اللہ تعالیٰ نے انسان کو اختیار و ارادہ کا شرف عطا فرمانے کے ساتھ ساتھ بذریعہ وحی اُن قوانین سے بھی آگاہ کردیا ہے جو تعمیر یا تخریب کے موجب ہیں۔ اس نے واضح طور پر بتادیا کہ کن اعمال کا نتیجہ اس کے حق میں مفید اور بہتر ہوگا اور کن اعمال کا نتیجہ اس کے حق میں خراب اور تباہ کن ہوگا۔
اللہ تعالیٰ نے جب انسان کو پیدا کیا تو اس کی حیوانی زندگی کو بھی عام حیوانات کی طرح اپنے قانون کا پابند بنادیا۔ مثلاً حیوانات کو بھی بھوک پیاس لگتی ہے اور انسان کو بھی۔ توالد و تناسل اور بقائے نسل کے جو اصول حیوانات کیلئے مقرر ہیں وہی انسانوں میں بھی کارفرما ہیں البتہ حیوانوں اور انسانوں میں ایک فرق یہ ہے کہ انسانی عقل ترقی پزیر ہے اور حیوانی عقل محدود، دوسرے انسان کو بھلے اور بُرے کی تمیز بھی دی گئی ہے جس سے حیوان محروم ہیں ۔ اس کے ساتھ اس کو اختیار و ارادہ کی آزادی بھی دی ہے جو صرف انسان کا خاصہ ہے، یہاں تک کہ اللہ کی ایک بہترین مخلوق ملائکہ بھی اپنے ارادے یا پسند سے کچھ نہیں کرسکتے بلکہ کلیۃً ارادۂ الٰہی کے تابع ہیں اور اس سے سرِ مُو انحراف نہیں کرسکتے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اختیار و ارادہ کا شرف عطا فرمانے کے ساتھ ساتھ بذریعہ وحی اُن قوانین سے بھی آگاہ کردیا ہے جو تعمیر یا تخریب کے موجب ہیں ۔ اس نے واضح طور پر بتادیا کہ کن اعمال کا نتیجہ اس کے حق میں مفید اور بہتر ہوگا اور کن اعمال کا نتیجہ اس کے حق میں خراب اور تباہ کن ہوگا۔ ساتھ ہی ساتھ اس امر کی بھی وضاحت کردی کہ انسان کو اپنے لئے عمل کی راہ اختیار کرنے کی آزادی تو ہے لیکن اعمال کے نتائج تبدیل کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ اعمال کا نتیجہ بہرحال اور بہرصورت قوانین ِ خداوندی ہی کے مطابق مرتب ہوکر رہے گا۔ اور یہی وہ نکتہ ہے جسے ہم ذہن نشین کرانا چاہتے ہیں کیونکہ اسی پر ہمارے معاشرہ کی اچھائی برائی کا انحصار ہے۔ ہر عمل کے قدرتی نتیجے کو مکافاتِ عمل کہتے ہیں ۔ دین اسلام کا سارا مدار قانونِ مکافات ہی پر ہے۔
قرآن مجید کا ارشاد ہے کہ جس طرح خارجی کائنات میں اللہ تعالیٰ کا قانون اور حکم نافذ ہے اسی طرح انسانوں کی معاشرتی زندگی کے لئے بھی قوانین و احکام پہلے سے مقرر ہیں جو بذریعہ وحی انبیاء علیہم السلام کو اور ان کے توسط سے نوعِ انسانی کو پہنچا دیئے گئے ہیں ، فرق صرف یہ ہے کہ طبیعی قوانین میں ہمارے اختیار یا پسند و ناپسند کو کوئی دخل حاصل نہیں ہے جبکہ معاشرتی قوانین کو ہم اپنے ارادہ و اختیار سے قبول یا رَد کرسکتے ہیں ۔ تاہم اپنے نتائج کے اعتبار سے جس طرح طبیعی قوانین اٹل اور غیر متبدل ہیں اسی طرح معاشرتی اور تمدنی قوانین بھی مستقل اور غیرمتبدل ہیں ۔ چنانچہ صدق اور سچائی کا انجام خیر ہے۔ کذب بیانی اور دروغ گوئی کا انجام شر ہے۔ زمین پر فساد، ظلم ، حق تلفی وغیرہ کے نقصانات بھی یقینی ہیں اور حسن سلوک، صلہ رحمی، غرباء پروری، عدل گستری، عفو و درگزر اور حق رسانی وغیرہ کے فوائد بھی یقینی ہیں۔ طبیعی قوانین کی طرح یہ بھی قطعاً ناقابل تغیر و تبدل ہیں۔
فرق صرف اس قدر ہے کہ طبیعی قوانین کی خلاف ورزی کا نتیجہ فوراً یا جلد سامنے آجاتا ہے جیسے کشتی میں وزن زیادہ ہوجائے تو فوراً ڈوب جاتی ہے، سانس لینا مطلقاً بند کردیا جائے تو فوری ہلاکت واقع ہوجاتی ہے لیکن اخلاقی، معاشرتی اور تمدنی قوانین کی خلاف ورزی کے نتائج عموماً فوری طور پر برآمد نہیں ہوتے۔ گویا اللہ تعالیٰ نے معاشرتی اعمال اور ان کے نتائج کے درمیان کچھ وقفہ یا فاصلہ رکھا ہے، ان کا قطعی نتیجہ اکثر فوراً سامنے نہیں آتا۔ جس طرح زمین میں بیج ڈالنے کے بعد اس کی روئیدگی تو فوراً شروع ہوجاتی ہے لیکن پودا نظر اس وقت آتا ہے جب وہ سطح زمین سے بلند ہوتا ہے ، اسی طرح ہر عمل کا ردّ عمل بھی شروع تو تب ہی ہوجاتا ہے مگر نتیجہ سامنے آنے میں کچھ دیر لگتی ہے۔ یہ مہلت کا وقفہ اسلئے رکھا گیا ہے کہ انسان کے اختیار و ارادہ کی آزادی سلب نہ ہوجائے نیز اسے اعمالِ بد کی تلافی کا موقع بھی میسر آجائے۔