• Sat, 10 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

شکر گزاری سے نعمتوں کو دوام اور تسلسل عطا ہوتا ہے

Updated: January 09, 2026, 4:36 PM IST | Allama Ibtisam Elahi Zaheer | Mumbai

انسان کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے ہمیں بہت سی نعمتوں سے نوازا ہے۔ سورۂ ابراہیم کی آیت ۳۴؍ میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں : ’’اگر تم اللہ کے احسان گننا چاہو تو انہیں پورے گن بھی نہیں سکتے۔‘‘

Allah says: If you are grateful, I will surely give you more, but if you are ungrateful, then indeed, My punishment is severe. Picture: INN
اللہ کا فرمان ہے کہ : اگر تم شکر گزاری کرو گے تو بیشک میں تمہیں زیادہ دوں گا اور اگر تم ناشکری کرو گے تو یقیناً میرا عذاب بہت سخت ہے۔ تصویر: آئی این این

انسان کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے ہمیں بہت سی نعمتوں سے نوازا ہے۔ سورۂ ابراہیم کی آیت ۳۴؍ میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں : ’’اگر تم اللہ کے احسان گننا چاہو تو انہیں پورے گن بھی نہیں سکتے۔‘‘ اسی طرح اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۂ رحمن میں بھی انسانوں اور جنوں کو مخاطب کرکے بہ تکرار  فرمائی کہ ’’پس (اے گروہِ جن و انس) تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلائو گے؟‘‘    ان آیاتِ مبارکہ سے اس بات کو جانچنا کچھ مشکل نہیں کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی نعمتیں بے شمار اور اَن گنت ہیں۔ چنانچہ انسانوں کو اللہ تبارک وتعالیٰ کی تمام نعمتوں کا شکر ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
شکر کے تین درجات ہیں۔ پہلا درجہ یہ ہے کہ انسان اپنے دل میں اللہ کی نعمتوں کا اعتراف کرے۔ دوسرا درجہ یہ ہے کہ زبان سے اظہار کرے اور کلماتِ شکر ادا کرے۔ تیسرا درجہ یہ ہے کہ انسان اپنے اعضا اور جوارح کو اللہ تبارک وتعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری میں استعمال کرے  تاکہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا صحیح طور پر شکر ادا ہو سکے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی ایسی اقوام کا ذکر کیا جو ناشکری کی وجہ سے اس کی پکڑ اور گرفت کا نشانہ بنیں۔   سورۂ نحل کی آیت:۱۱۲؍ میں ارشاد فرمایا گیا : ’’اللہ اس بستی کی مثال بیان فرماتا ہے جو پورے امن واطمینان سے تھی اس کی روزی اس کے پاس بافراغت ہر جگہ سے چلی آ رہی تھی۔ پھر اس نے اللہ کی نعمتوں کا کفر کیا تو اللہ نے اسے بھوک اور ڈر کا مزہ چکھایا جو بدلہ تھا ان کے کرتوتوں کا۔‘‘  اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۂ سباء میں بھی بڑی تفصیل کے ساتھ سباء کی بستی کا ذکر کیا جو اللہ تبارک وتعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کی وجہ سے اللہ کے غضب کا نشانہ بنی۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۂ سباء کی آیات ۱۵؍ تا ۱۹،  ارشاد فرماتے ہیں:’’قوم سبا کیلئے (ان کی) اپنی بستیوں میں (قدرتِ الٰہی کی) نشانی تھی‘ ان کے دائیں بائیں دو باغ تھے (ہم نے ان کو حکم دیا تھا کہ) اپنے رب کی دی ہوئی روزی کھائو اور اس کا شکر ادا کرو،  یہ عمدہ شہر (ہے) اور وہ بخشنے والا رب ہے۔ لیکن انہوں نے رُوگردانی کی تو ہم نے ان پر زور کے سیلاب (کا پانی)  بھیج دیا اور ہم نے ان کے (ہرے بھرے) باغوں کے بدلے دو (ایسے) باغ دیئے جو بدمزہ میووں والے اور (بکثرت) جھائو اور کچھ بیری کے درختوں والے تھے۔ ہم نے ان کی ناشکری کا یہ بدلہ انہیں دیا۔ ہم (ایسی) سخت سزا بڑے بڑے ناشکروں ہی کو دیتے ہیں۔ اور ہم نے ان کے اور ان بستیوں کے درمیان، جن میں ہم نے برکت دے رکھی تھی، چند بستیاں اور (آباد کر) رکھی تھیں جو برسر راہ ظاہر تھیں اور ان میں چلنے کی منزلیں مقرر کر دی تھیں،  ان میں راتوں اور دنوں کو بہ امن وامان چلتے پھرتے  رہو۔ لیکن انہوں نے پھر کہا کہ اے ہمارے پروردگار! ہمارے سفر دور دراز کر دے چونکہ خود انہوں  نے اپنے ہاتھوں اپنا برا کیا اسلئے ہم نے انہیں (گزشتہ) فسانوں کی صورت میں کر دیا اور ان کے ٹکڑے ٹکڑے اڑا دیئے۔ بلاشبہ ہر ایک صبر وشکر کرنے والے کیلئے اس (ماجرے) میں بہت سی عبرتیں ہیں۔‘‘ 
یہ واقعات اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ انسان کو اللہ تبارک وتعالیٰ کی ناشکری کے کاموں سے ہر صورت اعراض کرنا چاہیے تاکہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی گرفت سے بچا جا سکے۔ اللہ تبارک و تعالی نے اسی حقیقت کو سورۃ الانفال کی آیت:۵۳؍ میں کچھ یوں بیان فرمایا:’’اللہ ہرگز اس نعمت کو نہیں بدلتا جو اس نے کسی قوم کو دی ہو جب تک وہ خود اپنے دلوں کی حالت نہ بدلیں۔‘‘ دوسری جانب اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں اس بات کا بھی ذکر کیا کہ وہ لوگ جو ایمان اور شکر گزاری کے راستے پر رہتے ہیں، اللہ تعالیٰ اُن پر گرفت نہیں فرماتا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ النساء کی آیت ۱۴۷؍ میں ارشاد فرماتے ہیں:’’اللہ تمہیں سزا دے کر کیا کرے گا، اگر تم شکر گزاری کرتے رہو اور باایمان رہو، اللہ تعالیٰ بہت قدر کرنے والا اور پورا علم رکھنے والا ہے۔‘‘
اگر انسان اللہ تبارک وتعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرے تو نعمتوں کو دوام اور تسلسل حاصل ہوتا ہے اور انسان دنیا وآخرت میں اللہ تبارک وتعالیٰ کے انعامات کا حقدار بن جاتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۂ ابراہیم کی آیت۷؍ میں ارشاد فرماتے ہیں : ’’اور جب تمہارے پروردگار نے تمہیں آگاہ کر دیا کہ اگر تم شکر گزاری کرو گے تو بیشک میں تمہیں زیادہ دوں گا اور اگر تم ناشکری کرو گے تو یقیناً میرا عذاب بہت سخت ہے۔‘‘ ہمارے معاشرے میں بہت سے لوگ خوشحالی اور صحت کی زندگی گزارنے کے باوجود اللہ تبارک وتعالیٰ کا گلہ شکوہ کرتے ہیں جبکہ اس کے برعکس بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ تبارک وتعالیٰ کی ہر چھوٹی بڑی نعمت کا شکر ادا کرتے، زبان سے شکر ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ کی حمد کو بیان کرتے، مصائب اور تکالیف کے دوران بھی اس کی تعریف اور شکر کے راستے کو نہیں چھوڑتے اور اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کو درست طریقہ سے استعمال کرتے ہیں۔ ایسے لوگ درحقیقت اللہ تعالیٰ کی مزید نعمتوں کے حقدار بن جاتے ہیں۔ اس حوالے سے جامع ترمذی میں حضرت ابوسنان سے روایت ہے کہ میں نے اپنے بیٹے سنان کو دفن کیا اور ابوطلحہ خولانی قبر کی منڈیر پر بیٹھے تھے، جب میں نے (قبر سے باہر) نکلنے کا ارادہ کیا تو انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا: ابوسنان! کیا میں تمہیں بشارت نہ دوں؟ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں ضرور دیجیے، تو انہوں نے کہا: مجھ سے ضحاک بن عبدالرحمٰن بن عرزب نے بیان کیا کہ ابوموسیٰ اشعریؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ؐنے فرمایا:’’جب بندے کا بچہ فوت ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے پوچھتا ہے: تم نے میرے  بندے کے بیٹے کی روح قبض کر لی؟ تو وہ کہتے ہیں: ہاں! پھر فرماتا ہے: تم نے اس کے دل کا پھل لے لیا؟ وہ کہتے ہیں: ہاں! تو اللہ تعالیٰ پوچھتا ہے: میرے بندے نے کیا کہا؟ وہ کہتے ہیں: اس نے تیری حمد بیان کی اور انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے کیلئے   جنت میں ایک گھر بنا دو اور اس کا نام بیت الحمد رکھو۔‘‘جب ہم نبی کریمؐ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی زندگی کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ بات سمجھ آتی ہے کہ وہ تسلسل کے ساتھ اللہ تبارک وتعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کیا کرتے تھے۔  دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو نعمتوں کا شکر ادا کرنے والے لوگوں میں شامل فرمائے۔ آمین!

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK