معلم کیلئے اللہ کے رسول ؐ کے اسوئہ تعلیمی کے دیگر پہلوئوں کے علاوہ آپؐ کا شگفتہ ادبی انداز، تمثیلی اور استعاراتی اسلو ب اور انسانی نفسیات سے ہم آہنگ لطیف لہجہ بہترین نمونہ ہے جو آپؐ کی حکمت ِ تدریس کا ایک منور گوشہ ہے۔
EPAPER
Updated: August 07, 2026, 4:26 PM IST | Dr. Mushtaqur Rahman Siddiqui | Mumbai
معلم کیلئے اللہ کے رسول ؐ کے اسوئہ تعلیمی کے دیگر پہلوئوں کے علاوہ آپؐ کا شگفتہ ادبی انداز، تمثیلی اور استعاراتی اسلو ب اور انسانی نفسیات سے ہم آہنگ لطیف لہجہ بہترین نمونہ ہے جو آپؐ کی حکمت ِ تدریس کا ایک منور گوشہ ہے۔
اسلامی معاشرہ میں تدریسی عمل ایک بے حس، جامد اور میکانکی عمل کا نام نہیں، جو ریڈیو، ٹی وی یا ٹیپ ریکارڈر کے ذریعے مطلوبہ معلومات منتقل کرتا رہے، بلکہ اسلامی معاشرہ میں استاد کونہایت ہی اہم اور ارفع مقام حاصل ہے۔ اگر صحیح طور پر تجزیہ کیا جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے معلّم ایک مقدس روحانی احساس کی مانند تعلیمی عمل کی باقی تمام چیزوں پر حاوی ہے۔ گویا آسان لفظوں میں ہم یہ بات اس طرح کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا معلّم، مقاصد تعلیم اور نصابِ تعلیم کے پہلو بہ پہلو محض ایک تیسری اکائی کا درجہ نہیں رکھتا بلکہ وہ خود ایسے اندازِ فکروعمل کا حامل ہوتا ہے جس میں مطلوبہ مقاصد کا رنگ جھلکتا ہے اور زیربحث نصاب کی خوشبو اس کی زندگی کے ہرپہلو میں رچی بسی ہوتی ہے۔
اُم المومنین حضرت عائشہؓ سے حضوؐر کے اخلاق کے بارے میں دریافت کیا گیا تو اُم المومنینؓ کا انتہائی مختصر لیکن مفہوم کے لحاظ سے جامع جواب یہ تھا: کَانَ خُلَقُہُ القُرآن، حضوؐر کا اخلاق تو عین قرآن تھا (صحیح البخاری)۔ گویا معلّم انسانیتؐ محض نصاب (قرآن) کی تفہیم نہیں فرما رہے تھے بلکہ خود اس نصاب کی تعلیمات کا عملی پیکر تھے۔ یہی وہ نکتہ ہے جو ایک مسلم سوسائٹی کے استاد کو پورے تعلیمی عمل کا انتہائی مؤثر اور کارگر جزو بنادیتا ہے۔
انسان کی فطرت کچھ اس طور واقع ہوئی ہے کہ وہ مجرد کتابی تعلیم سے کوئی غیرمعمولی فائدہ نہیں اُٹھا پاتا۔ اس کو علم کے ساتھ ایک انسانی معلّم اور رہنما کی بھی حاجت ہوتی ہے جو نہ صرف اپنی تعلیم سے اس علم کو دلوں میں بٹھا دے بلکہ وہ اس تعلیم کا مجسم بن کر اپنے عمل سے لوگوں میں وہ روح پھونک دے جو اس تعلیم کا حقیقی منشا ہے۔ آپ کو پوری انسانی تاریخ میں ایک مثال بھی ایسی نہ مل سکے گی کہ تنہا کسی کتاب نے انسانی معلّم کی ہدایت اور تعلیم کے بغیر کسی قوم کی ذہنیت اور زندگی میں انقلاب پیدا کیا ہو۔ جن رہنمائوں نے قوموں کے افکارو اعمال میں زبردست انقلاب پیدا کیے ہیں، اگر وہ خود اپنی تعلیم کا مکمل عملی نمونہ نہ ہوتے اور صرف ان کی تعلیمات اور ان کے اصول، کسی کتاب کی شکل میں شائع ہوجاتے، تو انسانی فطرت کا کوئی رازداں یہ دعویٰ کرنے کی جرأت نہیں کرسکتا تھا کہ محض اس کتاب سے وہی انقلاب رُونما ہوپاتے جو ان راہنمائوں کی عملی تعلیم سے ہوئے۔
تشبیہات، استعارات اور مثالوں کا استعمال
رسولؐ اللہ کی معلّمانہ حیثیت اور آپؐ کی حکمتِ تدریس اورآپؐ کے طرزِ تعلیم کا ایک ایک نکتہ ہمارے لئے منارئہ نُور ہے لیکن زیرنظر مضمون میں صرف حضوؐر کی حکمتِ تدریس کے ایک خاص گوشے کا تذکرہ کیا گیا ہے اور وہ ہے آپؐ کا ادیبانہ اسلوب اور تشبیہات و استعارات، نیز مثالوں کی مدد سے نفس مضمون کو زیادہ پُرکشش اور بامعنی بناکر پیش کرنا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ استاد کی شخصیت کی جامعیت میں حُسنِ بیان کا پہلو خاص اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔احترام، شفقت، محبت اور حکیمانہ انداز کے ساتھ زبان کی شگفتگی، جملوں کی متناسب ساخت، اندازِ بیان کا بانکپن، لہجے کا اُتار چڑھائو اور گفتگو کا شعری آہنگ، یہ سب ہی چیزیں بہت اہم ہیں۔ گویا استاد کا کام طلبہ کی تربیت و اصلاح، معلومات کی منتقلی اور اپنے مثالی کردار کی تاثیر کے ساتھ ساتھ یہ بھی ہے کہ وہ ٹھوس حقائق کو بے رنگ انداز میں بیان نہ کر ڈالے، بلکہ اپنی شگفتہ بیانی اور شیریں مقالی سے اپنے درس کو دلچسپ اور پُرکشش بھی بنائے۔
حضورؐ کی حکمتِ تدریس میں شیریں بیانی ایک بنیادی وصف کا درجہ رکھتی تھی۔ آپؐ اس حقیقت سے پوری طرح باخبر تھے کہ علم کا حصول اور علم کی منتقلی دو اہم عمل ہیں۔ چنانچہ آپؐ نے ربّ العزت کی عطا کردہ و تعلیم کردہ بصیرت سے کام لیتے ہوئے تدریس کی اسی حکمت عملی کو اپنایا جو خود خالق کائنات نے اپنی آخری نازل کردہ کتاب (قرآن کریم) میں ملحوظ رکھی۔ یعنی کائنات کے بنیادی حقائق کے اظہار کے لئےبیان کی شگفتگی، گزشتہ اقوام، نیز مختلف مظاہر کائنات کی مثالیں، روزمرہ زندگی سے تعلق رکھنے والی تشبیہات، بلیغ استعاروں کے برمحل استعمال سے اسلوب کی کشش، اور اس کے ساتھ ساتھ ہرفکری سطح کے انسانوں کو متوجہ رکھنے کے لئے بشارت اور وعید کا انداز۔
حضوؐر کی معلّمانہ حکمت عملی کے اس پہلو کے بارے میں جناب نعیم صدیقی نے اپنے معروف مقالہ ’محسن انسانیتؐ بحیثیت معلّم انسانیت‘ میں ان نکات کو واضح کیا ہے جو حضورؐ نے ایک ہمہ گیر تہذیبی انقلاب اور تعلیمی تحریک کے لئے اپنے پیش نظر رکھے۔ بقول نعیم صدیقی قرآن کریم میں حضوؐر کیلئے معلّمانہ ذمہ داری کو بلاغِ مبین سے مقید کیا گیا ہے۔ یعنی وضاحت سے بات پہنچا دینا اور تفہیم کا حق ادا کردینا ہر سچّے معلم کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ حضوؐر نے اپنے مخاطب گروہ کی توجہات کو اپنی بات کی طرف مرتکز کرنے کیلئے مختلف مؤثر صورتیں اختیار فرمائیں، مثلاً کبھی چونکا دینے والی کسی بات سے آغازِ کلام کیا ۔ کبھی سوال سے گفتگو شروع فرمائی، کبھی کوئی حیرت زدہ منظر ذہنوں کے سامنے آراستہ فرما یا، یعنی حکمت حضورؐ کے طریق تدریس کا بنیادی نکتہ تھی۔ اس ضمن میں قرآن حکیم نے آپؐ کی اس طرح رہنمائی فرمائی:
’’اے نبیؐ! اپنے ربّ کے راستے کی طرف دعوت دو حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ اور لوگوں سے مباحثہ کرو ایسے طریقہ پر جو بہترین ہو۔ ‘‘ (النحل :۱۲۵)
گویا قرآن حکیم نے جس تعلیمی حکمت عملی پر زور دیا ہے، اس کے تین اساسی اصول ہیں:
نمبر۱: حکمت، نمبر۲: نصیحت، نمبر۳: جدال اَحسن۔
سورئہ عنکبوت میں اللہ تعالیٰ نے اس ہدایت کو ایک اور پیرائے میں اس طرح بیان فرمایا ہے:’’اور اہل کتاب سے بحث نہ کرو مگر عمدہ طریقہ سے، سوائے اُن لوگوں کے جو اِن میں سے ظالم ہوں۔‘‘ (العنکبوت :۴۶)
اس آیت کی تشریح میں مفسرین لکھتے ہیں: مباحثہ معقول دلائل کے ساتھ مہذب و شائستہ زبان میں اور افہام و تفہیم کی اسپرٹ میں ہونا چاہئے، تاکہ جس شخص سے بحث کی جارہی ہو اس کے خیالات کی اصلاح ہوسکے۔ مبلغ کو فکر اس بات کی ہونی چاہئے کہ وہ مخاطب کے دل کا دروازہ کھول کر حق بات اس میں اُتار دے اور راہِ راست پر آنے میں اس کی مدد کرے۔
یہ ہدایت اس مقام پر تو موقع کی مناسبت سے اہل کتاب کے ساتھ مباحثہ کرنے کے معاملہ میں دی گئی ہے مگر یہ ہدایت اہلِ کتاب کے لئے مخصوص نہیں ہے بلکہ تبلیغ دین کے باب میں ایک عام ہدایت ہے جو قرآن مجید کی متعدد آیات میں دی گئی ہے، مثلاً:
’’ نیکی اور بدی برابر نہیں ہو سکتے، اور برائی کو بہتر (طریقے) سے دور کیا کرو، تم دیکھو گے کہ تمہارے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی تھی وہ جگری دوست بن گیا ہے۔‘‘ ( حم السجدہ: ۳۴)
’’(اے حبیبِ مکرّم!) آپ درگزر فرمانا اختیار کریں، اور بھلائی کا حکم دیتے رہیں اور جاہلوں سے کنارہ کشی اختیار کرلیں ۔‘‘(الاعراف :۱۹۹)
پس مؤثر تدریس کیلئے یہ ضروری ہے کہ استاد ایسا اسلوب اختیار کرے جو درج بالا اساسی اصولوں کا حامل ہو ، کیونکہ اس کے بغیر اعلیٰ نصب العین کا حصول ممکن نہیں۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب قرآنِ مجید کا مخصوص اسلوب اسلام کی ترویج و ترقی میں بے حد مؤثر ثابت ہوا۔ چنانچہ حضوؐر کا انداز بھی ان ہی نکات سے آراستہ تھا اور حکیم مطلق نے جو طریقِ ہدایت اپنی عظیم کتاب میں اختیار فرمایا تھا اسی کی پیروی سیّدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی فرماتے تھے۔ آپؐ کی گفتگو، ادبی لطافتوں، بلیغ استعاروں اور خوب صورت مثالوں سے اس انداز میں گلے ملتی تھی کہ معنی و مفہوم کی گرہیں کھلتی چلی جاتی تھیں اور مخاطب اس کا اثر لئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔
حضورؐ کے تشبیہاتی انداز : چند مثالیں
*ایک دفعہ آپؐ نے صحابہؓ سے پوچھا: ’’تم اپنے میں سے زورآور کسے کہتے ہو؟ صحابہؓ نے عرض کیا: جسے لوگ کشتی میں پچھاڑ نہ سکیں۔ آپؐ نے فرمایا : نہیں، یہ زورآور نہیں۔ زورآور وہ ہے جو غصے میں اپنے نفس کو قابو میں رکھے۔‘‘ (صحیح مسلم)
* ایک اور موقع پر استاد کے لئے باعمل اور صاحبِ کردار ہونے کی اہمیت اس بلیغ تشبیہ کے ذریعے بیان فرمائی: ’’عالم بے عمل اس چراغ کی مانند ہے جو دوسروں کو تو روشنی پہنچاتا ہے لیکن خود کو جلاتا رہتا ہے۔‘‘ (المعجم الکبیر للطبرانی)
* ’’ایک مسلمان دوسرے مسلمان کیلئے عمارت کی طرح ہوتا ہے، جو ایک دوسرے کے لئے مضبوطی اور قوت کا باعث ہوتا ہے۔ ‘‘پھر آپؐ نے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر لوگوں کو دکھایا۔ (صحیح البخاری)
* ’’اللہ کی عظمت اور ہیبت سے کسی بندئہ مومن کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑیں اگرچہ وہ مقدار میں مکھی کے سر کے برابر ہو (یعنی ایک قطرہ کے بقدر ہو) پھر وہ بہہ کر اس کے چہرے پر پہنچ جائے تو اللہ تعالیٰ اس چہرہ پر آتشِ دوزخ کو حرام کردے گا، ان شاء اللہ۔ (سنن ابن ماجہ)
* ’’غصہ شیطان کی (اُکساہٹ کی) وجہ سے ہوتا ہے اور شیطان آگ سے پیدا کیا گیا ہے اور آگ کو پانی ٹھنڈا کرسکتا ہے۔ لہٰذا اگر تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو اس کوچاہئے کہ وہ وضو کرے۔‘‘ (مسند احمد)
* ’’غیبت اور چغل خوری ایمان کو اس طرح جھاڑ کر رکھ دیتی ہیں جس طرح چرواہا پتوں والی ٹہنی کو جھاڑ دیتا ہے۔ ‘‘(الترغیب والترہیب للاصبہانی،سنن ابوداؤد)
* ’’اللہ کی قسم! دُنیا آخرت کے مقابلے میں ایسی ہی ہے جیسے تم میں سے کوئی شخص سمندر میں انگلی ڈالے اور اس کے بعد یہ دیکھے کہ وہ کتنا پانی لے کر لوٹتی ہے‘‘۔ (جامع الترمذی)
* ایک بار آپؐ نے خشیت الٰہی کے نکتے کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا:
’’جب اللہ تعالیٰ کی عظمت اور ہیبت سے کسی بندے کے رونگٹے کھڑے ہوجائیں تو اس وقت اس کے گناہ ایسے جھڑتے ہیں جیسے کسی پرانے سوکھے درخت کے پتّے جھڑ جاتے ہیں‘‘۔ (مسند البزاز)