• Mon, 21 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایس آئی آر: تاریخ ِ پیدائش کے مطابق ثبوت پیش کرنے ہوں گے

Updated: September 21, 2026, 1:48 PM IST | Iqbal Ansari | Mumbai

انوملی اور اَن میپڈووٹروں کو نوٹس ، سماعت اور نئے ناموں کے اندراج کاسلسلہ شروع ہوگا۔ شہریوں کو ان کی تاریخ پیدائش کے مطابق ۳؍ زمروں میں تقسیم کیاگیا ہے۔

BLOs are seen in Mumbra during a special campaign for enrolling names in the voter list. Photo: Inquilab
ووٹرلسٹ میں ناموں کے اندراج کیلئے خصوصی مہم کے دوران ممبرا میں بی ایل اوز نظر آرہے ہیں۔ تصویر: انقلاب

مہاراشٹر میں  اسپیشل انٹینسیوریویژن  (ایس آئی آر) مہم کا پہلا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد اب دوسرا مرحلہ شروع ہونے والا ہے جس کے تحت بے ضابطگی ( انوملی ) اور میپنگ نہ کرنے والے ووٹروں کو نوٹس جاری کیا جائے گا اوران کے معاملے کی  سماعت  ہوگی ۔ اسی کے ساتھ نئے ووٹروں کے ناموں کے اندراج کا سلسلہ شروع ہو گا۔دونوںہی صورت میں  الیکشن کمیشن کی جانب سے شہریوں سے قابل قبول دستاویزات پیش کرنے کی درخواست کی گئی ہے اور شہریوں کو ان کی تاریخ پیدائش کے مطابق ۳؍ زمروں میں تقسیم کیاگیا ہے ۔ اسی کے مطابق انہیں دستاویز پیش کرنے کوکہا جائے گا۔ شہریوں کی معلومات کیلئے یہ تفصیل ایس آئی آر کے فارم کے پیچھے بھی درج کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ میں ہندوستانی اشیاء پر۱۰۰؍ فیصد ٹیرف کے اندیشوں سے ایکسپورٹرس پریشان

کون کون سے زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے؟

یکم جولائی ۱۹۸۷ء سے قبل ہندوستان میں پیدا ہونے والے افراد: جو افراد یکم جولائی ۱۹۸۷ء سے قبل ہندوستان میں پیدا ہوئے ہیں، انہیں اپنی تاریخ  پیدائش اور جائے پیدائش ثابت کرنے کیلئے دی گئی فہرست میں سے کوئی ایک قابل قبول دستاویز جمع کرانا ہوگا۔

یکم جولائی ۱۹۸۷ء تا ۲؍ دسمبر ۲۰۰۴ء ہندوستان میں پیدا ہونے والےافراد : اس زمرے کے افراد کو اپنی تاریخ پیدائش اور جائے پیدائش ثابت کرنے کیلئے دی گئی فہرست میں سے کوئی ایک قابل قبول دستاویز جمع کرانا ہوگا۔

اس کےساتھ ہی تاریخ پیدائش اور /یا ہندوستان میں پیدا ہونے کیلئے دی گئی فہرست میں سے والد یا والدہ دونوں میں سے کسی ایک کا فہرست میں سے کوئی دستاویز  جمع کرانا ہوگا۔

۲؍ دسمبر ۲۰۰۴ء کے بعد ہندوستان میں پیدا ہونے والے افراد: اس زمرے کے افراد کو اپنی تاریخ پیدائش اور جائے پیدائش ثابت کرنے کیلئے دی گئی فہرست میں سے کوئی ایک قابل قبول دستاویز جمع کرانا ہوگا ۔

اسی کےساتھ تاریخ پیدائش اور /یا ہندوستان میں پیدا ہونے کیلئے دی گئی فہرست میں سے والد  اور والدہ دونوں میں سے کسی ایک کا فہرست میں سے کوئی دستاویز جمع کرانا لازمی ہوگا۔

اگر والدین میں سے کوئی ایک ہند وستانی باشندہ نہ ہو تو ووٹر/ درخواست گزار کی پیدائش کے وقت وہ ویلڈ پاسپورٹ اور وی سی کی ایک کاپی پیش کرنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھئے:فلسطینی صحافی بشریٰ الطویل کی قید تنہائی کے ایک ماہ مکمل، حقوق انسانی کے اداروں کا اظہار تشویش

اگر ووٹر /عرضی گزار ہندوستان سے باہر پیدا ہوا ہو تو بیرون ملک ہندوستانی سفارت خانے/مشن کے ذریعہ جاری کردہ پیدائش کے رجسٹریشن سرٹیفکیٹ کی ایک کاپی منسلک کی جانی چاہئے۔

اگر ہندوستانی شہریت رجسٹریشن / نیچرلائزیشن کے ذریعے حاصل کی گئی ہےتو شہریت کے رجسٹریشن سرٹیفکیٹ کی کاپی منسلک کرنی ہوگی۔

  کون  سے دستاویز پیش کرنے ہوں گے ؟

نوٹس ملنے پر ووٹر کو اپنی شناخت، عمر یا پتہ کی تصدیق کیلئے مطلوبہ دستاویزات   اصل کاپی کے ساتھ پیش کرنے ہوں گے۔اہم اور قابلِ قبول دستاویزات (فہرست) آپ ان میں سے کوئی بھی درست دستاویز پیش کر سکتے ہیں:

(۱)ہندوستانی پاسپورٹ

 (۲)پیدائش کا سرٹیفکیٹ: میونسپل کارپوریشن یا مجاز ادارے کا جاری کردہ

 (۳)تعلیمی سرٹیفکیٹ: دسویںیا کسی تسلیم شدہ بورڈ/ یونیورسٹی کی مارک شیٹ یا سرٹیفکیٹ

 (۴)سرکاری شناختی کارڈ: مرکزی، ریاستی حکومت یا پبلک سیکٹر انڈرٹیکنگ کا ملازمت کا کارڈ یا پنشن آرڈر

 (۵)ذات کا سرٹیفکیٹ: درج فہرست ذات(ایس سی)، درج فہرست  قبائل( ایس ٹی) یا پسماندہ طبقہ( او بی سی) کا سرٹیفکیٹ

 (۶)رہائشی یا خاندانی دستاویز: مستقل رہائش کا سرٹیفکیٹ یا سرکاری خاندانی رجسٹر

  (۷)جائیداد کا ثبوت: حکومت کی طرف سے جاری کردہ زمین یا مکان کے الاٹمنٹ کا سرٹیفکیٹ

  (۸)پرانی ووٹر لسٹ کا ریکارڈ: گزشتہ برسوں(جیسے ۲۰۰۲ء سے۲۰۰۴ء کے درمیان) کی انتخابی فہرست میں اپنا یا والدین کا نام۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK