Inquilab Logo Happiest Places to Work

توجہ دیجئے، ’جین زی‘ نئی سوچ اور انداز ِ فکر ہے مگر رمضان اور مسجد کا احترام؟

Updated: March 06, 2026, 4:19 PM IST | Dr. Mujahid Nadvi | Mumbai

جوانی زندگی کا وہ دور ہوتا ہے جو بچپن کی کمزوری کے بعد اور بڑھاپے کی کمزوری سے پہلے آتا ہے یعنی ان دو ڈھلانوں کے درمیان ایک عروج، ترقی اور اٹھان کا دور ہے جو جوانی کہلاتا ہے۔

Most young people do not stop looking at their mobile phones even in places of worship. Photo: INN
اکثر نوجوان عبادت گاہوں میں بھی موبائل دیکھنے سے باز نہیں آتے ۔ تصویر: آئی این این

جوانی زندگی کا وہ دور ہوتا ہے جو بچپن کی کمزوری کے بعد اور بڑھاپے کی کمزوری سے پہلے آتا ہے یعنی ان دو ڈھلانوں کے درمیان ایک عروج، ترقی اور اٹھان کا دور ہے جو جوانی کہلاتا ہے۔  قرآن مجید میں انسانی زندگی کے ان تین ادوار کو کیا ہی خوبصورت پیرایۂ بیان میں اجاگرکیا گیا ہے۔ اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے: ’’اللہ وہ ہے جس نے تمہاری تخلیق کی ابتدا کمزوری سے کی، پھر کمزوری کے بعد طاقت عطا فرمائی، پھر طاقت کے بعد کمزوری دی (دوبارہ) اور پھر بڑھاپا طاری کردیا۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، اور وہی ہے جس کا علم بھی کامل ہے، قدرت بھی کامل۔‘‘ (الروم: ۵۴) 

یہ بھی پڑھئے: مومنوں کی صفات، انعاماتِ خداوندی، بہتان پر وعید اور معاشرتی احکام سنئے

الملک سعود یونیورسٹی میں شعبۂ الثقافۃ الاسلامیہ کے صدر ڈاکٹر سلیمان بن قاسم نے اس آیت کی تفسیر میں انسان کی عمر میں ان تین مراحل کا فیصد بیان کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ’’نبی کریم حضرت محمدؐ نے فرمایا: ’’میری امت کی عمریں ۶۰؍ تا ۷۰؍ سال کے درمیان ہوں گی۔‘ ان دو اعداد کا اوسط ۶۵؍ سال ہوتا ہے۔ اب اگر ہم اس ۶۵؍ سالہ عمر کو انسانی عمر کے مراحل میں فیصد میں بانٹتے ہیں تو موجودہ شکل بنتی ہے: پیدائش سے ۱۴؍ سال کی عمر کا دور بچپن (۲۲؍ فیصد)، ۱۵؍ سے ۴۰؍ سال کا دور جوانی (۴۰؍  فیصد)، ۴۱؍ سے ۵۱؍ سال کا دور ادھیڑ عمر (۱۵؍ فیصد) اور ۵۱؍ سے۶۵؍یا وفات تک کا دور (۲۳؍ فیصد) بڑھاپا ہوتا ہے۔ انسانی عمر میں جوانی کا سب سے بڑا فیصد رکھنے کی وجہ سے، اور عبادات ، معاملات اور دین اسلام کے دفاع کے لئے کوششوں میں انسانی زندگی کا سب سے اہم دور ہونے کی وجہ سے ہم اسلامی تعلیمات میں نوجوانوں کی تربیت کا ایک خاص اہتمام پاتے ہیں۔ ‘‘
قرآن مجید میں اصحاب کہف کا قصہ نوجوانوں کو اعلیٰ  ہمتی اور اولوالعزمی کا درس دینے کیلئے کافی ہے۔ سورۃ الکہف میں اللہ عزوجل نے اصحاب کہف کے متعلق ارشاد فرمایا: ’’کچھ نوجوان تھے جو اپنے پروردگار پر ایمان لائے تھے، اور ہم نے ان کو ہدایت میں خوب ترقی عطا کی تھی۔‘‘ ان نوجوانوں کے قصہ میں ہر کسی کیلئے، او رخاص کر نوجوانوں کے لئے،  درس ہے کہ جب کچھ نوجوان کمر باندھ کر حق کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوئے تھے تو کس طرح اللہ تعالیٰ  نے ان کی مدد فرمائی تھی اور کس طرح ناممکن کو ان کے لئے ممکن بنادیا تھا۔ 

یہ بھی پڑھئے: تقویٰ ایسا داخلی چراغ ہے جو انسان کے فیصلوں کو روشن کرتا ہے

سیرۃ النبیؐ کا ایک غائرانہ مطالعہ بھی ہم پر یہ واضح کردیتا ہے کہ جب نبی کریمؐ نےشہر مکہ کی بنجر وادیوں میں اسلام کی تخم ریزی کی تو کس طرح اس دعوت پر لبیک کہنے والوں میں ایک بڑی تعداد نوجوانوں کی تھی۔ حضرت ابوبکرؓ نےتقریباً ۳۸؍ سال کی عمر میں کلمہ پڑھا۔ حضرت عمر بن الخطابؓ جب ایمان لائے وہ ۳۰؍ سال کے تھے۔ ایسے ہی حضرت علی بن ابی طالبؓ، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ، حضرت سعید بن زیدؓ، حضرت مصعب بن عمیرؓ، حضرت خبابؓ، حضرت ارقم بن ارقمؓ اور ایک بڑی فہرست ہے  ان صحابہ کرامؓ کی جنہوں نے عنفوان شباب میں اس شہادت گہہ الفت میں قدم رکھا اور اسلام کو اس وقت سینے سے لگایا جب اس کا نام لینا بھی اپنی موت کو دعوت دینے جیسا  تھا۔ لیکن یہ صحابہ کرامؓ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر حق کی حمایت کیلئے ڈٹ گئے اور انہوں نے اللہ تعالیٰ اوررسول اکرمؐ سے محبت کی وہ تاریخ رقم کی جس کی کوئی دوسری مثال پیش کرنے سے دنیا قاصر ہے۔ 
یہ باتیں اور نوجوانوں کی اصلاح کی کسک ہر درد مند دل میں اس وقت جاگتی ہے جب ہم قرونِ اولیٰ کے ان جیالے نوجوانوں کا، ان پاکیزہ ارواح کا تذکرہ پڑھتے ہیں مگر  جب  آج کے  نوجوانوں کو دیکھتے ہیں، جن کو ’جین زی‘ کہاجاتا ہے تو افسوس ہوتا ہے کہ بہت سے نوجوان   اپنی سوچ  اور فکر وعمل میں ایک الگ انداز رکھنے کے باوجود غلط رخ پر جارہے ہیں۔  
رمضان جیسا مقدس مہینہ چل رہا ہے اور ہمارے نوجوان آج بھی موبائیل میں غوطہ زنی سے باز نہیں آرہے ہیں۔  ایسے مناظر عام ہیں کہ نوجوان مسجد میں تراویح کی پہلی رکعت میں موبائیل ہاتھ میں لے کر بیٹھے ہیں، اور جیسے ہی امام صاحب نے رکوع کیا تو دوڑ کر رکعت میں شامل ہوجاتےہیں۔ ا نہیں نہ تو  قرآن مجید کے  احترام کا کوئی خیال نہیں ہے  اور نہ مسجد کے اکرام کا۔  مسجد میں بیٹھ کر بھی میچ کا اسکور دیکھنا، آپسی بات چیت  میں گالم گلوج تک کرلینا  اب عام مشاہدہ ہے۔  چھوٹے بچوں کا مساجد میں شرارت کرنا تو پھر بھی سمجھ میں آتا ہے اور یہ کہا جاسکتا ہے کہ جب یہ بچے بڑے ہونگے تو مسجد کا احترام سیکھ جائینگے لیکن اب ان نوجوانوں کو کیا کہئے کہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں بھی جن کے اندر ذرا بھی تبدیلی نظر نہیں آرہی ہے۔ اگر نوجوانوں کا رمضان میں یہ حال ہے تو پھر باقی کے ۱۱؍ ماہ میں ان کی حالت ’جس کی بہار ایسی ہو اس کی خزاں نہ پوچھ‘ کے مصداق ہوگی۔ 

یہ بھی پڑھئے: اعتکاف کی نیت ہے؟احکام اور آداب ِ اعتکاف جان لیجئے

علماء کرام نے لکھا ہے کہ انسان  دراصل دو وجوہات سے گناہ کرتاہے: ایک شیطان  اور دوسرے نفس۔ اللہ عزوجل نے رمضان المبارک میں شیاطین کو قید کردیا اور کھانے پینے وغیرہ سے رک جانے کا حکم دے کر نفس پر قابو پانے کا راستہ بھی ہمیں سجھا دیا۔ اب اس ٹریننگ کے مہینے  اوراس مشق کے مرحلے میں بھی اگر مجموعی طور پرمسلم معاشرہ میں کوئی خاص تبدیلی دیکھنے نہ ملے ، اور خاص کر مسلم نوجوان پاکیزہ اثر سے عاری نظر آئیں تو یقیناً ہم اخلاقی تباہی کے نہایت اہم موڑ پر آپہنچے ہیں۔  ایسے میں ہر گھر کے ذمہ دار افراد اپنے نوجوانوں کی فکر کرلیں، ان کو قریب کرکے سمجھانے کی حکمت اپنا لیں تو اس سے نوجوانوں میں پھیل رہی بہت سی برائیوں کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK