آج سے بیس تیس برس پہلے تک معاشرے میں نیکی کا حکم دینے کااور برائی سے روکنے کا کام عام طور پر ایک بہت چھوٹا طبقہ کرتا تھا۔ ایسے لوگوں کی تعداد بہت کم ہواکرتی تھی۔ اس لئے کہ اس زمانے میں نیکی کا حکم اور برائی سے روکنا صرف تقریر اور تحریر سے ہی ممکن تھا۔
آج سے بیس تیس برس پہلے تک معاشرے میں نیکی کا حکم دینے کااور برائی سے روکنے کا کام عام طور پر ایک بہت چھوٹا طبقہ کرتا تھا۔ ایسے لوگوں کی تعداد بہت کم ہواکرتی تھی۔ اس لئے کہ اس زمانے میں نیکی کا حکم اور برائی سے روکنا صرف تقریر اور تحریر سے ہی ممکن تھا۔ ان دعوت دینے والوں میں بڑے بوڑھے لوگ اور مذہبی شخصیات شامل ہوتی تھیں جو سارے معاشرے میں قابل احترام سمجھی جاتی تھیں اس لئے ان کی کہی ہوئی چھوٹی سی بات بھی لوگوں پر بہت اثر اندازہوتی تھی۔
لیکن پھر وقت بدلا، حالات بدلے اور آلات بدلے۔ آلات سے مراد موبائیل آیا، پھر سوشل میڈیا کا دور آیا اور ہر آدمی کے پاس اب یہ اختیار آیا کہ وہ جو پیغام چاہے اس کو دوسروں تک پہنچا سکے۔ سوشل میڈیا پر جہاں دیگر پیغامات کی ترسیل ہوتی رہی، وہیں دینی و اسلامی پیغامات کا بھی آغاز ہوا اور اب قرآنی آیات، احادیث ِ مبارکہ، اسلامی بیانات کے ویڈیوز اور اقوال وغیرہ روزانہ ہمیں موصول ہوتے ہیں۔
دینی پیغامات ایک دوسرے کو بھیجنا دراصل نیکی کا حکم کرنا اور برائی سے روکنا ہے۔ اسلام اس سلسلے میں نہایت واضح تعلیمات رکھتا ہے کہ جو بات ہم دوسروں تک پہنچا رہے ہیں، اولاً ہم خود بھی اس پر عمل کرنے والے ہوں۔ یہی تو انسانی فطرت بھی ہے کہ اگر کوئی شخص ہمیں نماز کی دعوت دے اور وہ خود نماز نہ پڑھتا ہو، تو ہم اس سے اور اس کی باتوں سے متنفر ہوجاتے ہیں۔ یہ عین انسانی مزاج کے مطابق بات ہے کہ انسان جس اچھی بات کا پیغام دوسروں تک پہنچائے وہ خود بھی اس پرعمل کرنے والا ہو۔
اور اگر معاملہ اس کے بالکل برعکس ہو تو ایسا انسان معاشرہ میں ناقابل اعتبار ٹھہرتا ہے، اور اس کی بات کو اہمیت نہیں دی جاتی۔ قرآن مجید میں ایسا کرنے والوں کو سخت تنبیہ کی گئی ہے۔ اللہ عزوجل نے ارشاد فرماتا ہے:’’اے ایمان والو! تم وہ باتیں کیوں کہتے ہو جو تم کرتے نہیں ہو۔ اللہ کے نزدیک بہت سخت ناپسندیدہ بات یہ ہے کہ تم وہ بات کہو جو خود نہیں کرتے۔ ‘‘
ہر مسلمان کو اس کا ادراک ہونا چاہئے کہ اللہ عزوجل کو یہ بات سخت ناپسند ہے کہ ہم ایسی بات کہیں جس پر ہم خود عمل کرنے والے نہ ہوں۔ یعنی ہماراظاہر کچھ ہواور باطن کچھ ہو۔ نیکی کے معاملے میں تو ضروری یہ ہے کہ جو شخص اس کا حکم دے رہا ہو، وہ خود سب سے پہلے اس عمل کو عزیز رکھتا ہو۔ زبان سے کہنے میں تو پھر بھی انسان کو یہ احساس ضرور ہوتا ہے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے، یالکھ رہا ہے لیکن نیکی کی بات فارورڈ کرنا نہایت آسان کام ہے۔ یہ عام مشاہدہ ہے کہ بیشتر لوگ پیغام کو پڑھے بغیر آگے بھیج دیتے ہیں۔ حالانکہ اسلام ہر مسلمان سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ وہ جو نیکی کی بات دوسروں تک پہنچا رہا ہو، پہلے وہ خود اس پر عمل کرے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بنی اسرائیل سے اللہ تعالیٰ جو ناراض ہوا اس کی بیشمار وجوہات ہیں۔ قرآن مجید میں اللہ عزوجل نے ان پر عتاب نازل کرتے ہوئے، ایک خرابی کی نشاندہی یہ بھی کی ہے : ’’کیا تم لوگوں کو تو نیکی کاحکم دیتے ہو اور خود اپنے آپ کو بھول جاتے ہو؟ حالانکہ تم کتاب کی تلاوت بھی کرتے ہو! کیاتمہیں اتنی بھی سمجھ نہیں۔ ‘‘
اس سلسلے میں رونگٹے کھڑے کردینے والی ایک حدیث بیہقی شریف میں ملتی ہے: ’’جب مجھے معراج کی رات لے جایا گیا تو میں کچھ لوگوں کے پاس سے گزرا جن کے ہونٹ آگ کی قینچیوں سے کاٹے جا رہے تھے۔ میں نے کہا: اے جبرئیل! یہ کون ہیں ؟ انہوں نے کہا: یہ آپ کی امت کے خطیب ہیں جو لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے تھے لیکن اپنی جانوں کو بھول جاتے تھے۔ ‘‘
ایک اور حدیث میں ایسے شخص کیلئے جہنم میں ایک نہایت ہی ذلت آمیز عذاب کا تذکرہ ہے۔ آپؐ نے فرمایا: ’’قیامت کے دن ایک شخص کو جہنم میں لایا جائے گا، پھر اس کی آنتیں باہر گر پڑیں گی اور وہ ان کے اردگرد ایسے گھومے گا جیسے گدھا چکی کے گرد گھومتا ہے۔ دوزخ والے اس کے پاس جمع ہوں گے اور کہیں گے: اے فلاں ! تمہیں کیا ہوا؟ کیا تم ہمیں نیکی کا حکم نہیں دیتے تھے اور برائی سے نہیں روکتے تھے؟ وہ کہے گا: میں تمہیں نیکی کا حکم دیتا تھا لیکن خود (اس نیکی پر عمل)نہیں کرتا تھا، اور تمہیں برائی سے روکتا تھا لیکن میں خود وہی برائی کرتا تھا۔ ‘‘ ان آیات واحادیث کا پیغام نہایت واضح ہے کہ انسان جن نیکیوں کی جانب دوسروں کو متوجہ کررہا ہے وہ خود اس پر عمل کرنے والا ہو۔ اس طرح وہ بات دوسروں پر زیادہ اثر بھی کرے گی اور خود اس کے لئے باعث اجر بنے گی۔
آج سوشل میڈیا کے اس دور میں جب ہر فرد نیکی کے پیغامات فارورڈ کرنے میں مصروف ہے، یہ بھی دیکھے کہ فارورڈ سے پہلے وہ خود اُس پر عمل کرتا ہے یا نہیں۔ ہمارا یہ عمل معاشرے میں نیکی کے فروغ اور برائی کے خاتمے کے لئے ایک نہایت اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔