شریعت کی روشنی میں اپنے سوالوں کے جواب پایئے۔ آج پڑھئے: (۱)حجر اسود کا استلام۔ (۲)دونوں طرف سے نفع لینا۔ (۳)قرض کے بدلے نفع۔ (۴)شراب نوش دکاندار۔
EPAPER
Updated: April 10, 2026, 4:46 PM IST | Mufti Azizurrehman Fatehpuri | Mumbai
شریعت کی روشنی میں اپنے سوالوں کے جواب پایئے۔ آج پڑھئے: (۱)حجر اسود کا استلام۔ (۲)دونوں طرف سے نفع لینا۔ (۳)قرض کے بدلے نفع۔ (۴)شراب نوش دکاندار۔
حجر اسود کا استلام
حجر اسود کے استلام کے تین طریقے ہیں، بوسہ دینا، ہاتھ سے چھو کر چوم لینا یا کسی چھڑی وغیرہ سے اشارہ کر کے اسے چوم لینا۔ تو کیا یہ تینوں برابر درجے کے ہیں یا ان میں افضلیت میں کوئی فرق ہے؟ پھر قدرت اور عدم قدرت دونوں میں ایک ہی مسئلہ ہے یا یہ کہ قدرت ہونے کی شکل میں فضیلت کا معیار الگ ہوگا اور عدم قدرت کی شکل میں دور سے بوسہ لینا ہی ہونٹوں سے بوسہ لینے کے قائم مقام ہوگا؟ عبد اللہ ،ممبئی
باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق: طواف کی ابتدا حجر اسود کے بالمقابل آکر کی جاتی ہے۔ طواف نفل ہو یا حج و عمرہ کا، کل سات طواف کئے جاتے ہیں۔ حجر اسود کے سامنے آکر اگر ممکن ہو تو بغیر آواز نکالے اول حجر اسود کا بوسہ دے لیکن ہجوم یا کسی اور وجہ کے بوسہ دشوار ہو تو کسی چھڑی یا ہاتھ سے حجر اسود کو چھو کر چھڑی اور ہاتھ کو چوم لے۔ یہ بھی مشکل ہو تو دور سے اشارہ کر کے ہاتھوں کو چوم لے۔ ہاتھ لگاکر چومنا یا دور سے اشارہ کرنا یہی استلام ہے۔ استلام طواف کا ہر چکر پورا ہونے پر مسنون ہے۔ پھر طواف مکمل ہونے کے بعد آخری استلام کیا جائےگا، اس طرح ایک طواف میں کل آٹھ استلام ہو تے ہیں۔ مکروہ وقت نہ ہو تو اس کےبعد دو رکعت شکرانہ طواف پڑھنا واجب ہے اور مکروہ وقت ہو تو بعد میں پڑھ لیں۔ طواف کی ابتدا ءوانتہا میں اور ہر چکر پورا ہونے پر ممکن ہو تو حجر اسود کا بوسہ افضل ہے، اس کے بعد چھوکر، اس کے بعد دور سے اشارہ کرکے استلام کرنا، یہ سب درجہ بدرجہ فضیلت رکھتے ہیں۔ قدرت اور عدم قدرت کا بھی لحاظ ہوگا لہٰذا اگر کسی نے مفضول کو اختیار کیا تب بھی طواف میں خلل اور فساد کا حکم نہ ہوگا۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم
یہ بھی پڑھئے: فتاوے: کسی کے گود لینے سے نہ نسب تبدیل ہوگا نہ احکام وراثت میں تبدیلی ہوگی
دونوں طرف سے نفع لینا
میں ۱۰؍ فیصد نفع کے عوض ایک کمپنی سے مال اٹھا کر دوسری کمپنی کو دیتا ہوں۔ جہاں سے مال اٹھاتا ہوں وہ کمپنی مجھے ایک فیصدکم پہ مال دینے کو تیار ہے مگر یہ بات جہاں مال دیتا ہوں اس کمپنی کو نہیں معلوم ہے تو کیا میرے لئے پہلی کمپنی سے ایک فیصد کم پہ مال لے کر سامنے والی کمپنی کو پہلے والی قیمت پہ مال دینا درست ہوگا؟ بلال احمد، ممبئی
باسمہ تعالیٰ ۔ھوالموفق: سوال یہ ہے کہ آپ کس حیثیت میں کام کررہے ہیں اور جو مال آپ کے ذریعہ کسی کمپنی کو دیا جارہا ہے اس کا مالک کون ہے، آپ خود یا وہ کمپنی جسے آپ مال پہنچا رہے ہیں، اگر مال کی خریداری اس کمپنی نے خود یا اس کے نمائندے کی حیثیت سے خود آپ نے کی ہے تو آپ کمپنی کے وکیل یا اجیر ہیں کہ مقررہ اجرت پر کمپنی کا مال اس تک پہنچا دیں۔ اس صورت حال میں جبکہ مال کمپنی کا مانا گیا ہے تو نفع نقصان کمپنی کا ہوگا اسلئے مال دینے والا اگر قیمت میں ایک فیصد کم کرکے دیتا ہے تو قیمت میں کمی کا فائدہ بھی کمپنی ہی کا حق ہوگا، یہ رقم آپ کو نہ ملےگی یہ کمپنی کا حق ہوگا البتہ اگر کمپنی اس مال کی مالک نہ ہو بلکہ مالک آپ ہوں اور کمپنی آپ سے مال اس شرط پر لیتی ہوکہ اس کا مطلوبہ مال آپ کہیں سے بھی خرید کر کمپنی کو مہیا کریں جس کی قیمت وہ دس فیصد اضافہ کے ساتھ ادا کریگی (بطور بیع مرابحہ) تب ایک فیصد جو مال دینے والا تاجر دے گا وہ آپ لے سکتے ہیں مگر بیع مرابحہ ہو تو جو قیمت آپ ادا کرکے خریدیں گے اسے ظاہر کرنا ضروری ہو گا۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم
یہ بھی پڑھئے: فتاوے: رمضان میں ایک سے زیادہ مرتبہ بھی مکمل قرآن ختم کیا جا سکتا ہے
قرض کے بدلے نفع
ایک آدمی نے دوسرے سے ایک لاکھ روپیہ لیا اور اس کے بدلے میں کچھ زمین دے دی کہ جب تک آپ کا پیسہ واپس نہ کروں تب تک آپ اس زمین کو اپنے کام میں لے لیں، تو ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ عبد الباسط ،بہار
باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق: رقم لے کر کوئی چیز مثلاً زمین وغیرہ دینا کہ جب تک رقم کی واپسی نہ ہو رقم دینے والا اسےاپنے فائدے کیلئے استعمال کرتا رہے یہ رہن کی صورت ہے۔ احکام شرع کے مطابق رقم دینے والا اسے اپنی تحویل میں تو رکھ سکتا ہے مگر اس سے ذاتی فائدہ حاصل کرنا اس کیلئے درست نہیں۔ اس تحویل کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ رقم لینے والا مقررہ مدت میں رقم ادا نہ کرسکے تو داین یعنی رقم دینے والا اسے فروخت کرکے اپنی دی ہوئی رقم وصول کرلے اور مزید رقم جو بچے وہ مالک کے حوالے کردے۔ شرعاً سود حرام ہے اسلئے رقم دینے والا سود کا مطالبہ بھی نہیں کرسکتا۔ اسکی بہتر صورت یہ ہے کہ زمین کے مالک سے کرایہ طے ہوجائے جو دی ہوئی رقم سے وضع ہوتا رہے پھر جب مالک اپنی چیز واپس لینا چاہے تو اب تک کا کرایہ وضع کرکے مالک رقم دینے والے کو بقیہ رقم واپس کردے اور اس کی چیز اسے واپس کردی جائے ۔والله اعلم وعلمہ اتم
یہ بھی پڑھئے: فتاوے: اعتکاف اور شوال کے روزوں کی قضا کا حکم
شراب نوش دکاندار
ایک چائے کی دکان ہے جس کا مالک شراب پیتا ہے، کیا اس دکان کی چائے پی سکتے ہیں؟مرشد عالم اتراکھنڈ
باسمہ تعالیٰ ۔ھوالموفق: کھانے پینے کی اشیاء کے صحیح اور غلط ہونے کیلئے بنیادی شرط یہ ہے کہ نجس اور حرام کی آمیزش سے خالی ہو لیکن ان اشیائے خورد ونوش کے بیچنے اور بنانے والے کیلئے یہ شرط کہیں نہیں ملتی کہ وہ فلاں فلاں عمل کرتا ہو یا نہ کرتا ہو۔ اگر وہ مثلاً شرابی ہے لیکن جو چیز فروخت کر رہا ہے اس میں شراب یا کسی نجس اور حرام کی ملاوٹ نہیں ہے تو اس سے کھانے پینے والی چیزوں کا خریدنا اور ان کو استعمال کرنا جائز ہوگا البتہ اگر وہ ایسی کوئی چیز ملاتا ہو تو پھر اس کا استعمال درست نہ ہوگا۔ جہاں ایسا کوئی شبہ ہو وہاں احتیاط اور تحقیق کی ضرورت ہو گی لہٰذا صورت مسئولہ میں اگر یہ دکاندار چائے میں کسی حرام اور نجس کی آمیزش نہیں کرتا تو اسکی چائے پینے میں کوئی حرج نہیں۔ و اللہ اعلم وعلمہ اتم