لغت میں تقویٰ کا مفہوم اپنے آپ کو گناہ سے بچانا اور پرہیز کرنا بیان کیا گیا ہے۔ لیکن بچانا کس سے؟ اور کس لئے؟ اگر کوئی شخص زہر سے بچتا ہے تو اس لئے کہ اسے اپنی جان عزیز ہے۔
EPAPER
Updated: March 06, 2026, 4:01 PM IST | Muhammad Toqeer Rahmani | Mumbai
لغت میں تقویٰ کا مفہوم اپنے آپ کو گناہ سے بچانا اور پرہیز کرنا بیان کیا گیا ہے۔ لیکن بچانا کس سے؟ اور کس لئے؟ اگر کوئی شخص زہر سے بچتا ہے تو اس لئے کہ اسے اپنی جان عزیز ہے۔
قرآنِ کریم میں روزے کا مقصد تقویٰ بتایا گیا ہے۔ گویا عبادت کا سارا سفر اسی ایک منزل کی طرف رواں ہے۔ سوال یہ ہے کہ وہ کون سی کیفیت ہے جس کیلئے بھوک اور پیاس کی مشقت اختیار کی جاتی ہے؟ اگر مقصد صرف جسمانی ضبط ہوتا تو دنیا کے بہت سے فلسفی اور مرتاض (عبادت، ریاضت اور نفس کشی کرنے والے) بھی اس معیار پر پورے اترتے، مگر قرآن نے اس ضبط کو کسی اور بلند حقیقت کا ذریعہ قرار دیا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ تقویٰ محض ایک عمل نہیں، ایک باطنی بیداری کا نام ہے۔
لغت میں تقویٰ کا مفہوم اپنے آپ کو گناہ سے بچانا اور پرہیز کرنا بیان کیا گیا ہے۔ لیکن بچانا کس سے؟ اور کس لئے؟ اگر کوئی شخص زہر سے بچتا ہے تو اس لئے کہ اسے اپنی جان عزیز ہے۔ اگر کوئی مسافر تاریکی میں کھائی کے کنارے احتیاط سے چلتا ہے تو اس لئے کہ اسے گرنے کا خوف ہے۔ اسی طرح جب انسان گناہ سے بچتا ہے تو دراصل وہ اپنے وجود کو ایک بڑے خسارے سے محفوظ کر رہا ہوتا ہے۔ اس کے پیچھے خوف بھی ہے، مگر اندھا خوف نہیں؛ اس کے پیچھے شعور ہے کہ ہر عمل کا نتیجہ ہے اور ہر انتخاب کی بازگشت ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’ اباکہتے ہیں روزہ نہیں رکھوں گا تو اللہ میاں ناراض ہو جائینگے‘‘
عام ذہن میں تقویٰ کا تصور زیادہ تر عبادتوں کی کثرت سے جڑا ہوا ہے۔ لمبی نمازیں، طویل اذکار، دن کا روزہ اور رات کا قیام، یہ سب یقیناً عظیم اعمال ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہی تقویٰ کی آخری حد ہے؟
اگر کوئی شخص رات بھر عبادت کرے مگر دن میں لوگوں کا حق مارے، تو کیا اس کی عبادت اسے متقی بنا دے گی؟ اگر کوئی تسبیح ہاتھ میں لئے بیٹھا ہو مگر زبان سے کسی کی عزت مجروح کرے، تو کیا وہ تقویٰ کے معیار پر پورا اترتا ہے؟ یہاں عقل خود فیصلہ کرتی ہے کہ عبادت کی کثرت اور تقویٰ کی حقیقت میں فرق ہے۔ تقویٰ ایک مسلسل داخلی نگرانی کا نام ہے۔ یہ وہ کیفیت ہے جس میں انسان ہر قدم پر خود سے سوال کرتا ہے: کیا یہ راستہ درست ہے؟ کیا یہ فیصلہ انصاف پر مبنی ہے؟ کیا اس سے میرا رب راضی ہوگا؟ تقویٰ یہ ہے کہ یہ سوال ہر گوشۂ حیات میں زندہ رہے۔
اس حقیقت کو ایک سادہ مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ فرض کیجئے دو افراد ایک ہی قانون کے تحت زندگی گزار رہے ہیں۔ ایک اس قانون کی خلاف ورزی اس وقت تک نہیں کرتا جب تک پکڑے جانے کا اندیشہ ہو، اور دوسرا تنہائی میں بھی اس کی پابندی کرتا ہے، کیونکہ وہ قانون کی روح کو مانتا ہے۔ دونوں کا ظاہر ایک جیسا ہو سکتا ہے، مگر باطن میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ پہلا خوفِ سزا سے رکا ہے، دوسرا شعورِ ذمہ داری سے۔ تقویٰ دراصل اسی دوسرے درجے کا نام ہے۔
اسی طرح اگر کوئی شخص بازار میں خالص ناپ تول کرے صرف اس لئے کہ نگرانی ہو رہی ہے، تو یہ احتیاط عارضی ہے۔ لیکن اگر وہ اس وقت بھی انصاف کرے جب اسے کوئی دیکھنے والا نہ ہو، تو یہ اندرونی بیداری ہے۔ یہی بیداری عبادت کو معنی دیتی ہے اور معاملات کو نور بخشتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مومنوںکی صفات، انعاماتِ خداوندی، بہتان پر وعید اور معاشرتی احکام سنئے
یوں سمجھ لیجئے کہ تقویٰ ایک ایسا داخلی چراغ ہے جو انسان کے فیصلوں کو روشن کرتا ہے۔ اگر چراغ جل رہا ہو تو راستہ خود واضح ہو جاتا ہے؛ اگر وہ بجھ جائے تو انسان اندھیرے میں ٹھوکر کھاتا ہے۔ جب یہ بیداری پیدا ہو جائے تو زندگی کا ہر لمحہ عبادت بن جاتا ہے۔ تجارت بھی، سیاست بھی، تعلیم بھی، خاندان بھی،سب ایک ہی محور کے گرد گھومنے لگتے ہیں۔ پھر انسان صرف مخصوص اوقات میں نہیں، بلکہ ہر وقت محسوس کرتا ہے جیسے وہ اپنے رب کے حضور میں کھڑا ہے۔ یہی وہ کیفیت ہے جو روزے کے ذریعے مطلوب ہے: بھوک اور پیاس کے ذریعے نفس کو یہ سکھایا جائے کہ اصل طاقت خواہش کو پورا کرنے میں نہیں، بلکہ اسے قابو میں رکھنے میں ہے۔
روزہ دراصل اسی باطنی بیداری کی مشق ہے جس کا نام تقویٰ ہے۔ اس مہینے میں انسان کے اندر یہ کیفیت پوری طرح پیدا ہو یا نہ ہو، کم از کم وہ اس کی طرف متوجہ ضرور ہو جاتا ہے۔ وہ اپنی خواہشات کو پہلی بار اس طرح سامنے کھڑا دیکھتا ہے کہ انہیں پورا کرنا ممکن بھی ہے اور روکنا بھی ممکن ہے۔ یہی کشمکش اس کے اندر ایک نیا شعور جگاتی ہے۔ گویا رمضان انسان کو اس کے اپنے نفس سے متعارف کراتا ہے، اور یہی تعارف حقیقی تبدیلی کا دروازہ ہے، حرف آغاز ہے۔
افطار کا لمحہ اس حقیقت کا سب سے روشن منظر ہے۔ پورا دن بھوک اور پیاس میں گزرتا ہے۔ ہونٹ خشک ہیں، حلق میں کانٹے چبھ رہے ہیں، اور ایک گھونٹ پانی بھی اس وقت آبِ حیات معلوم ہوتا ہے۔ دسترخوان پر مرغوب اشیاء سجی ہیں، کوئی روکنے والا نہیں، کوئی پہرہ نہیں، کوئی دیوار حائل نہیں۔یہی وہ لمحہ ہے جہاں انسان اپنے اندر ایک نادیدہ نگراں کو محسوس کرتا ہے جس کی موجودگی ہر دلیل پر غالب آ جاتی ہے۔ یہ کیفیت اگر صرف دسترخوان تک محدود رہے تو وہ عارضی مشق ہے، لیکن اگر یہی شعور زندگی کے دوسرے میدانوں میں منتقل ہو جائے تو وہ دائمی تبدیلی بن جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اعتکاف کی نیت ہے؟احکام اور آداب ِ اعتکاف جان لیجئے
اصل بات یہ ہے کہ رمضان انسان کے اندر ایک داخلی میزان قائم کرتا ہے۔ پہلے وہ بیرونی قانون سے ڈرتا تھا، اب وہ اندرونی احساس سے رکنے لگتا ہے۔ پہلے اسے روکنے کیلئے دلیل چاہیے تھی، اب اسے صرف یاد دہانی کافی ہے۔
یہ تبدیلی معمولی نہیں بلکہ وہ نقطہ ہے جہاں عبادت عادت سے نکل کر شعور بن جاتی ہے۔ اور جب شعور بیدار ہو جائے تب کسی مسلسل ترغیب کی ضرورت نہیں رہتی، کیونکہ دل خود بے چین رہتا ہے کہ کہیں وہ اپنے معیار سے گر نہ جائے۔
پس تقویٰ کوئی مبہم اصطلاح نہیں، بلکہ ایک زندہ تجربہ ہے جو افطار کے چند لمحوں میں پوری شدت کے ساتھ محسوس ہوتا ہے۔ اگر یہ کیفیت ہمارے فیصلوں، تعلقات، معاملات اور معمولات میں سرایت کر جائے، تو پھر رمضان ایک مہینہ نہیں رہ جاتا، بلکہ پورا سال ایک مسلسل بیداری میں بدل جاتا ہے۔