اصلاح کی شرط احتساب ہے۔ دُنیا کی مختلف تنظیمیں احتساب کرکے رپورٹ پیش کرتی ہیں۔ ہمیں ان رپورٹوں کو مسترد کرنے کا اختیار ہے مگر مسترد کرنے سے پہلے ان پر غور کرنا ازحد ضروری ہے۔
EPAPER
Updated: August 16, 2026, 11:31 AM IST | Aakar Patel | Mumbai
اصلاح کی شرط احتساب ہے۔ دُنیا کی مختلف تنظیمیں احتساب کرکے رپورٹ پیش کرتی ہیں۔ ہمیں ان رپورٹوں کو مسترد کرنے کا اختیار ہے مگر مسترد کرنے سے پہلے ان پر غور کرنا ازحد ضروری ہے۔
دو لفظ ہیں۔ ایک ہے انڈی پینڈنس۔ دوسرا ہے فریڈم۔ اُردو میں دونوں کو ’آزادی‘ کہا جاتا ہے مگر انگریزی میں انڈی پیڈنس کا معنی ہے خود انحصاری اور فریڈم دونوں کیلئے ’ آزادی‘رائج ہے۔ خود انحصاری بے معنی ہے اگر آزادی نہ ہو۔ چند سال پہلے مَیں نے ہندوستان میں آزادی کو جانچنے سمجھنے کیلئے ایک سروے کیا تھا تاکہ یہ واضح ہوسکے کہ دُنیا ہمیں کس طرح دیکھتی ہے۔ یہ سروے مَیں نے اپنی ایک کتاب کیلئے کیا تھا مگر ایسا نہیں کہ کتاب کیلئے مواد جمع کرکے مَیں خاموش ہوگیا۔ یہ ایسا موضوع ہے جس پر میں گاہے بہ گاہے نگاہ ڈالتا رہتا ہوں تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ مَیں نے ماضی میں جو جائزہ لیا تھا کیا اب بھی وہی نتائج اخذ ہوتے ہیں یا صورتحال بدلی ہے۔
آئندہ سطور میں جن تنظیموں کا حوالہ آئیگا اُن میں سے چند (مثلاً سویکس اور کیٹو) ایسی ہوسکتی ہیں جن سے قارئین کا کوئی خاص تعارف نہ ہو مگر عالمی نقطۂ نظر سے دیکھیں تو یہ تنظیمیں معتبر ہیں اور اُن کے اخذ کردہ نتائج کا احترام کیا جاتا ہے۔
ان میں پہلی ہے پیو ریسرچ۔ یہ معروف امریکی تنظیم ہے جو طویل مدتی رجحانات کو پیش نظر رکھتی ہے۔ یہ تنظیم دُنیا بھر کی حکومتوں کی پابندیوں اور سماجی جارحیتوں کو آنکتی ہے۔ حال ہی میں اس نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ہندوستان میں حکومت کی پابندیاں کافی زیادہ ہیں اور سماجی جارحیت بھی بڑھی ہوئی ہے۔ ۲۰۱۹ء میں ہندوستان کو درج ذیل ہر زمرہ میں اولین دس ملکوں کو رکھا گیا۔
(۱) وہ ممالک جہاں مذہبی بنیادوں پر سماجی جارحیت کافی زیادہ ہے (۲) وہ ممالک جہاں بین مذہبی کشیدگی اور تشدد زیادہ ہے (۳) وہ ممالک جہاں منظم گروہوں کی جانب سے مذہبی تشدد میں اضافہ ہوا ہے، اور (۴) وہ ممالک جہاں افراد کو یا افراد کے گروہوں (سوشل گروپس) کو ہراساں کرنے کے واقعات کافی زیادہ ہیں۔
جیسا کہ عرض کیا گیا ان چاروں زمروں میں جن ملکوں کے نام ہیں اُن میں ہندوستان کو اولین دس میں رکھا گیا ہے۔ ایسی ہی ایک تنظیم سویکس (CIVICUS) ہے جوسول سوسائٹی تنظیموں کا عالمی اتحاد ہے۔ یہ تنظیم اس بات کا جائزہ لیتی ہےکہ حکومت کی جانب سے شہریوں کو یکجا ہونے کی کتنی آزادی ہے، کیا وہ پُرامن طریقے سے مجمع کی شکل میں یکجا ہوسکتے ہیں اور اظہار خیال کرسکتے ہیں ؟
ماضی میں ہندوستان ’’مداخلت‘‘ یا ’’روک ٹوک‘‘ (Obstructed)کے زمرہ میں تھا مگر اب اسے ’’حوصلہ شکنی‘‘ (Repressed)کے زمرہ میں رکھا گیا ہے یعنی حکومتی ادارے عوام کے مجمع کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں اور ان کے کسی پروگرام کو اجازت نہیں دیتے۔ تنظیم سویکس کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں شہریوں کے پاس جمع ہونے کے مواقع کم ہوتے جارہے ہیں۔ قوانین اور انسانی حقوق کے گروہوں کو اجازت اور موقع نہ دکر انہیں دَبایا جارہا ہے۔ تنظیم کے بقول اس کی وجہ سے ’’ہندوستان کو ایسے ملکوں میں رکھا گیا ہے جن کے حالات کا تسلسل کے ساتھ جائز ہ لیا جاتا ہے تاکہ معلوم کیا جاسکے کہ وہاں شہریوں کے پُرامن جلسے کی کتنی گنجائش باقی رہ گئی ہے۔
ایک اور تنظیم ’’اکنامک انٹیلی جنس یونٹ‘‘ برطانیہ کے مشہور جریدہ ’’اکنامسٹ‘‘ کا حصہ ہے۔ یہ تنظیم جدول برائے جمہوریت (ڈیموکریسی انڈیکس) جاری کرتی ہے اور ہندوستان کو ’’ناقص جمہوریت‘‘ (فلاڈ ڈیموکریسی) قرار دے چکی ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ ’’یہ مودی کی قیادت میں جمہوری انحطاط کا نتیجہ ہے۔ ‘‘ تنظیم کے بقول ’’ملک میں مذہبی (سیاسی) سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں اور مودی کی پالیسیوں کی وجہ سے مسلم مخالف رجحان میں اضافہ ہی نہیں ہوا مذہبی کشیدگی بھی بڑھی ہے جس سے سیاسی تانا بانا متاثر ہوا ہے۔ ‘‘
ایک اور تنظیم ’’فریڈم ہاؤس‘‘ ہے جس کا قیام ۱۹۴۱ء میں ہوا تھا۔ اس کی رپورٹ بہ عنوان ’’فریڈم اِن دی ورلڈ‘‘ میں ہندوستان کو ۲۰۱۴ء میں ’’آزاد‘‘ قرار دیا گیا تھا مگر اب ’’جزوی آزاد‘‘ لکھا گیا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ کشمیر، جسے الگ خانے میں رکھا گیا ہے، آزاد نہیں ہے۔ تنظیم کے بقول ’’بی جے پی نے اس خطے میں امتیازی پالیسیاں جاری کررکھی ہیں نیز پریشان کرنے کا ایسا ماحول بنا رکھا ہے جس کی زد پر یہاں کے مسلمان ہیں۔ ‘‘
واشنگٹن کی تنظیم ’’ورلڈ جسٹس پروجیکٹ‘‘ جو جدول جاری کرتی ہے اس کا نام ہے ’’رول آف لاء انڈیکس‘‘۔ اس کے ذریعہ جوابدہی، منصفانہ قوانین، آزاد حکومت اور قابل رسائی نیز غیر امتیازی انصاف کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس کے جدول میں ہندوستان جو ۲۰۲۲ء میں ۷۷؍ ویں مقام پر تھا، اب ۸۶؍ ویں مقام پر ہے۔
رپورٹرس وداؤٹ بارڈرس کا صدر دفتر پیرس میں ہے۔ یہ تنظیم ہر سال آزادیٔ صحافت کا جائزہ لیتی ہے۔ اس کے جدول میں ہندوستان ۱۵۷؍ ویں مقام پر ہے۔ اس گراوٹ کی وجہ ’’صحافیوں پر حملے، ذرائع ابلاغ کی ملکیت کا محض چند ہاتھوں میں ہونا اور صحافتی اداروں کا حکومت کا ترجمان بن کر رہ جانا‘‘ بتائی گئی ہے۔
کیٹو انسٹی ٹیوٹ واشنگٹن میں ۱۹۷۷ء میں قائم کی گئی تھی جس کا مقصد اس نقطۂ نظر سے مختلف ملکوں کا جائزہ لینا تھا کہ کیا اُن ملکوں میں شہریوں کو اس بات کی آزادی حاصل ہے کہ وہ اپنی مرضی سے امن و سکون نیز خوشحالی کی زندگی میں آگے بڑھ سکیں۔ اس کے جدول کا نام ہیومن فریڈم انڈیکس ہے۔ ہندوستان اس جدول میں ذاتی آزادی اور معاشی آزادی میں کم نمبرات ملنے کی وجہ سے ۸۷؍ ویں مقام سے پھسل کر ۱۱۰؍ ویں مقام پر آگیا ہے۔
برلن کی ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ اس کا کام بدعنوانی کو فروغ دینے والے ملکی نظام اور نیٹ ورک کا جائزہ لے کر طاقتور اور بدعنوان لوگوں کو جوابدہ بنانا ہے۔ اس کے کرپشن پرسیپشن انڈیکس میں ہندوستان ۸۵؍ ویں مقام سے ۹۱؍ ویں مقام پر آگیا۔
مثالیں اور بھی ہیں مگر درج بالا مثالوں سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بیرون ملک کے جدولوں میں ہماری کیا درگت بن رہی ہے۔ موجودہ صورت حال اور حکومت کی کارکردگی کی یہ ایسی رپورٹیں ہیں جن کو میڈیا کے تعاون اور تشہیر کے دیگر ذرائع کی ہمنوائی سے نہ تو ٹھیک کیا جاسکتا ہے نہ ہی بہتر بنایا جاسکتا ہے۔