Inquilab Logo Happiest Places to Work

دل کو ذکر و فکر سے آباد رکھئے، زندگی پُرسکون اور بابرکت رہے گی

Updated: April 10, 2026, 4:33 PM IST | Mudassir Ahmad Qasmi | Mumbai

انسان کی اصل دنیا اس کا دل ہے۔ اگر دل اللہ کے ذکر سے آباد ہوجائے تو دنیا ہی نہیں، آخرت کی کامیابی بھی مقدر بن جاتی ہے۔

A person who is engaged in the remembrance and contemplation of Allah lives in the shadow of mercy. Photo: INN
اللہ کے ذکر و فکر میں مشغول شخص رحمت کے سائے میں رہتا ہے۔ تصویر: آئی این این

انسانی زندگی کی اصل روح اس کے باطن کی بیداری میں پوشیدہ ہے، اور یہ بیداری ذکر و فکر کے نور سے حاصل ہوتی ہے۔ ذکر اللہ وہ لطیف کیفیت ہے جو دل کو جلا بخشتی ہے اور فکر وہ شعوری عمل ہے جو انسان کو اپنی حقیقت اور مقصدِ حیات سے روشناس کراتا ہے۔ جب انسان اپنے مشاغل اور مصروفیات کے ہجوم میں بھی اللہ کو یاد رکھتا ہے تو اس کی زندگی محض حرکات و سکنات کا مجموعہ نہیں رہتی بلکہ ایک بامقصد، بامعنی اور نورانی سفر بن جاتی ہے۔ ذکر و فکر دراصل وہ روحانی سانس ہے جس کے بغیر زندگی کی ظاہری رونق بھی ایک بے کیف خلا محسوس ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: انسانی تربیت میں والدین کا کردار بنیادی ہے

قرآن و حدیث نے ذکر و فکر کی اہمیت کو نہایت واضح انداز میں بیان کیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’خبردار! اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے۔‘‘ (سورۃ الرعد:۲۸)اسی طرح ایک اور مقام پر ارشاد ہے: ’’وہ آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں غور و فکر کرتے ہیں۔‘‘ (سورۃ آل عمران:۱۹۱) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ’’اللہ کا ذکر کرنے والا اور نہ کرنے والا زندہ اور مردہ کی مانند ہیں۔‘‘ (صحیح بخاری) یہ نصوص اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ ذکر و فکر محض ایک عمل نہیں بلکہ زندگی کی روح ہے۔

اسلام ایک متوازن دین ہے جو انسان کو دنیاوی مشاغل سے کنارہ کشی کا حکم نہیں دیتا بلکہ ان کو اعتدال کے ساتھ اختیار کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ تجارت، ملازمت، تعلیم، تفریح—یہ سب جائز مشاغل ہیں، لیکن اگر ان کے ساتھ ذکر اللہ شامل ہو جائے تو یہی معمولات عبادت کا درجہ اختیار کر لیتے ہیں۔ گویا ذکر اللہ ان مشاغل کو بابرکت بنا دیتا ہے اور انسان کے وقت کو قیمتی سرمایہ میں تبدیل کر دیتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ذاتی مشغلہ اور ذکر اللہ کو ایک ساتھ انجام دینا نہ صرف ممکن ہے بلکہ نہایت آسان بھی ہے۔ انسان چلتے پھرتے، کام کرتے، سفر کرتے یا آرام کے لمحات میں بھی اپنے دل کو اللہ کی یاد سے معمور رکھ سکتا ہے۔ زبان کی ہلکی سی جنبش اور دل کی گہرائی میں پیدا ہونے والا احساسِ قرب، انسان کو ہر حال میں اپنے رب سے جوڑے رکھتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: حرمین شریفین سیلفی پوائنٹس نہیں

اسلامی تاریخ اس بات کی زندہ گواہ ہے کہ ہر دور میں مختلف مشاغل سے وابستہ افراد اہلِ دل اور صاحبِ ذکر رہے ہیں۔ تاجر ہوں یا سپاہی، علما ہوں یا کاریگر،ہر طبقہ میں ایسے لوگ ملتے ہیں جنہوں نے اپنے پیشے کے ساتھ ساتھ ذکر و فکر کو لازم پکڑا اور اپنی زندگی کو روحانیت سے آراستہ کیا۔ یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے دنیا میں رہ کر بھی دل کو دنیا سے بلند رکھا۔

اگر ہم ذکر و فکر کو اپنے مشغلے کی طرح ضروری سمجھ لیں تو یہ ہمارے لئے نہایت آسان ہو جائے گا۔ جس طرح ہم اپنے روزمرہ کے کاموں کے لئے وقت نکالتے ہیں، اسی طرح اگر ہم ذکر اللہ کے لئے بھی شعوری طور پر وقت مقرر کریں تو رفتہ رفتہ یہ ہماری عادت بن جائے گا۔ عادت جب عبادت میں ڈھل جائے تو انسان کی زندگی خود بخود سنورنے لگتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’غم نہ کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے‘‘

یاد رکھیں کہ انسان کی اصل دنیا اس کا دل ہے۔ اگر دل آباد ہو جائے، اللہ کی یاد سے روشن ہو جائے، تو اس کی ظاہری زندگی میں بھی سکون، توازن اور برکت پیدا ہو جاتی ہے، اور آخرت کی کامیابی بھی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔ لیکن اگر دل ویران ہو تو دنیا کی ساری رونقیں بھی بے معنی محسوس ہوتی ہیں۔ ذکر و فکر سے اپنے آپ کو مزین کرنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ انسان ہمیشہ اللہ کی رحمت کے سائے میں رہتا ہے۔ اس کے دل میں اطمینان، اس کے اعمال میں اخلاص، اور اس کی زندگی میں برکت پیدا ہو جاتی ہے۔ ایسے شخص کے لئے مشکلات بھی آسانی میں بدل جاتی ہیں کیونکہ وہ ہر حال میں اپنے رب سے جڑا رہتا ہے۔یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہئے کہ ذکر و فکر ایک فن اور ایک سیکھنے کا عمل بھی ہے۔ اس کے آداب، اس کی کیفیت اور اس کی روح کو سمجھنے کے لئے اہلِ اللہ کی صحبت اور رہنمائی نہایت ضروری ہے۔ ان کے تجربات اور ان کی تربیت انسان کو اس راستے پر استقامت عطا کرتی ہے۔

خلاصہ یہ کہ ذکر و فکر انسان کی روحانی زندگی کا بنیادی ستون ہے۔یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو اس کے خالق سے قریب اور اس کی حقیقی منزل سے آشنا کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK