بی جے پی- شیوسینا اپنا موقف واضح کرے: رکن اسمبلی رئیس شیخ۔وزیراعلیٰ سے بی ایم سی کی اس کارروائی پر روک لگانے کا مطالبہ بھی کیا۔
EPAPER
Updated: September 21, 2026, 1:59 PM IST | Iqbal Ansari | Mumbra
بی جے پی- شیوسینا اپنا موقف واضح کرے: رکن اسمبلی رئیس شیخ۔وزیراعلیٰ سے بی ایم سی کی اس کارروائی پر روک لگانے کا مطالبہ بھی کیا۔
برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کے ذریعے ۱۴؍ فٹ سے اونچے جھوپڑوں کے خلاف انہدامی کا رروائی کرنے کے اعلان سے شہریوں میں تشویش پائی جارہی ہے۔ اس تعلق سے سماج وادی پارٹی کے لیڈر اور رکن اسمبلی رئیس شیخ نے اتوار کواندیشہ ظاہر کیا ہے کہ بلدیہ کی اس کارروائی سے ایک لاکھ ۵۰؍ ہزار غریب خاندان بے گھر ہوسکتے ہیں ۔ اس لئے اس مسئلے پر انہوں نے حکومت اور بی ایم سی میں برسر اقتدار بی جے پی اور شیو سینا سے اپنا موقف واضح کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔رئیس شیخ نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ کو اس معاملے میں مداخلت کرتے ہوئے بی ایم سی کی اس کارروائی پر روک لگانی چاہئے۔
رکن اسمبلی رئیس شیخ نے بتایا کہ بی ایم سی کے اعداد و شمار کے مطابق اس کے دائرہ اختیار میں ۲؍ لاکھ ۲۳؍ ہزار ۱۵۰؍ جھوپڑ ے آتے ہیں۔ ان میں سے ۳۹؍ ہزار ۱۱۱؍ تعمیرات ۱۴؍ فٹ یا اس سے زیادہ اونچی ہیں۔میونسپل کارپوریشن کی اس خصوصی مہم کے نتیجے میں ممبئی کے کم از کم ایک لاکھ ۵۰؍ ہزار غریب مکین بے گھر ہو سکتے ہیں۔ ایک طرف تو ’مہایوتی‘ حکومت ’سلم ری ہیبیلیٹیشن اتھاریٹی( ایس آر اے )‘کے منصوبوں پر تیزی سے عمل درآمد کر رہی ہے جبکہ دوسری طرف وہ کچی آبادیوں کے ڈھانچوں کو ہٹا بھی رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:حالات کے پیش نظر جلوسِ غوثیہ اتوار۲۷؍ستمبر کو نکالنے کا اعلان
’’یہ ممبئی کے جھوپڑا واسیوں کے ساتھ دھوکہ بازی ہے‘‘
رکن اسمبلی رئیس شیخ نے کہاکہ’’بی جے پی اور شیو سینا ریاست اور بی ایم سی دونوں جگہوں پر اقتدار میں ہیں۔ انتخابات کے دوران حکمراں بی جے پی اور شیو سینا نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ۱۸؍ فٹ تک اونچے جھوپڑوں کو باقاعدہ (ریگولرائز) کیا جانا چاہئے اور ۱۴؍ فٹ سے اونچی تعمیرات کو تحفظ ملنا چاہئے۔ ممبئی کے عام لوگ اب یہ پوچھ رہے ہیں کہ بی ایم سی یکم اکتوبر سے۱۴؍ فٹ سے اونچے جھوپڑوں کے خلاف اچانک مسماری کی مہم کیوں شروع کرنے والی ہے؟ یہ ممبئی کے جھوپڑاواسیوں کے ساتھ دھوکہ دہی ہے۔‘‘
سلم ری ہیبیلی ٹیشن اتھاریٹی(ایس آر اے) کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق بی ایم سی کی حدود میں کچی آبادی کے۹۰؍لاکھ مکین ہیں اور کچی آبادیاں ممبئی کے جغرافیائی رقبے کا۲۴؍ فیصد حصہ گھیرے ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:ایس آئی آر: تاریخ ِ پیدائش کے مطابق ثبوت پیش کرنے ہوں گے
’’ ممبئی اپنے غریب رہائشیوں کے دم پر چلتی ہے‘‘
رئیس شیخ نے مطالبہ کیاکہ ’’کچی آبادی کے مکین شہر کی کل آبادی کا۵۰؍ فیصد ہیں۔ ممبئی اپنے غریب رہائشیوں کے دم پر چلتی ہے۔ لہٰذا بی ایم سی جھوپڑ پٹیوں کے خلاف اچانک ایسی کارروائی نہیں کرسکتی۔ وزیراعلیٰ دیویندر فرنویس کو کچی آبادیوں کے خلاف شہری انتظامیہ کی اس خصوصی انہدامی مہم پر روک لگانی چاہئے۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس کو بی ایم سی کی اس مہم پر نظرثانی کرنی چاہئے اور۱۴؍ فٹ سے زیادہ اونچے جھوپڑوںمیں رہائش پذیر افراد کو ریلیف فراہم کرنا چاہئے۔‘‘