Inquilab Logo Happiest Places to Work

قربانی ایک مکمل تربیتی نظام ہے!

Updated: May 22, 2026, 4:29 PM IST | Mudassir Ahmad Qasmi | Mumbai

قربانی اسلام کا ایک عظیم شعار اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی لازوال سنت ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے امتِ محمدیہ کے لئے عبادت، ایثار اور تقویٰ کی علامت بنایا۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

قربانی اسلام کا ایک عظیم شعار اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی لازوال سنت ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے امتِ محمدیہ کے لئے عبادت، ایثار اور تقویٰ کی علامت بنایا۔ بظاہر یہ ایک جانور ذبح کرنے کا عمل نظر آتا ہے، مگر حقیقت میں اس کے اندر روحانیت، بندگی، سماجی ہمدردی، معاشی توازن اور اخلاقی تربیت کے بے شمار پہلو پوشیدہ ہیں۔ قربانی انسان کو یہ درس دیتی ہے کہ اللہ کے حکم کے سامنے اپنی خواہشات، محبتوں اور مفادات کو قربان کر دینا ہی حقیقی ایمان ہے۔

قربانی کے فلسفے کو سمجھنا اور اس حوالے سے اس نکتے  پر غور کرنا ضروری ہے جو یہاں بیان کیا جاتا ہے:  جب اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں: ’’اپنے رب کے لئے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔‘‘ (الکوثر:۲) اس آیت میں نماز اور قربانی کو ایک ساتھ ذکر کرکے یہ واضح کیا گیا ہےکہ قربانی بھی ایک عظیم عبادت ہے۔ جس طرح نماز بندے کو اللہ سے جوڑتی ہے، اسی طرح قربانی انسان کے دل میں اخلاص اور اطاعت پیدا کرتی ہے۔ اسی کی بنیاد پرقربانی کا سب سے نمایاں پہلو حکم الٰہی پر سر تسلیم خم کرنا ہے جو ایک دوسری آیت سے مزید واضح ہے:  ’’جب دونوں  (حضرت ابرہیم و حضرت اسماعیل علیہما السلام) نے حکم مان لیا اور بیٹے کو پیشانی کے بل لٹا دیا۔‘‘ (الصافات:۱۰۳) اسی طرح قربانی کا مقصد بھی حضرت انسان کو روحانیت کے راستے پر گامزن کرنا ہے، جو اس آیت کا لب لباب ہے: ’’اللہ تک نہ تو ان کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون، بلکہ تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔‘‘(سورۃ الحج:۳۷) 

قربانی کے عقلی اور معاشرتی فوائد بھی بے شمار ہیں۔ قربانی کے ذریعے معاشرے کے غریب اور نادار افراد تک گوشت پہنچتا ہے، جس سے خوشی اور مساوات کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔ اسلام نے قربانی کے گوشت کو تقسیم کرنے کی تعلیم دی تاکہ معاشرے میں بھائی چارہ، محبت اور ہمدردی فروغ پائے۔ یہ عمل انسان کو خود غرضی سے نکال کر ایثار اور سخاوت کی طرف لے جاتا ہے۔

معاشی اعتبار سے بھی قربانی ایک بڑی حکمت رکھتی ہے۔ عیدالاضحی کے دنوں میں لاکھوں افراد کو روزگار ملتا ہے؛ مویشی پالنے والے، تاجر، مزدور، قصاب اور دیگر متعلقہ شعبے اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اس طرح قربانی معیشت کو حرکت دینے اور مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ قربانی کے بے شمار عملی فوائد بھی ہیں، جیسا کہ قربانی انسان کے اندر صبر، شکر اور فنائیت کا جذبہ پیدا کرتی ہے۔ جو شخص اللہ کی راہ میں اپنا مال خرچ کرتا ہے، وہ دراصل اپنے نفس کی تربیت کرتا ہے۔ وہ یہ سیکھتا ہے کہ مال و دولت انسان کا اصل مقصد نہیں بلکہ اصل کامیابی اللہ کی رضا  ہے۔ یہی جذبہ بعد میں انسان کو دین، ملت اور انسانیت کی خدمت کے لئے آمادہ اور تیار کرتا ہے۔

قربانی سے پیدا ہو ایثار!

قربانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ کامیابی صرف دولت جمع کرنے میں نہیں بلکہ اللہ کے لئے خرچ کرنے میں ہے۔ خلاصہ کے طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ قربانی ایک جامع عبادت ہے جو انسان کو روحانیت، تقویٰ، ایثار، اطاعت اور انسان دوستی کا درس دیتی ہے۔ اس طرح  یہ صرف ایک مذہبی رسم نہیں بلکہ ایک مکمل تربیتی نظام ہے، جو فرد اور معاشرے دونوں کی اصلاح کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قربانی کی حقیقی روح کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK