Inquilab Logo Happiest Places to Work

آپؐ کی ذاتِ مبارکہ تمام انسانیت اور تمام عالم کیلئے رحمت ِ بیکراں ہے

Updated: August 21, 2026, 5:34 PM IST | Maulana Khalid Saifullah Rahmani | Mumbai

رحمۃ للعالمینؐ کے ذریعہ دنیا میں ایک عظیم انقلاب آیا اور اس کے نتیجہ میں ترقی اور انصاف کے راستے کھلے اور زندگی کے ہر شعبہ میں دُور رس تبدیلیاں آئیں۔ ذیل میں چند پہلوؤں کا ذکر کیا گیا ہے۔

He (PBUH) encouraged education and learning and made knowledge accessible to every segment of society without discrimination or distinction. Picture: INN
آپؐ نے تعلیم و تعلم کی حوصلہ افزائی کی اور علم کو بلا امتیاز و تفریق ہر طبقہ کے لئے عام فرمایا۔ تصویر: آئی این این

قرآن مجید نے آپ ﷺ کو تمام عالم کے لئے رحمت قرار دیا ہے : (الانبیاء : ۱۰۷) اس میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ آپؐ کی انقلاب انگیز تعلیمات پوری انسانیت کے لئے نفع اور خیر و فلاح کی ضامن ہیں۔ پیغمبرؐ اسلام کی انقلابی شخصیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن نے کہا ہے کہ آپ کے ذریعہ آئے ہوئے دین کو اللہ تعالیٰ غلبہ عطا کریں گے۔ (التوبۃ : ۳۳) یہ صرف دعویٰ نہیں بلکہ ایک تاریخی حقیقت ہے۔ آپؐ کے ذریعہ دنیا میں جو فکری انقلاب آیا اور اس کے نتیجہ میں ترقی اور انصاف کے راستے کھلے، وہ پیغامِ محمدیؐ کے غلبہ کی واضح مثال ہیں۔ پیغمبرؐ اسلام نے جس صالح انقلاب سے دنیا کو بہرہ ور کیا اور آپؐ کی صحبت بافیض نے ذرہ کو آفتاب بنا دیا، اس کا بہت خوب نقشہ اکبر اِلٰہ آبادی نے اس طرح کھینچا ہے :
دُر فشانی نے تری، قطروں کو دریا کردیا
دل کو روشن کردیا، آنکھوں کو بینا کردیا
خود نہ تھے جو راہ پر، اوروں کے ہادی بن گئے
کیا نظر تھی جس نے مردوں کو مسیحا کردیا !
 اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ آپؐ کے ذریعہ زندگی کے ہر شعبہ میں دُور رس تبدیلیاں آئیں۔ ذیل میں چند پہلوؤں کا ذکر کیا جارہا ہے:

یہ بھی پڑھئے:مصنوعی ذہانت (AI) انسان کیلئے صرف چیلنج نہیں آئینہ بھی ہے

’وحدت ِ الٰہ ‘کا تصور
 آپؐ نے انسانیت کو ’ وحدتِ اِلٰہ ‘ کا تصور دیا۔ خدا کو ایک ما ننا بظاہر ایک سادہ سی بات معلوم ہوتی ہے؛ لیکن بمقابلہ الحاد و انکار اور شرک و مخلوق پرستی کے یہ ایک انقلابی عقیدہ ہے۔ خدا کا انکار انسان کو غیرذمہ دار، گناہوں کے بارے میں جری اور مادہ پرست بنا دیتا ہے؛ کیوں کہ اسے جواب دہی کا کوئی خوف نہیں ہوتا، دنیا اس کے لئے محض عشرت کدۂ حیات ہوتی ہے اور وہ خدا کی بندگی سے آزاد اور لذت و عیش کا غلام بن جاتا ہے۔ 
اﷲ کے ایک ہونے کے تصور سے انسانیت کی تکریم اور اس کا اعزاز متعلق ہے۔ یہ اس بات کا اعلان ہے کہ اس کی پیشانی غیراﷲ کے سامنے جھکنے سے ماوراء ہے اور خدا نے اس کو پوری کائنات پر فضیلت بخشی ہے۔ عقیدۂ توحید نے انسانیت کو اوہام پرستی سے نجات دلائی کیوں کہ توحید پر ایمان رکھنے والا اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ مخلوق اسے نفع و نقصان پہنچانے سے عاجز ہے۔ توحید کا عقیدہ انسان کے اندر خدا کی محبت اور خدا کا خوف پیدا کرتا ہے اور یہی خشیت اور خدا کو راضی کرنے کا جذبہ، فرائض کی ادائیگی کا احساس پیدا کرتا ہے اور وہ دنیا کو عشرت کدہ سمجھنے کے بجائے امتحان گاہ سمجھ کر پھونک پھونک کر قدم رکھتا ہے؛ اس لئے توحید کا عقیدہ انسانیت کیلئے بہت بڑی نعمت اور سامان رحمت ہے جو اللہ کے رسولؐ کے ذریعہ انسانیت کو حاصل ہوا ہے۔ 
انسانی وحدت
سرکار دو عالمؐ کی دوسری اہم تعلیم ’’ انسانی وحدت ‘‘ کا تصور ہے۔ آپؐ کی بعثت سے پہلے قریب قریب دنیا کی تمام تہذیبوں اور مذاہب میں انسان اور انسان کے درمیان فرق کرنے اور کچھ لوگوں کے پیدائشی طورپر معزز اور کچھ لوگوں کے حقیر ہونے کا تصور موجود تھا، یہودی جو تھے وہ اسرائیلی اور غیر اسرائیلی میں امتیاز کرتے تھے اور جو لوگ حضرت یعقوب علیہ السلام کی نسل سے ہوں، ان کو پیدائشی طورپر افضل و برتر جانتے تھے اور آج بھی ان کا یہی تصور ہے۔ ایران کے لوگوں کا خیال تھا کہ جولوگ بادشاہ کی نسل سے ہوں، وہ خدا کے خاص اور مقرب بندے ہیں ؛ بلکہ خدا کا کنبہ ہیں ۔ ہندوستان کا حال بھی کافی خراب تھا۔ انسانیت کو مستقل طورپر چار طبقو ں میں تقسیم کردیا گیا تھا جن پر اس کالم میں تفصیل سے لکھا جاچکا ہے۔ 
اللہ کے رسولؐ نے ان حالات میں انسانی وحدت کا تصور پیش کیا اور پیدائشی طورپر افضل وبرتر اور حقیر وکہتر ہونے کے تصور کو ردّ فرمادیا۔ آپؐ نے صاف اعلان کیاکہ کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی گورے کو کسی کالے پر محض رنگ و نسل کی وجہ سے کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے بلکہ فضیلت کا معیار انسان کا تقویٰ اور اس کا عمل ہے۔ اس اعلان نے عرب کے معزز قبائل اور حبش و روم کے بلالؓ و صہیبؓ کو ایک صف میں کھڑا کردیا۔ بلکہ یہ عجمی نژاد غلام جو کبھی حقارت کی نظر سے دیکھے جاتے تھے، زعمائے عرب کے لئے وجہ رشک بن گئے اور حضرت عمر فاروقؓ جیسے فرمانروا بھی انہیں ’’سردار ‘‘ کے لفظ سے مخاطب کیا کرتے تھے۔ 

یہ بھی پڑھئے:دنیا پرستی اللہ تعالیٰ کے ساتھ عہد شکنی اور باہمی تعلقات کے ٹوٹنے کی سب سے بڑی وجہ


 یہ آپؐ ہی کی تعلیمات کا نتیجہ ہے کہ اسلام کے پھیلنے کے ساتھ ہی تفریق و امتیاز کی زنجیریں کٹنے لگیں، انسانی مساوات کے نعرے ہرسوٗ بلند ہوئے اوردنیا کی مظلوم و مقہور قوموں کو پیدائشی غلامی سے آزادی نصیب ہوئی۔ یہآپؐ کی رحمت عامہ کا ایسا پہلو ہے کہ کوئی صاحب بصیرت اُسے نظر انداز نہیں کرسکتا۔ 
علم کی حوصلہ افزائی
تعلیماتِ محمدیؐ کا تیسرا اہم پہلو علم کی حوصلہ افزائی ہے۔ آپؐ جس سماج میں تشریف لائے، وہاں لوگ اس بات کو سرمایۂ افتخار سمجھتے تھے کہ وہ پڑھنا لکھنا نہیں جانتے۔ وہ بہت ہی فخر کے ساتھ اپنے ’’ اُمّی ‘‘ ہونے کی بات کہتے تھے۔ آپؐنے تعلیم و تعلم کی حوصلہ افزائی کی اور علم کو بلا امتیاز و تفریق ہر طبقہ کے لئے عام فرمایا۔ پھر آپؐ نے علم کے معاملہ میں دین و دنیا کی کوئی تقسیم نہیں کی؛ بلکہ ہر وہ علم جو انسانیت کے لئے نفع بخش ہو، خداسے اس کی دُعاء کی اورفرمایا کہ علم و حکمت کی جو بات جہاں سے مل جائے، اس کی طرف اسی طرح لپکنا چاہئے، جیسے انسان اپنی گم شدہ چیز کے لئے لپکتا ہے۔ (ترمذی، ابواب العلم، حدیث نمبر : ۲۶۸۱) آپؐ نے مسلمان بچوں کو بدر کے غیر مسلم قیدیوں سے تعلیم دلائی اور مدینہ میں یہودیوں کی درس گاہ ’’بیت المدارس ‘‘ میں تشریف لے گئے، جس سے علم کے معاملہ میں آپؐ کی فراخ قلبی اور کشادہ چشمی کا اندازہ ہوتا ہے۔ 
اس سے نہ صرف یہ کہ علم کا دور دورہ ہوا؛ بلکہ غیر سائنٹفک فکر کی جگہ سائنٹفک فکر کا غلبہ ہوا، اور توہمات کی زنجیریں کٹ گئیں۔ شرک میں چونکہ مخلوقات کو معبود کا درجہ دیا جاتا ہے اورجو معبود ہو، اس کی عظمت اور اس کا احترام تحقیق و تجسس میں مانع بن جاتا ہے اس لئے وہ علمی ترقی اور تحقیق و سائنس کے ارتقاء میں رکاوٹ بن جاتی ہے، توحید چوں کہ مخلوقات کے معبود ہونے کی نفی کرتی ہے؛ اسلئے کائنات کی تما م اشیاء پر غور و فکر، بحث و تحقیق اور تفحص وتجسس کا راستہ کھلتا ہے۔ انسان علم میں جتنا آگے بڑھتا جائے اور کائنات کے حقائق پر جو پردے پڑے ہوئے ہیں ان کو جس قدر اُٹھاتا جائے، وہ اسی قدر توہمات سے آزاد ہوتا جائے گا۔ 

یہ بھی پڑھئے:فتاوے: لے پالک اور وصیت، وراثت کے دو سوال، اے سی کا پانی اور وضو، فجر کی قضا

دین و دُنیا کی تقسیم
اسلام سے پہلے اہل مذاہب نے دین اور دنیا کا بٹوارہ کر رکھا تھا اور دین و دنیا کی اس تقسیم کی وجہ سے بعض انسانی گروہ قانون فطرت کے خلاف بغاوت پرآمادہ تھے۔ نکاح کو برا سمجھا جاتا تھا۔ قرب خداوندی کےلئے تجرد کی زندگی ضروری سمجھی جاتی تھی۔ کسب ِمعاش کی محنتوں کو دین داری کے مغائر اوررضائے خداوندی میں رکاوٹ گمان کیا جاتا تھا۔ یہا ں تک کہ رہبانیت کے غلبہ کا یورپ میں ایک ایسا دور بھی گزرا ہے کہ لوگ نہانے دھونے، صاف ستھرے کپڑے پہننے اور خوشبو استعمال کرنے کو بھی للہیت کے خلاف سمجھتے تھے۔ مذہب کے متبعین میں بھی اس طرح کا تصور عام تھا۔ رحمتؐ للعالمین کی رحمت کا ایک اہم باب رہبانیت کے اس تصور کا خاتمہ ہے۔ آپؐ نے تعلیم دی کہ اﷲ تعالیٰ کے احکام کی حدود میں رہتے ہوئے دنیا سے نفع اُٹھانا بھی دین کا حصہ ہے۔ ’دین ‘ دنیا سے نفع اُٹھانے میں حلال و حرام کی تمیز کا نام ہے نہ کہ دنیا کو ترک کردینے کا؛ چنانچہ آپؐ نے نکاح کرنے کا حکم دیا، اس کو اپنی اور انبیاء کی سنت قرار دیا اور تجرد کی زندگی کو ناپسند فرمایا۔ آپؐ نے کسب معاش کو اہم فریضہ قرار دیا اور اس کی حوصلہ افزائی فرمائی۔ صفائی ستھرائی کی تعلیم دی اور کوئی ایسا حکم نہیں دیا، جو انسانی فطرت سے متصادم ہو؛ بلکہ انسانی فطرت میں جو تقاضے اور داعیے رکھے گئے ہیں، ان سب کو جائز رکھا گیا اور ان کے لئے مناسب حدود مقرر کی گئیں۔ 
خواتین کا احترام اور میراث میں حصہ
آپؐ کے ذریعے معاشرے میں خواتین کو عزت و احترام کا مقام حاصل ہوا۔ اسلام کی آمد کے وقت دنیا میں عورتوں کے تعلق سے بے شمار غلط فہمیاں رائج تھیں۔ انہیں گناہ کا دروازہ اورنحس کا سبب سمجھا جاتا تھا۔ ان کی بابت تصور تھا کہ وہ شادی سے پہلے باپ کی اور شادی کے بعد اپنے شوہر کی ملکیت ہوتی ہیں، وہ چوں کہ خود ایک مملوکہ شے ہے؛ اسلئے اس کو مالک ہونے کا حق نہیں تھا اسی لئے انہیں حصۂ میراث نہیں ملتا تھا، عرب کے بعض قبائل میں لڑکیاں زندہ دفن کر دی جاتی تھیں۔ 
ان حالات میں آپؐ دنیا میں تشریف لائے اور بتایا کہ مرد و عورت ایک ہی ماں باپ سے پیدا ہونے والی دو صنفیں ہیں : (النساء : ۱)۔ عورت کو بیٹی، بیوی اور ماں کی حیثیت سے مردوں سے بڑھ کر درجہ دیا، ان کو نکاح کرنے، اپنے مال میں تصرف کرنے، تعلیم حاصل کرنے، اپنے خیالات کا اظہار کرنے، شرعی حدود کی رعایت کے ساتھ کسب ِمعاش کرنے وغیرہ کی اجازت دی اور انہیں معاشرہ میں عزت کا مقام دیا۔ اسلام نے اول دن سے بیٹی کو اپنے والدین کے، ماں کو اپنی اولاد کے، بیوی کو اپنے شوہر کے ترکہ میں سے لازمی وارث بنایا اوربعض حالات میں دوسری خاتون رشتہ داروں کو بھی میراث میں حق دیا۔ آج بھی غیر مسلم سماج میں شریک حیات کے انتخاب میں زیادہ تر لڑکیوں سے مشورہ نہیں لیا جاتا؛ لیکن اسلام نے صدیوں پہلے نکاح کے لئے عورت کی رضامندی کو شرط قرار دیا۔ مشرق سے لے کر مغرب تک آج عورتوں کو جو حقوق دیئے گئے ہیں ، یاان کی آزادی کا جو نعرہ لگایا جارہا ہے، یہ سب نبی کریمؐ کی انقلاب انگیز تعلیمات کا نتیجہ ہے۔ 
اس پس منظر سے یہ نتیجہ اخذ کرنا غلط نہیں کہ حضور پاکؐ کی ذات ِمبارک اور تعلیمات صرف مسلمانوں کے لئے نہیں ؛ بلکہ پوری انسانیت اور تمام عالم کے لئے رحمت بیکراں ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK