Inquilab Logo Happiest Places to Work

حضور ؐکی معاشی پالیسی اور غربت کا خاتمہ

Updated: August 29, 2025, 3:54 PM IST | Dr. Muhammad Hussain Mushahid Rizvi | Mumbai

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرتِ طیبہ کا مطالعہ یہ حقیقت آشکار کرتا ہے کہ آپ ﷺ کی معاشی حکمت عملی محض دولت کی تقسیم تک محدود نہ تھی بلکہ ایک ایسے منصفانہ نظام کی تشکیل پر مبنی تھی جو معاشرتی عدل، انسانی وقار اور فقر ومحتاجی کے خاتمے کا ضامن بنے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرتِ طیبہ کا مطالعہ یہ حقیقت آشکار کرتا ہے کہ آپ ﷺ کی معاشی حکمت عملی محض دولت کی تقسیم تک محدود نہ تھی بلکہ ایک ایسے منصفانہ نظام کی تشکیل پر مبنی تھی جو معاشرتی عدل، انسانی وقار اور فقر ومحتاجی کے خاتمے کا ضامن بنے۔ نبی کریمؐ نے معاشی نظام کو اخلاقی اقدار سے جوڑ کر انسانیت کو ایک جامع اور ہمہ گیر معاشی تصور عطا فرمایا جو نہ صرف غربت کے خاتمے کی طرف رہنمائی کرتا ہے بلکہ دولت کے ارتکاز، استحصال اور اجارہ داری کے تمام دروازے بند کرتا ہے۔ 
اسلام سے قبل کا عرب معاشرہ شدید معاشی تفاوت، سودی نظام، طاقت ور قبائل کے استحصال اور غریب و محروم طبقات کی بے بسی کا شکار تھا۔ مکۂ مکرمہ میں تجارتی اجارہ داری قریش کے چند سرداروں کے ہاتھ میں تھی جب کہ عوام کی اکثریت فقر، غلامی اور محتاجی کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے سب سے پہلے ایسے غیر منصفانہ معاشی ڈھانچے کے خلاف آواز بلند کی اور انسان کی معاشی آزادی کو ایمان کی حرارت سے مربوط کیا۔ آپ ﷺ نے لوگوں کے دلوں میں احساسِ عدل و احسان، سچائی اور خیرخواہی کو راسخ کر کے ایک ایسی فضا قائم کی جہاں دولت کی گردش صرف سرمایہ داروں کے درمیان محدود نہ رہی بلکہ معاشرے کے ہر فرد تک پہنچنے لگی۔ 
مدینہ منورہ میں اسلامی ریاست کے قیام کے بعد نبی کریم ﷺ نے ایسے اصول وضع کیے جو معاشی انصاف کے ستون بن گئے۔ آپ ﷺ نے مہاجرین و انصار کے درمیان مواخات قائم کرکے معیشت کو صرف مالی معاملات تک محدود نہ رکھا بلکہ بھائی چارے، ہمدردی اور باہمی تعاون کے ذریعے معاشرتی ہم آہنگی پیدا کی۔ بیت المال کے قیام، زکوٰۃ اور صدقات کے منظم نظام، مالِ غنیمت کی منصفانہ تقسیم، یتیموں، مسکینوں، غلاموں، بیواؤں اور کمزور طبقات کے حقوق کی تاکید؛ یہ سب نبی اکرم ﷺ کی معاشی پالیسی کے روشن پہلو ہیں۔ 
آپ ﷺ نے معیشت کو سودی شکنجوں سے آزاد کر کے ایک پاکیزہ نظام قائم کیا۔ سود کو صرف مالی بدعنوانی ہی نہیں بلکہ سماجی ظلم قرار دے کر اس کے خاتمے کو ایمان کا تقاضا بنایا۔ تجارت کو دیانت اور بھروسے کا محور قرار دیا اور فرمایا کہ’’سچا تاجر قیامت کے دن انبیا، صدیقین اور شہدا کے ساتھ ہوگا۔ ‘‘ یوں آپ ﷺ نے دولت کے حصول کو محض دنیاوی فائدے کا ذریعہ نہیں بلکہ اخلاقی برتری اور دینی ذمہ داری کے ساتھ جوڑ دیا۔ آقا کریم ﷺ کی معاشی اصلاحات کا ایک عظیم مظہر یہ بھی ہے کہ آپ نے غلامی کے خاتمے کو اقتصادی و اخلاقی فلاح کا لازمی جز قرار دیا۔ غلاموں کو آزادی دلانے، ان کے ساتھ حسن سلوک اور ان کے معاشی استحکام کی تلقین نے ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھی جہاں انسان صرف محنت اور کردار کی بنیاد پر مقام پاتا تھا نہ کہ وراثتی مال و دولت کی بنیاد پر۔ 
نبی مکرم ﷺ کی معاشی پالیسی کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ آپ ؐ نے کام اور محنت کو عبادت کا درجہ دیا اور فرمایا: ’’تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے ہاتھ کی کمائی کھاتا ہے۔ ‘‘ یہ ارشاد دراصل سُستی اور بیکاری پر انحصار کرنے والی ذہنیت کے خلاف ایک انقلابی پیغام تھا۔ آپ ﷺ نے ذخیرہ اندوزی کی حوصلہ شکنی کی، قیمتوں میں ناجائز اضافہ کو ظلم قرار دیا اور ضرورت مندوں کی مدد کو ایمان کی علامت بتایا۔ 
نبی کریم ﷺ کی معاشی پالیسی ایک ایسا فلاحی نمونہ پیش کرتی ہے جو صرف غربت مٹانے پر زور نہیں دیتی بلکہ انسان کو خوددار، باوقار اور باصلاحیت بنا کر اسے معاشرے کا فعال رکن بناتی ہے۔ اس نظام میں نہ صرف محروموں کی دستگیری ہے بلکہ مالداروں کے دلوں میں ان کیلئے محبت اور ذمہ داری کا جذبہ بھی پروان چڑھتا ہے۔ یوں سیرت النبی ؐ کا معاشی باب ہمیں ایک ایسی راہ دکھاتا ہے جس پر چل کر ہم آج کے استحصالی معاشی نظاموں سے نجات پا سکتے ہیں اور ایک پرامن، منصفانہ اور خوشحال معاشرہ قائم کر سکتے ہیں۔ 
یہی پیغام ہے اسوۂ رسول ﷺ کا کہ معیشت محض دولت کی افزائش کا ذریعہ نہیں بلکہ انسانی فلاح و بہبود کا ایسا فریم ورک ہے جو دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی کا زینہ بن سکتا ہے۔ غربت کا خاتمہ صرف مالی امداد سے نہیں بلکہ سیرتِ نبوی ﷺ کے اصولوں کو اپنانے سے ممکن ہے جو دلوں کو بدلتی ہے، نظام کو سنوارتی ہے اور انسانیت کو سربلندی عطا کرتی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK