بخارا کی ایک سادہ سی گلی میں ایک گھر تھا جہاں خاموشی غیر معمولی طور پر بولتی تھی۔ اس گھر میں نہ کسی بڑے عالم کی مجلس سجتی تھی، نہ کسی امیر کی شان و شوکت تھی، مگر اس کی فضا میں ایک عجیب سنجیدگی، ٹھہراؤ اور مقصد کی خوشبو بسی ہوئی تھی۔
افراد کی تعمیر کا عمل کہیں باہر نہیں، گھروں کے اندر شروع ہوتا ہےبالْخصوص ماں کے زیر سایہ تربیت سے۔ تصویر: آئی این این
بخارا کی ایک سادہ سی گلی میں ایک گھر تھا جہاں خاموشی غیر معمولی طور پر بولتی تھی۔ اس گھر میں نہ کسی بڑے عالم کی مجلس سجتی تھی، نہ کسی امیر کی شان و شوکت تھی، مگر اس کی فضا میں ایک عجیب سنجیدگی، ٹھہراؤ اور مقصد کی خوشبو بسی ہوئی تھی۔ گھر کی مالکن ایک بیوہ خاتون تھیں،کم گو، باوقار اور نگاہوں میں غیر معمولی استقامت لئے ہوئے۔ شوہر کا سایہ اٹھ چکا تھا، اور گود میں ایک کمسن بچہ تھا جس کی تقدیر ابھی لکھی جا رہی تھی۔
کچھ ہی عرصہ گزرا تھا کہ اس بچے کی آنکھوں کی روشنی جاتی رہی۔گھر میں اندھیرا صرف آنکھوں کا نہیں تھا، حالات کا بھی تھا۔ مگر اس ماں نے اس اندھیرے کو شکست ماننے کے بجائے خاموشی سے سمیٹ لیا۔ دن میں وہ معمولات نبھاتی، رات آتی تو اس کے سجدے طویل ہو جاتے۔ آنسو بہتے، لب ہلتے، اور دل میں ایک ہی بات گونجتی رہتی کہ جو امانت سونپی گئی ہے، وہ ضائع نہیں ہونی چاہئے۔ ایک رات خواب میں ایک بزرگ چہرہ نمودار ہوا، تسلی کے چند الفاظ کہے گئے، اور صبح ہوئی تو بچہ دوبارہ دیکھ رہا تھا۔
گھر میں شور نہیں مچا، شکر تھا،خاموش مگر گہرا۔ بچہ بڑا ہونے لگا۔ کھیل کود کے دن آئے تو کتابیں اس کے قریب رہیں۔ ماں کی نظر اس پر تھی مگر نہ پہرے دار کی طرح، نہ مجبور کرنے والی کی صورت میں، بلکہ ایک سمت دکھانے والے چراغ کی طرح، ایک خاموش رہنما کی طرح، وہ جانتی تھی کہ اس بچے کے اندر جو شوق جاگ رہا ہے، وہ عام نہیں ہے۔ دس برس کی عمر میں جب وہ حدیث کے ناموں، راویوں اور متنوں میں دلچسپی لینے لگا تو ماں نے اسے بچوں کی ضد یا وقتی رجحان سمجھ کر ٹال نہیں دیا۔ اس کے برعکس، اس شوق کو وقار دیا، وقت دیا اور ماحول دیا۔
ایک دن یہ احساس گہرا ہو گیا کہ بخارا کی گلیاں اب اس شوق کے لئے تنگ ہو رہی ہیں۔ بڑے مراکز، بڑے اساتذہ اور وسیع حلقے اس ذہن کے منتظر ہیں۔ سفر آسان نہ تھا۔بیوہ عورت، کم عمر بچے، لمبا راستہ۔ مگر ماں نے راستے کی طوالت نہیں دیکھی، منزل کی وسعت دیکھی۔ وہ خود دونوں بیٹوں کو لے کر مکہ روانہ ہوئی۔ یہ سفر نقشے پر کھنچی ہوئی لکیر نہیں تھا، یہ ایک ذہن کو اس کے اصل افق تک پہنچانے کی جدوجہد تھی۔ مکہ میں قیام طویل ہوا۔ ماں نے واپسی کی جلدی نہ کی۔ وہ جانتی تھی کہ یہاں کا ہر دن اس بچے کے ذہن میں ایک نیا دریچہ کھول رہا ہے۔ وہ اخراجات پر تنگی محسوس کرتی، مگر حساب کتاب میں خوف شامل نہ ہونے دیتی۔ شوہر کی چھوڑی ہوئی پاک کمائی کو وہ یوں خرچ کرتی جیسے کوئی امانت درست جگہ پہنچا رہا ہو۔ نہ اسراف تھا، نہ تنگی بس مقصد کی سیدھی لکیر تھی۔ راتیں اب بھی جاگتی تھیں۔ فرق صرف اتنا تھا کہ اب دعا میں اندیشوں کے بجائے ذمہ داری کا وزن شامل ہو گیا تھا۔ وہ جانتی تھی کہ یہ بچہ عام نہیں رہے گا، اور غیر معمولی بوجھ غیر معمولی سنبھالا مانگتا ہے۔ وہ اسے کچھ کہتی نہیں تھی، مگر اس کے سکوت میں ایک پیغام تھا: وقت ضائع نہیں ہوتا، وہ یا تعمیر کرتا ہے یا برباد۔ سال گزرتے گئے۔ بچہ جوان ہوا، حافظہ حیران کن ہو گیا، نام پھیلنے لگا۔ لوگ کتاب دیکھتے، روایت سنتے، ذہانت پر حیرت کرتے۔ مگر اس ذہانت کے پیچھے وہ گھر تھا، وہ راتیں تھیں، وہ خاموش فیصلے تھے جو کبھی زبان پر نہ آئے۔ وہ ماں اب منظر سے اوجھل تھی، مگر اس کے رکھے ہوئے قدموں کے نشان واضح تھے۔ یوں صحیح بخاری کے اوراق میں صرف احادیث محفوظ نہیں ہوئیں، بلکہ ایک ماں کی بصیرت، اس کی قربانی اور اس کا غیر اعلانیہ یقین بھی ثبت ہو گیا۔ تاریخ نے نام ایک کا لکھا، مگر کہانی دو روحوں کی تھی، ایک نے علم کو جمع کیا، دوسری نے انسان کو۔
یہ پوری داستان ایک سادہ مگر نہایت گہری حقیقت کو آشکار کرتی ہے: تاریخ کے بڑے ابواب اکثر گھروں کے چھوٹے کمروں میں لکھے جاتے ہیں۔ اگر یہ ماں بصیرت سے خالی ہوتی، اگر وہ خوف کے آگے جھک جاتی، اگر وہ مقصد کو آسائش پر قربان کر دیتی، تو علمِ حدیث کی دنیا شاید ایک ایسے چراغ سے محروم رہتی جس کی روشنی صدیوں تک پھیلی ہوئی ہے۔ امام بخاریؒ کی عظمت دراصل اُس فکری اور اخلاقی سانچے کی توسیع ہے جو ان کے بچپن میں ایک باشعور ماں نے تیار کیا تھا۔
یوں یہ داستان فرد سے نکل کر عہد کی تصویر بن جاتی ہے۔ افراد کی تعمیر کا عمل کہیں باہر نہیں، گھروں کے اندر شروع ہوتا ہے، اور قوموں کی تقدیر اکثر اُن ہاتھوں میں لکھی جاتی ہے جو بظاہر کمزور دکھائی دیتے ہیں، مگر شعور اور یقین سے مضبوط ہوتے ہیں۔ جب ایسی ماں جنم لیتی ہے تو وہ محض ایک انسان نہیں بناتی، بلکہ وقت کے دھارے کو نئی سمت دے دیتی ہے۔ پھر کتابیں خود بخود وجود میں آتی ہیں، تاریخ خود گواہی دیتی ہے، اور دنیا بلا اعلان مان لیتی ہے کہ مائیں واقعی نسلوں کو سنوار دیتی ہیں۔
گھر کی خاموش فضا میں جو کچھ ترتیب پاتا ہے، وہی بعد میں تاریخ کے ہنگاموں میں ظاہر ہوتا ہے۔ نسلیں کسی اعلان کے تحت نہیں بنتیں، بلکہ آہستہ آہستہ ایک مزاج میں ڈھلتی ہیں۔ ماں کی آنکھ، اس کی ترجیح، اس کی خاموش رضامندی اور اس کا غیر محسوس انکار، یہ سب مل کر بچے کے باطن میں ایک نقش قائم کرتے ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ مٹنے کے بجائے گہرا ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فرد کی تعمیر کا پہلا مرحلہ کسی ادارے میں نہیں، بلکہ ماں کے دائرۂ اثر میں مکمل ہوتا ہے۔
ایک ایسی عورت جو زندگی کے جھٹکوں کے باوجود اپنے اندر سمت محفوظ رکھے، اپنے بچے کے لیے محض سہارا نہیں بلکہ معیار بن جاتی ہے۔ مشکلات یہاں رکاوٹ نہیں رہتیں، بلکہ کردار کی آزمائش بن جاتی ہیں۔ آنکھوں کی محرومی، وسائل کی قلت اور حالات کی سختی اگر کسی وجود کو توڑنے کے بجائے سنوار دیں، تو یہ محض اتفاق نہیں ہوتا، یہ اس ذہنی فضا کا نتیجہ ہوتا ہے جس میں شکوہ کم اور یقین زیادہ ،خوف محدود اور مقصد نمایاں ہوتا ہے۔
رزق کی پاکیزگی یہاں صرف ایک ذاتی احتیاط نہیں، بلکہ فکری تہذیب کی بنیاد کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ جو ہاتھ بچے کے لئے نوالہ بڑھاتا ہے، وہی ہاتھ اس کے ذہن میں قبولیت اور رد کے پیمانے بھی رکھ دیتا ہے۔ سادہ مگر صاف وسائل سے پرورش پانے والا ذہن سچ کو بوجھ نہیں سمجھتا، جبکہ آسائشوں میں پلا ہوا شعور اکثر حق کی باریکیوں سے گھبرا جاتا ہے۔ یہی فرق آگے چل کر یادداشت، دیانت اور فکری توازن کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔
رات کی تنہائی میں اٹھنے والی دعائیں بھی محض ایک مذہبی عمل نہیں رہتیں، بلکہ وہ ایک نفسیاتی حصار بن جاتی ہیں۔ بچہ اسے شعوری طور پر نہ بھی سمجھے، تب بھی اس کے اندر ایک غیر مرئی اعتماد جنم لے لیتا ہے، ایسا اعتماد جو ناکامی کے لمحوں میں سہارا بنتا ہے اور کامیابی کے وقت غرور سے بچاتا ہے۔ یہی داخلی توازن بڑے علمی کارناموں کے پیچھے کارفرما رہتا ہے۔
نوجوانی میں قدم رکھتے ہی زندگی راستوں کی کثرت پیش کرتی ہے، مگر ہر راستہ منزل تک نہیں لے جاتا۔ جس ذہن نے ابتدا ہی سے ضبط، صبر اور مقصد کی فضا میں سانس لی ہو، وہ جانتا ہے کہ آسانی اکثر عارضی ہوتی ہے اور گہرائی ہمیشہ وقت مانگتی ہے۔ اسی لیے ایسا نوجوان شہرت سے پہلے تیاری اور نتیجے سے پہلے ذمہ داری کو ترجیح دیتا ہے۔
یوں گھروں میں جنم لینے والی یہ خاموش ترتیب معاشروں کی سمت متعین کر دیتی ہے۔ جب ماں کا شعور بیدار ہو تو وہ محض ایک فرد نہیں سنوارتی، بلکہ آنے والے زمانوں کی فکری لکیر کھینچ دیتی ہے۔ اور جب نوجوان اس لکیر کو بوجھ سمجھنے کے بجائے شناخت مان لیں، تو تاریخ کو بدلنے کے لئے کسی شور کی ضرورت نہیں رہتی، تبدیلی خود بخود اپنی آواز پیدا کر لیتی ہے۔