Inquilab Logo Happiest Places to Work

دنیا پرستی اللہ تعالیٰ کے ساتھ عہد شکنی اور باہمی تعلقات کے ٹوٹنے کی سب سے بڑی وجہ

Updated: August 21, 2026, 5:28 PM IST | Alisha Sharif Moemenati | Mumbai

کبھی سوچا ہے کہ انسان کتنی عجیب مخلوق ہے؟ وہ صبح اٹھتا ہے تو اللہ کے نام سے آغاز کرتا ہے، مگر شام تک اس کے اعمال ایسے ہو جاتے ہیں کہ گویا اس نے کبھی کوئی عہد کیا ہی نہیں تھا۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این
کبھی سوچا ہے کہ انسان کتنی عجیب مخلوق ہے؟ وہ صبح اٹھتا ہے تو اللہ کے نام سے آغاز کرتا ہے، مگر شام تک اس کے اعمال ایسے ہو جاتے ہیں کہ گویا اس نے کبھی کوئی عہد کیا ہی نہیں تھا۔ وہ رشتوں کی حرمت کا دم بھرتا ہے، مگر معمولی سے فائدے کیلئے انہی رشتوں کو قربان کر دیتا ہے۔ اس تمام تضاد کی جڑ کیا ہے؟ صرف ایک چیز ’’دنیا پرستی۔ ‘‘
دنیا پرستی محض مال جمع کرنے کا نام نہیں۔ یہ ایسی اندھی محبت ہے جو انسان کے دل میں گھس کر اس کی بصیرت چھین لیتی ہے۔ وہ دنیا کو اتنا بڑا دیکھنے لگتا ہے اور دنیا اس قدر اُس کی نگاہوں پر چھا جاتی ہے کہ آخرت اس کی نظر سے اوجھل ہو جاتی ہے۔ وہ رزق کے پیچھے اس طرح بھاگتا ہے جیسے اس کا رزاق خود وہی ہو، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں واضح طور پر فرما دیا:’’اور زمین پر چلنے والا کوئی جاندار نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمے نہ ہو، اور وہ اس کے ٹھہرنے اور سونپے جانے کی جگہ کو بھی جانتا ہے، سب کچھ ایک واضح کتاب میں لکھا ہوا ہے۔‘‘ (سورۃ ہود: ۶)

 
پھر بھی انسان اس حقیقت کو بھول کر دنیا کے پیچھے دیوانہ وار دوڑتا رہتا ہے۔ اللہ نے دنیا کی حقیقت کو بھی خوب کھول کر بیان کیا:
’’جان لو کہ دنیا کی زندگی محض کھیل اور تماشا ہے اور ظاہری آرائش ہے اور آپس میں فخر اور خود ستائی ہے اور ایک دوسرے پر مال و اولاد میں زیادتی کی طلب ہے، اس کی مثال بارش کی سی ہے کہ جس کی پیداوار کسانوں کو بھلی لگتی ہے پھر وہ خشک ہو جاتی ہے پھر تم اسے پک کر زرد ہوتا دیکھتے ہو پھر وہ ریزہ ریزہ ہو جاتی ہے۔ ‘‘ (سورۃ الحدید: ۲۰)
دنیا کی یہ خوبصورتی عارضی ہے، مگر انسان اسے دائمی سمجھ کر اس کے پیچھے لگ جاتا ہے اور اللہ کے عہد کو توڑ دیتا ہے۔ 
دیکھئے! اللہ تعالیٰ کے ساتھ عہد شکنی کیسے ہوتی ہے۔ انسان جانتا ہے کہ نماز فرض ہے، مگر کاروبار کے چکر میں نماز قضا کر دیتا ہے۔ جانتا ہے کہ زکوٰۃ حق ہے، مگر مال کے لالچ میں اسے روک لیتا ہے۔ جانتا ہے کہ جھوٹ حرام ہے، مگر سودے بازی میں جھوٹ بولنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
’’دنیا مومن کے لیے قید خانہ ہے اور کافر کے لئے جنت۔ ‘‘ (صحیح مسلم)
 
 
مومن جب دنیا کو قید خانہ سمجھتا ہے تو وہ اس میں رہتے ہوئے بھی آخرت کی تیاری کرتا ہے، مگر جو شخص دنیا کو جنت سمجھ بیٹھے، وہ اللہ کے عہد کو توڑنے سے بھی نہیں ڈرتا۔ ایک اور حدیث میں سرکار دوعالمؐ نے فرمایا:
’’جس شخص کی ساری فکر دنیا ہو، اللہ اس کے کام بکھیر دیتا ہے، اس کے فقر کو اس کی آنکھوں کے سامنے کر دیتا ہے، اور دنیا میں سے اسے صرف وہی ملتا ہے جو اس کے لئے لکھا جا چکا ہے۔ ‘‘ (سنن ابن ماجہ)
یعنی دنیا کے پیچھے بھاگنے والا نہ سکون پاتا ہے اور نہ ہی اس سے زیادہ کچھ حاصل کر پاتا ہے جتنا مقدر میں لکھا ہے۔ 
اب باہمی تعلقات کی بات کریں۔ دنیا پرستی نے رشتوں کو بھی کاروبار بنا دیا ہے۔ بھائی بھائی سے وراثت کے ایک ٹکڑے پر لڑ پڑتا ہے۔ بیوی شوہر کے درمیان پیسے کے معاملات اتنی بڑی دیوار بن جاتے ہیں کہ محبت دب جاتی ہے۔ اولاد والدین کو بوڑھا دیکھ کر بوجھ سمجھنے لگتی ہے کیونکہ ان کی نگہداشت میں وقت اور پیسہ صرف ہوتا ہے۔ دوست دوست کے غم میں شریک ہونے کے بجائے منافع کی رقابت میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ اللہ کے رسولؐنے فرمایا:’’ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، ایک دوسرے کے سودے پر بولی نہ لگاؤ، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، ایک دوسرے سے منہ نہ پھیرو، اور اللہ کے بندے بن کر بھائی بھائی بن جاؤ۔ ‘‘ (صحیح مسلم)
 
 
مگر دنیا کا لالچ انسان کو ان تمام نصیحتوں سے غافل کر دیتا ہے۔ ایک شخص تھوڑے سے فائدے کے لئے اپنے دوست کو دھوکا دے دیتا ہے، پھر سوچتا ہے کہ پیسہ آ گیا تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ پیسہ آ بھی جائے تو دل کا سکون چلا جاتا ہے اور رشتہ ہمیشہ کے لئے زخمی ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مال و اولاد کو آزمائش قرار دیا:
’’تمہارے مال اور اولاد تو محض آزمائش ہیں، اور اللہ کے پاس بڑا اجر ہے۔ ‘‘(سورۃ التغابن: ۱۵)
آئیے اپنا محاسبہ کیجئے … کیا ہم دنیا کے لالچ میں نماز نہیں چھوڑ دیتے ؟ کیا ہم پیسے کے لئے جھوٹ نہیں بولتے؟کیا ہم معمولی سے فائدے کے لئے دوسرے کو نقصان نہیں پہنچاتے ؟اگر جواب ہاں میں ہے تو ابھی وقت ہے کہ ہم توبہ کریں اور دنیا پرستی کی زنجیروں کو توڑ دیں۔ 
اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا پرستی کے فتنے سے محفوظ رکھے، ہمارے دلوں میں آخرت کی محبت پیدا کرے اور ہمیں ان لوگوں میں سے بنا دے جو اللہ کے عہد کو پورا کرتے اور باہمی تعلقات کو اللہ کی رضا کیلئے جوڑتے ہیں۔ آمین

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK