• Mon, 21 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندی سنیما میں مسلم کرداروں کی عکاسی کے ۴؍ بڑے رجحانات ہیں: ملی گزٹ

Updated: September 21, 2026, 10:03 PM IST | New Delhi

۴؍ ستمبر ۲۰۲۶ء کو ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا کی تقریب میں معروف فلمساز تگمانشو دھولیا نے کہا کہ مسلم مخالف پروپیگنڈا معاشرے میں ’’کینسر کی طرح‘‘ بڑھ رہا ہے۔ اسی پس منظر میں ملی گزٹ نے گزشتہ دنوں ایک تحقیقی رپورٹ جاری کی ہے جس کے نتائج تشویشناک ہے۔

Ranveer Singh in the role of Alauddin Khilji in the film Padmaavat. Photo: INN.
فلم پدماوت میں رنویر سنگھ علاء الدین خلجی کے کردار میں۔ تصویر: آئی این این

ہندوستانی فلمی صنعت میں مسلم کرداروں کی عکاسی اور سنیما میں مبینہ طور پر بڑھتی ہوئی اسلاموفوبیا پر نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔ فلم ساز تگمانشو دھولیا نے ۴؍ ستمبر کو نئی دہلی میں ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا کی راجندر ماتھر میموریل لیکچر میں کہا کہ فلمساز بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں جہاں ان کے بقول مسلم مخالف پروپیگنڈا ’’کینسر کی طرح‘‘ بڑھا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معاشرے کے بدلتے سیاسی اور سماجی ماحول کا اثر اسکرین پر دکھائی دینے والی کہانیوں پر بھی پڑتا ہے۔ تگمانشو دھولیا نے یہ بھی کہا کہ بالی ووڈ کو طویل عرصے سے ہندوستان کی تکثیریت اور تنوع کی نمائندگی کرنے والی صنعت کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے، لیکن ان کے مطابق مسلم کرداروں کو بعض فلموں میں مخالف، دہشت گرد یا باہر سے آئے ہوئے عناصر کے طور پر پیش کیے جانے کا رجحان موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فلم ساز معاشرے سے الگ نہیں ہوتے، اس لیے سماجی تبدیلیاں فلموں کی کہانیوں میں بھی منعکس ہوتی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: آسام: ۱۴۰۰؍مسلم خاندانوں سےخالی کرائی گئی زمین پر اڈانی پاور پروجیکٹ شروع

اسی موضوع پر ملی گزٹ میں شائع ایک تجزیے نے ہندی سنیما میں مسلم کرداروں کی عکاسی کے ۴؍ بڑے رجحانات کی نشاندہی کی ہے۔ تجزیے کے مطابق پہلے رجحان میں مسلمانوں کو دہشت گردی، شدت پسندی، سرحد پار دہشت گردی یا انتہاپسندی سے جوڑ کر دکھایا جاتا ہے۔ دوسرے میں پاکستان کو مرکزی مخالف کے طور پر پیش کرنے والی حب الوطنی پر مبنی فلمیں شامل ہیں۔ تیسرے رجحان میں تاریخی اور عہدِ وسطیٰ کی کہانیوں میں مسلم حکمرانوں کو منفی کرداروں کے طور پر پیش کرنے اور ان کے مقابل مقامی مزاحمت کو ہیرو بنا کر دکھانے کا ذکر کیا گیا ہے، جبکہ چوتھے زمرے میں وہ فلمیں آتی ہیں جو ان تینوں میں براہِ راست شامل نہیں ہوتیں۔ واضح رہے کہ یہ درجہ بندی ملی گزٹ کے تجزیے کی ہے، کوئی سرکاری یا صنعت گیر درجہ بندی نہیں۔

تجزیے میں ’روجا‘، ’سرفروش‘، ’فِضا‘، ’قربان‘، ’اُڑی: دی سرجیکل اسٹرائیک‘، ’۷۲؍ حوریں‘، ’سوریاونشی‘، ’دی کشمیر فائلز‘ اور ’دی کیرالہ اسٹوری‘ سمیت متعدد فلموں کا حوالہ دیا گیا ہے۔ مضمون میں دلیل دی گئی ہے کہ ان فلموں کے موضوعات الگ الگ ہیں، لیکن بعض فلموں میں مسلم شناخت، دہشت گردی، انتہاپسندی یا قومی سلامتی کے درمیان تعلق بار بار سامنے آتا ہے۔ تجزیے کے مطابق ہندی سنیما میں اس نوعیت کی کہانیوں میں تبدیلی کو صرف ایک سیاسی دور سے جوڑنا درست نہیں ہوگا۔ مضمون میں ۱۹۹۰ء کی دہائی کے بعد سوویت یونین کے انہدام، ہندوستان کی معاشی اصلاحات، رام جنم بھومی تحریک، کشمیر کے تنازع اور ہندوستان پاکستان کشیدگی جیسے سیاسی و جغرافیائی عوامل کا ذکر کیا گیا ہے۔ مصنف کے مطابق ان تبدیلیوں نے مسلم شناخت کو بعض فلمی کہانیوں میں مخالف کردار کے زاویے سے دیکھنے کے لیے ماحول فراہم کیا۔

یہ بھی پڑھئے: ذات پات کا امتیاز ایسا داغ جسے قوانین نہیں، انفرادی رویے ہی مٹا سکتے ہیں: ہوسبلے

مضمون میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ۲۰۱۴ء میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد سیاسی تقسیم اور اکثریتی سیاست سے متعلق مباحث کا اثر مرکزی دھارے کی ہندی فلموں میں زیادہ نمایاں ہوا۔ تاہم یہ ایک تجزیاتی مؤقف ہے؛ اسے فلمی صنعت کے تمام فلم سازوں یا تمام ہندی فلموں پر لاگو ہونے والی ثابت شدہ حقیقت کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا۔مسلم کرداروں سے متعلق ایک اور اہم پہلو تاریخی فلموں کا ہے۔ ملی گزٹ نے ’پدماوت‘، ’تاناجی‘، ’سمراٹ پرتھوی راج‘ اور ’چھاوا‘ جیسی فلموں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ تاریخی تنازعات کو بعض اوقات ہندومسلم تصادم کے سادہ فریم میں پیش کیا جاتا ہے۔ تاہم تاریخی فلموں میں تخلیقی آزادی، ڈرامائی تشکیل اور تاریخی واقعات کی تعبیر کے درمیان فرق بھی موجود رہتا ہے، اس لیے کسی فلم کی سیاسی یا فرقہ وارانہ تعبیر کو فلم ساز کے ارادے کے برابر نہیں سمجھا جاسکتا۔

تجزیے میں ’لو جہاد‘ اور جبری تبدیلی مذہب جیسے موضوعات کو بھی موجودہ ہندی سنیما کے بعض بیانیوں سے جوڑا گیا ہے۔ مضمون کا دعویٰ ہے کہ ایسے موضوعات مسلم کرداروں کے بارے میں منفی تصورات کو تقویت دے سکتے ہیں۔ اسی طرح بعض سیاسی طور پر حساس فلموں کو حکومت کی جانب سے ٹیکس میں چھوٹ ملنے کے معاملے کو بھی مضمون نے تنقید کا موضوع بنایا اور اسے بعض تاریخی دعووں یا سازشی نظریات کو سرکاری جواز ملنے سے تعبیر کیا۔ یہ بھی مضمون کے مصنف کا تجزیہ ہے، نہ کہ کسی سرکاری تحقیق کا حتمی نتیجہ۔ تگمانشو دھولیا کی تقریر میں تاہم ایک مختلف نکتہ بھی سامنے آیا۔ ایڈیٹرز گلڈ کے مطابق سوال و جواب کے دوران انہوں نے کہا کہ کسی فلم کی نظریاتی سمت سے زیادہ اس کی کامیابی کا انحصار فنی معیار اور مواد پر ہوتا ہے۔ ان کے مطابق محض نظریہ کسی فلم کو نہیں چلاتا؛ فلم کے لیے مضبوط فن اور مؤثر مواد بھی ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھئے: راہل کے پروگرام میں پی ایم مودی کی نقل اتارنے والے کامیڈین کے ۳؍ شوز منسوخ

ہندی سنیما میں مسلم کرداروں کی نمائندگی پر جاری یہ بحث اس سوال تک پہنچتی ہے کہ مقبول فلمیں معاشرے کے پہلے سے موجود تصورات کی صرف عکاسی کرتی ہیں یا انہیں مزید مضبوط بھی کرتی ہیں۔ اس معاملے میں فلم سازوں، ناقدین اور سماجی تجزیہ کاروں کے درمیان رائے مختلف ہے، لیکن تگمانشو دھولیا کی حالیہ گفتگو نے اس موضوع کو ایک بار پھر ہندوستانی فلمی صنعت کی اندرونی بحث کا حصہ بنا دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK