• Sat, 10 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

دین اسلام کس قدر حسین ہے!

Updated: January 09, 2026, 5:01 PM IST | Muhammad Toqeer Rahmani | Mumbai

دین اسلام کی سب سے درخشاں خوبی یہ ہے کہ وہ انسان کو زندگی کے کسی موڑ پر بے سمت نہیں چھوڑتا۔ یہ محض احکام و پابندیوں کا مجموعہ نہیں  بلکہ ایک ایسا ہمہ گیر فکری اور روحانی نظام ہے جو عقل کو رہنمائی دیتا ہے، دل کو تسلی بخشتا ہے اور ارادے کو عمل کی قوت عطا کرتا ہے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این
دین اسلام کی سب سے درخشاں خوبی یہ ہے کہ وہ انسان کو زندگی کے کسی موڑ پر بے سمت نہیں چھوڑتا۔ یہ محض احکام و پابندیوں کا مجموعہ نہیں  بلکہ ایک ایسا ہمہ گیر فکری اور روحانی نظام ہے جو عقل کو رہنمائی دیتا ہے، دل کو تسلی بخشتا ہے اور ارادے کو عمل کی قوت عطا کرتا ہے۔ انسان جب حیرت، خوف، ناکامی یا اضطراب کے کسی مرحلے سے گزرتا ہے تو اسلام اسے محض صبر کا مشورہ نہیں دیتا بلکہ صبر کے پیچھے حکمت بھی واضح کرتا ہے، تاکہ انسان جان سکے کہ یہ آزمائش بے معنی نہیں بلکہ ایک بامقصد مرحلہ ہے۔
فلسفیانہ نگاہ سے دیکھا جائے تو اسلام انسان کے وجود کو عبث نہیں مانتا۔ جدید فلسفے کی ایک بڑی الجھن یہ ہے کہ وہ زندگی کے معنی پر سوال تو اٹھاتا ہے مگر حتمی جواب دینے سے قاصر رہتا ہے۔ کہیں وجود کو حادثہ کہا جاتا ہے اور کہیں انسان کو کائنات میں تنہا پھینک دیا گیا ایک مسافر۔ اس کے برعکس اسلام واضح کرتا ہے کہ انسان خالقِ حکیم کے ارادے سے وجود میں آیا ہے، اور اس کی زندگی ایک مربوط اخلاقی و معنوی مقصد رکھتی ہے۔ جب مقصد واضح ہو جائے تو الجھنیں کم ہو جاتی ہیں اور دکھ بھی معنی اختیار کر لیتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اسلام عقل کو اطمینان بخشتا ہے اور وجودی اضطراب کو معنویت میں بدل دیتا ہے۔
منطقی ترتیب کے اعتبار سے اسلام کی تعلیمات ایک مضبوط داخلی ربط رکھتی ہیں۔ عقیدہ، عبادت اور اخلاق یہ تینوں الگ الگ خانوں میں بند نہیں بلکہ ایک دوسرے سے علت و معلول کے رشتے میں جڑے ہوئے ہیں۔ عقیدہ انسان کے باطن کو درست کرتا ہے، عبادت اس عقیدے کو شعوری عمل میں ڈھالتی ہے، اور اخلاق اس عمل کو سماجی سطح پر ظاہر کرتا ہے۔ اگر کسی انسان کے اخلاق کمزور ہوں تو اسلام اس کی اصلاح محض ظاہری قانون سے نہیں بلکہ باطنی عقیدے کی تجدید سے کرتا ہے، کیونکہ منطق کا اصول یہی ہے کہ درست نتائج کے لیے اسباب بھی درست ہونے چاہئیں۔
اسلام انسانی عقل کو نہ تو مطلق آزاد چھوڑتا ہے اور نہ ہی اسے معطل کرتا ہے۔ عقل کو اتنی آزادی دی جاتی ہے کہ وہ کائنات میں غور کرے، سوال اٹھائے اور نتیجہ اخذ کرے، لیکن ساتھ ہی وحی کی روشنی کو وہ میزان قرار دیتا ہے جس سے عقل اپنی حدیں پہچان سکے۔ یہی توازن اسلام کو انتہاؤں سے محفوظ رکھتا ہے تاکہ انسان نہ عقل پرستی کی گمراہی اور نہ ہی اندھی تقلید کی تاریکی میں پھنسے۔ یہ نکتہ اسلام کی فکری خوبصورتی کا مرکز ہے۔
اسلام کی تعلیمات خشک فلسفہ نہیں بلکہ زندہ اسلوب رکھتی ہیں۔ قرآن انسان سے محض استدلال کی زبان میں نہیں بلکہ سوال، مثال، تمثیل اور مکالمے کے انداز میں گفتگو کرتا ہے۔ کبھی وہ انسان کو اپنی ہی ذات پر غور کی دعوت دیتا ہے، کبھی تاریخ کے آئینے میں قوموں کے عروج و زوال دکھاتا ہے، اور کبھی ایک چھوٹے سے عمل کو ابدی کامیابی سے جوڑ دیتا ہے۔ یہ اسلوب قاری کے ذہن کو جھنجھوڑتا ہے اور دل میں ایک خاموش چنگاری سلگا دیتا ہے کہ زندگی محض گزارنے کا نام نہیں بلکہ سنورنے کا عمل ہے۔
یوں دین اسلام کی خوبصورتی اس کی جامع رہنمائی میں جلوہ گر ہوتی ہے۔ یہ دین انسان کو مایوسی کے اندھیرے میں چھوڑ کر نہیں جاتا بلکہ ہر موڑ پر ایک چراغ رکھ دیتا ہےکبھی یقین کا، کبھی صبر کا، اور کبھی امید کا۔ اور یہی وہ حسن ہے جو قاری کے قلب و ذہن میں دیرپا اثر چھوڑتا ہے اور اسے محض سوچنے پر نہیں بلکہ بدلنے پر آمادہ کر دیتا ہے۔
ہمارا دین واقعی کس قدر حسین اور دل نواز ہے کہ وہ انسان کے ہر حال کو نفع میں بدل دیتا ہے۔ یہاں مسکراہٹ جیسی بظاہر معمولی کیفیت بھی بے قیمت نہیں رہتی، آپ کسی کے سامنے مسکراتے ہیں تو وہ محض چہرے کا تاثر نہیں بلکہ صدقہ بن جاتا ہے، گویا اسلام انسان کی خوش دلی کو بھی معاشرتی خیر میں تبدیل کر دیتا ہے۔ اگر انسان بیماری میں مبتلا ہوتا ہے تو یہ کیفیت محض جسمانی کمزوری نہیں رہتی بلکہ اس کے گناہوں کے جھڑنے یا درجات کے بلند ہونے کا ذریعہ بن جاتی ہے، تاکہ انسان یہ سمجھے کہ ربِّ کریم کے یہاں تکلیف بھی بے معنی نہیں ۔ اسی طرح صبر، جو انسانی نفس پر سب سے بھاری عمل ہے، اسلام میں محرومی کا نام نہیں بلکہ وعدۂ آسانی کا دروازہ ہے، کیونکہ یہ دین انسان کو بتاتا ہے کہ کٹھن مرحلہ آخری نہیں بلکہ اس کے بعد سہولت اور کشادگی مقدر ہے۔ پھر نیکی کا معاملہ دیکھیے کہ اسلام محض برابری کا سودا نہیں کرتا، بلکہ ایک نیکی کو دس گنا سے لے کر سات سو گنا بلکہ اس سے بھی زیادہ بڑھا دیتا ہے، تاکہ انسان کا دل خیر سے نہ تھکے اور اس کا حوصلہ کبھی مایوس نہ ہو۔ یوں اسلام زندگی کے ہر رنگ خوشی، غم، صحت، بیماری، آسانی اور دشواری کو اجر اور قربِ الٰہی سے جوڑ دیتا ہے، اور انسان کو یہ احساس دلاتا ہے کہ وہ کسی حال میں خسارے میں نہیں۔ یہی وہ دین ہے جو انسان کو شکر پر آمادہ کرتا ہے اور بے ساختہ زبان سے نکلتا ہے: الحمدلله حمداً کثيراً طيباً مبارکاً فیہ یعنی ایسی حمد جو کثیر بھی ہو، پاکیزہ بھی اور برکتوں سے لبریز بھی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK