، اور شوہر اُسی کے مال سے کاروبارِ تجارت بھی کر رہا ہو، مگر آپؐ   کے معاملے میں حضرت خدیجہ ؓ کے اِس طویل اور انتہائی قریبی مشاہدے اور تجربے کا نتیجہ جو کچھ نکلا وہ یہ تھا کہ انہوں نے آپؐ کو محض ایک بلند پایہ انسان ہی نہیں، بلکہ اتنا عالی مرتبہ انسان پایا کہ اُنہیں آپؐ کو رسول مان لینے اور آپؐ پر ایمان لے آنے میں ایک لمحہ بھر بھی تامُّل نہ ہوا۔ 
آقا اور غلام کے درمیان خوش گوار رابطہ
حضرت زیدؓ بن حارثہ کا تعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غلامی کی حالت میں شروع ہوا تھا۔ آقا اور غلام کے درمیان خوش گوار رابطہ بھی ایک نادر الوقوع چیز ہے، کجا کہ غلام کو آقا سے محبت ہو، کیونکہ وہ بالکل بے بس ہوتا ہے، اور آقا اُس سے ہر طرح خدمت لینے کا حق دار ہوتا ہے، خواہ وہ خدمت اُس کیلئے کتنی ہی شاق اور اس کی طبیعت پر کتنی ہی گراں ہو۔ اس کے علاوہ غلام کو آقا کی زندگی کے اچھے اور بُرے سب پہلو جاننے کا موقع ملتا ہے، اور ایک بے اختیار خادم کی حیثیت سے اسکے سامنے اپنے مختارِ مطلق آقا کی زندگی کے بُرے پہلو زیادہ آتے ہیں۔ لیکن رسولؐ اکرم ایسے آقا تھے کہ غلام آپؐ کا گرویدہ ہوتا چلا گیا، حتیٰ کہ جب اس کے باپ اور چچا اسے غلامی سے چھڑانے کیلئے آئے، تو اس نے آزاد ہوکر اپنے باپ کے ہاں جانے کی بہ نسبت حضورؐ کی غلامی میں رہنے کو ترجیح دی۔
غلام کا آپؐ کی نبوت پر بلا تاخیر ایمان لانا
 ۱۵ سال آپؐ کی خدمت میں رہ کر یہ غلام، جسے آپؐ نے آزاد کرکے بیٹا بنا لیا تھا،آپؐ کے اخلاقِ کریمانہ سے اتنا متأثر ہوا کہ جب اُسے آپؐ کے منصبِ نبوت پر سرفراز ہونے کا علم ہوا تو اُس نے بھی حضرت خدیجہؓ کی طرح آپؐ پر ایمان لانے میں توقف نہ کیا۔ وہ کوئی ناسمجھ بچہ نہ تھا بلکہ ۳۰ ؍ برس کا جوان تھا، اور ایسا ذکی و دانش مند تھا کہ ۸ ھ میں اُسے ایک ایسی فوج کا کمانڈر بنا کر بھیجا گیا، جس میں حضرت جعفرؓ بن ابی طالب اور حضرت خالدؓ بن ولید جیسے لوگ اُس کے ماتحت تھے۔ اس لئے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ وہ کوئی کم عقل خادم تھا، جسے نبوت و رسالت کی اہمیت معلوم نہ تھی اور محض اپنے مخدوم کی شخصیت سے مرعوب ہوکر وہ بے سمجھے بوجھے ایمان لے آیا تھا۔

نبوت کے بعد آپؐ کے اوصافِ عالیہ کا ظہور
کسی تحریک کا آغاز ہی اگر ایسی عظیم و جلیل ہستی کی رہنمائی میں ہوتو یہ بجائے خود بہت بڑا سرمایہ ہے۔ لیکن شروع ہونے کے وقت سے ۱۳؍ سال تک اِس ابتدائی سرمایے میں جو مزید اضافے ہوئے، وہ اتنے قیمتی تھے کہ انسانی تاریخ اُن کی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہے۔ سب سے پہلے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اُن اوصاف کو دیکھئے، جو اِس دور میں نمایاں ہوکر سامنے آئے اور سب سے بڑھ کر اِس دعوت کو فروغ دینے کے موجب بنے۔
lآپؐ کا مالی ایثار:آپؐ کا اوّلین وصف وہ ایثار تھا، جو آپؐ نے اِس کارِ عظیم کے لئے کیا۔ آغازِ نبوت کے وقت آپؐ ایک نہایت کامیاب اور خوشحال تاجر تھے۔ ایک طرف حضرت خدیجہؓ کا مال تھا جو قریش کے دوسرے تاجروں کے مجموعی مال سے کم نہ تھا۔ دوسری طرف آپؐ کی ذہانت و فراست اور حسنِ تدبیر اور راست بازی کی ساکھ تھی، جس کا مقابلہ کوئی دوسرا نہ کرسکتا تھا۔ یہ دونوں چیزیں جس کاروبار میں یک جا  ہوگئی ہوں، اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ کیسی زبردست ترقی کر رہا ہوگا۔ لیکن نبوت سے پہلے اس مال کو حضورؐ اور آپؐ کی شریک ِ حیاتؓ نے محض اپنے عیش و آرام کیلئے مخصوص نہیں کر رکھا تھا، بلکہ نہایت دریا دلی کے ساتھ آپؐ اسے حاجتمندوں کی مدد، بے کسوں کی دست گیری اور مسافروں کی مہمان نوازی پر خرچ کرتے رہے تھے اور ہر کارِ خیر میں آپؐ نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔ اِس لئے آغازِ نبوت میں کوئی بہت بڑا اندوختہ آپؐ کے پاس نہ تھا۔
پھر جب سرکار دو عالمؐ پر فرائض نبوت کا بار ڈالا گیا تو رفتہ رفتہ آپؐ نے اپنا سب کچھ اللہ کی راہ میں لگا دیا، اور آپؐ کے لئے یہ ممکن نہ رہا کہ تبلیغ ِ دین کے ساتھ اپنی تجارت بھی چلا سکیں۔ نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ جب آپؐ طائف تشریف لے گئے تو آپؐ کو پیدل ہی جانا پڑا، کوئی سواری آپؐ کومیسر نہ تھی۔ جب آپؐ نے ہجرت فرمائی تو اس کے سارے مصارف حضرت ابوبکرؓ نے برداشت کیے، حتیٰ کہ اہل و عیال کو مدینے بلانے کے لئے بھی آپؐ کو ۵۰۰ درہم جنابِ ابوبکر صدیقؓ سے لینے پڑے۔ آپؐ کا دست مبارک درہم و دینار سے بالکل خالی تھا۔
ظاہر ہے کہ جب ایک دعوت کا پیش کرنے والا خود اُس دعوت کے کام پر اپنے ذاتی مفاد کو اس طرح قر بان کر رہا ہو، تو ہر دیکھنے والا اس بات کا قائل ہوجاتا ہے کہ وہ اپنے مقصد میں بالکل مخلص اور بے غرض ہے، حتیٰ کہ دشمن اور مخالف تک خواہ زبان سے کچھ ہی کہتے رہیں، اپنے دلوں میں یہ مان لیتے ہیں کہ اِس دعوت کے ساتھ اُس کا کوئی ذاتی مفاد وابستہ نہیں ہے۔ اور جو لوگ اس کی دعوت کو قبول کرکے اس کے ساتھ آتے ہیں، ان کے لئے ان کے رہنما کی مثال ایسی سبق آموز ہوتی ہے کہ وہ بھی حق کو محض حق ہونے کی بناپر مانتے ہیں، کسی ذاتی غرض کا لوث ان کے ایمان کے ساتھ لگا ہوا نہیں ہوتا، اور ایثار و قربانی میں بھی وہ اپنے ہادی و رہبر کی پیروی کرتے ہیں۔
lآپؐ کا زبردست عزم:دوسری چیز آپؐ کے عزم کی پختگی تھی، جسے مشکلات ومصائب اور مخالفتوں کا کوئی بڑے سے بڑا طوفان بھی شکست نہ دے سکا، جسے نہ کوئی خوف اپنی جگہ سے ہٹاسکا، نہ کوئی لالچ پھسلا کر راہِ حق سے منحرف کرسکا، اور نہ کسی قسم کے سخت سے سخت حالات اسے (آپؐ کے عزم کو) مایوسی و دل شکستگی میں تبدیل کرسکے۔ وہ آپؐ کی پہاڑ جیسی استقامت ہی تھی جس سے ٹکرا کر ساری مخالف طاقتیں آخرکار اس بات سے مایوس ہوگئیں کہ اپنے کسی حربے، کسی مظاہرۂ قوت، کسی ظلم و ستم، کسی تحریص و ترغیب، کسی افترا پردازی اور الزام تراشی کی مہم، اورکسی بُرے سے بُرے ہتھکنڈے سے وہ آپؐ کو اس کام سے باز رکھ سکیں گے، جسے لے کر آپ اُٹھے ہیں۔ دیکھنے والے آپؐ کی اس اولوالعزمی کو سالہا سال تک بالکل بے لچک پاکر یہ اثرلئے بغیر نہیں رہ سکتے تھے کہ جب تک کسی شخص کو اپنے حق پر ہونے کا کامل یقین نہ ہو، اور جب تک کوئی شخص ذاتی اغراض کی کھوٹ سے بالکل پاک نہ ہو، وہ اپنے عزم میں اتنا مضبوط نہیں ہوسکتا۔ اِسی چیز نے آپؐ کے ساتھیوں میں بھی ایمان کی مضبوطی اور راہِ حق میں استقامت پیداکی، او راسی نے تمام غیر جانبدارلوگوں کو بھی قائل کر دیا کہ آپؐ جو دعوت پیش کررہے ہیں، وہ خالص حق پرستی پرمبنی ہے۔
lآپؐ کی بـے نظیر شجاعت:تیسری چیزآپؐ کی بے خوفی اور شجاعت و بہادری تھی جو کسی بڑی سے بڑی طاقت سے دب جانا اور کسی بڑے سے بڑے خطرے سے ڈر جانا، جانتی ہی نہ تھی۔ کفارِ قریش کا ایک بپھرا ہوا مجمع آپؐ کو حرم میں تنہا گھیر لیتا ہے اور کہتا ہے کہ ’تم وہ ہو جو یہ کہتے ہو، اور تم وہ ہو جو یہ کہتے ہو۔‘ ان ساری باتوں کے جواب میں آپؐ بے جھجک فرماتے چلے جاتے ہیں کہ ’ہاں، میں یہ کہتا ہوں اور میں یہ بھی کہتا ہوں۔‘ جان کے دشمن لوگوں میں اپنے آپ کو گھرا ہوا پاکر آپؐ پر ذرا سی گھبراہٹ تک طاری نہیں ہوتی۔
غارِ ثور کے عین دہانے پر دشمن پہنچ جاتے ہیں، اور آپؐ پورے اطمینان کے ساتھ اُس وقت نماز پڑھ رہے ہوتے ہیں۔ حضرت ابوبکرؓ عرض کرتے ہیں کہ یہ ظالم اپنے قدموں کی طرف نگاہ ڈالیں تو ہمیں دیکھ لیں گے۔ آپؐ بڑے ٹھنڈے دل سے، کسی ادنیٰ درجے کی پریشاں خاطری کے بغیر فرماتے ہیں کہ ’’ابوبکر! تمہارا اُن دو آدمیوں کے متعلق کیا خیال ہے، جن میں تیسرا اللہ ہو؟ گھبراؤ نہیں، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔‘‘ دشمنوں نے آپؐ کے سرِ مبارک کیلئے انعام مقرر کر رکھا ہے۔ ہر طرف انعام کے لالچ میں آپؐ کی تلاش کے لئے لوگ دوڑے پھر رہے ہیں اور آپؐ اطمینان کے ساتھ قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے سفر کرتے چلے جا رہے ہیں۔ کسی طرف مڑکر بھی یہ نہیں دیکھتے کہ کہیں کوئی تعاقب میں تو نہیں چلا آرہا ہے۔
lآپؐ کی عالی ظرفی:چوتھا اہم ترین وصف آپؐ کاصبر وتحمل، ضبطِ نفس اور بلند حوصلہ تھا۔ آپؐ مخالفین کی کسی رکیک سے رکیک حرکت پر بھی کبھی غصے میں آپے سے باہر نہ ہوئے۔ کسی گالی کا جواب آپؐ نے گالی سے نہ دیا۔ کسی بد زبانی اورکسی بےہودہ الزام کے جواب میں آپؐ کی زبانِ مبارک سے ایک لفظ بھی شائستگی سے گرا ہوا نہ نکلا۔ دشمنوں نے بارہا ایسی حرکتیں کیں، جو سخت دل آزار، سخت توہین آمیز اور سخت اشتعال انگیز تھیں، مگر آپؐ بڑی عالی ظرفی کے ساتھ ہر بات کوپی گئے، اور ان کی برائی کا جواب برائی کے بجائے بھلائی ہی سے دیتے رہے۔ مکہ معظمہ کے طویل دورِ مصائب میں کوئی ایک مثال بھی ایسی نہیں ملتی جس میں تہذیب و شرافت کا دامن آپؐ کے ہاتھ سے چھوٹ گیاہو۔
یہ وہ چیزتھی جو گرد وپیش کے معاشرے میں آپؐ کا اخلاقی وقار بڑھاتی چلی گئی اور آپؐ کے مخالفوں کو ہر اُس شخص کی نظر سے گراتی چلی گئی، جس کے اندر ذرہ برابر بھی اخلاق و شرافت کا کوئی جوہر موجود تھا۔ طائف سے زیادہ سخت وقت آپؐ پر کبھی نہ گزرا تھا۔ مگر اُس وقت بھی آپؐ کے دل اور زبان سے دعا ہی نکلی اور آپؐ اس پر راضی نہ ہوئے کہ اس ظلم کے بدلے میں ظالموں پر خدا کا عذاب نازل ہو۔ میدانِ جنگ سے پہلے اخلاق کے میدان میں آپؐ اپنے مخالفوں کو شکست دے چکے تھے، اور اس شکست پر آخری مہر اُس وقت لگ گئی جب قتل گاہ سے نکلتے وقت بھی آپؐ نے اہلِ مکہ کی امانتیں اُن کو واپس دینے کی فکر فرمائی۔ کوئی بالکل ہی مردہ ضمیر ہوگا جو اس کردار کو دیکھ کر اپنے دل میں مان نہ گیا ہو کہ جاہلیت کے حامی اُس شخص سے لڑ رہے ہیں، جو ان کی قوم ہی کا نہیں، ساری دنیا کا شریف ترین انسان ہے۔
lآپؐ کے قول اور عمل میں کامل مطابقت: پانچواں ، اور سب سے زیادہ اہم وصف یہ تھا کہ آپؐ کے قول اور عمل میں برائے نام بھی کوئی تضاد نہ تھا۔ جو کچھ آپؐ کہتے تھے وہی کرتے بھی تھے۔ جن چیزوں کو آپؐ نے برا کہا اور لوگوں کو اُن سے منع کیا، اُن کا ادنیٰ شائبہ تک آپؐ کی سیرت و کردار میں نہ پایا جاتا تھا۔
مکے کے لوگ آپؐ کی گھر سے باہر کی زندگی ہی کو نہیں، گھر کے اندر کی زندگی کو بھی دیکھ سکتے تھے، کیوں کہ ان میں کتنے ہی لوگ آپؐ کے والد ماجد، یا آپؐ کی والدۂ ماجدہ، یا آپؐ کی اہلیہ محترمہ کے رشتے دار تھے۔ لیکن کوئی یہ نہ کہہ سکا کہ آپؐ دوسروں کو جن برائیوں سے روکتے ہیں وہ، یا ان میں سے کوئی ایک کم سے کم درجے کی برائی بھی آپؐ کی اپنی زندگی میں پائی جاتی ہے۔ اسی طرح جن نیکیوں اور بھلائیوں کی طرف آپؐ لوگوں کو دعوت دیتے تھے، سب سے بڑھ کر آپؐ خود اُن پر عمل پیرا تھے۔ آپؐ کی زندگی اُن کا مجسّم عملی نمونہ تھی۔ کوئی اس امر کی کبھی نشان دہی نہ کرسکا کہ آپؐ سے اُن بھلائیوں پر عمل کرنے میں کوئی ادنیٰ درجے کی بھی کوتاہی ظاہر ہوئی ہے۔
lآپؐ کا تمام تعصبات سے پاک ہونا:چھٹا وصف جو اپنی اہمیت میں کسی دوسرے وصف سے کم نہیں، یہ تھا کہ آپؐ ہر تعصب سے پاک تھے۔ قبیلے، قوم، وطن، زبان، رنگ، نسل، غرض کسی چیز کا تعصب بھی آپؐ کے اندر نہ تھا۔ نہ آپؐ امیری و غریبی کے لحاظ سے انسان اور انسان کے درمیان فرق کرتے تھے، اور نہ معاشرتی مرتبے کی اونچ نیچ آپؐ کے لیے کوئی معنی رکھتی تھی۔ آپؐ انسان کو صرف انسان ہونے کی حیثیت سے دیکھتے تھے، اور انسانوں میں سے جو بھی حق کو قبول کرلیتا، اسے آپؐ کی جماعت میں بالکل برابر کا درجہ حاصل ہوتا تھا، خواہ وہ قریشی ہو یا غیرقریشی، خواہ وہ عرب ہو یا حبشی یا رومی، خواہ وہ کالا ہو یا گورا، خواہ وہ غریب ہو یا امیر، خواہ وہ جاہلیت کے معاشرتی نظام کی رو سے ’’شریف‘‘ ہو  یا ’’کمین‘‘۔
 یہی وہ چیز تھی جس نے اسلامی تحریک کے یومِ آغاز ہی سے اس کے ایک عالم گیر تحریک ہونے کی بنا ڈال دی تھی، اُمت ِ مسلمہ کو ایک بین الاقوامی اُمت کی حیثیت بخش دی تھی، اسلام قبول کرنے والوں کے اندر سے اسلام و کفر کے سوا ہر دوسری بنیاد پر انسان اور انسان کے درمیان امتیاز کا احساس مٹا دیا تھا اور ان کی جماعت میں غلام اور آزاد، غریب اور امیر، برتر اور کم تر، عرب اور غیر عرب، سب بالکل مساوی حیثیت سے شریک تھے، اور شریک ہوسکتے تھے جب کہ وہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آئے ہوں۔ عرب کے قلیل التعداد متکبروں کو چھوڑ کر باقی عام آبادی کیلئے یہ چیز اپنے اندر ایک فطری کشش رکھتی تھی، جو بالآخر کارگر ثابت ہوکر رہی۔
یہ تھے سرکار دو عالم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ اوصاف جو ۱۳؍  برس کے مکی دور میں ظاہر ہوئے اور جن کی زبردست قوتِ تاثیر سے دشمنوں کی ساری کوششوں کے علی الرغم اسلامی تحریک آگے ہی آگے بڑھتی گئی۔ مزید اوصافِ عالیہ ابھی آپؐ کے اندر مخفی تھے اور اپنے ظہور کیلئے دوسرے حالات کے متقاضی تھے جو آگے چل کر اسلامی تحریک کو مدینے میں میسر آئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK