دُنیا ایک ہوکر سامنے آئے،یا الگ الگ ملکوں اور معاشروں کا معاملہ ہو۔ ان میں بگاڑ چاہے خوفناک حدوں تک پھیل جائے اور زوداثر اور تیزرفتار ذرائع ابلاغ اور ان کا بنایا ہوا ماحول حددرجہ بگڑ جائے، تو پھر بھی اصلاح و تعمیر ِنو کا صرف ایک راستہ ہے۔
EPAPER
Updated: April 10, 2026, 4:26 PM IST | Naeem Siddiquie | Mumbai
دُنیا ایک ہوکر سامنے آئے،یا الگ الگ ملکوں اور معاشروں کا معاملہ ہو۔ ان میں بگاڑ چاہے خوفناک حدوں تک پھیل جائے اور زوداثر اور تیزرفتار ذرائع ابلاغ اور ان کا بنایا ہوا ماحول حددرجہ بگڑ جائے، تو پھر بھی اصلاح و تعمیر ِنو کا صرف ایک راستہ ہے۔
بچّے کی تربیت کا پہلا ادارہ گھر کا ادارہ ہے، جس کے کارپرداز والدین (اور دوسرے بزرگ یا بھائی بہن) ہوتے ہیں۔ والدین کے سامنے اگر اپنی اولاد کو انسانیت کے بہترین معیار تک پہنچانا اور اسلامی فکروعمل سے آراستہ کرنا ہو تو ایسے دُور اندیش اور ذمہ دار والدین، بچّے کی پیدائش سے پہلے سارا منصوبہ بنالیتے ہیں۔
والدین اسے زبان سکھاتے ہیں اور زبان اور گفتگو کی خرابیوں سے بچاتے ہیں۔ وہ سونے سے لے کر جاگنے تک اور پھر دن میں گھر کے روز مرہ مشاغل میں شرکت کراتے وقت بچّے کو صحیح آداب کی تربیت دیتے، اقدار اور شعائر سے مالامال کرتے ہیں۔ گندگی سے بچنے کی تربیت دیتے ہیں۔ ہاتھ منہ صاف، ناخن درست، لباس دُھلا ہوا ہو اور اگر کہیں سے پھٹا ہو تورفو کیا جائے، جوتے پالش کئے ہوئے اور مٹی سے صاف، پورے جسم کی صفائی، دانتوں کی صفائی، سر کے بالوں کو کنگھی سے درست کرنا، بڑوں کا ادب اور ان کا حکم ماننا، چھوٹوں سے محبت کرنا، گھر میں اور گھر کے باہر جہاں ضرورت ہو مدد پہنچانا اور خدمت کرنا، خدا کو پہچاننا، اس کے دین کی تعلیم آہستہ آہستہ حاصل کرنا، قرآن پڑھنا، نماز ادا کرنا، مقررہ اوقات میں اچھے اخلاق کے شریف بچوں کے ساتھ کھیلنا، اسکول کا دور ہو تو آموختہ یاد کرنا، اگلے سبق کی تیاری کرنا، جو کام کرنے کو استادوں نے بتایا ہو، خوش خطی سے لکھنا اور صفائی سے کرنا، گالی، جھوٹ، وعدہ خلافی سے بچنے کی تربیت ماں باپ کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: حرمین شریفین سیلفی پوائنٹس نہیں
یہ معلوم کرنا کہ دُنیا میں اچھائی بھی پائی جاتی ہے اور بُرائی بھی، اور کبھی کبھی بُرائی بہت دلکش ہوتی ہے، جیسے سانپ کی لہردار جِلد بہت کشش رکھتی ہے۔ بچّے کو والدین آہستہ آہستہ تلقین کر کے جہاں یہ بتائیں کہ بُرائی اور اچھائی کی کیا کیا شکلیں ہیں، وہاں ان کو بُرائی سے بچنے اور ہوسکے تو دوسروں کو بھی بچانے یا سرے سے مٹانے کی کوشش کرنا، اچھائی میں چمک دمک کم ہو تو بھی اسے قبول کرنا اور پھیلانا بتائیں۔ حرام و حلال کا فرق سمجھائیں۔
والدین ان کے سامنے تاریخ کی روشن شخصیتوں کے حالات بیان کریں اور اس طرح شہرت یافتہ ظالموں اور بے انصاف بادشاہوں، یا بُری عادتوں کی وجہ سے برباد ہونے والے بڑے لوگوں کا بھی نقشہ کھینچیں۔ خبروں پر گفتگوکرکے انھیں سمجھائیں کہ اچھا کیا ہے اور بُرا کیا۔ ان کے لیے مفید اثرات رکھنے والی دلچسپ کہانیوں، نظموں اور معلوماتی قسم کی کتابیں عمر کے لحاظ سے فراہم کرتے رہیں۔ ان کے لئے گھر میں چھوٹی سی لائبریری خود ان کے ہاتھوں سے تیار کرائیں جو بڑھتی رہے۔ انھیں سیر کرائیں، میوزیم، چڑیا گھر، پریس اور دوسرے کارخانے، نیز مساجد اور تاریخی یادگاریں اہتمام سے دکھائیں۔ جس شہر میں بھی جانا ہو، وہاں بھی دینی اور دُنیوی معلومات سے ان کو آراستہ کریں۔
ان ساری کوششوں کے ساتھ اپنی خدا پرستانہ تہذیب کی اعلیٰ قدروں، صداقت، انصاف، تواضع ، حیا، ہمدردی، رحم وغیرہ کو اُبھاریں۔ یہی چیزیں عملی شکل اختیار کر کے اخلاقِ عالیہ کی سطح تک پہنچتی ہیں۔ ان کو تربیت دیں کہ وہ معاشرے اور ماحول کے بُرے حالات، دنگے فساد، لُوٹ مار، کھانے کی ناقص مگر ظاہراً دلکش اشیاء، عمارتوں اور گاڑیوں پرنگاہِ غلط انداز ڈالتے ہوئے جلد گزر جائیں اور کوئی بُرااثر نہ لیں۔ وہ صرف اپنے خدا کی خوشنودی کو سامنے رکھیں۔ تعلیم گاہ کا ادب کریں، اساتذہ کا احترام کریں اور قواعد و ضوابط اور وقت کی پابندی کریں۔ اگر مکتب اور کالج کی تعلیم کے ساتھ والدین کی یہ مساعی جاری رہیں اور دونوں یکساں انداز سے کام کریں تو بہت اچھا نتیجہ ہوسکتا ہے ورنہ گھر اور درس گاہ میں اگر تضاد ہو تو بچّے میں بامعنی زندگی کے لئے اچھا کردار پیدا نہیں ہوسکتا۔
یہ بھی پڑھئے: ’’غم نہ کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے‘‘
اسلوبِ بیان بدل بدل کر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آج، جب کہ پوری دُنیا ایک محلّہ اور گائوں بن گئی ہے، تو دُنیائے اسلام، اپنے گھر، محلّے، شہر، ملک اور ساری دُنیا کے ماحول کاتحفظ کس طرح کرسکتی ہے؟
دُنیا ایک ہوکر سامنے آئے،یا الگ الگ ملکوں اور معاشروں کا معاملہ ہو۔ ان میں بگاڑ چاہے خوفناک حدوں تک پھیل جائے اور زوداثر اور تیزرفتار ذرائع ابلاغ اور ان کا بنایا ہوا ماحول حددرجہ بگڑ جائے، تو پھر بھی اصلاح و تعمیر ِنو کا صرف ایک راستہ ہے۔ وہ یہ کہ کوئی فرد پیغمبر کی تعلیم سے روشنی حاصل کرکے انھی کے طریق پر (جس کے لئے کامل اور واضح نمونہ حضرت محمد مصطفیٰ ؐ ہیں) تن تنہا دعوتِ حق لے کر اُٹھ کھڑا ہو، اور دوسرا ساتھی تیار کرے۔ پھر اسی فکرو تحریک ِ اصلاح کو وہ دونوں آگے بڑھائیں، یہاں تک ایک سے زیادہ گروہ منظم کام کرنے میں لگ جائیں۔ اس طرح ایک ایک فرد صحیح عقیدہ و فکر اور صحیح راہِ عمل اختیار کرتا چلا جائے، یہاں تک کہ ملکی یا عالمی معاشرہ میں ایک وقیع طاقت، علوم سے آراستہ اورکردار کی پاکیزگی سے مزین، نئی دینیات تیار کرنے اور نیا انسان بنانے کی مہم کو پھیلاتی چلی جائےتاآنکہ لوگ متوجہ ہوں، اس کے متعلق بحثیں پیدا کریں، کہیں جبروستم بھی ان لوگوں کے امتحان کا ذریعہ ہے، اور اس طرح یہ طرزِ فکر و عمل اتنا عام ہوجائے کہ معاشرے کی سیاست، معیشت، معاشرت اور ثقافت بے تُکے طریق سے چل نہ سکے۔
اصلاح ہمیشہ اس اصول پر ہوتی ہے کہ گھٹاٹوپ اندھیرے میں کہیں ایک چراغ جلتا ہے، پھر ایک اور، پھر اور … یہاں تک کہ شعاعوں اور روشنیوں کے لشکر ہر طرف پھیل جاتے ہیں۔