ہر ماہ لاکھوں مسلمانوں کے عمرہ کی سعادت سے سرفراز ہونے کی خبریں آتی ہیں جن میں سے یقینی طور پر ایک بڑی تعداد عالم اسلام کی سرخروئی کی دعائیں کرتی ہے، مگر ان کی فریاد رائیگاں کیوں جاتی ہے؟
EPAPER
Updated: March 07, 2026, 11:17 AM IST | Qutbuddin Shahid | Mumbai
ہر ماہ لاکھوں مسلمانوں کے عمرہ کی سعادت سے سرفراز ہونے کی خبریں آتی ہیں جن میں سے یقینی طور پر ایک بڑی تعداد عالم اسلام کی سرخروئی کی دعائیں کرتی ہے، مگر ان کی فریاد رائیگاں کیوں جاتی ہے؟
میں دفتر میں اپنا کام نمٹا کر رات میں تقریباً ۱۱؍ بجے بھیونڈی کیلئے روانہ ہوا۔ راستے بھر ایران پر اسرائیلی اور امریکی حملے اوراس سے پیدا ہونے والی تباہیوں کے بارے میں سوچتا رہا۔ اس دوران ذہن میں نام نہاد اسلامی ملکوں کی بے حسی، عالمی طاقتوں کی خاموشی اور اقوام متحدہ کی بے بسی جیسے کچھ خیالات کے ساتھ ہی کچھ سوالات بھی ابھرتے رہے کہ ہماری دعاؤں میں اب وہ اثر کیوں نہیں رہا جو عرش کو ہلا دیا کرتا تھا؟ ہماری عبادات میں وہ بات کیوں نہیں رہی جو سرشاری عطا کیا کرتی تھی؟ اور ہماری اُن صلاحیتوں کا کیا ہوا جن کی وجہ سے باطل طاقتوں پر لرزہ طاری ہوا کرتا تھا؟ ہر ماہ لاکھوں مسلمانوں کے عمرہ کی سعادت سے سرفراز ہونے کی خبریں آتی ہیں جن میں سے یقینی طور پر ایک بڑی تعداد عالم اسلام کی سرخروئی کی دعائیں کرتی ہے مگر ان کی فریاد رائیگاں کیوں جاتی ہے؟
خیالات کا یہ سلسلہ ساڑھے ۱۲؍ بجے کے قریب اُس وقت ٹوٹا جب مَیں بھیونڈی پہنچ گیا۔ شہر میں موجود چہل پہل اور شور شرابے کو دیکھتے ہوئےایسالگ ہی نہیں رہا تھا کہ یہ رات اپنا نصف سفر پورا کرچکی ہے یا پھر یہ کہ عالم اسلام کے ایک حصے پر آفت آئی ہوئی ہے۔ شہریوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر رواں دواں تھی۔ ان میں سے کچھ لوگ بیوی بچوں کے ساتھ خریداری کر رہے تھے تو بہت سے نوجوان خرمستی کے انداز میں ’’بائیک مستی‘‘ میں مصروف تھے۔ ایک ایک بائیک پر تین تین سوار تھے جو بلا وجہ ہارن بجاکر اپنی موجودگی کااحساس دلاتے ہوئے سڑکوں سے گزر رہے تھے۔ رمضان عبادتوں کامہینہ ہے۔ کون نہیں جانتا کہ یہ مہینہ گناہوں سے گلوخلاصی کا اور نیکیوں سے اپنی زنبیل بھرنے کا ہے۔ رحمت کا عشرہ گزر چکا ہے، مغفرت کا عشرہ جاری ہے۔ مساجد کے دروازے کھلے ہوئے ہیں لیکن وہاں مخصوص لوگ ہی جا رہے ہیں، بقیہ لوگ سامنے سے گزر رہے ہیں۔ سڑک کے کنارے ایک مسجد میں دیکھا تو دو چار لوگ نماز پڑھتے ہوئے اور اکا دکا افراد تلاوت میں مصروف دکھائی دیئےجبکہ بہت سارے لوگ پنکھے کی تیز ہوا میں سورہے تھے۔ لگتا ہے کہ اس ماہ میں یہ مسجدیں اب ستائیسویں شب ہی میں آباد ہوں گی۔
یہ بھی پڑھئے: رمضان ڈائری (۱۵): اباکہتے ہیں روزہ نہیں رکھوں گا تو اللہ میاں ناراض ہو جائینگے
مَیں تھوڑا اور آگے بڑھا تو ایک جگہ کچھ زیادہ بھیڑ اور کچھ زیادہ شور سنائی دیا۔ قریب پہنچ کر جاننے کی کوشش کی کہ ماجرا کیا ہے تو پتہ چلا کہ ایک ڈمپر کو بیچ سڑک پر ’ہمارے‘ نوجوانوں نے رُکوا رکھا ہے اور اس کے ڈرائیور کو گالیاں دی جارہی ہیں۔ بہت ممکن ہے کہ اس بھیڑ بھاڑ میں اس کی بڑی گاڑی سے کسی کی بائیک یا رکشے کودھکا لگ گیا ہو یا پھر ’اوور ٹیک‘کیلئے’پاس‘ نہ دینے کی اس سے گستاخی سرزد ہوئی ہو۔ وہاں سڑک پر کھڑے ہوکر ایک نوجوان رکشا ڈرائیور جس کے چہرے پر ڈاڑھی تھی اور اس نے ٹوپی بھی لگا رکھی تھی، بلند آواز میں ’مادری زبان‘ میں گالیاں دیئے جا رہا تھا۔ اسے دیکھ کر بہت افسوس ہوا۔ اُسے اس ذرا بھی خیال نہیں تھا کہ رمضان چل رہا ہے، اسے یہ احساس بھی نہیں تھا کہ شکل و صورت سے مسلمان دکھائی دیتے ہوئے وہ اوروں کو کیا پیغام دے رہا ہے۔
میں ایک بجے کے قریب اپنے محلے میں پہنچا۔ میر ا گھر مومنوں کی بستی میں ہے، اسلئے وہاں عام دنوں میں بھی رات بھر چہل پہل رہتی ہے، رمضان کی تو بات ہی الگ ہے۔ یہاں قریب ہی ’انصار محلہ‘ ہے جو اِن دنوں اسم بامسمیٰ ثابت ہورہا ہے۔ یہاں پورے شہر کے ’مہاجرین‘ سحری تک جمے رہتے ہیں۔ کچھ خریداری کرتے ہیں، کچھ کھاتے پیتے ہیں اور کچھ یوں ہی ’لیفٹ رائٹ‘ کرتے ہیں۔ رمضان میں اس محلے کی آبادی ٹوکیو، ڈھاکہ، شنگھائی اور محمد علی روڈ سے زیادہ گنجان ہوجاتی ہے۔ ’تل دھرنے کی جگہ نہیں ‘کی مثال دینی ہو تو رمضان مہینے میں ’انصار محلے‘ کی مثال دی جاسکتی ہے۔ یہاں کہنے کو تو ۶۰؍ فٹ چوڑی کنکریٹ کی سڑک ہے لیکن اس کے ۴۰؍ فٹ سے زیادہ حصے پر مومنین نے قبضہ جما رکھا ہے، اسلئے یہاں سے گزر کر وقت پراپنی منزل پر پہنچنا سخت آزمائش ہے۔ بلڈنگ کے نیچے ایک رکشا کھڑا تھا جس میں تیز آواز کے ساتھ ڈاکٹر اسرار احمد کی تقریر کا آڈیو چل رہا تھا۔ وہ اس آیت کی تفسیر بیان کررہے تھے جس کامفہوم ہے کہ ہم پر روزہ اسلئے فرض کیا گیا ہے کہ ہم متقی بن جائیں اور پھر میں یہ سوچتے ہوئے بلڈنگ کے زینے طے کر نے لگا کہ روزہ تو ہم رکھتے ہیں لیکن کیا اس کی وجہ سے ہم میں تقویٰ پیدا ہو رہا ہے؟