Inquilab Logo Happiest Places to Work

راستوں کے حقوق کی فکر کبھی کی ہے ہم نے؟ پڑھئے شریعت کا حکم کیا ہے

Updated: August 21, 2026, 5:15 PM IST | Muhammad Owais Madani | Mumbai

اسلام کی تعلیمات زندگی کے تمام شعبوں پر محیط ہیں۔ ان کا تعلق عقائد کے باب سے ہو یا عبادات سے، یا معاملات، اخلاقیات اور معاشرت سے، اسلام کا اپنے ماننے والوں سے یہ تقاضا ہے کہ دوسروں کے جو حقوق تم پر عائد ہو تے ہیں، انہیں حتی الامکان پورا کرنے کی کوشش کرو۔ چاہے وہ حقوق چھوٹے چھوٹے مسائل سے متعلق ہوں یا بڑے بڑے مسائل سے ان کا تعلق ہو۔

The foremost right of the roadside is that the person sitting there guards their gaze. Picture: INN
راستے کا سب سے پہلا حق ہے کہ وہاں بیٹھنے والا اپنی نظروں کی حفاظت کرے۔ تصویر: آئی این این

اسلام کی تعلیمات زندگی کے تمام شعبوں پر محیط ہیں۔ ان کا تعلق عقائد کے باب سے ہو یا عبادات سے، یا معاملات، اخلاقیات اور معاشرت سے، اسلام کا اپنے ماننے والوں سے یہ تقاضا ہے کہ دوسروں کے جو حقوق تم پر عائد ہو تے ہیں، انہیں حتی الامکان پورا کرنے کی کوشش کرو۔ چاہے وہ حقوق چھوٹے چھوٹے مسائل سے متعلق ہوں یا بڑے بڑے مسائل سے ان کا تعلق ہو۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم بڑے مسائل کے حل کے لئے کوششیں تو ضرور کرتے ہیں مگر چھوٹے چھوٹے معاملات ہماری نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔ 
انہی میں ایک اہم مسئلہ ’راستے کے حقوق‘ کا ہے۔ راستے کے حقوق کیاہیں ؟ شریعت نے کن امور کی نشان دہی کی ہے؟ کن امور کا خیال رکھنے اور کن کاموں سے بازرہنے کی تلقین کی ہے؟ اس کا جواب اس تحریر میں پیش ہے۔ 
راستے کے حقوق کے حوالے سے متعدد احادیث مروی ہیں جن میں مختلف احکامات ملتے ہیں۔ ایک حدیث میں حضرت ابو سعید خدری ؓ روایت کرتے ہیں، رسولؐ اللہ نے ارشاد فرمایا: ’’راستوں پر بیٹھنے سے پر ہیز کرو‘‘۔ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا: ’’ہماری مجبوری ہے کہ ہم محفل جماتے ہیں ۔ ‘‘ رسولؐ اللہ نے فرمایا:’’اگر اتنی ہی مجبوری ہے تو راستے کا حق ادا کرو‘‘۔ صحابہؓ نے پوچھا: ’’راستے کا حق کیا ہے ؟‘‘فرمایا:’’نظروں کو جھکا کر رکھو، تکلیف دہ چیز کو دُور کرو، سلام کا جواب دو اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرو۔ ‘‘ (بخاری، ۲۴۶۵)

یہ بھی پڑھئے: قرآن و حدیث کی روشنی میں جین زی سے برتاؤ

اس حدیث سے معلوم ہوتاہے کہ نبی کریمؐ نے راستوں میں بیٹھنے کی ممانعت فرمائی ہے، لیکن اگر اتنی ہی مجبوری ہے تو پھر چند امور کا خیال رکھنا بے حد ضروری ہے۔ واضح رہے کہ راستوں پر بیٹھنے سے مراد دکانوں ، ہوٹلوں ، مساجد کے باہر، گلی کے کونے میں کھڑے ہو نا اور اسی طرح بیچ راستے میں گاڑی روک کر بات چیت کرنا یا کسی کا انتظار کرنا بھی، اس میں شامل ہے۔ 
 نظروں کی حفاظت: راستے کا سب سے پہلا حق ہے کہ وہاں بیٹھنے والا اپنی نظروں کی حفاظت کرے کیوں کہ وہاں سے گزرنے والوں میں خواتین بھی شامل ہوں گی۔ اس لیے آدمی وہاں بیٹھ کر ہرکسی کو گھورتا نہ رہے، خاص طور پر خواتین کو۔ یہ شریعت کے منافی ہے۔ 
 تکلیف دہ اشیاء ہٹانا: اسی طرح نبی کریم ؐ نے ارشاد فرمایا:ایمان کے ستّر اور کچھ شعبے ہیں یا فرمایا: ساٹھ اور کچھ شعبے ہیں ، پس اس میں سب سے افضل لا الہ الا اللہ اور سب سے ادنیٰ راستے سے تکلیف دہ چیز کو دُور کرنا ہے، اور حیا ایمان کا حصہ ہے۔ (مسلم)اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ راستے سے کسی تکلیف دہ چیز کو ہٹانا اجر کا کام ہے اور اس میں ضروری نہیں کہ کوئی بہت بڑی چیز آپ دُور کریں، حتیٰ کہ تکلیف دینے والا ایک کانٹا، کوئی اینٹ کا ٹکڑا یا پتھر بھی اگر کسی نے ہٹایا تو اس پر بھی اس کو اجر ملے گا۔ 

یہ بھی پڑھئے:سیرتِ رسولؐ کا نفسیاتی مطالعہ محض علمی مشق نہیں بلکہ عصر ِ حاضر کی ایک اہم ضرورت ہے

 جو چیزیں راستے میں تکلیف کا باعث بنتی ہیں وہ درج ذیل ہیں :
 پروگراموں کا انعقاد: قناتیں لگا کر راستہ بند کرنا بھی تکلیف دینے میں شامل ہے۔ اس میں ہر طرح کے پروگرام شامل ہیں، چاہے وہ شادیاں ہوں یا مذہبی نوعیت کے پروگرام۔ اگر اس سے لوگوں کو تکلیف پہنچ رہی ہے تو راستہ بند کرکے یا ٹریفک روک کرکے ان پروگراموں کا انعقاد شریعت کی نظر میں ناپسندیدہ کام ہے۔ 
 نظروں سے تکلیف دینا : تکلیف دینے میں یہ چیز بھی شامل ہے کہ کوئی شخص وہاں سے سامان لے کر گزر رہا ہو اور راستے میں بیٹھا شخص اس کے سامان پر نظریں جما کر بیٹھ جائے، تانک جھانک کرے کہ یہ کیا لے کر جا رہا ہے۔ 
کھانے کی چیزیں راستے میں ڈالنا: تکلیف دہ چیز راستے سے ہٹانے سے مراد کیلے کے چھلکے بیچ راستے میں نہ پھینکے جائیں، پانی اور کولڈ ڈرنک کی بوتلیں، ڈبے، پھلوں کے چھلکے وغیرہ بھی راستے میں نہ پھینکے جائیں اوراسی طرح کی جو چیزیں تکلیف دینے کا باعث ہوں ان سے اجتناب کیا جائے۔ 
راستے میں کھدائی کرنا : یہ بات بھی تکلیف دہ ہے کہ بیچ راستے میں کوئی شخص اپنے مقصد کے لئے گڑھا وغیرہ کھودے اور پھر اس کو صحیح طریقے سے ہموار کرکے بند نہ کرے۔ اس میں انفرادی طور پر بھی لوگ شامل ہیں اور ادارے بھی۔ لہٰذا، انہیں چاہیے کہ مقصد پورا ہونے کے بعد کھدائی کی ہوئی جگہ کو صحیح طور پر بند کریں ۔ 
پانی کی ٹنکی بنانا / رکھنا: آج کل بالخصوص محلے کی گلیوں میں لوگ جگہ جگہ پانی کی ٹنکیاں رکھ دیتے ہیں جس کی وجہ سے راہ گیروں اور سواروں کو تکلیف ہوتی ہے جو شرعاً ناپسندیدہ امر ہے۔ 
ہمیں اپنا جائزہ لینا چاہے کہ ہم کہاں تک راستے کے حقوق ادا کرتے ہیں۔ 

islam muslim Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK