• Mon, 21 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اٹلی: اسکولوں میں برقع پر پابندی کی تجویز، غیر ملکی طلبہ کی تعداد بھی محدود ہوگی

Updated: September 21, 2026, 6:05 PM IST | Rome

اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی نے کابینہ میں نیا قانون پیش کرنے کا اعلان کیا؛ غیر ملکی طلبہ کے والدین کے لیے بعض صورتوں میں اطالوی زبان سیکھنا بھی لازمی ہوگا۔

Giorgia Meloni. Photo: INN
جارجیا میلونی۔ تصویر: آئی این این

اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے اسکولوں میں برقع اور نقاب پر پابندی اور ہر جماعت میں غیر ملکی طلبہ کی تعداد محدود کرنے کے لیے نئے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ میلونی نے کہا کہ ان کی حکومت اس سلسلے میں جلد ہی کابینہ کے سامنے ایک تجویز پیش کرے گی۔ تاہم یہ اقدامات ابھی قانون نہیں بنے ہیں اور غیر ملکی طلبہ کی فی جماعت زیادہ سے زیادہ تعداد بھی فی الحال طے نہیں کی گئی ہے۔ میلونی نے اتوار کو روم میں اپنی جماعت برادرز آف اٹلی کی نوجوان شاخ کے سالانہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجوزہ اقدام کے تحت ہر جماعت میں غیر ملکی طلبہ کی ایک قانونی حد مقرر کی جائے گی۔ ان کے مطابق ایسے غیر ملکی طلبہ کے والدین، جن کے بچوں کو اطالوی اسکول نظام میں انضمام کے حوالے سے ’’سنگین مشکلات‘‘ کا سامنا ہو، انہیں اطالوی زبان سیکھنے کی کلاسوں میں شرکت کرنا ہوگی۔

یہ بھی پڑھئے: مسجد الحرام کے مؤذن شیخ ابراہیم المدنی انتقال کر گئے

میلونی نے کہا، ’’جو شخص اٹلی آتا ہے اور یہاں اپنا مستقبل بنانا چاہتا ہے، اسے ہماری زبان سیکھنی، ہماری ثقافت سمجھنی اور ہمارے قوانین کا احترام کرنا ہوگا۔‘‘ ان کے مطابق انضمام کے لیے یہی سنجیدہ راستہ ہے۔ مجوزہ پابندی میں برقع اور نقاب شامل ہیں، جبکہ میلونی نے حجاب کا ذکر نہیں کیا۔ برقع پورے چہرے سمیت جسم کو ڈھانپتا ہے، جبکہ نقاب میں عموماً آنکھیں نظر آتی ہیں۔ میلونی نے کہا کہ اسکول میں طلبہ کو چہرہ کھلا رکھنا چاہیے اور کسی روایت کی بنیاد پر کسی لڑکی کو اپنا چہرہ چھپانے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ غیر ملکی طلبہ کی تعداد محدود کرنے کی تجویز کے حوالے سے میلونی نے کوئی مخصوص فیصد یا عدد نہیں بتایا۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اٹلی کے اسکولوں میں اطالوی شہریت نہ رکھنے والے طلبہ کی تعداد تعلیمی سال ۲۵۔۲۰۲۴ء میں کل طلبہ کا ۶ء۱۱؍ فیصد تھی، یعنی تقریباً ہر ۱۰۰؍ طلبہ میں ۱۲؍ غیر اطالوی شہری تھے۔ سرکاری اعداد سے متعلق ایک اطالوی تحقیقی جائزے کے مطابق ایسے طلبہ کی مجموعی تعداد ۱۳۹۳۲۳؍ تھی۔

یہ بھی پڑھئے: دبئی: حکمراں شیخ محمد کے بھائی شیخ احمد بن راشد آل مکتوم کا انتقال،۱۰؍ روزہ سوگ

دلچسپ بات یہ ہے کہ اٹلی میں غیر اطالوی طلبہ کی تعداد کے حوالے سے پہلے ہی ایک ۳۰؍ فیصد حد موجود ہے، جو ۲۰۱۰ء کی وزارتِ تعلیم کی ہدایات سے متعلق ہے۔ تاہم مقامی آبادی اور اسکولوں کی صورتحال کے باعث اس حد پر عمل درآمد ہر جگہ یکساں نہیں رہا۔ میلونی کی نئی تجویز اسی معاملے کے لیے قانونی سطح پر زیادہ واضح حد مقرر کرنے کی کوشش ہے۔ میلونی نے ایک جماعت میں غیر ملکی طلبہ کی تعداد محدود کرنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی جماعت میں صرف ایک ایسا بچہ ہو جو اطالوی زبان نہیں سمجھتا تو اساتذہ اور دوسرے طلبہ کی مدد سے وہ زبان سیکھ سکتا ہے، لیکن اگر ایسے بچوں کی تعداد بہت زیادہ ہوجائے یا وہ اکثریت میں ہوں تو ان کے الفاظ میں یہ انضمام کے بجائے ’’نظرانداز کرنا‘‘ ہوگا۔ 

یہ بھی پڑھئے: فلسطینی صحافی بشریٰ الطویل کی قید تنہائی کے ایک ماہ مکمل، حقوق انسانی کے اداروں کا اظہار تشویش

مجوزہ قانون میں شامل اقدامات کو نافذ ہونے کے لیے پارلیمانی منظوری درکار ہوگی۔ موجودہ طریقۂ کار کے مطابق حکومت کی منظوری کے بعد ایسے حکومتی اقدام کو ۶۰؍ دن کے اندر پارلیمنٹ سے منظور ہونا ضروری ہوگا، ورنہ وہ قانون کی حیثیت برقرار نہیں رکھ سکے گا۔ اٹلی میں مذہبی لباس اور چہرہ ڈھانپنے کے معاملے پر پہلے سے قانونی بحث موجود ہے۔ ۱۹۷۵ء کے ایک قانون کے تحت ایسے لباس یا اشیا پر پابندی ہے جو کسی جائز وجہ کے بغیر شناخت مشکل بنائیں، جبکہ ۲۰۰۸ء کی عدالتی تشریح میں مذہبی یا ثقافتی وجوہات کی صورت میں چہرہ ڈھانپنے کی گنجائش تسلیم کی گئی تھی، البتہ شناخت کی تصدیق کے وقت چہرہ ظاہر کرنا ضروری قرار دیا گیا۔ میلونی کی حکومت کی نئی تجویز ایسے وقت سامنے آئی ہے جب اٹلی میں نقل مکانی اور تارکین وطن کے انضمام کا معاملہ سیاسی بحث کا اہم موضوع بنا ہوا ہے۔ حکومت کی جانب سے اسکولوں کو زبان، ثقافتی انضمام اور مذہبی علامات سے متعلق پالیسی کا مرکز بنایا گیا ہے، جبکہ مجوزہ اقدامات کی حتمی شکل کابینہ اور اس کے بعد پارلیمانی کارروائی میں طے ہوگی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK