• Mon, 21 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

حضرت بلالؓ کی تین اذانیں

Updated: September 21, 2026, 4:24 PM IST | Maulana Abul Bayan Hammad Umri | Mumbai

حضرت بلالؓ ایک جلیل القدر صحابی اور نبی کریمﷺ کے خادم خصوصی تھے۔ حبشہ کے رہنے والے تھے اس لئے آپ کے نام بلال کے ساتھ حبشی کہا جاتا ہے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

حضرت بلالؓ ایک جلیل القدر صحابی اور نبی کریمﷺ کے خادم خصوصی تھے۔ حبشہ کے رہنے والے تھے اس لئے آپ کے نام بلال کے ساتھ حبشی کہا جاتا ہے۔ بعثت نبوی کے آغاز میں آپ امیہ بن خلف کے غلام تھے۔ جیسے ہی کلمہ حق آپؓ نے سنا  اور اسلام کی دعوت سے روشناس ہوئے فورا ًہی اس پر لبیک کہا اور اسلام قبول کرلیا۔ ظالم آقا اطلاع ملتے ہی مشتعل ہو گیا۔ کیونکہ اسے دین حق اورنبیؐ کریم کی ذات گرامی سے شدید بغض تھا۔ حضرت بلالؓ کو اسلام سے برگشتہ کرنے کیلئے اس نے ہر طرح کے مظالم ڈھائے،  کبھی چلچلاتی دھوپ میں انہیں بٹھا دیا گیا، کبھی جلتی ہوئی ریت پر انہیں لٹا کر ان کے جسم پر پتھر رکھ دیا گیا تاکہ آپؓ  حرکت بھی نہ کر سکیں، کبھی ان کے گلے میں رسی ڈال کر رسی اوباش نوجوانوں کے ہاتھوں میں تھما دی گئی  کہ ان کو تپتی ہوئی کنکریوں پر گھیٹتے پھریں۔

ان سب مصائب و آلام کے باوجود ان کی زبان سے صرف’’احد احد‘‘ ہی کا نعرہ نکلتا تھا۔ ظلم و ستم کا یہ حال زار حضرت ابوبکر صدیقؓ سے دیکھا نہیں گیا، انہوں نے منہ مانگی قیمت دے کر حضرت بلال کو خرید لیا اور اللہ کے راستے میں آزاد کر دیا۔ چنانچہ جس دن حضرت بلالؓ کا انتقال ہوا  اس دن حضرت عمر فاروقؓ نے نہایت رنج و الم کے ساتھ اپنے تاثرات کا اظہار اس طرح فرمایا  تھا: ’’اعتق سیدنا سیدنا مات الیوم سیدنا‘‘ یعنی ہمارے ایک آقا (ابوبکر صدیقؓ) نے ہمارے ایک اور آقا (حضرت بلالؓ) کو آزاد کیا۔ آج ہمار ے آقا دنیائے فانی سے رخصت ہو گئے۔ یوں تو حضرت بلالؓ کی بہت سی خصوصیات ہیں لیکن اُن کی امتیازی خصوصیت یہ تھی کہ انہیں اللہ کے رسولؐ کا موذن ہونے کا اعزاز حاصل تھا۔

یہ بھی پڑھئے:فتاوے: ماں باپ کے ترکہ میں تمام لڑکے لڑکیاں سہام شرعیہ کے مطابق حقدار ہوتے ہیں

بلالؓ کا مرتبہ!

نبیؐ کریم جب سفر معراج سے واپس تشریف لائے تو حضرت بلالؓ سے دریافت فرمایا کہ معراج کے موقع پر جب میں جنت کا مشاہدہ کر رہا تھا تو اپنے سامنے تمہارے قدموں کی چاپ سن رہا تھا اور مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ میں جہاں سے بھی گزرتا تھا تم میرے سامنے جا رہے تھے، آخر تمہارے پاس ایسا حسن عمل اور کار خیر کون سا ہے؟ حضرت بلالؓ نے جواب دیا کہ میں وہی عمل کرتا ہوں جس کا اللہ نے حکم دیا ہے اور آپ ؐنے ہدایت فرمائی ہے۔ البتہ آپؐ ہی کی ہدایت کی روشنی میں ایک نفل عبادت کا التزام ضرور کرتا ہوں وہ یہ کہ میں ہمیشہ باوضو رہنے کی کوشش کرتا ہوں۔ جب بھی میرا وضو ختم ہوجاتا ہے، میں وضو کر لیتا ہوں او روضو کے بعد تحیۃ الوضو کے طور پر دو رکعت نماز بھی پڑھ لیتا ہوں۔

بلال ؓ کی پہلی اذان

ہجرت کے بعد جب نماز کیلئے بلانے کے طریقے پر مشورہ کیا گیا تو حضرت عبداللہ بن زید ؓکا خواب سن کر حضورؐ نے فرمایا کہ  یہ اللہ کی طرف سے ہے اور اسی طریقے کو پسند فرماتے ہوئے حضرت بلالؓ کو اذان دینے کا حکم دیا۔ آپؓ نے مسجد نبویؐ کے ایک بلند مقام پر تاریخ اسلام کی پہلی  اذان دی جو حضرت بلالؓ کی پہلی یادگار اذان بھی قرار پائی۔ صبح کے سناٹے میں حضرت بلالؓ اذان دینے لگے تو اذان دیتے ہوئے خود بھی مسحور و مسرور ہو رہے تھے اور مدینہ منورہ کی فضاؤں کو بھی مست و مخمور کر رہے تھے۔ 

یہ بھی پڑھئے: محبت اور عقیدت: مفہوم، فرق اور آداب

کلمات اذان کی صدائے دلنواز سن کر صحابہ کرامؓ پر سرشاری طاری تھی۔ اُن کے دلوں میں بھی  ہلچل تو  مچی ہوئی ہی تھی، اہل کتاب اور منافقین بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے۔ لیکن یہ تاثر ان کے پتھر جیسے دلوں کو پگھلا نہیں سکا ۔ وہ کسی اور فکر اور پریشانی میں تھے۔  یہ سوچ کر ان کی جھنجھلاہٹ اور بڑھ گئی کہ کہیں اذانِ بلال دعوت ِحق کے فروغ اور اشاعت ِاسلام کا ایک اور ذریعہ نہ بن جائے۔ ان کا یہ اندیشہ غلط بھی نہیں تھا کیونکہ بعض سلیم الفطرت لوگ اذان سن کر حلقہ بگوش اسلام ہوئے بغیر نہیں رہ سکے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK