Inquilab Logo Happiest Places to Work

صلیبی دنیا اور ہم

Updated: August 21, 2026, 5:22 PM IST | Shah Baligh-ud-Din | Mumbai

مسلمانوں نے ہر دور میں نصرانیوں کے ساتھ حسنِ سلوک کیا لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ مستشرقین نے اپنے پڑھنے والوں کو ہمیشہ اسلام کی شکل بگاڑ کر دکھلائی ہے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

 ارشاد فرمایا اللہ کے رسولؐ نے کہ ’’میں اپنے دادا کی دعا اور اپنے بھائی کی بشارت کے بعد آیا ہوں۔ ‘‘دادا سے مراد حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں۔ جب حضرت اسماعیل ؑ ۱۴۔ ۱۵؍ برس کے ہوئے تو ابوالانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام نے انہیں ساتھ لے کر خانۂ کعبہ کو پھر سے بنایا۔ کعبۃ اللہ کی دیواریں بلند کرتے ہوئے انہوں نے دعا مانگی : ’’اے مولا! ہماری نسل سے (یعنی ابراہیمؑ و اسماعیلؑ کی نسل سے) ایک ایسا رسولؐ اٹھا جو تیرے بندوں کو تیرے کلام کی آیتیں سنائے، انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور انہیں پاک و پرہیزگار بنائے۔ تو عزیز و حکیم ہے۔ ‘‘بھائی، جنہوں نے بشارت دی، حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں جو بنی اسرائیل کے سلسلے میں سب سے بعد میں آئے۔ ان کے اور اللہ کے آخری رسولؐ کے درمیان کوئی چھ ساڑھے چھ سو برس کا عرصہ ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: سیرتِ رسولؐ کا نفسیاتی مطالعہ محض علمی مشق نہیں بلکہ عصر ِ حاضر کی ایک اہم ضرورت ہے

حضرت سلیمان علیہ السلام کے بعد یہودیوں میں دنیاداری بہت بڑھ گئی اور انہوں نے یہواہؔ کا بت بنا کر پوجنا بھی شروع کردیا، جیسا کہ انجیل میں آیا ہے۔ حضرت عیسیٰؑ بنی اسرائیل کی بھیڑوں کو درست کرنے آئے تھے۔ ان پر وحی نازل ہوتی تھی لیکن وہ بڑی حد تک انہی احکام ِ شریعت پر عمل کرتے تھے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ملے تھے۔ ہاں، اللہ کے حکم سے انہوں نے حلال حرام چیزوں میں کچھ تبدیلیاں کیں جیسا کہ سورۂ آل عمران میں مذکور ہے۔ یہودیت اور عیسائیت میں بڑے زمانے تک ٹھنی رہی، حتیٰ کہ یہودیوں نے تورات کو انجیل سے الگ کرلیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ عیسائیوں کے پاس کوئی دستور ِ حیات باقی نہ رہا اور وقت کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنے بنیادی تصور ِ حیات ہی کو بدل دیا، کیونکہ یہودیوں اور رومی بت پرستوں کا ان پر شدید دباؤ تھا۔ دین ِ عیسوی کو بدل دینے کی رہی سہی کسر پاپاپولوسؔ (سینٹ پال) نے پوری کردی۔ وہ ایک بت پرست گھرانے میں پیدا ہوا اور پلا بڑھا۔ اسی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا ٹھہرایا اور اپنے آپ کو ان کا رسول بنا کر پیش کیا۔ یونانی فلسفے پر اسے بڑا عبور تھا۔ اس نے یونانیوں کے بہت سے تصورات کو دین عیسوی میں داخل کردیا اور دنیا سچی نصرانیت سے محروم ہوگئی اور حضرت عیسیٰؑ وحدانیت کا جو پیغام لائے تھے وہ یہودیوں کی سازش سے شرک اور بت پرستی میں تبدیل ہوگیا۔ 

حضرت عیسیٰؑکو اللہ تعالیٰ نے اپنے کلمے یعنی لفظ ’کن‘ سے پیدا کیا۔ ارشادِ نبویؐ ہے ’’یہ کلمہ حضرت مریم کی طرف بھیجا گیا اور عیسیٰؑبغیر باپ کے پیدا ہوئے۔ یہ ایک معجزہ ہے لیکن ایسا معجزہ نہیں جو پہلا ہو۔ ان سے پہلے حوا اور سب سے پہلے حضرت آدمؑ بغیر ماں باپ کے پیدا ہوئے۔ حضرت آدمؑ اس خصوصیت کے باوجود اللہ کے بندے اور رسول تھے، اللہ کے بیٹے نہیں تھے۔ قرآن نے یہی بات ہمیں حضرت عیسیٰؑکے بارے میں بھی بتائی ہے کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں جیسے اور پیغمبر ہیں۔ حضرت عیسیٰؑ کو ہم پیغمبر مانتے ہیں اور ان کی تعلیمات کو جس میں وحدانیت، نماز اور زکوٰۃ ، روزے اور خیر کی تلقین ہے، صحیح مانتے ہیں۔ یہودیوں نے نہ ان کی زندگی میں انہیں پیغمبر مانا نہ آج انہیں پیغمبر مانتے ہیں۔ اسلام نے نصرانیوں کو اہل کتاب میں تسلیم کیا ہے لیکن یہ وہ نصرانی ہیں جو وحدانیت کے موئید تھے۔ 

یہ بھی پڑھئے:راستوں کے حقوق کی فکر کبھی کی ہے ہم نے؟ پڑھئے شریعت کا حکم کیا ہے

آنحضرت ﷺ کی مکی زندگی میں ممتاز نصرانی ورقہؔ بن نوفل تھے جنہوں نے اللہ کے آخری رسولؐ کی نبوت کی تصدیق کی اور یہ نصرانیوں سے ہی محبت تھی کہ آپؐ نے صحابۂ کرامؓ کو حبشہ ہجرت کرنے کا حکم یا اور حضرت ماریہ قبطیہ کو، حضرت حاطب بن ابی ملتعہ کے ہاتھوں اسلام قبول کرنے کے بعد، اپنی زوجیت میں لے لیا۔ ہجرت کے بعد جب اللہ کے رسولؐ نے اسلامی مملکت بنائی تو میثاق مدینہ میں نصرانیوں کو بھی شریک کیا گیا۔ نصرانی اسلامی مملکت سے کبھی نکالے نہیں گئے۔ ہر دور میں ان کے ساتھ برادرانہ اور فیاضانہ سلوک کیا گیا۔ شام کا علاقہ فتح ہوا تو بے شمار نصرانیوں کو نہ صرف اپنے مذہب پر رہنے کی رعایت دی گئی بلکہ انہیں ہر طرح کی معاشی آزادی بھی عطا کی گئی۔ بیت المقدس کی فتح کے بعد ان کی عبادت گاہوں کا احترام کیا گیا۔ 

اس کے باوجود آج جو خلیج ہمارے درمیان میں حائل ہے اس کی وجہ کیا ہے؟ ٹھنڈے دل سے غور کیا جائے تو تاریخ بتاتی ہے کہ اس میں یہودیوں اور متعصب مشنریوں کا ہاتھ ہے۔ مستشرقین نے اپنے پڑھنے والوں کو ہمیشہ اسلام کی شکل بگاڑ کر دکھلائی ہے۔ حضور اکرمؐ پر رکیک حملے کئے ہیں حالانکہ ہم نے حضرت عیسیٰـؑاور حضرت مریم کا مکمل احترام کیا ہے۔ آج مغرب کے لکھنے والے اپنے متعصب مؤرخین کی غلطی محسوس کرتے ہیں۔ سر ولیم میور ہو، باسورتھ اسمتھ ہو، منٹگمری واٹ ہو، کک ڈوزی ہو یا لین، براون یا بروکلمین حتیٰ کہ پروفیسر ابوبکر مارٹن لنکز، کسی نے بھی اسلام کو صحیح طریقے سے پیش نہیں کیا۔ زیادہ مہربانی کی تو صوفیت کو سراہا تاکہ جہاد سے نفرت دلا سکیں۔ جی ایچ جینسن اپنی کتاب ملیٹنٹ اسلام میں اس حقیقت کا اعتراف کرتا ہے۔ صلیبی دنیا ساری ترقی اور تمام جمہوری طرزِ فکر کے باوجود ابھی تک اسلام کے نام سے اپنی نفرت اور غصے پر قابو نہیں پا سکی اور قرطبہ اور غرناطہ کے علمی ذخائر سے اپنے اندر بیداری کی لہر پیدا کرنے والوں نے اندلس میں جس سفاکانہ بہیمیت کا ثبوت دیا وہ اسلام دشمنی کے سوا کیا ہے؟ یورپ کے عیسائی شاہی خاندانوں نے آپس میں بہت لڑائیاں لڑی ہیں حتیٰ کہ ۱۰۰؍ سالہ جنگ بھی کی لیکن غیظ و غضب کا وہ انداز جو اسلامی اسپین اور صلیبی جنگوں میں نظر آتا ہے کہیں نہیں ملتا۔ بڑی علمی ترقی کے باوجود اس دور میں بھی اہل صلیب نے الجزائر، مراکش، سوڈان، لیبیا، مصر اور ۱۸۵۷ء کے آگے پیچھے ہندوستان میں جتنے بہیمانہ مظالم توڑے وہ سب صلیب ہی کے نام پر تھے۔ خلافت ِ عثمانہ کو تار تار کرنے کے لئے ترکوں اور عربوں کو لڑا کر اسلام ہی کو مٹانے کی کوشش کی گئی تھی۔ آج فلسطین میں صہیونیت اور صلیب کا گٹھ جوڑ بھی اسلام ہی کے خلاف ہے۔ 

یہ اور بات ہے کہ تمام اہل کتاب اب اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ اسلام دب سکتا ہے لیکن ختم نہیں ہوسکتا۔ صلیبی دنیا اگر اس حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کرے کہ ہم نے حضرت عیسیٰؑاور اُن کی تعلیمات کا احترام کیا ہے تو دنیا آسودگی کے دور میں داخل ہوسکتی ہے۔ (فاران۔ ۱۹۸۹ء) 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK