Inquilab Logo Happiest Places to Work

اثر کرے نہ کرے سن تو لے مری فریاد!

Updated: January 09, 2026, 5:19 PM IST | Maulana Mahirul Qadri | Mumbai

کیا نماز میں آپ پر کبھی یہ کیفیت طاری ہوئی ہے کہ ’’اللہ آپ کو دیکھ رہا ہے؟‘‘ یعنی حضوری کا احساس کہ آپ سچ مچ اللہ تعالیٰ کے دربار میں کھڑے ہو کر اپنی احتیاج و التجا اور عجز و نیاز کو پیش کررہے ہیں؟

Take accountability for your prayer, is it what Allah wants? Picture: INN
اپنی نماز کا احتساب لیجئے، کیا ویسی ہے جو اللہ کو مطلوب ہے؟ تصویر: آئی این این
یہ خطاب خاص طور سے اُن لوگوں سے ہے جو آخرت فراموش تہذیب، خود نما تمدن اور مادہ پرست دور میں ’’دین دار‘‘ کہلاتے ہیں اور یہ خطاب بجا طور پر اُنہیں زیب بھی دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ان پر فضل ہے کہ یہ لوگ دین کو صرف قبول ہی نہیں کرتے بلکہ پسند بھی کرتے ہیں۔ اُن کی دَبی تمنا بھی یہی ہے کہ اللہ کے دین کو غلبہ اور سربلندی حاصل ہو۔ عالم انسانیت اور اسلام کو،اسی طبقے سے خیر و فلاح کی اُمیدیں وابستہ ہیں، انجیل کی اصطلاح میں یہ لوگ زمین کا نمک ہیں اور شعر و ادب کی اصطلاح میں: ’’یہ لوگ چمن ہیں، چمن کی بہار بھی‘‘۔ یہ دین دار اور مذہبی لوگ کسی خاص جماعت، طبقہ اور ملک میں محدود نہیں ہیں۔ یہ ہر جگہ پائے جاتے ہیں اور شاید انہی کا وجود اور نیکیاں اس خدا فراموش دور میں اللہ تعالیٰ کے غضب کو تھامے ہوئے ہیں ورنہ یہ دُنیا بغاوت، عصیاں اور سرکشی کے اس حد تک قریب قریب پہنچ چکی ہے کہ آسمان سے پتھروں کی بارش ہو اور انسانوں کی بستیوں کی بستیاں عاد و ثمود جیسی نافرمان قوموں کی طرح ایک افسانۂ عبرت بن کر رہ جائیں۔ 
اس اعتراف ِ خوبی و کمال اور مدح و مناقب کے بعد ان دین پسند حضرات سے ہم آج کی فرصت میں کچھ گزارشیں بھی کرنا چاہتے ہیں۔ مقصد نہ کسی بھی طنز و تعریض ہے اور نہ اپنی پاک بازی اور اسلام پسندی کا اظہار و اعلان ہے۔ دوسروں کو ٹوکنے سے پہلے ہم خود اپنی کمزوریوں اور نفس کی دست درازیوں کا اقرار کرتے ہیں۔ خدا جانتا ہے کہ ہم دوسروں کو دعوت احتساب دیتے ہوئے خود شرم و ندامت محسوس کرتے ہیں کہ حقیقت میں ہم اس منصب کے اہل نہیں ہیں مگر اس کو کیا کیجئے کہ پورا معاشرہ  وَبائے عام میں مبتلا ہے ۔ حالات اس نوبت تک پہنچ چکے ہیں کہ خود مریض دوسرے مریض کو دوا اور پرہیز کی ہدایت کررہا ہے اور اُسے ایسا ہی کرنا چاہئے۔ پس قریب قریب ایسی ہی پوزیشن راقم الحروف کی ہے ۔ اس مضمون میں مضمون نگار نے نہ جانے کتنا احتساب خود اپنے پر کیا ہے۔ہم اُن لوگوں میں سے نہیں ہیں جو ’’تن ہمہ داغ داغ شد، پنبہ کجا کجا نہ شد‘‘ کہہ کر زخم کی دوا دارو اور مرہم پٹی ہی سے بے نیاز اور غافل ہوجاتے ہیں۔ ہم تو عزم  رکھتے ہیں کہ جسم کے جتنے بھی داغوں کی دیکھ بھال ہوسکے اس سے غفلت نہ برتنی چاہئے۔ اکتاہٹ، بے نیازی، مایوسی، اور بے دلی مرد مومن کو زیب نہیں دیتی۔ 
خیر، آپ پابندی کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں، کبھی کبھی غفلت کے سبب نماز قضا ہوجاتی ہے تو آپ کو خاصا ملال ہوتا ہے مگر یہ سوچئے کہ کیا  آپ پر کبھی یہ کیفیت طاری ہوئی ہے کہ ’’اللہ آپ کو دیکھ رہے ہیں‘‘یا ’’اللہ آپ کو دیکھ رہا ہے؟‘‘ یعنی حضوری کا احساس کہ آپ سچ مچ اللہ تعالیٰ کے دربار میں کھڑے ہو کر اپنی احتیاج و التجا اور عجز و نیاز کو پیش کررہے ہیں؟ پھر اس پر بھی غور کیجئے کہ آپ کے دوستوں اور عزیزوںمیں اور خود آپ کے گھر میں کتنے لوگ پابندی سے نماز پڑھتے ہیں اور جو نہیں پڑھتے ان میں سے کتنوں کو نمازی بنانے کیلئے آپ نے جدوجہد کی؟ کیا اپنے بے نمازی دوستوں کی خفگی کے ڈر سے آپ نے انہیں یہ تک محسوس ہونے دیا کہ ان کا نماز نہ پڑھنا آپ کو پسند نہیں؟ آپ کا لڑکا یا بھائی کسی دن اتفاق سے اسکول نہ جاسکے تو آپ کو جتنا رنج اس کے اسکول نہ جانے کا ہوتا ہے کیا اتنا غم اس کے نماز قضا کردینے کا بھی ہوتا ہے؟ 
آپ نماز میں تعدیل ارکان کا کتنا خیال رکھتے ہیں؟ کسی دعوت یا جلسے کا اہتمام کرنا یا کسی سے ملنے کیلئے جانا یا کوئی اور ضروری کام درپیش ہو تو اس وقت نماز پڑھنے میں آپ کی توجہ کا کیا عالم ہوتا ہے؟ آپ ڈاک کے لفافے پر پتہ لکھتے ہیں تو اس میں کس قدر صحت ِکتابت کو ملحوظ رکھتے ہیں اور پتہ لکھنے میں کتنا  انہماک ہوتا ہے اور کس قدر احتیاط سے کام لیتے ہیں مگر کیا نماز ادا کرنے میں لفافہ کا پتہ لکھنے کے برابر بھی آپ یکسوئی اور توجہ کو صرف فرماتے ہیں؟ 
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے، آپ  روزہ بھی رکھتے ہیں اور طبیعت کے اضمحلال کے باوجود شب میں تراویح بھی پڑھتے ہیں مگر آمد صیام کے ساتھ جس چیز کا سب سے زیادہ اہتمام کرتے ہیں وہ ماکولات اور مشروبات ہیں۔ کھانے پینے کے ذوق کی سیرابی کا اہتمام ایک طرف اور تقویٰ، پاکیزگی اور ذکر الٰہی کی تیاری دوسری طرف۔ ان دونوں میں آپ خود ہی موازنہ فرما سکتے ہیں کہ ان میں سے کس کا پلہ بھاری رہتا ہے۔ روزہ دار کو روزہ اس بات کا احساس دلاتا ہے کہ جو لوگ افلاس و ناداری کے سبب بھوکے رہتے ہیں ان بے چاروں پر کیا گزرتی ہوگی۔ اس احساس کے بعد آپ کے اندر قدرتی طور پر ماہ رمضان میں انفاق کا جذبہ دوسرے مہینوں کے مقابلے میں تیز تر ہوجانا چاہئے مگر ماہ صیام  میں خود آپ کے کھانے پینے کے مصارف میں اتنی زیادتی ہوجاتی ہے کہ آپ کو بھوکوں اور فاقہ زدوں کی امداد کا خیال آتا بھی ہے تو اپنے بڑھے ہوئے بجٹ کو دیکھ کر یہ خیال عمل کے قالب میں ڈھلنے نہیں پاتا۔ جس مہینے میں آپ کو سراپا ایثار بن جانا چاہئے تھا اس میں آپ سب مہینوں سے زیادہ آرام طلب، خوگر ِ راحت اور کام و دہن کی لذت کے شوقین بن جاتے ہیں۔  
رسول اللہ ﷺکا ارشاد ہے کہ جس کسی کو اللہ تعالیٰ نے مال و دولت دیا ہو اس کا اظہار اس شخص کی ظاہری حالت سے بھی ہونا چاہئے مگر حضـورؐ نے خود بھوکا رہ کر دوسروں کو کھانا بھی تو کھلایا ہے ! فقر کا یہ عالم تھا کہ کئی کئی دن تک حریم نبوت اور کاشانۂ رسالت میں چولہا گرم نہیں ہو پاتا تھا مگر حضورؐ کسی سائل کو ناکام نہ پھیرتے تھے یہاں تک کہ بعض اہل سوال سے یہ فرما دیا کہ تم میرے نام سے کسی سے قرض لے لینا مَیں اُسے ادا کر دوں گا۔ سرکارؐ (روحی فداک) کی معاشرت اس قدر سادا تھی کہ وہ سادگی رہتی دُنیا تک کیلئے ایک مثال بن کر رہ گئی ہے۔ 
حضورؐ کی مقدس زندگی کا ایک ایک ورق آپ کے سامنے ہے۔ سرکارؐ کی سیرت چاند اور سورج سے زیادہ روشن ہے، ممکن ہے کہ آسمانوں پر بھی کہیں کہیں تاریکی ہو مگر بزم ِ رسالت میں ہر جگہ نور و تجلی ہی ملے گی۔ آپ، حضورؐ کی اتباع کو ایمان کا سب سے بڑا تقاضا سمجھتے ہیں اورنام نامی سن کر آپ کے ہونٹوں پر صلوٰۃ و سلام کے نغمے اُبھر آتے ہیں اور فرط عقیدت سے آپ کا چہرہ متغیر ہوجاتا ہے ۔ آپ اپنے پر خود احتساب کریں کہ حضورؐ کے اتباع میں کسی بھوکے اور نادار کی خاطر خود بھوکا رہنا تو کجا کیا آپ نے کسی مفلس اور ضرورت مند کیلئے اپنے پان سگریٹ کے مصارف میں بھی کمی کی ہے اور کیا کوئی ایسا مہینہ بھی آپ پر گزرا ہے کہ اپنی آمدنی کا آپ نےبیسواں حصہ بھی اہل حاجت پر صرف کیا ہو؟
آپ کومال و دولت سے، شہرت اور ناموری سے اور عیش و راحت کے اسباب سے جو انتہا درجے کی دلچسپی ہے اور جس کیلئے آپ زمین و آسمان ایک کئے دیتے ہیں کیا سفر آخرت کے لئے زاد ِ راہ مہیا کرنے والوں کے شوق و دلچسپی کا یہی معیار اور مطلوب ہونا چاہئے؟ ہم یہ نہیں کہتے کہ یہ تمنائیں، خواہشیں اور ان کے حصول کی کوششیں حرام ہیں مگر کیا ’’حرام‘‘ سے اونچا کوئی درجہ نہیں ہے؟ کیا آپ اپنی زندگی میں صرف زہر سے پرہیز کرتے ہیں اور زہر کے علاوہ ہر چیز نوش جان کرلیتے ہیں؟ نہیں، آپ ایسا نہیں کرتے۔ آپ کھانے کی اُن چیزوں سے بھی بچتے ہیں جن پر زہر کا شائبہ تک نہیں ہوتا۔ مگران کا استعمال آپ صحت کیلئے مضر سمجھتے ہیں۔ 
آپ کی بیمار پرسی، تعزیت اور جنازوں میں شرکت کا دار و مدار تعلقات، روابط اور قرابت داری پر ہے۔ جن مسلمانوں سے آپ کی شناسائی نہیں ہے ان کے جنازوں کو دیکھ کر آپ گزر جاتے ہیں۔ آپ سلام بھی عام طور پر جاننے والوں ہی کو کرتے ہیں اور اس ’’مفت‘‘ کے ثواب کو محض اپنی مزعومہ خود داری کے پندار میں ضائع کردیتے ہیں جیسے کہ ’’افشو االسلام‘‘ (سلام کو عام کرو) کا حکم حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ جیسے اہل ایمان کو دیا گیا تھا، آپ تک پہنچتے پہنچتے اس حکم کی نوعیت بدل گئی ہے۔ 
مولانا ماہر القادری
(گزشتہ سے پیوستہ): کسی یتیم کے سر پر آپ نے، جی ہاں آپ نے، دست شفقت پھیرا، کسی بیوہ کی غمگساری کی، کسی اندھے اور اپاہج کو سہارا دیا؟ جاڑے کی رات میں جب آپ مفلر، دستانے، اووَر کوٹ اور اونی بنیان پہنے پھرتے ہیں تب کیا کسی نادار کی تن پوشی کا بھی خیال آتا ہے کہ سردی میں اس بے چارے پر جس کا کرتہ بھی ثابُت نہیں ہے کیا گزرتی ہوگی؟
آپ کو تلاوت کا بھی شوق ہے مگر اس پورے زمانۂ تلاوت کا جائزہ لیجئے کہ قرآن پڑھتے میں کتنی بار آپ کی آنکھیں خدا کے خوف سے اشکبار ہوئی ہیں، کتنی بار خشیت الٰہی سے آپ کا دل ہلا ہے اور رونگٹے کھڑے ہوئے ہیں؟
اس کو بھی سوچئے کہ آپ کو جہاں نہ کسی قسم کی توقع ہے اور نہ مضرت کا خطرہ ہے وہاں آپ کس بے باکی سے اعلانِ حق فرماتے ہیں مگر جہاں آپ کی کچھ اُمیدیں وابستہ ہیں اور جس جگہ حق بات کہنے سے آپ پر آنچ آتی ہے وہاں آپ کا جذبۂ حق گوئی کیا روش اختیار کرتا ہے اور کن تاویلوں اور مصلحتوں کی پناہ ڈھونڈتا ہے! آپ آخرت پر یقیناً ایمان رکھتے ہیںاور آخرت کے اچھےہونے کی ہر نماز میں دعا بھی مانگتے ہیں مگر جس طرح کسی عدالت میں مقدمہ کی پیشی سے پہلے کسی ملزم کی حالت میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے اور اس کے پیش نظر ہر لمحہ یہی اندیشہ رہتا ہے کہ نجانے حاکم ِ عدالت کیا فیصلہ سنا دے، کیااللہ کے دربار میں حاضری اور اعمال کی باز پرس کا اس سے دس گنا کم خوف بھی آپ کے اندر موجود ہے؟ 
کیا قبر کی تاریکی کے خوف سے آپ کی نیند اُچاٹ ہوتی ہے؟ کیا میزانِ عدالت میں اعمال کے وزن کئے جانے کے ڈر سے آپ کے کھانے پینے اور عیش و تفریح کے مشاغل میں کوئی کمی آتی ہے؟ کیا جہنم کے عذا ب کے خوف نے آپ کو رُلایا ہے؟ دن میں نہیں،ایک مہینے میں یا سال بھر میں کَے بار آپ کو موت یاد آتی ہے؟آپ کو یقیناً مسلمانوں کی بدعملی دیکھ کر دکھ ہوتا ہے مگر اپنے اعمال کا جائزہ لے کر بتائیے کہ آپ نے خود اپنے محلہ کے مسلمانوں میں سے کس کس کے پاس جاکر تبلیغ کا حق ادا کیاہے؟ آپ نے اپنے وقت کا چھوٹے سے چھوٹا حصہ بھی اس کام میں صرف کیا؟ کسی دن اس کیلئے زحمت اُٹھائی ہے؟ اگر کسی سے کچھ کہنے کی توفیق ہوئی تو اس کی بے نیازی اور عدم توجہی دیکھ کو دیکھ کرآپ نے پھر اس طرف کا رُخ نہیں کیا حالانکہ اپنے ذاتی کاموں میں آپ اِتنی جلدی مایوس نہیں ہوجاتے اور اُمید بندھی ہوئی رہتی ہے کہ شاید اب کی بار کامیابی ہوجائے!
اگر آپ اسلام پسند شاعر، ادیب، مقرر، انشا نگار یا انشا پرداز ہیں تو دل کو ٹٹولئے کہ ہر علمی و ادبی پیشکش پر شہرت کا، ہردلعزیزی کا اور یہ کہ لوگ داد دیں، تعریف کریں، اس کا کتنا داعیہ آپ کے دل کی تہہ میں کروٹیں لیتا رہا؟ آپ کے اخلاص کے ہم منکر نہیں۔ آپ پر نفاق کا، خدانخواستہ، ہم شبہ نہیں کرتے، عرض کرنا صرف یہ ہے کہ اس ’’اخلاص‘‘ میں کوئی دوسرا جذبہ اور داعیہ بھی شریک تھا یا نہیں؟ سختی کے ساتھ جائزہ لیجئے کہ خود آپ کی زندگی، سیرت، اعمال و مشاغل اور حالات سے کتنے لوگوں نے دینی تاثر قبول کیا ہے؟ اگر آپ کے اندر دینی حرارت تھی تو یہ کیسی حرارت تھی جس نے اپنے ماحول کو ذرا سا بھی گرم نہیں کیا؟ کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ آپ کی زندگی کے آتش دان میں اوپر اوپر کجلائی ہوئی چنگاریوں سے گرم دھواں نکل رہا ہو اور ان کے نیچے برف کے ٹکڑے رکھے ہوں؟ پوری ذمہ داری اور انصاف کے ساتھ اس کا فیصلہ کیجئے کہ آپ کی تقریر اور تحریر سے آپ کے جس دینی شغف، فکروعمل کی پاکیزگی اور خلوص و للہیت کا پتہ ملتا ہے کیا آپ واقعی اپنے عقیدت مندوں، قدر دانوں اور تعریف کرنے والوں کے ’’حسن ظن‘‘ کے مصداق ہیں اور لوگوں نے آپ کے وعظ و تقریر سن کر اور آپ کے مضامین پڑھ کر جو کچھ آپ کو سمجھا ہے کیا آپ کی زندگی اس کے عین مطابق ہے؟
آپ بے شک اللہ کے دین کا غلبہ چاہتے ہیں، آپ اس کیلئے دعا بھی کرتے ہیں اور اپنے اندر اضطراب و بے چینی بھی پاتے ہیں کہ سارے عالم میں اسلام کا بول بالا ہو اور صرف اسلام ہی غالب ہو کر رہے! یقیناً یہ تمام بہت مبارک ہے اور اس کیلئے دعائیں اور زیادہ بابرکت ہیں مگر کیا آپ نے سنا کہ کسی کسان نے بیج بونے کی صرف تمنا اپنے دل میں پیدا کرکے دعا کی ہو اور اس کے ہاتھ پاؤں ہلائے بغیر آپ ہی آپ فصل اُگ آئی ہو؟ آپ اگر کسی غیر دینی ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں تو سوچئے کہ وہاں آپ اللہ کے دین کو قائم رکھنے اور غالب کرنے کیلئے کیا جہدوجہد کررہے ہیں۔ باطل کے ساتھ آپ کا رویہ مصالحانہ اور دوستانہ ہے یا معاملہ اس کے برعکس ہے یعنی آپ اس  کی مشین کا پرزہ بن کر کام کررہے ہیں یا اس مشین سے الگ تھلگ ہیں؟ 
آپ کا اب تک رول کیا رہا ہے؟ اور جو خدا کے بندے دُنیا و آخرت کی فلاح کی خاطر عملاً دوڑ دھوپ کررہے ہیں ان کی آپ نے حوصلہ افزائی اور رفاقت کی ہے یا ان کی راہ میں رکاوٹیں ڈالی ہیں اور کانٹے بچھائے ہیں؟
 آپ کی نمازیں، اوراوراد  وظائف اور مذہبی شغف اپنی جگہ تسلیم بلکہ لائق احترام مگر یہ سوچئے کہ آپ کے برتاؤ سے نظام ِحق کے قیام کی مہم کو کس قدر فائدہ پہنچا۔ آپ کی روش نے اُن کے ہاتھ مضبوط کئے جو کسی عنوان سے اسلام کو حدود ِنظم و نسق میں داخل ہونے دینا ہی نہیں چاہتے یا اُن جرأت آزماؤں کی طاقت کو کمزور کر دینا یا جو دین حق کے غلبہ کے سوا اور کوئی تمنا اور امنگ ہی اپنے اندر نہیں رکھتے۔ یہ بھی اندازہ لگائیے کہ منکرات اور فسق و فجور کو دیکھ کر آپ کے دل کے اندر جھنجھلاہٹ پیدا ہوتی ہے یا انہیں گوارا کرنے کی طرف طبیعت مائل ہے؟ آپ کے اندر جرأت اور توانائی کس قدر ہے؟ بدی کو مٹانے کیلئے آپ کس حد تک جا سکتے ہیں؟
کیا آپ بندوں کے حقوق کا کم از کم اتنا خیال کرتے ہیں کہ راستے میں کیلیں، کانٹے چبھونے والے پتھر دکھائی دیں تو انہیں اُٹھا دیں؟ ریل میں سفر کررہے ہوں اور جگہ کی تنگی ہو تو کسی کھڑے ہوئے مسافر کو جگہ دینے کے لئے فوراً اُٹھ کر بیٹھ جائیں؟ کیا آپ کی خود داری اس کو گوارا کرسکی ہے کہ قلی آپ کا سامان اُٹھانے میں اضطراب اور دقت محسوس کررہا ہو تو آپ سامان اُٹھانے میں اس کی مدد کریں؟
آپ خود ہی سوچئے کہ مسجد کے اندر آپ کا کتنا دل لگتا ہے اور نماز پرھتے ہی کہیں آپ اس طرح تو نہیں بھاگ جاتے کہ جیسے کوئی پرندہ قفس کا در کھلتے ہی گھبرا کر اُڑ جاتا ہے؟ امام قرأت کو ذرا طویل کردے تو آپ کی پیشانی پر سلوٹیں پڑ جاتی ہیں یا آپ کے تیوروں سے ذوق و شوق کا اظہار ہوتا ہے؟ آپ جن محفلوں میں اُٹھتے بیٹھتے یا آتے جاتے ہیں ان میں آپ اہل محفل کے ذوق، رجحان اور اُفتاد طبع کی کتنی رعایت ملحوظ رکھتے ہیں؟ دین و اخلاق کا کوئی ایسا تذکرہ آپ چھیڑنے کی شاذ و نادر ہی جرأت کرتے ہیں جس سے اس مقبولیت پر جو دوستوں میں آپ کو حاصل ہے، حرف آتا ہے؟ ایک طرف آپ کی تمنائیں اور خواہشیں ہیں اور دوسری طرف دین کے تقاضے اور مطالبے ہیں۔ آپ کو جائزہ لینا ہے کہ آپ کی توانائی  اور صلاحیت زیادہ تر کس کام آرہی ہے؟ آپ نے دین کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے اپنی خواہشوں کو قربان کیا ہے یا خود دینی مطالبوں کو آپ کی خواہش اور آرزو پر قربان ہونا پڑتا ہے؟ 
ان باتوں کا جائزہ کوئی دوسرا لے ہی نہیں سکتا۔ یہ تو خود ہمارے کرنے کا کام ہے۔ ایمانداری اور سچائی کے ساتھ خود اپنا احتساب اور اس کے بعد خامیوں اور کمزوریوں کو دور کرنے کی جدوجہد یہ ہونی چاہئے کہ ایک مخلص مسلمان کی روش اپنی ذات پر نقد و احتساب کے وقت شیطان کے قریب اور نفس کے حیلوں کے خلاف متنبہ رہے۔ ورنہ یہ ظالم تو بُرائیوں اور کمزوریوں کیلئے ایسی ایسی نازک اور باریک تاویلیں سمجھا  دیتا ہے کہ آدمی پہلے سے بھی زیادہ پست ہوجاتا ہے۔
اس پس منظر میں ایک اہم سوال یہ ہے کہ دُنیا کے حالات بدلنے کیلئے کیا کرنا چاہئے؟ جواب آسان ہے۔ اس کیلئے آسمان سے فرشتے نازل نہیں ہوں گے اور نہ اجرام ِ فلکی اس فرض کو انجام دیں گے اور نہ اللہ تعالیٰ کی یہ سنت رہی ہے کہ جو لوگ اپنے کو بدلنے کا سر ے سے کوئی داعیہ ہی اپنے اندر نہ رکھتے ہوں اور اس کام کیلئے کوئی عملی اقدام نہ کریں، اللہ تعالیٰ اپنی قوت قاہرہ کے زور سے حالات میں انقلاب پیدا کردے۔ اگر ایسا ہوسکتا تھا تو انبیاء اس کے سب سے زیادہ مستحق تھے مگر ان مقدس ترین انسانوں کی زندگیاں گواہ ہیں کہ انہوں نے اللہ کے دین کو سربلند کرنے اور دُنیا میں انقلاب لانے کی کیسی کیسی دردناک مصیبتیں اُٹھائی ہیں۔ اور ایک لمحہ کیلئے بھی وہ اپنے فرض سے غافل نہیں رہے!
ایک چھوٹی سی سوئی کی تیاری بھی محنت اور لگن چاہتی ہے۔ آپ سے جو عظیم الشان فریضہ متعلق ہے اس کا تو تقاضا یہ ہے کہ ایثار و قربانی کا جذبہ آپ کی زندگی کی تمام دوسری صفات پر غالب ہوجائے۔ حالات کی تبدیلی کی سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ جو دُنیا کے حالات کو بدلنے کا داعیہ اپنے اندر رکھتے ہیں وہ سب سے پہلے خود بدل جائیں۔
حق کی راہ یقیناً دشوار ہے مگر چلنا تو اسی راہ پر ہے۔ سچائی کا پیالہ تلخ اور ناخوشگوار سہی مگر نوشِ جاں تو اسی کو کرنا ہے۔ اس ذمہ داری کو جب آپ اُٹھا چکے ہیں تو پھر پس و پیش کیسا؟ یاد رہنا چاہئے کہ باطل کی جڑیں بہت کمزور ہیں مگر آپ ہمت ہی نہیں کرتے! حق کو غالب اور سربلند ہی ہونا ہے لیکن آپ کہ حق کی نمائندگی کا دم بھرتے ہیں جرأت سے کام ہی نہیں لیتے۔
دُنیا میں بہت کچھ تاریکیاں چھائی ہوئی ہیں مگر آپ اپنے سوز دل و جاں کی شمع روشن کردیں تو تاریکیوں کی مجال ہے کہ وہ دم بھر کیلئے بھی ٹک سکیں؟ اللہ تعالیٰ کی زمین کے جائز وارث آپ ہیں مگر آپ کی غفلتوں نے اس ورثہ کو غاصبوں کے قبضے میں دے دیا ہے۔ دُنیا کی قیادت کے آپ مستحق ہیں مگر اپنے اس حق کو آپ نے خود ہی چھوڑ رکھا ہے۔ خدا کیلئے اپنے منصب کو پہچانئے، اپنی ذمہ داریوں کو سمجھئے اور باطل کے مقابلے میں پختہ عزم کے ساتھ صف آراء ہوجائیے۔ بس پھر فوز و فلاح اور کامیابیوں کی ایسی  ایسی راہیں کھلیں گی کہ فتح مصر (مدائن) کی یاد تازہ ہوجائیگی۔ یاد رہے کہ دُنیا میں کہیں بھی فساد پایا جاتا ہے تو اس کے مٹانے کی ذمہ داری اُسی اُمت پر ہے جس کو اللہ نے خیر الامم اور خاتم الامم بنا کر اُٹھایا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK